آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

غزہ کے ہسپتال پر حملے میں 500 ہلاک، اسرائیل کا حملے سے اعلانِ لاتعلقی، محمود عباس کا جو بائیڈن سے ملاقات نہ کرنے کا فیصلہ

غزہ کی وزارت صحت کے ترجمان کے مطابق شہر کے وسط میں واقع الاہلی ہسپتال پر اسرائیل کے فضائی حملے میں 500 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ ہسپتال غزہ سے ہی داغے گئے راکٹ کا نشانہ بنا۔ فلسطین کے صدر محمود عباس نے اس حملے کے بعد بدھ کو امریکی صدر سے طے شدہ ملاقات منسوخ کر دی ہے۔

لائیو کوریج

  1. میں انٹیلیجنس کی ناکامی کی مکمل ذمہ داری قبول کرتا ہوں: اسرائیلی انٹیلیجنس چیف

    اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے انٹیلیجنس چیف میجر جنرل آہرون ہالیوا نے کہا ہے کہ وہ سات اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے تناظر میں اسرائیل کی انٹیلیجنس کی ناکامی کی مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔

    فوجیوں کو لکھے گئے خط میں میجر جنرل آہرون نے کہا ہے کہ ’میری کمان میں ملٹری انٹیلیجنس ڈائریکٹوریٹ حماس کے دہشت گردانہ حملے کے بارے میں بروقت خبردار کرنے میں ناکام رہا۔‘

    ’ہم اپنے سب سے اہم مشن میں ناکام رہے، اور ملٹری انٹیلیجنس ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ کی حیثیت سے، میں اس ناکامی کی مکمل ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ اس معاملے کی ’مکمل اور جامع‘ تحقیقات ہوں گی مگر فی الوقت اسرائیلی ڈیفنس فورسز کا واحد کام ’لڑنا، جواب دینا اور جیتنا‘ ہے۔‘

    فوجیوں کو لکھے گئے اس خط کے مندرجات اسرائیلی میڈیا میں شائع ہوئے ہیں اور خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے اس کی تصدیق کی ہے۔

  2. غزہ میں ہسپتال عملی طور پر غیرفعال، مریضوں کے لیے 300 ملی لیٹر پینے کے پانی کا ’راشن‘ مقرر

    غزہ کی وزارت صحت کے ترجمان کے مطابق شہر میں ہسپتال عملی طور پر غیرفعال ہو چکے ہیں۔

    حکام کے مطابق بجلی کی کٹوتی اور ایندھن کی کمی کی وجہ سے علاقے کے ہسپتال عملی طور پر تباہی کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔

    دوسری جانب جنوبی شہر خان یونس میں موجود بی بی سی کے رشدی ابوالوف نے وہاں کی صورتحال کو نازک قرار دیتے ہوئے بتایا ہے کہ پانی کی سپلائی کم ہونے کے باعث ڈاکٹر ہر مریض کو روزانہ 300 ملی لیٹر پینے کا پانی دے رہے ہیں۔

    رشدی ابوالوف کے مطابق ’خان یونس کے گلی کوچوں میں لوگ پانی اور روٹی مانگنے کے لیے قطار میں کھڑے ہیں۔ جنوبی غزہ میں نوے فیصد گھروں میں پانی نہیں ہے۔‘

  3. بریکنگ, غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر تین ہزار، 12 ہزار سے زائد زخمی

    فلسطینی وزارت صحت نے غزہ میں اسرائیلی حملوں میں ہلاک اور زخمیوں کے تازہ اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں جس کے تحت سات اکتوبر سے غزہ کی پٹی میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد تقریباً 3000 ہو چکی ہے۔

    وزارت صحت نے مزید کہا ہے کہ ان حملوں میں ساڑھے بارہ ہزار شہری زخمی ہوئے ہیں۔

    حکام کے مطابق مغربی کنارے میں ہونے والے حملوں میں بھی 61 فلسطینی مارے جا چکے ہیں جبکہ ساڑھے بارہ سو سے زیادہ زخمی ہیں۔

