آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

’یہ ایک شیطانی حملہ تھا، امریکہ اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے‘: امریکی صدر جو بائیڈن کا خطاب

صدر بائیڈن نے اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ آن لائن اجلاس کے بعد اپنے خطاب میں حماس کو خون کا پیاسا قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اسرائیل کو ہر ممکن مدد فراہم کرے گا۔ ان کے مطابق ہزار سے زائد مرنے والوں میں 14 امریکی بھی شامل ہیں۔ حماس کے ’طوفان الاقصیٰ آپریشن‘ کے آغاز اور اسرائیل کے جوابی حملوں میں اب تک 1008 اسرائیلیوں اور 830 فلسطینیوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, غرب اردن میں اسرائیلی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں چار بچوں سمیت 17 فلسطینی ہلاک

    غزہ سے ہٹ کر بھی اسرائیل اور فلسطینی شہریوں کی جھڑپیں جاری ہیں اور اقوام متحدہ کے مطابق سنیچر سے لے کر اب تک مقبوضہ غرب اردن میں اسرائیلی فورسز سے جھڑپوں کے دوران کم از کم 17 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

    ہلاک ہونے والوں میں چار بچے بھی شامل ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد 295 ہے۔

    غرب اردن غزہ سے الگ علاقہ ہے اور اس کا انتظام حماس کے زیر کنٹرول نہیں ہے۔

    اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ زیادہ تر افراد سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے نتیجے میں زحمی ہوئے ہیں، لیکن اسرائیلی آباد کاروں کے حملوں کے نتیجے میں 23 افراد زخمی ہوئے۔

  2. گذشتہ رات غزہ میں میرے 20 سالہ صحافتی دور کی مشکل ترین رات تھی, رشدی ابو آلوف بی بی سی نیوز، غزہ سٹی

    غزہ میں رات بھر شدید اسرائیلی حملے ہوتے رہے ہیں۔ میں گذشتہ رات غزہ شہر کے علاقے میں تھا جاں زیادہ تر عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں۔

    رات بھر اسرائیلی راکٹ حملوں اور بمبوں کے زور دار دھماکوں سے زمین لرزتی رہی اور آسمان پر دھویں اور آگ کے بادل اٹھتے رہے ہیں۔

    میں ایک رہائشی عمارت میں دیگر 20 خاندانوں کے ساتھ رہتا ہوں۔ اس عمارت میں رات بھر بچے خوف کے مارے چیختے رہے اور کوئی بھی ایک پل کو سو نہیں سکا۔

    گذشتہ 20 برسوں کے دوران اس علاقے کی کوریج کرتے ہوئے یہ میری مشکل ترین رات تھی۔

    آج صبح میں کسی نہ کسی طرح سے اس علاقے سے نکلنے میں کامیاب رہا اور میں اس علاقے سے نکلتے ہوئے ہر جگہ ملبہ سے گاڑی چلاتے ہوئے آیا ہے۔

    شہر کی گلیوں میں عمارتیں زمین بوس ہو چکی ہیں اور پورے کا پورا علاقہ ہموار ہو چکا ہے۔ یہاں سرکاری اور یونیورسٹی کی عمارتیں، انفراسٹرکچر، ایک مسجد اور ایک پولیس سٹیشن تباہ ہو چکا ہے۔

    کچھ عمارتیں جنھیں میں پہچانتا ہوں لیکن کچھ کو آپ اس علاقے میں شدید تباہی کے باعث نہیں پہچان سکتے۔

  3. بریکنگ, ہم اسرائیل پر حملہ کرنے والوں کے ہاتھ چومتے ہیں: ایران کے رہبر اعلیٰ

    ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ ہم اسرائیل پر حملہ کرنے والوں کے ہاتھ چومتے ہیں۔

    انھوں نے اسرائیل پر حماس کے حملے میں ایران کے ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

    لیکن خبر رساں ادارے روئٹرز کی جانب سے ان کے بیان کے ترجمے کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ’ہم صیہونی حکومت پر حملہ کرنے والوں کے ہاتھ چومتے ہیں۔ ‘

    یاد رہے کہ ایران پر حماس کو مالی مدد، اسلحہ اور تربیت دینے کا الزام لگتا رہا ہے۔

  4. بریکنگ, غزہ میں 150 کے قریب اسرائیلوں مغوی قید ہیں: اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر

    اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر گیلاد اردان کا کہنا ہے کہ غزہ میں ’100 سے 150 کے درمیان‘ اسرائیلی شہریوں کو یرغمال بنا کر رکھا گیا ہے۔

    آج صبح اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہیگری نے کہا تھا کہ 50 مغویوں کے اہل خانہ کو فوج کی طرف سے مطلع کر دیا گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ فوج معلومات کی تصدیق کرنے کے بعد مزید خاندانوں سے رابطہ کرے گی۔

