آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

شمالی غزہ سے فلسطینیوں کا انخلا شروع، حزب اللہ اسرائیل کے خلاف جنگ میں ’حماس کا ساتھ دینے کو تیار‘

شمالی غزہ شہر میں فلسطینی اب اسرائیلی انتظامیہ کی 24 گھنٹوں کی وارننگ کے بعد جنوب کی جانب منتقل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب حزب اللہ کے نائب رہنما نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف جنگ میں حماس کا ساتھ دینے کے لیے ’مکمل طور پر تیار‘ ہیں۔

لائیو کوریج

  1. حماس نے جنوبی اسرائیل کے ساحلی شہر پر راکٹ داغے ہیں

    بی بی سی کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق غزہ سے عسکریت پسند گروہ حماس نے جنوبی اسرائیل پر راکٹ داغے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس حملے کا ہدف اہم اسرائیلی شہر اشکلون ہے۔

    واضح رہے کہ اشکلون بحیرہ روم کے ساحل پر اسرائیل کے جنوبی ضلع میں ایک اہم ساحلی شہر ہے۔

    اطلاعات کے مطابق حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے 150 راکٹ داغنے کا دعویٰ کیا ہے۔

  2. غزہ سے تازہ ترین کیا ہے؟

    اسرائیل اور غزہ کے درمیان تنازعے کے دوران آج اب تک کیا ہوا؟

    • اسرائیلی حکم: اسرائیل نے غزہ شہر کے تمام لوگوں سے کہا ہے کہ وہ ممکنہ زمینی حملے سے قبل حفاظت کے لیے اگلے 24 گھنٹوں میں غزہ کی پٹی کے جنوبی حصے میں منتقل ہوجائیں۔
    • حماس کا کہنا کہیں نہ جائیں: لیکن حماس کے ایک عہدیدار نے غزہ کے شمال میں رہنے والے لوگوں کو جنوب میں منتقل کرنے کے اسرائیل کے حکم کو ’جعلی پروپیگنڈا‘ قرار دیا ہے اور وہاں کے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ اسے نظر انداز کریں۔
    • اقوامِ متحدہ کا کہنا ایسا کرنا ناممکن ہے: اقوام متحدہ نے اسرائیل سے اس حکم نامے کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمالی غزہ کے 11 لاکھ افراد کو نقل مکانی کے لیے کہا گیا ہے جو ’ناممکن‘ ہے۔
    • مزید رہنماؤں کے دورے: یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیئن اور امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن اظہار یکجہتی جاری رکھنے کے لیے آج اسرائیل کا دورہ کر رہے ہیں۔ امریکہ کے اعلیٰ سفارت کار انٹونی بلنکن پہلے ہی خطے میں موجود ہیں اور رہنماؤں سے بات چیت کر رہے ہیں۔
    • اسلامی ممالک میں مظاہرے: حماس اور حزب اللہ کی جانب سے آج عرب اور اسلامی دنیا میں اسرائیل مخالف ریلیوں کی کال کے بعد احتجاج ہوں گے۔ دریں اثنا، اسرائیل سے غیر ملکی شہریوں کی وطن واپسی کی مزید پروازیں روانہ ہو رہی ہیں، امریکہ نے اپنی پہلی پرواز بھیج دی ہے۔
  3. غزہ میں کہاں جانا ہے اور وہاں کیسے پہنچنا ہے؟, لز ڈیوسٹ، چیف انٹرنیشنل نامہ نگار

    اسرائیل کی جانب سے غزہ کی ساحلی پٹی کے شمالی نصف حصے میں رہنے والے تمام فلسطینیوں کو 24 گھنٹوں کے اندر جنوب کی جانب منتقل ہونے کا حکم ’سیفٹی اینڈ پروٹیکشن‘ کے نام سے جاری کیا گیا۔

    اقوام متحدہ کے بقول یہ ’تباہ کن انسانی نتائج‘ کی وجہ بن سکتا ہے۔

    ایک دن میں دس لاکھ سے زیادہ لوگوں کو منتقل کرنا بھی ممکن نہیں ہے، سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں۔ بم گر رہے ہیں، گھر تباہ ہو چکے ہیں، بوڑھوں اور بیماروں کو مدد کی ضرورت ہے۔