  4. ’ریڈ پرنس‘: جب موساد نے خفیہ آپریشن میں یاسر عرفات کے ’منہ بولے بیٹے‘ اور ’بلیک ستمبر‘ کے منصوبہ ساز کو قتل کیا

  5. حماس کی جانب سے یرغمالیوں کی ویڈیو جاری کرنے پر فرانس کی مذمت: ’11 فرانسیسی شہری تاحال لاپتہ ہیں‘

    فرانسیسی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 7 اکتوبر کو حماس کی جانب سے اسرائیل پر کیے جانے والے حملوں میں مرنے والے فرانسیسی شہریوں کی تعداد 21 ہو گئی ہے۔

    حکام کے مطابق ’ابھی بھی 11 فرانسیسی شہری لاپتہ ہیں جن میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر حماس نے یرغمال بنا رکھا ہے۔‘

    واضح رہے کہ حماس نے یرغمال بنائے جانے والی 21 سالہ فرانسیسی نژاد اسرائیلی شہری میا شیم کی ویڈیو جاری کی ہے جنھیں اسرائیل میں ہونے والے ’سُپرنووا‘ میوزک فیسٹیول پر حملے کے دوران اغوا کیا گیا تھا۔

    فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے کہا کہ غزہ میں یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں۔

  6. مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے بڑھنے کا خطرہ ’10 میں سے نو فیصد‘ ہے: سینیئر فلسطینی سفارتکار, شون كوجلان: بی بی سی نیوز لبنان

    برطانیہ میں سینیئر فلسطینی سفارتکار حسام زملط نے غزہ اور مغربی کنارے میں اب تک 2,850 فلسطینیوں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ حقیقی اعداد و شمار اس سے کہیں زیادہ ہیں۔

    برطانیہ میں فلسطینی مشن کے سربراہ حسام زملط نے ایک پریس بریفنگ میں غزہ میں ہلاکتوں کے تازہ اعداد و شمار سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ امدادی ٹیمیں ابھی تک ملبے تلے دبے تمام افراد تک نہیں پہنچ پائی ہیں، اس لیے خدشہ ہے کہ مرنے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

    حسام زملط نے کہا کہ ’ہلاک ہونے والوں میں ایک ہزار بچے بھی شامل ہیں جبکہ 50 خاندان مکمل طور پر صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔‘

    اس سوال کے جواب میں کہ مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے بڑھنے کا خطرہ کتنا ہے؟ اس پر ان کا کہنا تھا کہ ’10 میں سے نو فیصد۔‘

    انھوں نے فوری جنگ بندی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر محفوظ راہداری کے قیام کا مطالبہ کیا۔

  7. غزہ میں 11 ہزار سے زیادہ زخمیوں کی مدد کے لیے رسائی فراہم کی جائے: عالمی ادارہ صحت

    عالمی ادارہ صحت نے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی بحران کے خدشے کے پیش نظر اسے امداد اور طبی سامان کی فراہمی کے لیے غزہ تک فوری رسائی دی جائے۔

    خبررساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق ڈبلیو ایچ او نے بریفنگ میں بتایا کہ حماس کے حملوں کے بعد اسرائیل کی جوابی کارروائی اور حملوں کے آغاز سے اب تک غزہ میں 2800 فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں جس میں نصف تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق 11 ہزار سے زائد شہری زخمی بھی ہو چکے ہیں۔

    اقوام متحدہ کی ایجنسی جلد از جلد غزہ تک رسائی کو کھولنے کے حوالے سے آج فیصلہ سازوں سے ملاقات بھی کر رہی ہے۔

    حکام نے مزید کہا کہ صحت کی دیکھ بھال سے متعلق 115 اداروں پر بھی حملے ہوئے ہیں جس کے باعث غزہ میں زیادہ تر ہسپتال غیر فعال ہیں جبکہ متاثرہ علاقوں میں پانی اور بجلی کی کمی ہے۔

    اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین (UNRWA) نے ایک بیان میں کہا، ’پانی کی کمی اور پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے بارے میں بہت ذیادہ خدشات موجود ہیں۔ کیونکہ جنگ کے باعث پانی اور صفائی ستھرائی کی فراہمی سے متعلق خدمات معطل ہیں جبکہ پانی کے بغیر لوگوں کی ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔‘

