یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!
بی بی سی اردو کی غزۃ اسرائیل تنازع سے متعلق لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ویٹیکن سٹی میں اپنی ہفتہ وار دعا میں پوپ فرانسس نے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں جو زخمی افراد ہیں ان کی فوری مدد کی جائے اور اس خطے میں انسانی امداد کو داخل ہونے کی اجازت دی جائے اور حماس یرغمال بنائے جانے والے افراد کو رہا کرے۔
بی بی سی اردو کی غزۃ اسرائیل تنازع سے متعلق لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
اتوار کو بھی اسرائیلی فوج نے غزہ پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حماس کا کہنا ہے کہ ان تازہ اسرائیلی حملوں میں اس وقت 13 عام شہری مارے گئے جب خان یونس کے علاقے میں ایک گھر کو نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا ہے۔
اسرائیل نے ابھی تک اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
یہاں غزہ کی صورتحال پر کچھ تازہ ترین تصاویر ہیں۔
اس ہفتے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا تھا کہ غزہ کے 36 ہسپتالوں میں سے آدھے بالکل ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں۔
اس وقت غزہ کے ہسپتالوں کی صورتحال کچھ یوں ہے۔
الشفا ہسپتال
گذشتہ رات عالمی ادارہ صحت نے عملے اور مریضوں کی حفاظت سے متعلق تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا غزہ کے سب سے بڑے ہسپتال سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔
ایک سرجن نے اس سے قبل بی بی سی کو بتایا تھا کہ ایندھن کی کمی کا مطلب یہ ہے کہ اب الشفا ہسپتال ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔
آج صبح غزہ کی وزارت صحت کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ہسپتال کا شعبہ امراض قلب اسرائیلی بمباری میں تباہ ہو گیا ہے۔
اسرائیل نے متعدد بار اس کی تردید کی ہے ان کی افواج نے ہسپتال کو نشانہ بنایا ہے۔ تاہم اس علاقے میں حماس کے ساتھ جھڑپوں کی تصدیق کی ہے۔
القدس ہسپتال
آج صبح فلسطین کی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کا کہنا ہے کہ القدس ہسپتال میں ایندھن کی کمی واقع ہو گئی ہے اور اب ہسپتال کام نہیں کر رہا ہے۔
ان کے مطابق بجلی کے بغیر بھی طبی عملہ مریضوں کے علاج کی کوشش کر رہا ہے۔
ریڈ کریسنٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کے ٹینکوں نے ہسپتال کا محاصرہ کر رکھا ہے اور وہاں فائرنگ جاری ہے۔ اسرائیلی فوج نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس وقت جاری فوجی آپریشن سے متعلق سب نہیں بتا سکتے۔
انڈونیشن ہسپتال
خبر رساں ادارے روئٹرز نے آج صبح شمالی غزہ کے ہسپتال کے ڈاکٹرز کی ایک ویڈیو دکھائی ہے، جس میں وہ اسرائیلی فوج کی طرف سے کی جانے والی فضائی بمباری میں زخمی ہونے والے ایک بچے کا علاج کراتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
ڈاکٹرز کو یہ کہتے ہوئے بھی سنا جا سکتا ہے کہ ان کے پاس بجلی اور پانی نہیں ہے اور وہ بغیر اس سب کے علاج کی کوشش کر رہے ہیں۔
رینتیسی اور النصر
گذشتہ روز اسرائیل کی فوج نے کہا تھا کہ بچوں کے ان ہسپتالوں سے مٹھی بھر افراد اور بستر پر کچھ مریضوں نے یہاں سے انخلا کیا تھا۔
ڈاکٹروں کی عالمی تنطیم ایم ایس ایف کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایسی اطلاعات ہیں کہ رینتیسی ہسپتال کو اسرائیلی ٹینکوں نے اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے۔
اسرائیل کی لبنان کی سرحد پر حزب اللہ کے ساتھ لڑائی جاری ہے۔ اسرائیلی کی دفاعی افواج کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کی طرف سے اتوار کو اینٹی ٹینک میزائل فائر کیا گیا ہے اور اس گروپ نے متعدد عام آبادی والے مقامات کو ہدف بنایا ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ آرٹلری کے ذریعے ان حملوں کا جواب دے رہی ہے۔