    دنیا کے سب سے گنجان آباد علاقوں میں سے ایک مکمل طور پر ناقابل رہائش ہو جائے گا۔۔۔ اگرچہ یہ پہلے سے ایسا ہو چکا ہے۔

    امریکہ سمیت اپنے قریبی اتحادیوں کے دباؤ کے باعث اسرائیل وہ تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرتا نظر آتا ہے جس کے اس کی فوجی کارروائیوں میں شدت آنے کے شہریوں کی مشکلات کو کم سے کم کیا جا سکے۔

    اس کا ایک اہم ہدف حماس کی زیر زمین سرنگیں ہیں جن کو تباہ کرنے کا مطلب زمین سے اوپر رہائشی علاقوں کو تباہ کرنا ہے۔

    مسلسل بمباری اور خوراک اور ایندھن کی کمی کی اذیت سے خوفزدہ غزہ کے باشندے اب اسرائیل کی طرف سے علاقے چھوڑ کر جانے کے مطالبے اور حماس کی طرف سے انھیں وہاں رہنے کے پیغامات سے پریشان ہیں۔

    ایک جنگ سے دوسری جنگ میں اپنے گھروں سے دھکیلے جانے کی تاریخ رکھنے والے لوگ جانتے ہیں کہ کوئی بھی عارضی اقدام مستقل ہو جاتا ہے۔

  4. بریکنگ, حماس کا غزہ میں فضائی حملوں میں 13 یرغمالیوں کی ہلاکت کا دعویٰ

    حماس کے مسلح ونگ نے کہا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فضائی حملوں میں غزہ کی پٹی میں قید کم از کم 13 اسرائیلی اور غیر ملکی یرغمالی ہلاک ہوگئے ہیں۔

    عزالدین القسام بریگیڈ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے پانچ مقامات کو نشانہ بنایا جن میں 13 قیدی جن میں غیر ملکی بھی شامل ہیں ہلاک ہو گئے ہیں۔

    حماس نے 7 اکتوبر کو اچانک حملہ کرتے ہوئے تقریبا 150 افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔

    اس نے دھمکی دی ہے کہ اگر اسرائیل نے بغیر کسی انتباہ کے شہریوں کے گھروں پر بمباری کی تو وہ یرغمالیوں کو ہلاک کر دیں گے۔

    برطانوی وزیر دفاع گرانٹ شیپس نے آئی ٹی وی کو بتایا کہ وہ ان دعووں کو ’محتاط‘ طریقے سے لیکن’گہری تشویش‘ کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔

  5. امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن مشرق وسطیٰ کے دورے میں اردن پہنچ گئے ہیں

    امریکہ کے اعلیٰ سفارت کار عمان میں اردن کے شاہ عبداللہ کے ساتھ ساتھ فلسطینی صدر محمود عباس سے بھی ملاقات کر رہے ہیں۔

    مغربی کنارے سے تعلق رکھنے والے محمود عباس غزہ کی پٹی میں حماس کے سیاسی حریف ہیں۔

    بلنکن اس سے قبل اسرائیل کے دورے پر تھے جہاں انھوں نے اپنے ملک کی غیر متزلزل حمایت کا وعدہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل ’کبھی بھی اکیلا نہیں رہے گا‘۔

    انھوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بینامن نتن یاہو سے بھی کہا کہ حماس کے حملوں کے جواب میں انھیں ’جنگ کے اصولوں کے مطابق کام کرنا چاہیےگ‘

    اردن کے بعد وہ قطر کا دورہ کریں گے جس کے حماس کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں۔

    امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن بھی اسرائیل کے وزیر دفاع سے بات چیت کے لیے اسرائیل پہنچے ہیں۔

  6. غزہ میں بجلی کی بندش: ’ہمارے پاس جلانے کے لیے موم بتیاں بھی نہیں‘

  7. طبی عملے کا شمالی غزہ چھوڑنے سے انکار

    غزہ سٹی میں فلسطینی ہلال احمر کے ترجمان نیبل فرسخ کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ سے 24 گھنٹوں کے اندر دس لاکھ افراد کو بحفاظت منتقل کرنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔

    انھوں نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ’ہمارے مریضوں کا کیا ہوگا؟ ہمارے لوگ زخمی ہیں، ہمارے پاس بوڑھے ہیں، ہمارے بچے ہیں جو ہسپتالوں میں ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ طبی عملے کے ارکان ہسپتالوں کو خالی کرنے اور مریضوں کو چھوڑنے سے انکار کر رہے ہیں۔

    انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’لوگوں کے پاس جانے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ پورے علاقے میں بمباری کی آوازیں سننا اور لوگوں کو انفراسٹرکچر اور سڑکوں کی اس بڑی تباہی اور نقل و حرکت پر پابندیوں کے ساتھ خود کو دوسرے علاقے میں منتقل کرنے کے لیے کہنا ناقابل یقین ہے۔‘

    دریں اثنا ایک مصری سیاستدان نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ اقدام اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کو غزہ سے مصر منتقل ہونے پر مجبور کرنے کی کوشش ہے۔

    ایک رکن پارلیمنٹ مصطفیٰ باقری نے ایکس پر کہا، ’اس طرح فلسطینی کاز مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔ مصر کبھی بھی اس منصوبے میں شامل ہونے پر راضی نہیں ہوگا اور فلسطینی اپنی سرزمین نہیں چھوڑیں گے اور ثابت قدم رہیں گے، چاہے اس کے لیے کتنی ہی قربانیاں کیوں نہ دینی پڑیں۔‘

  8. ’غزہ میں بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد 423,000 تک پہنچ گئی ہے‘

    اقوام متحدہ کے ذرائع کے مطابق غزہ کے اندر بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد 423,000 تک پہنچ گئی ہے، جو اپنے محلوں اور گھروں پر پرتشدد اور شدید فضائی حملوں کے بعد پٹی میں اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

    فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی تعداد 1,600 تک پہنچ گئی، جن میں سے ایک تہائی بچے تھے۔ صرف گذشتہ رات ہی 120 افراد ہلاک ہوئے اور انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اسرائیل پر غزہ اور لبنان میں سفید فاسفورس استعمال کرنے کا الزام لگایا۔

    اقوام متحدہ کے انسانی امور کے ادارے (او سی ایچ اے) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جمعرات کی شام تک گنجان آباد سیکٹر میں بے گھر ہونے والوں کی تعداد میں تقریباً 100,000 کا اضافہ ہوا ہے۔

    اقوام متحدہ کے مطابق اسرائیلی فوج نے تباہ کن انسانی نتائج سے خبردار کرتے ہوئے 11 لاکھ لوگوں کو جنوب کی طرف جانے کی ہدایت دی ہے۔

    اقوامِ متحدہ کے ادارے کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے مرکزی آپریشنز سنٹر اور بین الاقوامی ملازمین کو جنوب میں منتقل کر دیا ہے۔

    اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ شمال میں لاکھوں فلسطینیوں کو وہاں سے چلے جانا چاہیے، ایک اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ ’وہ اس وقت تک واپس نہیں جائیں گے جب تک ہم انھیں اجازت نہیں دیتے۔‘

  9. شہری اسرائیل کے انخلا کے انتباہ پر کان نہ دھریں: حماس

    حماس کے ایک عہدیدار نے غزہ کے شمال میں رہنے والے لوگوں کو جنوب میں منتقل کرنے کے اسرائیل کے حکم کو ’جعلی پروپیگنڈا‘ قرار دیا ہے اور وہاں کے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ اسے نظر انداز کریں۔

    عسکریت پسند گروپ کو بین الاقوامی برادری کی جانب سے طویل عرصے سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے کہ وہ شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور اپنے جنگجوؤں کی حفاظت کے لیے معصوم لوگوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

