اسرائیلی فوج نے غزہ شہر میں حماس کے مضبوط گڑھ کو گھیرے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔
اسرائیلی ڈیفینس فورس کے مطابق ’ حماس کے جنگجو سرنگوں سے حملہ کر رہے ہیں اور فوری واپس بھاگتے ہیں۔
دوسری جانب حماس کے زیرانتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ نو ہزار سے زیادہ فلسطینی مارے گئے ہیں۔
ادھر اقوام متحدہ نے پانی کی قلت مزید بڑھنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ پناہ گاہوں کے طور پر استعمال ہونے والے اس کے چار سکولوں کو نقصان پہنچا ہے۔
۔جمعرات کو اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (UNRWA) نے کہا ہے کہ پناہ گاہوں کے طور پر استعمال ہونے والے اس کے چار سکول 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں نقصان پہنچایا گیا ہے۔
ادارے کے مطابق جبالیہ پناہ گزین کیمپ کے ایک سکول میں مبینہ طور پر کم از کم 20 افراد ہلاک ہوئے جبکہ ایک بچہ سکول کو پناہ گاہ میں تبدیل کیے جانے والے ’بیچ پناہ گزین کیمپ‘ میں ہلاک ہوا۔
بی بی سی کو اس حوالے سے دو تصدیق شدہ ویڈیوز موصول ہوئی ہیں۔ شمالی غزہ کے جبالیہ پناہ گزین کیمپ کے ایک سکول میں فلمائی گئی ایک ویڈیو میں پہلے سکول کے مرکزی دروازے کے باہر اور پھر مرکزی صحن میں اس کے بعد کے پرتشدد حالات کو دکھایا گیا ہے۔
اس وڈیو کلپ میں کم از کم 20 افراد، یا تو مردہ یا زخمی حالت میں زمین پر گرے دیکھے جا سکتے ہیں جن میں مرد، خواتین اور بچے شامل ہیں۔
دوسری ویڈیو ایک ایسے پرائمری اسکول کی ہے جسے ساحلی پناہ گزین کیمپ میں تبدیل کیا گیا ہے۔ کلپ کو عمارت کے مرکزی صحن میں فلمایا گیا ہے جس میں مرکزی عمارت کے پیچھے سے دھوئیں کے بادل اٹھتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔
اس ویڈیو میں بچوں سمیت کئی افراد صحن میں حفاظت کے لیے بھاگتے دکھا ئی دے رہے ہیں۔ ویڈیو کے پس منظر میں سلسلہ وار دھماکوں کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں اور پھر آخر میں پرزور دھماکے کی آواز صحن میں موجود ہجوم کو گھبراہٹ میں بھاگنے پر مجبور کرتی ہے۔
غزہ میں حکام نے اسرائیلی فضائی حملوں پر اس کا الزام عائد کیا ہے۔ اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے ابھی تک اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مقرر کردہ ماہرین نے غزہ میں انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ میں گھرے فلسطینیوں کو اپنی نسل کشی کے سنگین خطرے کا سامنا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’غزہ کی صورتحال تباہ کن حد تک پہنچ چکی ہے۔ غزہ میں ایندھن کے داخلے پر پابندی اور پانی کی فراہمی میں خلل کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو پینے کے صاف پانی تک بہت کم رسائی حاصل ہے۔‘
ادارے کے مطابق ’پانی انسانی زندگی کے لیے ضروری ہے اور آج 20 لاکھ غزہ کے باشندے پینے کے پانی کی تلاش کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔‘
جنیوا میں اقوام متحدہ میں اسرائیلی مشن نے ان تبصروں کو افسوسناک اور تشویشناک قرار دیا اور حماس کو شہریوں کی ہلاکتوں کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
اس سے پہلے جمعرات کو آئی ڈی ایف نے حماس کے تقریباً 130 جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ فوج ’جنگ کے عروج پر‘ ہے۔
انھوں نے ایک بیان میں کہا، ’ہمیں کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں اور غزہ شہر کے مضافات سے ہو کر اب ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔‘
مصر کے ساتھ رفح کراسنگ دوسرے دن کھلنے کے بعد متعدد غیر ملکی شہری غزہ چھوڑنے میں کامیاب ہو گئے تاہم طبی امدادی تنظیم ’ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز‘ کا کہنا ہے کہ 20 ہزار سے زیادہ زخمی لوگ علاقے میں پھنسے ہوئے ہیں۔
ادھر لبنان کی عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے اسرائیل میں بیک وقت 19 اہداف پر حملے کیے ہیں جو ان کے مطابق اسرائیل پر اب تک کا سب سے شدید حملہ ہے۔
اسرائیلی فوج نے اس کے جواب میں لبنان میں حزب اللہ کے متعدد ٹھکانوں پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔
اسرائیلی فوج کا یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ماہ جنگ شروع ہونے کے بعد آج حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ کا پہلا عوامی خطاب متوقع ہے۔