  8. اسرائیل غزہ پر زمینی حملہ کیوں نہیں شروع کر سکا؟, نامہ نگار برائے عالمی اُمور لیز ڈوسیٹ کا تجزیہ

    عام طور پر کسی بھی ملک کی فوج فوجی آپریشن شروع کرنے کی تاریخ کا اعلان نہیں کرتی، اسرائیل بھی ایسا نہیں کرے گا۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان نے آج یہاں تک کہا ہے کہ ’ہم یہ نہیں بتا رہے کہ ہمارے منصوبے کیا ہیں، وہ (منصوبے) کچھ مختلف ہو سکتے ہیں۔‘

    لیکن اسرائیل نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اس کی افواج متحرک ہو گئی ہیں، اور توپ خانہ اور ہتھیار غزہ کی سرحد کے ساتھ ساتھ دوسری اسرائیلی سرحدوں پر بھی منتقل کیے جا چکے ہیں۔

    فوجی ترجمانوں کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’(زمینی) حملہ اب زیادہ دور نہیں۔‘ تیار ہو کر سرحدوں پر بیٹھی فوج کو زیادہ دیر انتظار کروانے سے ان کی تیاری اور حوصلے متاثر ہو سکتے ہیں۔

    اس میں (زمینی حملے میں) تاخیر ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی۔ فی الوقت اس خطے میں شدید بارشیں ہوئی ہیں اور موسم جنگ میں اہم فیکٹر ہوتا ہے۔

    حالیہ دنوں میں ہونے والی سفارتکاری کی بڑی کوششیں، بشمول امریکی صدر جو بائیڈن کی اسرائیل آمد (متوقع بروز بدھ)، غزہ میں امداد پہنچانے اور غیر ملکی شہریوں کو غزہ کی پٹی سے باہر نکالنے جیسے معاملات کی وجہ سے ممکن ہے کہ اسرائیلی فوجی حکام کو مزید انتظار پر مجبور کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حماس کی جانب سے یرغمال بنائے گئے 150 سے زائد افراد میں غیر ملکی کی موجودگی بھی ایک انتہائی اہم معاملہ ہے۔

    ایک بار جب یہ جنگ شدت اختیار کر لیتی ہے، اس سے قبل اسرائیل کے قریبی اتحادی اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ انھوں نے شہریوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے اور اس جنگ کے وسیع تر سطح پر پھیلنے سے روکنے کے اقدامات کر لیے ہیں۔

  9. اقوام متحدہ کا اسرائیل کو ممکنہ جنگی جرائم پر انتباہ

    اقوام متحدہ نےاسرائیل کو ممکنہ جنگی جرائم کی وارننگ دیتے ہوئے ایک بار پھر درخواست کی ہے کہ امدادی ایجنسیوں کوغزہ تک رسائی کی اجازت دی جائے۔

    اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی ترجمان روینا شمداسانی کا کہنا ہے کہ تنظیم کو تشویش ہے کہ اسرائیلی فوج کا فلسطینی شہریوں کو شمالی غزہ سے زبردستی جنوب کی طرف منتقل کرنے کا مطالبہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

    اگر تنازع کے دوران کسی ملک کے جنگی جرم میں ملوث ہونے کا شک ہو تو اس معاملے کو بین الاقوامی عدالت برائے جرائم (ICC) دیکھ سکتی ہے۔

    واصح رہے کہ فلسطین آئی سی سی کا رکن ہے تاہم اسرائیل نہیں۔

    اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ترجمان روینا شمداسانی نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ غزہ کے متاثرہ حصوں سے انخلا کی کوششوں کے دوران شہریوں پر حملوں کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہییں۔

    انھوں نے تمام اسرائیلی یرغمالیوں کی ’فوری اور غیر مشروط‘ رہائی کی بھی اپیل کی۔

  10. خان یونس سمیت غزہ کے دیگر جنوبی حصوں میں تباہی کے مناظر

    گزشتہ رات خان یونس اور رفح میں عمارتوںپر کیے جانے والے مزید حملوں کے بعد غزہ کے جنوب میں لوگ آج دوبارہ ملبے میں تلاش کا کام کر رہے ہیں۔

    اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ مسلسل تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے اور رسد تیزی سے کم ہو رہی ہے۔

    اسی حوالے سے صورت حال جاننے کے لیے وہاں کی تازہ ترین تصاویر میں سے کچھ پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

    ان حملوں نے رفح کو بھی نشانہ بنایا جہاں ہزاروں لوگ سرحدی گزرگاہ کے کھلنے کی امید میں جمع تھے

    رفح میں ایک شخص ایک زخمی بچی کو اٹھا کے محفوظ جگہ لے جانے کی کوشش میں ہے جبکہ بچی درد کی شدت سے رو رہی ہے۔

    خان یونس میں گرتی ہوئی عمارت سے کنکریٹ ہٹانے کی کوشش میں مصروف مردوں کا ایک گروہ

  11. ’خان یونس کی سڑکوں پر اب بھی بے شمار بے گھر افراد موجود ہیں ‘

    بی بی سی ریڈیو فائیو نے منگل کی صبح غزہ میں موجود ’نارویجن ریفیوجی کونسل‘ کے فلم ساز یوسف ھماش سے بات کی ۔

    ھماش نے ویک اینڈ پر اپنے خاندان کو جنوبی شہر خان یونس منتقل کر دیا تھا۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’ہر خاندان اپنے گھروں میں ایک دوسرے کی میزبانی کر رہا ہے، لیکن سڑک پر اب بھی بہت سے بے گھر لوگ موجود ہیں جو خان یونس میں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔‘

    ھماش کہتے ہیں کہ ’بیکریوں کے باہر لوگوں کی قطاریں لگ جاتی ہیں جو اپنے خاندانوں کو کھانا کھلانے کے خواہش مند ہیں۔ ہر ایک کے لیے یہ روزانہ کا مشن ہے کہ وہ اپنے بچوں کو کھانا کھلانے کے لیے چیزیں تلاش کرنے جائیں۔‘

    گو کہ فون کا کنیکشن اتنا مضبوط نہیں تھا تاہم ھماش نے صورت حال کو بیان کرنے کے لیے آڈیو نوٹ کا سہارا لیا تھا۔

  12. ’غزہ کے جنوب میں رات گئے حملوں میں زیادہ تر مرنے والے پناہ گزین ہیں‘, رشدی ابوالوف کی خان یونس سے رپورٹنگ

    میں اس وقت غزہ کے جنوب میں واقع خان یونس میں موجود ہوں۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں اسرائیل نے غزہ شہر اور شمال میں رہنے والے تقریباً 11 لاکھ افراد کو منتقل ہونے کی ہدایت دی ہے۔

    راتوں رات جو کچھ ہوا وہ وہاں سے نکلنے والوں کے لیے انتہائی تشویشناک تھا۔

    یہاں کی مقامی انتظامیہ نے کہا کہ اسرائیل نے تین فضائی حملوں میں 100 سے زائد افراد کو ہلاک کیا ہے اور ان میں سے زیادہ تر شمال سے آنے والے پناہ گزین ہیں۔

    بہت سے لوگوں نے آج صبح مجھے بتایا ہے کہ اب وہ اپنا سامان پیک کر کے واپس اپنے گھروں میں جانے کا ارادہ کر رہے ہیں۔

    ایک شخص نے بتایا کہ وہ پچھلے دو دنوں سے گلی میں سو رہا ہے۔ اس کے مطابق وہ پیاس سے مرنے کے بجائے عزت سے مرنا پسند کرے گا۔

    خان یونس میں یہ بہت سنگین صورتحال ہے، ایک شہر جو پہلے ہی گنجائش سے زیادہ آباد تھا، اسے اب مزید چھ لاکھ سے زائد لوگوں کو رہائش اور کھانا دینا ہے۔

    آج صبح غزہ شہر کے ایک سٹور سے کچھ پانی لایا گیا۔ یہ انتہائی خطرناک تھا کیونکہ اسرائیلیوں کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں اور نہ اس بات کی کوئی ضمانت ہے کہ ٹرکوں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔

    تاہم ان تمام خدشات کے باوجود لوگ خطرہ مول لے رہے ہیں کیونکہ صورتحال تباہی کے دہانے پر ہے۔

  13. اس وقت پورا خطہ تباہی کے دہانے پر ہے: اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم, جسیکا پارکر، بی بی سی نیوز

    اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم نے برلن کے دورے کے موقع پر خبردار کیا ہے کہ ’اس وقت پورا خطہ تباہی کے دہانے پر ہے۔‘

    اردن کی سرحدیں مغربی کنارے اور اسرائیل سے ملتی ہیں اور وہاں فلسطینی بھی بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ اسی تناظر میں اُردن اس وقت موجودہ تنازع کا بغور جائزہ لے رہا ہے۔

    اُردن کے بادشاہ نے جرمنی کے رہنما اولاف شولز سے اُن کے دورہ اسرائیل سے قبل اہم ملاقات کی ہے۔

    اردن کے بادشاہ کی حیثیت سے وسیع اختیارات کے حامل شاہ عبداللہ دوم نے کہا کہ جنگ کے پھیلنے کا خطرہ ’حقیقی‘ ہے۔

    انھوں نے فلسطینی پناہ گزینوں کو مصر یا اُردن میں بھیجے جانے کی ممکنہ کوشش کے خدشے سے بھی خبردار کیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’یہ ایک سرخ لکیر ہے، کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ یہ انہی کچھ خاص لوگوں کا منصوبہ ہے جو زمین پر مسائل میں اضافہ کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں۔‘

  14. غزہ، اسرائیل تنازع: اب تک کی تازہ ترین صورتحال

    اسرائیل اور غزہ میں دوپہر کا وقت ہو چکا ہے۔ غزہ کی تازہ ترین صورتحال کچھ یوں ہے:

    • امریکی صدر بائیڈن کا دورہ اسرائیل: امریکی صدر جو بائیڈن نے تصدیق کی ہے کہ وہ اُردن جانے سے قبل بدھ کے روز اسرائیل کا دورہ کریں گے جہاں وہ فلسطین اتھارٹی کے رہنما محمود عباس سمیت دیگر حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔ دوسری جانب بی بی سی کے دفاعی امور کے نامہ نگار جیمز لینڈل نے اسے جاری تنازع میں ایک ’اہم‘ مداخلت قرار دیا ہے۔
    • ایران کی وارننگ: ایران کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کو غزہ پر حملوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انھوں نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند گھنٹوں میں اگر ’فلسطینیوں پر حملے‘ نہ رُکے تو اسرائیل کے خلاف ’پیشگی کارروائی‘ کی جا سکتی ہے۔
    • رات گئے حملے: مقامی حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی غزہ میں رفح اور خان یونس میں رہائشی علاقوں پر رات گئے ہونے والے اسرائیلی حملوں کے دوران 100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اسرائیلی حکومت کی ہدایت کے بعد غزہ کے بہت سے باشندے نقل مکانی بھی کر چکے ہیں۔
    • شمالی غزہ میں موجود افراد: اسرائیلی دفاعی افواج کے ترجمان جوناتھن کونریکس نے جنگ کے بارے میں اپنی یومیہ اپ ڈیٹ میں کہا ہے کہ متوقع زمینی حملے سے پہلے اب تک تقریباً چھ لاکھ افراد شمالی غزہ چھوڑ کر جا چکے ہیں، تاہم چند لاکھ اب بھی وہاں باقی ہیں۔ انھوں نے رہ جانے والے غزہ کے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی حفاظت کے پیش نظر علاقہ چھوڑ دیں۔
    • غزہ کی صورتحال مزید خراب: فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کا ادارہ جنوبی غزہ کے ایک گودام میں امداد کو منتقل کرنے کے لیے پریشان ہے۔ غزہ کی جنوبی سرحد پر واقع رفح کراسنگ کو کھولنے کی امید کی جا رہی تھی تاکہ امدادی سامان سے لدی گاڑیاں غزہ میں داخل ہو سکیں، تاہم ابھی تک کراسنگ نہیں کھولی جا سکی۔
  15. رفح کراسنگ: غزہ کے باشندوں کے لیے ’فرار کا واحد راستہ‘ مگر مصر اس سرحدی گزرگاہ کو کیوں نہیں کھول رہا؟