    حماس نے 2006 میں قانون ساز انتخابات جیتنے کے بعد غزہ کی پٹی کا اقتدار حاصل کیا اور اگلے سال صدر محمود عباس کی حریف فتح تحریک کو اقتدار سے بے دخل کرکے غزہ میں اپنی طاقت کو مستحکم کیا۔

  10. بریکنگ, عام شہری ہمارے دشمن نہیں ہیں، اسرائیلی فوج

    اسرائیلی ترجمان جوناتھن کونریکس کا کہنا ہے کہ قبل از وقت انخلا کا حکم غزہ کی پٹی میں اسرائیل کے ’انسانی ہمدردی کے اقدامات‘ کا حصہ ہے۔

    ایکس پر پوسٹ کی گئی اپنی تازہ ترین ویڈیو اپ ڈیٹ میں انھوں نے کہا کہ ان کا مقصد زندگیاں بچانا تھا۔

    انھوں نے مزید کہا ’شہری ہمارے دشمن نہیں ہیں‘۔

    انھوں نے کہا کہ فوج غزہ کی پٹی میں اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے شہری ہلاکتوں کو کم سے کم کرنا چاہتی ہے اور وہ بین الاقوامی مسلح تنازعات کے قوانین کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔

    انخلا کے بارے میں انھوں نے کہا، ’ہم سمجھتے ہیں کہ اس میں وقت لگے گا۔ یہ ایک آسان عمل نہیں ہے‘۔

    تقریبا 11 لاکھ افراد غزہ پٹی کی پوری آبادی کا نصف ہیں جو انخلا کے حکم سے متاثر ہوئے ہیں۔

  11. غزہ شہر کے رہائشیوں کو ’حفاظت اور تحفظ‘ کے لیے وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا: اسرائیلی فوج

    اسرائیلی فوج نے غزہ شہر کے شہریوں کو براہ راست جنوب کی طرف نقل مکانی کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    غزہ کی پٹی کا اہم شہری علاقے غزہ شہر سے مخاطب ہو کراسرائیلی حکام کا کہنا تھا کہ ’آپ غزہ سٹی میں صرف اس وقت واپس آسکیں گے جب اس کی اجازت دینے کا ایک اور اعلان کیا جائے گا۔‘

    آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ حماس کے عسکریت پسند سرنگوں کے نیچے اور شہری آبادی والی عمارتوں کے اندر چھپے ہوئے ہیں۔

    بیان میں شہریوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ’اپنی حفاظت اور اپنے اہل خانہ کی حفاظت کے لیے شہر خالی کر دیں اور حماس کے دہشت گردوں سے دور رہیں جو آپ کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’آنے والے دنوں میں، آئی ڈی ایف غزہ شہر میں نمایاں طور پر کام کرنا جاری رکھے گا اور شہریوں کو نقصان پہنچانے سے بچنے کے لیے وسیع پیمانے پر کوششیں کرے گا۔‘

    یہ حکم ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب توقع ہے کہ اسرائیل غزہ میں زمینی حملہ کرے گا جس کے لیے ہزاروں فوجی سرحد پر جمع ہیں۔

    اقوام متحدہ نے اس حکم نامے کو منسوخ کرنے کی پرزور اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ انخلا سے ’خوفناک صورتحال‘ پیدا ہوسکتی ہے اور اس کے ’تباہ کن انسانی نتائج‘ برآمد ہوں گے۔

  12. بریکنگ, انخلا کے حکم پر اقوام متحدہ کا ردعمل شرمناک ہے، اسرائیلی سفیر

    اسرائیل نے اقوام متحدہ کو ایک جواب جاری کرتے ہوئے اپنے انخلا کے حکم کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ بین الاقوامی ادارے کا بیان ’شرمناک‘ ہے۔

    اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر گیلاڈ ایردان نے کہا کہ اسرائیل غزہ کے رہائشیوں کو قبل از وقت انتباہ دے رہا ہے اور حماس کے خلاف فوجی کارروائی میں شامل نہ ہونے والوں کو کم سے کم نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔

    انھوں نے کہا، ’کئی سالوں سے، اقوام متحدہ نے حماس کو مسلح کرنے اور غزہ کی پٹی میں شہری آبادی اور سویلین انفراسٹرکچر کو اپنے ہتھیاروں اور قتل و غارت گری کے لیے چھپنے کی جگہ کے طور پر استعمال کرنے پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں، اب اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے، جس کے شہریوں کو حماس کے دہشت گردوں نے قتل کیا تھا۔۔۔ یہ الٹا اسرائیل کو نصیحت کر رہا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے لیے بہتر ہے کہ وہ یرغمالیوں کی واپسی، حماس کی مذمت اور اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت پر توجہ دے۔

  13. حماس کے عسکریت پسند پیراشوٹس کی مدد سے اسرائیل میں کیسے داخل ہوئے

  14. بریکنگ, اقوام متحدہ کی غزہ سے شہریوں کے انخلا کا حکم واپس لینے کی اپیل

    اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کی جانب سے شمالی غزہ کے 11 لاکھ افراد اگلے 24 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کے کسی بھی حکم کی تصدیق ہونے کی صورت میں اسے منسوخ کرنے کی پرزور اپیل کرتا ہے تاکہ اس سانحے کو ایک المناک صورتحال میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکے۔

    اسرائیلی فوج کے رابطہ افسران نے غزہ میں اقوام متحدہ کی ٹیم کے رہنماؤں کو انخلا کے حکم کے بارے میں بتایا تھا۔

    اس حکم نامے میں جن لوگوں کو علاقے سے نکلنے کو کہا گیا ہے ان میں اقوام متحدہ کی تنصیبات بشمول سکول، صحت کے مراکز اور کلینکس میں پناہ لینے والے افراد اور عملہ بھی شامل ہیں۔

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس جمعے کی سہ پہر ایک منعقد ہوگا۔

    امریکہ، برطانیہ، چین، روس اور فرانس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن ہیں۔

  15. اسرائیل چاہتا ہے کہ شمالی غزہ کے 11 لاکھ افراد اگلے 24 گھنٹوں میں ملک چھوڑ دیں: اقوامِ متحدہ

    اقوام متحدہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے اقوام متحدہ سے کہا ہے کہ وادی غزہ کے شمال میں رہنے والے ہر شخص کو اگلے 24 گھنٹوں میں جنوبی غزہ منتقل ہو جانا چاہیے۔

    اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یہ تعداد تقریبا 11 لاکھ ہے جو پوری غزہ پٹی کی آبادی کا تقریبا نصف ہے۔

    متاثرہ علاقے میں گنجان آباد غزہ شہر بھی شامل ہے۔

    یہ الرٹ غزہ اور یروشلم کے وقت کے مطابق آدھی رات سے ٹھیک پہلے دیا گیا تھا۔

    اقوام متحدہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’اقوام متحدہ کا خیال ہے کہ تباہ کن انسانی نتائج کے بغیر اس طرح کی تحریک کا ہونا ناممکن ہے‘

    اسرائیل غزہ کی سرحد پر زمینی حملے کی تیاری کر رہا ہے، جس میں فوجی، بھاری توپ خانے اور ٹینک جمع کیے جا رہے ہیں۔

    حماس کے عسکریت پسندوں کے اسرائیل پر اچانک حملے کے بعد سنیچر کے روز سے غزہ پر فضائی حملے جاری ہیں۔

  16. اقوام متحدہ کا فلسطینیوں کی فوری ضروریات کے لیے 29 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کا مطالبہ

    اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور نے ایک ہنگامی اپیل جاری کی ہے جس میں ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کی انتہائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے29 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی ہنگامی فنڈنگ فراہم کریں۔

    ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس رقم کا استعمال 12 لاکھ افراد کی مدد کے لیے کیا جائے گا۔

    جمعرات کے روز غزہ میں 84,000 سے زائد افراد بے گھر ہو گئے، ایجنسی نے مزید کہا کہ اب 423،000 سے زیادہ افراد وہاں پناہ سے محروم ہیں۔

    ایجنسی کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی کے زیادہ تر رہائشیوں کو اب سروس فراہم کرنے والوں سے پینے کا پانی یا پائپ لائنوں کے ذریعے گھریلو پانی تک رسائی حاصل نہیں ہے۔