اسرائیل کی ایمبولینس سروس کے ترجمان نے اسرائیل کے ایک ٹی وی چینل کو بتایا کہ ان حملوں میں ایک شخص شدید زخمی اور تین سے پانچ افراد زخمی ہیں۔
فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک سڑک پر گاڑیوں میں آگ لگی ہوئی ہے۔
سنیچر کو اپنے خطاب میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے کہا تھا کہ وہ لبنان کی سرحد کے قریب اسرائیل سے لڑتے رہیں گے۔
اسرائیل کی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کی ترجمان لبی ویس نے کہا ہے کہ ان خبروں کی تردید کی ہے کہ غزہ میں عام شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ترجمان نے الزام عائد کیا ہے کہ حماس ہسپتال جیسی جگہوں سے اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ہمیں قطعی طور پر اس کے بارے میں علم ہے کہ حماس عام آبادی والی جگہوں کو اپنی کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ اس متعلق ہمیں مصدقہ اطلاعات ہیں اور ہم نے اس متعلق اہم معلومات بھی دیں ہیں جو اس متعلق سب بتاتی ہیں۔
حماس کی وزارت صحت نے اسرائیلی فوج پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ اس نے غزہ کے سب سے بڑے کمپلیکس الشفا ہسپتال کا محاصرہ کر رکھا ہے۔
اسرائیلی فوج کی ترجمان نے کہا کہ وہ الشفا ہسپتال کو نشانہ نہیں بنا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس ہسپتال کے قریب سے حماس جو فائرنگ فوج پر کر رہی ہے ہم اس کا جواب دے رہے ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ اسرائیل بڑے وسائل عام شہریوں کے تحفظ کے لیے بروئے کار لا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ عام شہری ہمارا ہدف نہیں ہیں۔
پوپ فرانسس نے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں جو زخمی افراد ہیں ان کی فوری مدد کی جائے اور اس خطے میں انسانی امداد کو داخل ہونے کی اجازت دی جائے۔
ویٹیکن سٹی میں اپنی ہفتہ وار دعا میں پوپ نے کہا کہ وہ اسرائیل اور فلسطین میں سنگین صورتحال اور مصائب سے گزرنے والوں کے بارے میں ہر روز متفکر رہتے ہیں۔
پوپ نے کہا کہ جو غزہ میں زخمی افراد ہیں ان کی فوری مدد کی جانے چاہیے۔ عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جانا چاہیے اور آفت کا سامنا کرنے والی آبادی تک انسانی امداد کی رسائی یقینی بنائی جانی چاہیے۔
پوپ فرانسس نے زور دیا ہے کہ حماس نے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حملے کے دوران جن افراد کو یرغمال بنایا تھا انھیں بھی رہا کیا جائے۔
فلسطینی ہلال احمر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ٹینک اب غزہ شہر کے القدس ہسپتال سے محض 20 میٹر کے فاصلے پر تھے۔
تنظیم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا کہ ’ہسپتال میں براہ راست فائرنگ نے 14 ہزار بے گھر افراد میں انتہائی خوف کی کیفیت پیدا کر دی ہے۔‘
الشفا ہسپتال جو غزہ کی سب سے بڑی طبی سہولت ہے، میں کام کرنے والے ایک ڈاکٹر نے بتایا ہے کہ ہسپتال کے قریب گولہ باری اور فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ الشفا اور القدس ہسپتال شمالی غزہ کی پٹی میں واقع ہیں۔
لبنان کی سرکاری خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ڈرون نے لبنان اور اسرائیل کی سرحد سے 50 کلومیٹر کے فاصلے سے ایک گاڑی کو نشانہ بنایا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایک پک اپ ٹرک جو کیلے لے کر جا رہا تھا کو زہرانی کے علاقے میں ہدف بنایا گیا ہے۔ اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔
کچھ دیر بعد اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس کے جنگی طیاروں نے لبنان کے اندر حزب اللہ کے متعدد اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
