امریکی وزیر خارجہ نے ایک بار پھر اسرائیل کے متعلق بات کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں ’تنازع کو پھیلنے سے روکنے‘ کے لیے پورے خطے کے دیگر رہنماؤں سے ملاقات کریں گے، اور حماس سے یرغمالیوں کی واپسی کو ممکن بنانے پر بات کریں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ اردن جائیں گے جہاں وہ شاہ عبداللہ اور فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے ملاقات کریں گے۔
اس کے بعد وہ مشرق وسطیٰ کے دیگر رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔
انٹونی بلنکن اس بات کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اسرائیل اور اس کے عوام کے ساتھ ’آج، کل اور ہر روز‘کھڑا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ انھوں نے ان امریکی شہریوں کے خاندانوں سے ملاقات کی ہے جو مارے گئے یا اغوا کیے گئے ہیں اور یہ کہ ’ان کی تکلیف کی شدت بے حد ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ اپنے پیارے کی قسمت کے بارے میں نہ جاننے کی ’غیر متزلزل اذیت‘ ایسی چیز ہے جسے کسی کو بھی برداشت نہیں کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا ہے کہ امریکہ ان 30 سے زائد ممالک میں سے ایک ہے جو حماس کی طرف سے ’زندگی سے نفرت‘ کی وجہ سے المیے سے گزر رہے ہیں۔
بلنکن کا کہنا ہے کہ وہ جو کچھ دکھاتے ہیں وہ ’اس سے آگے ہے جس کا کوئی تصور کرنا چاہے گا۔ بچوں کو گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا، نوجوانوں کو زندہ جلا دیا گیا۔‘
پھر انھوں نے غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’حماس شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔‘
بلنکن اس نقطہ نظر پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ حماس جان بوجھ کر شہریوں کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
اسرائیل کے جوابی فضائی حملوں کے بعد سے غزہ میں لگ بھگ 1400 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
بلنکن کا کہنا ہے کہ انھوں نے اسرائیلی حکام سے ان شہریوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کے بارے میں بات کی ہے جو غزہ سے نکلنا چاہتے ہیں۔