    اس علاقے کی 50,000 حاملہ خواتین میں سے تقریبا 5،500 آنے والے مہینے میں زچگی سے گزریں گی۔‘

    ’ وہ ضروری صحت کی خدمات تک رسائی حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں کیونکہ صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں، ہسپتالوں اور کلینکوں پر حملے ہو رہے ہیں۔‘

    اس سے قبل اقوام متحدہ نے کہا تھا کہ اسے 2023 میں فلسطینی امدادی کارروائیوں کے لیے 50 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کا نصف سے بھی کم حصہ پورا ہوا ہے۔

  17. بریکنگ, اسرائیل: غزہ پر چھ ہزار بم گرائے گئے

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے چھ دنوں کے دوران غزہ میں حماس کے ٹھکانوں پر چار ہزار ٹن وزنی چھ ہزار بم گرائے ہیں۔

    اسرائیلی فضائیہ کا کہنا ہے کہ فضائی حملوں میں 3600 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

  18. بریکنگ, اسرائیل غزہ اور لبنان پر بمباری میں سفید فاسفورس استعمال کر رہا ہے: ہیومن رائٹس واچ

    ہیومن رائٹس واچ نے اسرائیل پر غزہ کی پٹی اور لبنان پر بمباری میں سفید فاسفورس استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

    یہ ایک انتہائی آتش گیر کیمیکل ہے جو بعض اوقات فوج کی طرف سے علاقوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے لیکن یہ لوگوں کو بری طرح سے جلا بھی سکتا ہے۔

    جب اسے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے تو یہ انتہائی خطرناک ہوتا ہے ، خاص طور پر اگر اسے بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں لانچ کیا جائے۔

    اسرائیلی فوج نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ وہ غزہ میں سفید فاسفورس پر مشتمل ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں فی الحال آگاہ نہیں ہے۔ اس نے لبنان کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ اس نے غزہ اور لبنان میں بنائی گئی ویڈیوز حاصل کی ہیں اور ان کا تجزیہ کیا ہے جن میں سفید فاسفورس توپ خانے کے گولے پھٹتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس میں غزہ میں خبر رساں ادارے اے ایف پی کی جانب سے لی گئی تصاویر پر بھی روشنی ڈالی گئی جس میں آسمان پر سفید لکیریں دکھائی دے رہی ہیں۔

    سفید فاسفورس آکسیجن کے ساتھ رابطے میں آنے پر جلتا ہے، جس سے گھنا سفید دھواں پیدا ہوتا ہے۔

    انسانی حقوق کی تنظیم نے ایک بیان میں کہا کہ دنیا کے سب سے زیادہ گنجان آباد علاقوں میں سے ایک غزہ میں سفید فاسفورس کا استعمال شہریوں کے لیے خطرے میں اضافہ کرتا ہے اور یہ شہریوں کو غیر ضروری خطرے میں ڈالنے سے متعلق بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

    سفید فاسفورس بین الاقوامی قانون کے تحت ممنوع نہیں ہے کیونکہ اس کے قانونی استعمال ہیں لیکن انسانوں پر اس کے مضر اثرات کی وجہ سے ان کے استعمال کو سختی سے منظّم کیا جاتا ہے۔

    اسرائیل کی مسلح افواج نے 2008-2009 کے دوران غزہ پر حملے کے دوران سفید فاسفورس کو دھوئیں کی ڈھال کے طور پر استعمال کیا تھا۔

    انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں نے اس وقت جنگی جرائم کا الزام لگایا تھا۔ فوج نے 2013 میں کہا تھا کہ وہ اس کیمیکل کا بطور کیموفلاج استعمال مرحلہ وار ختم کر دے گی۔