ایک ماہ سے زائد عرصے سے اسرائیل اور حزب اللہ کے دمریان سرحد پر تقریباً ہر روز فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا ہے۔ دونوں نے بڑے پیمانے پر ایک دوسرے کو ابھی تک نشانہ نہیں بنایا ہے۔
یہ واقعہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کے ’یوم شہدا‘ پر خطاب سے پہلے پیش آیا۔ یوم شہدا وہ دن ہے جو سنہ 1982 میں پہلی لبنان جنگ کی یاد میں منایا جاتا ہے جب ایک اسرائیلی ملٹری ہیڈکوارٹرز پر حملہ کیا گیا تھا۔
الاہلی ہسپتال کے لیے کام کرنے والے تین میں سے ایک سرجن کا کہنا ہے کہ اس وقت یہ واحد ہسپتال ہے جو غزہ میں کام کر رہا ہے۔
ڈاکٹر غسان ابو ستا نے بی بی سی کو الاہلی ہسپتال سے ایک پیغام بھیجا ہے کہ اکتوبر میں ڈاکٹرز نے اس وقت اس ہسپتال کو فعال رکھنے کے لیے فیلڈ ہسپتال قائم کیا تھا جب اسے میزائل حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ ہم تین سرجن ہیں۔ میں ایک پلاسٹک سرجن ہوں۔ ایک آرتھوپیڈک ہیں اور ایک جنرل سرجن ہیں۔
ان کے مطابق اس وقت ان کے پاس 150 مریض ہیں جبکہ نیچے بھی بستر بچھائے ہوئے ہیں۔
سعودی عرب کے شہر ریاض میں جاری اسلامی عرب سربراہی اجلاس میں 57 اسلامی ممالک کے رہنما شرکت کر رہے ہیں اور غزہ پر اسرائیلی بمباری پر غور کر رہے ہیں۔
قطر کے امیر تمیم بن الثانی نے مستقل جنگ بندی کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک حماس کی طرف سے 7 اکتوبر کو یرغمال بنائے گئے اسرائیلی اور دیگر ممالک کے شہریوں کی رہائی کے لیے مذاکرات جاری رکھے گا۔
خیال رہے کہ دوحہ کا ان یرغمالیوں سے متعلق مذاکرات اور رہائی سے متعلق اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
قطر کے امیر نے اسرائیل کی عام شہریوں کو نشانہ بنانے پر مذمت کی اور ان الزامات کو جھوٹا قرار دیا کہ حماس نے ہسپتالوں کے نیچے سرنگیں بنا رکھی ہیں۔
اسرائیلی فوجیوں نے کہا ہے کہ حماس عام شہریوں کو ڈھال بنا رہا ہے اور ہسپتالوں اور صحت مراکز کے نیچے اور قریب سرنگیں بنائے ہوئے ہے۔
قطر کے امیر نے کہا کہ عرب اور مسلم ممالک اسرائیلی کے خلاف مذمتی قرارداد جاری کرنے پر اکتفا نہ کریں بلکہ اسرائیل کو غزہ میں مزید کارروائیوں سے باز رکھنے کے لیے دباؤ ڈالیں۔
جدہ میں جاری عرب اور اسلامی ممالک کے رہنماؤں کی کانفرنس میں اسرائیل کی مذمت کے ساتھ ساتھ فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
اس کانفرنس کے میزبان سعودی ولی عہد شہزادہ محمد سلمان نے کہا ہے کہ اسرائیل نے جو کیا ہے اسے یہ بھگتنا ہوگا۔ انھوں نے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی کارروائی کو جنگی جرائم قرار دیا ہے۔
اردن کے کے بادشاہ عبداللہ نے کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ یہ ایک خونریز جنگ ہے، جسے فوری طور پر روکنا ہو گا ورنہ پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے کہا کہ فلسطینی عوام کی نسل کشی جاری ہے اور انھوں نے فلسطین کے لیے عالمی تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایران کے صدر ابراہیم ریئسی نے سعودی عرب کے اپنے پہلے دورے کے موقعے پر کہا کہ اسرائیلی فوج کو دہشتگرد گروہ قرار دیا جائے۔ انھوں نے اس جنگ کو پھیلانے کے لیے امریکہ پر ذمہ داری عائد کی ہے۔
الجیریا نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
کچھ ممالک اتنا آگے جانے سے گریزاں رہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کانفرنس کے حتمی اعلامیے میں کم سے کم اہداف پر ہی توجہ مرکوز رکھی جائے گی، جس پر سب کا اتفاق ہو۔ ان مطالبات میں جنگ بندی، اسرائیل کی مذمت اور فلسطینی علاقوں سے اسرائیلی قبضے کا خاتمہ شامل ہیں۔