  16. حماس کا مقابلہ کر کے اپنے علاقے کو بچانے والے سابق فوجی جو اسرائیل کے غزہ پر زمینی حملے کے خلاف ہیں

  17. ایران کی ’فلسطینیوں پر حملے نہ روکنے‘ پر اسرائیل کے خلاف ’پیشگی کارروائی‘ کی دھمکی, ہوگو بچیگا نامہ نگار مشرق وسطیٰ، بی بی سی

    ایران کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کو غزہ پر حملوں کی اجازت نہیں دی جائے گی اور خبردار کیا کہ آئندہ چند گھنٹوں میں اگر ’فلسطینیوں پر حملے‘ نہ رکے تو ’پیشگی کارروائی‘ کی جا سکتی ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے کہا کہ اگر غزہ میں اسرائیل کے ’فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم‘ بند نہ ہوئے تو ’مزاحمتی فورس‘ اگلے چند گھنٹوں میں ’پیشگی کارروائی‘ کر سکتی ہے۔

    ’مزاحمتی محاذ‘ یا فورس خطے میں فورسز کا ایک اتحاد ہے جس میں حزب اللہ بھی شامل ہے جو لبنان کا طاقتور گروہ ہے اور اسے ایران کی حمایت حاصل ہے۔ ’مزاحمتی محاذ‘ میں وہ گروہ بھی شامل ہیں جن کی ایران، شام میں حمایت کرتا ہے اور شام کی سرحد بھی اسرائیل سے ملتی ہے۔

    گذشتہ ہفتے حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان لبنان اسرائیل سرحد پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس سے خدشہ پیدا ہوا کہ یہ حالیہ کشیدگی کا ایک اور محاذ بن سکتا ہے۔

    حالیہ دنوں میں ایران نے متعدد بار اسرائیل اور حماس جنگ کے بڑھنے کے خطرے کی بات کی ہے۔ لیکن ایرانی وزیر خارجہ کا تازہ بیان اس حوالے سے ابھی تک کی سب سے سخت دھمکی ہے کہ یہ لڑائی پھیل سکتی ہے اور ایک علاقائی تنازع بن سکتی ہے۔

    حزب اللہ کے پاس ہتھیاروں کا ایک وسیع ذخیرہ ہے، جس میں اسرائیلی علاقے میں اندر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھنے والے میزائل اور دسیوں ہزار تربیت یافتہ جنگجو ہیں۔

    مغربی ممالک نے تہران کو صورتحال کو مزید خراب کرنے سے خبردار کیا ہے اور اب تک سرحد پار سے تشدد پر قابو پایا جا چکا ہے۔

    لیکن کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اگر اسرائیل غزہ میں زمینی کارروائی کے ساتھ آگے بڑھتا ہے، تو یہاں کے عسکریت پسند یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ اسرائیل کو جواب دینا چاہیے۔

    امریکہ کی جانب سے ایران کو اس تنازع کو بھڑکانے سے روکنے کے لیے انتباہ جاری کیا گیا ہے اور اسرائیل کا کہنا ہے کہ اگر حزب اللہ بھی تنازع کا حصہ بن جاتا ہے تو وہ اسے منھ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

    گذشتہ ہفتے کے دوران حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان سرحد پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے لیکن اب تک لڑائی کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

    گذشتہ رات اسرائیلی فوج کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ اس نے ایسے اہداف کو نشانہ بنایا ہے جو عسکریت پسند گروہ حماس کے ساتھ منسلک ہیں۔ تاہم اس دوران ہلاکتیں رپورٹ نہیں کی گئیں۔

  18. ممکن ہے کہ شمالی کوریا نے حماس کو اسرائیل پر حملے کے لیے اسلحہ فراہم کیا ہو: جنوبی کوریا کی فوج کا الزام, جین میکنزی، نامہ نگار سیول بی بی سی نیوز

    جنوبی کوریا کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ان اشاروں کو مانیٹر کر رہے ہیں کہ جن کے مطابق یہ امکان ہے کہ حماس کے اسرائیل پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا اسلحہ شمالی کوریا نے سپلائی کیا ہو۔