  19. غزہ اور اسرائیل میں کیا ہو رہا ہے؟

    اسرائیل اور غزہ ک تازہ صورتحال سے پہلے اب تک کی صورتحال کا مختصر احوال

    • اسرائیل کے وزیر اعظم بینامن نتن یاہو نے ان کی نئی جنگی کابینہ کی حلف برداری کے موقع پر پارلیمان کو بتایا ہے کہ ’مشکل دن آنے کو ہیں۔‘
    • اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ کو ’سنگین‘ صورتحال کا سامنا ہے جہاں خوراک اور پانی تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور 50 ہزار حاملہ خواتین ضروری خدمات تک رسائی سے قاصر ہیں۔
    • دریں اثناء عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ غزہ میں سنیچر سے اب تک 11 طبی کارکن ہلاک ہو چکے ہیں۔
    • غزہ میں اسرائیل کے فضائی حملوں کے بعد سے اب تک 1500 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 338000 افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
    • ہفتے کے اختتام پر حماس کے حملوں کے دوران ہلاک ہونے والے اسرائیلیوں کی تعداد 1300 تک پہنچ گئی ہے جبکہ کم از کم 150 یرغمالیوں کو غزہ لے جایا گیا ہے۔
    • اسرائیل کے وزیر اطلاعات، گالیٹ ڈسٹیل اتبریان نے یہ کہتے ہوئے استعفیٰ دے دیا ہے کہ محکمے کی فنڈنگ کو کہیں اور بہتر طریقے سے استعمال کیا جائے گا۔
    • یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیئن حماس کے حملوں کے متاثرین سے اظہار یکجہتی کے لیے جمعے کو اسرائیل کا دورہ کریں گی۔
    • امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن بھی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے دورے کے ایک دن بعد جمعے کو اسرائیل کا دورہ کر رہے ہیں۔
    • فرانس میں پولیس نے فلسطینیوں کے حق میں ہونے والے تمام مظاہروں پر پابندی عائد کر دی ہے کیونکہ ان سے امن عامہ میں خلل پڑنے کا اندیشہ ہے۔
  20. امریکہ تنازع کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کام کر رہا ہے: انٹونی بلنکن

    امریکی وزیر خارجہ نے ایک بار پھر اسرائیل کے متعلق بات کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں ’تنازع کو پھیلنے سے روکنے‘ کے لیے پورے خطے کے دیگر رہنماؤں سے ملاقات کریں گے، اور حماس سے یرغمالیوں کی واپسی کو ممکن بنانے پر بات کریں گے۔

    ان کا کہنا ہے کہ وہ اردن جائیں گے جہاں وہ شاہ عبداللہ اور فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے ملاقات کریں گے۔

    اس کے بعد وہ مشرق وسطیٰ کے دیگر رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔

    انٹونی بلنکن اس بات کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اسرائیل اور اس کے عوام کے ساتھ ’آج، کل اور ہر روز‘کھڑا ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ انھوں نے ان امریکی شہریوں کے خاندانوں سے ملاقات کی ہے جو مارے گئے یا اغوا کیے گئے ہیں اور یہ کہ ’ان کی تکلیف کی شدت بے حد ہے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ اپنے پیارے کی قسمت کے بارے میں نہ جاننے کی ’غیر متزلزل اذیت‘ ایسی چیز ہے جسے کسی کو بھی برداشت نہیں کرنا چاہیے۔

    ان کا کہنا ہے کہ امریکہ ان 30 سے ​​زائد ممالک میں سے ایک ہے جو حماس کی طرف سے ’زندگی سے نفرت‘ کی وجہ سے المیے سے گزر رہے ہیں۔

    بلنکن کا کہنا ہے کہ وہ جو کچھ دکھاتے ہیں وہ ’اس سے آگے ہے جس کا کوئی تصور کرنا چاہے گا۔ بچوں کو گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا، نوجوانوں کو زندہ جلا دیا گیا۔‘

    پھر انھوں نے غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’حماس شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔‘

    بلنکن اس نقطہ نظر پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ حماس جان بوجھ کر شہریوں کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

    اسرائیل کے جوابی فضائی حملوں کے بعد سے غزہ میں لگ بھگ 1400 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    بلنکن کا کہنا ہے کہ انھوں نے اسرائیلی حکام سے ان شہریوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کے بارے میں بات کی ہے جو غزہ سے نکلنا چاہتے ہیں۔