آخری بار جب ایران کے صدر نے ریاض کا دورہ کیا تو محمود احمدی نژاد اس وقت اس عہدے پر فائز تھے۔ اس دورے کو اب 11 برس بیت چکے ہیں اور اس نقطہ نظر سے ابراہیم رئیسی کا ریاض کا سفر خاص اہمیت کا حامل ہے۔
لیکن ایران اور سعودی عرب کے تعلقات کے معاملے سے ہٹ کر بڑا سوال یہ ہے کہ ابراہیم رئیسی اسلامی تعاون تنظیم کے دیگر 56 رکن ممالک کو اسرائیل فلسطین تنازع کے حوالے سے اسلامی جمہوریہ ایران کی مطلوبہ پالیسی کے ساتھ کس حد تک قریب لا سکتے ہیں۔
اسلامی تعاون تنظیم کی ایک طاقتور اور بااثر بین الاقوامی تنظیم بننے میں ناکامی کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ اس تنظیم کے 57 رکن ممالک کے درمیان اختلافات ہیں۔
اگرچہ ایسا لگتا ہے کہ غزہ کی جنگ نے ان ممالک کو ایک ہی محاذ پر کھڑا کر دیا ہے اور جنگ کے خاتمے جیسے مطالبات پر وہ مشترکہ رائے رکھتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی اپنی پوزیشن بالکل محتلف ہے۔
اس وجہ سے ابراہیم رئیسی کے سامنے ایک بہت مشکل مشن ہے تاکہ ایرانی حکومت کا مؤقف پیش کیا جائے۔ جنگ کے خاتمے کی درخواست اسلامی جمہوریہ ایران کے لیے قطعاً قابل قبول نتیجہ نہیں ہے۔
تہران کوشش کر رہا ہے کہ اس صورت حال کو ایک موقع کے طور پر اسلامی ممالک اور اسرائیل کے درمیان کسی بھی رشتے کو زیادہ سے زیادہ تبدیل کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔
اس وجہ سے اسلامی ممالک کے فضاؤں کو اسرائیلی طیاروں کے لیے بند کرنے جیسی درخواستیں یا اس سے بھی زیادہ سنجیدگی سے، اسرائیل پر تیل کی پابندی ان آپشنز میں شامل ہیں جو ممکنہ طور پر ایران کی طرف سے حل کے طور پر تجویز کی جائیں گی۔ ایسے اقدامات جن کی قیمت اسرائیل کو حقیقی معنوں میں بھگتنا پڑے گی۔
اگر ایران ان ممالک کو سنجیدگی سے اسرائیل کو سزا دینے کے لیے کوئی بے مثال قدم اٹھانے پر راضی کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ نہ صرف غزہ کی مدد کرنے میں کامیاب ہو جائے گا بلکہ اسے علاقائی سطح پر ایک اہم سفارتی فتح بھی حاصل کر لے گا۔
سعودی عرب میں جاری غزہ سمٹ کے دوران تقریر کرتے ہوئے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اسرائیل کی مذمت کی ہے۔ اور اسے ’فلسطینی عوام کے خلاف کیے جانے والے جرائم‘ کا مرتکب ٹھہرایا ہے۔
سعودی ولی عہد نے غزہ کی پٹی کا محاصرہ ختم کرنے اور سنہ 1967 کی سرحدوں پر فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔
اردن کے شاہ عبداللہ دوم اور فلسطینی اتھارٹی کے صدر نے بھی محمد بن سلمان سے اتفاق کیا ہے۔
ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے اسرائیل پر تنقید کرتے ہوئے اسے ایک بگڑا ہوا بچہ قرار دیا ہے۔ انھوں نے ناانصافی کے سامنے خاموش نہ رہنے پر زور دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کو فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرنے کا پابند بنایا جائے اور دنیا اسے اس کے جرائم کا جوابدہ ٹھہرائے۔
غزہ کے شہریوں کو عالمی ادارہ خوراک کے پروگرام کے تحت جن دکانوں سے ضروری اشیا فراہم کی جاتی تھیں اب جمعے سے وہاں ان اشیا کی قلت ہو گئی ہے۔
واؤچر سکیم کے تحت پانچ لاکھ غزہ کے شہریوں کو خوراک خریدنے کی اجازت دی گئی تھی اور ورلڈ فوڈ پروگرام کے حکام روزانہ ان دکانوں کا دورہ کر کے یہ دیکھتے تھے کہ شہریوں تک یہ امداد پہنچ رہی ہے یا نہیں۔
ڈبلیو ایف پی کے ترجمان عالیہ ذکی نے کہا کہ جمعے کو ان مراکز نے یہ اعلان کیا کہ اب ان کے پاس سٹاک مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے اور اب وہ کسی کو فوڈ دینے کے قابل نہیں ہیں۔
انھوں نے کہا کہ غزہ کے لیے خوراک کی پیداوار اور امداد دینے والا نظام درہم برہم ہ
اس پروگرام کے تحت عالمی ادارہ خوراک 23 بیکریوں کے ساتھ کام کر رہا تھا جو غزہ کے پناہ گزینوں کو تازہ ڈبل روٹی فراہم کرتی تھیں۔ ترجمان کے مطابق اب سنیچر سے کوئی بھی بیکری کھلی نہیں ہے۔