    ایک فوجی اہلکار نے مقامی صحافیوں کو دی گئی ایک بریفنگ میں کہا ہے کہ ’ہمیں ایسے شواہد مل رہے ہیں کہ شمالی کوریا مختلف اقسام کا اسلحہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کو برآمد کر رہا ہے۔

    ’حالیہ عرصے میں اس حوالے سے 122 ملی میٹر کے ریڈیئل آرٹیلری شیل بھی شامل ہیں جو اسرائیلی سرحد کے قریب سے ملے ہیں اور ان کے حوالے سے خیال کیا جاتا ہے کہ حماس اور اس تنظیم سے متعلقہ عسکریت پسند یہی شیل استعمال کرتے ہیں۔‘

    اہلکار کا مزید کہنا تھا کہ حماس کی جانب سے پیراگلائیڈرز کے ذریعے دراندازی کا آئیڈیا بھی شمالی کوریا میں ہی پہلی مرتبہ دیکھا گیا تھا اور یہاں پیرا گلائیڈنگ کے ذریعے کسی علاقے پر حملہ کرنے کو ٹریننگ کا حصہ بنایا جاتا ہے۔

  19. بریکنگ, جنوبی غزہ پر اسرائیلی حملے میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے: فلسطینی حکام

    فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ غزہ کے جنوب میں اسرائیلی حملوں میں درجنوں افراد مارے گئے ہیں۔

    فلسطینی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق خان یونس میں اسرائیلی حملوں میں کم از کم 23 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    فلسطینی حکام نے دعویٰ کیا کہ مصر کے ساتھ سرحدی راہداری کے قریب رفح کے علاقے میں حملوں میں مزید 28 افراد ہلاک ہوئے۔

    اسرائیلی حکومت کی جانب سے شہریوں کو جنوب کی طرف جانے کے لیے کہنے کے بعد غزہ کے بہت سے باشندوں نے گذشتہ روز خان یونس کی طرف نقل مکانی کی تھی۔

    امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ رفح کراسنگ کے ذریعے ایک انسانی ہمدردی کے تحت راہداری کھولی جا سکتی ہے تاکہ غزہ میں امداد کی اجازت دی جا سکے، تاہم اس پر ابھی تک اتفاق نہیں ہوا ہے۔

  20. شمالی غزہ میں اب بھی ایک لاکھ فلسطینی موجود ہیں: اسرائیلی فوج

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ میں اب بھی ایک لاکھ فلسطینی موجود ہیں۔

    اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے ترجمان جوناتھن کونریکس کا کہنا ہے کہ اب تک تقریباً 600,000 لوگ شمالی غزہ سے نقل مکانی کر چکے ہیں لیکن ابھی بھی ایک لاکھ شہری وہاں موجود ہیں۔

    اسرائیل فلسطین کشیدگی کے بارے میں اپنی یومیہ بریفنگ دیتے ہوئے کونریکس کا کہنا ہے کہ 600,000 فلسطینیوں نے اسرائیل کی جانب سے متوقع زمینی حملے کی وارننگ کے بعد جنوب کی طرف جانے کا ’عقلمندانہ اور خود کو محفوظ رکھنے والا‘ فیصلہ کیا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ لیکن اب بھی ایک لاکھ ایسے ہیں جنھیں وہاں سے جانے کی ضرورت ہے۔‘

    کونریکس کا دعویٰ ہے کہ حماس جس نے لوگوں کو فلسطین میں ہی رکنے کو کہا تھا کی وجہ سے لوگوں نے انخلا میں تاخیر ہوئی لیکن انھیں یقین ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عسکریت پسند گروہ ’اپنے شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا چھوڑ دے گا۔‘

    فوجی ترجمان نے دیگر علاقوں میں کارروائیوں سے متعلق بتاتے ہوئے کہا کہ ’جنوب میں کارروائیاں جاری ہیں‘ اور اسرائیل ’حماس کے رہنماؤں اور ان کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہا ہے۔‘

    ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج حماس کے رہنماؤں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہے۔