لوگ چھ چھ گھنٹے قطاروں میں لگ کر خالی ہاتھ گھروں کو واپس جا رہے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ غزہ سے باہر جانے والا رستہ لوگوں کے محفوظ انخلا کے لیے کھول دیا گیا ہے۔
اسرائیلی فوج کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس وقت جبالیہ میں پناہ گزینوں کے کیمپ والے علاقے میں جنگ میں چار گھنٹے کا جنگی حکمت عملی کے تحت وفقہ کیا گیا ہے۔ اس وقفے میں وہاں مقامی لوگوں کو وہاں سے نکل کر صلاح الدین روڈ سے جنوبی حصے کی طرف رخ کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
جمعے کو سامنے آنے والی تصاویر سے پتا چلتا ہے کہ الشفا ہسپتال کے اندر کے مناظر اب کیسے ہیں اور کس طرح یہ ہسپتال بھرا ہوا ہے۔
تمام بستر بھرے ہوئے ہیں اور گھروں سے نکل کی متعدد فلسطینیوں نے اس ہسپتال کے اندر اور باہر پناہ لے رکھی ہے۔
اسرائیلی ڈیفنس فورسز نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ اپنے فوجی آپریشن سے متعلق زیادہ معلومات نہیں شئیر کر سکتے ہیں۔ تاہم اس بات کی تصدیق کی کہ اس علاقے میں حماس کے خلاف لڑائی جاری ہے۔
اسرائیلی افواج کے مطابق وہ حماس کے برعکس عام شہریوں کے نقصان کو کم سے کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
الشفا ہسپتال کے ایک سرجن مروان ابو سادا کے مطابق جو لوگ ہسپتال سے نکل کر جا رہے تھے انھیں ہسپتال کے باہر سڑکوں پر گولیاں مار دی گئیں۔
ان کے مطابق انجنیئرنگ کی ایک ٹیم ہسپتال کے آئی سی یو یونٹ اور نومولود بچوں کی وارڈ کو بجلی فراہم کرنے والے جنریٹرز کو دیکھنے گئے تو انھیں بھی گولیاں ماری گئیں، جس سے ٹیم کا ایک رکن معذور ہو گیا۔
بی بی سی ابھی ان واقعات کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔ تاہم اسرائیلی فوج کو تبصرے کے لیے رابطہ کیا گیا ہے۔
سرجن نے مزید بتایا کہ گذشتہ روز الشفا ہسپتال میں اجتماعی قبریں کھودنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم ان کے مطابق اسرائیلی بمباری سے وہ کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں۔
انھوں نے کہا کہ ہسپتال کے ریفریجریٹر کے پاس پڑی لاشوں کی وجہ سے وبا پھیلنے کا خطرہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایندھن نہ ہونے کی وجہ سے یہ ریفریجریٹر نہیں چل رہا ہے۔
اسرائیل نے پہلے یہ کہا تھا کہ وہ ہسپتالوں کا ہدف نہیں بناتے ہیں۔ اب تازہ صورتحال کے پیش نظر ہم نے اسرائیل سے تبصرہ کرنے کے لیے رابطہ کیا ہے۔
بی بی سی کے بین الاقوامی ایڈیٹر جیریمی بووین جو اس وقت اسرائیل میں ہیں انھیں الشفا ہسپتال میں ایک سرجن مروان ابو سعدہ کی طرف سے آڈیو نوٹ موصول ہوا ہے۔
سعدہ کہتے ہیں کہ انتہائی نگہداشت کے مرکزی یونٹ (آئی سی یو) کو نشانہ بنایا گیا ہے اور فائرنگ اور بمباری کی آوازیں ’ہر سیکنڈ‘ گونج رہی ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ کوئی بھی ہسپتال سے باہر نہیں نکل سکتا، اور نہ ہی کوئی اندر آ سکتا ہے۔ڈاکٹر کا مزید کہنا ہے کہ ہسپتال میں اب پانی، کھانا یا بجلی نہیں ہے۔
سعدہ کا کہنا ہے کہ ’وینٹی لیٹر پر موجود دو مریض اب دم توڑ چکے ہیں، جن میں سے ایک بچہ تھا۔‘
اس سے پہلے حماس کے زیر انتظام وزارت صحت نے بھی ایک نوزائیدہ بچے کی موت کی اطلاع دی تھی۔
غزہ میں حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ غزہ میں الشفا ہسپتال کمپلیکس میں آپریشن معطل کر دیا گیا ہے۔
وزارت صحت کے ایک ترجمان نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات چیت میں کہا ہے کہ ہے کہ غزہ کے سب سے بڑے طبی مرکز الشفاء میں ایندھن ختم ہو گیا ہے۔
اشرف القدرہ کا کہنا ہے کہ ’اس کے نتیجے میں ایک نوزائیدہ بچہ انکیوبیٹر کے اندر ہی دم توڑ گیا جہاں 45 بچے تھے۔‘