  5. غزہ کی سرحد پر اسرائیلی فوج کی 35 بٹالین تعینات ہیں

    اسرائیلی فوج کے ترجمان رچرڈ ہیچ کا کہنا ہے کہ فوج ’مستقبل کی کارروائیوں کے لیے بنیادی تیاری کر رہی ہے‘ اور غزہ کے ساتھ ملحقہ سرحد پر فوج کی 35 بٹالین تعینات ہیں۔

    ایک بٹالین عام طور پر سینکڑوں فوجیوں پر مشتمل ہوتی ہے۔

    سنیچر کے مہلک حملوں کے جواب میں اسرائیل کی جانب سے غزہ میں ایک بڑی زمینی کارروائی شروع کرنے کی توقع ہے۔

    گذشتہ رات وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا کہ غزہ پر فضائی حملے ’صرف آغاز‘ تھے۔

  6. غزہ میں اسرائیلی حملوں سے ہونے والی تباہی کی تصاویر

    غزہ میں رات بھر ہونے والے اسرائیلی حملوں کے بعد سامنے آنے والی تصاویر سے ہونے والے نقصان کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

    اسرائیلی فضائیہ کا کہنا ہے کہ اس نے رات بھر جنگجوؤں کے 200 اہداف کو نشانہ بنایا۔

    مقامی حکام کا کہنا ہے کہ سنیچر سے اب تک غزہ میں ہونے والے فضائی حملوں میں تقریباً 700 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  7. بریکنگ, اسرائیل فلسطین تنازعے کی تازہ ترین صورتحال کیا ہے؟

    اسرائیل اور فلسطین میں حالیہ کشیدگی کو آج چوتھا روز ہے۔ اب تک کی تازہ ترین صورتحال کچھ یوں ہے۔

    اسرائیل نے غزہ سے ملحقہ سرحدی علاقے میں قبضہ دوبارہ حاصل کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے باڑ کو بند کر دیا ہے، جسے حماس کے عسکریت پسندوں نے سنیچر کے روز توڑ کر حملے کیے تھے۔

    اسرائیلی فضائیہ کا کہنا ہے کہ اس نے غزہ کی پٹی میں رات بھر 200 اہداف کو نشانہ بنایا۔

    پیر کی شام حماس کی دھمکی دی تھی کہ اگر بغیر وارننگ کے غزہ پر فضائی حملے جاری رکھے گئے تو اسرائیل سے یرغمال بنائے گئے افراد کو قتل کر دیا جائے گا۔

    اسرائیلی فوج نے غزہ کے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ رفاہ کے سرحدی راستے سے مصر چلے جائیں، لیکن بعد میں کہا گیا کہ سرحدی راستے کو بند کر دیا گیا ہے۔

    اسرائیل نے غزہ کا محاصرہ کرتے ہوئے ایندھن، بجلی اور پانی کی سپلائی بند کر دی ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے بچوں سے متعلق ادارے یونیسیف نے غزہ کے اندر اور باہر ایک انسانی راہداری کا مطالبہ کیا ہے۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ سنیچر کی صبح حملوں کے آغاز کے بعد سے اب تک اسے حماس کے 1500 جنگجوؤں کی لاشیں ملی ہیں۔

  8. حماس کا ’سرپرائز اٹیک‘: دفاعی صلاحیت میں سرِفہرست اسرائیلی فوج فوری ردعمل دینے میں ناکام کیوں رہی؟

  9. بریکنگ, غزہ سے ملحقہ سرحدی علاقے کو محفوظ بنا لیا گیا ہے: اسرائیلی فوج

    جیسا کہ ہم نے پہلے آپ کو بتایا تھا کہ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے غزہ سے ملحقہ سرحدی علاقے کا قبضہ دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان ریئر ایڈمرل ڈنیئل ہیگری کا کہنا تھا کہ گذشتہ ایک روز سے یہاں کوئی حملہ نہیں ہوا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ انجینئر ان جگہوں کی کھدائی کر رہے ہیں جہاں باڑ کے کچھ حصوں کو کاٹا گیا تھا۔

    حماس کے عسکریت پسندوں نے ہفتے کے روز اپنا حملہ شروع کرنے سے پہلے متعدد مقامات پر رکاوٹیں توڑ دیں تھیں۔

  10. بریکنگ, اسرائیلی فوج کا حماس کے 1500 جنگجوؤں کی لاشیں ملنے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ انھیں اسرائیل اور غزہ کی پٹی کے اطراف سے حماس کے 1500 جنگجوؤں کی لاشیں ملی ہیں۔

    اس کا مزید کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی کے قریب سے اسرائیلی برادری کے انخلا کا عمل تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔

  11. بریکنگ, اسرائیلی فوج کی فلسطینوں کو ملک چھوڑ کر مصر جانے کی ہدایت

    اسرائیلی فوج نے غزہ چھوڑنے والے کسی بھی فلسطینی کو مصر جانے کا مشورہ دیا ہے۔

    لیفٹیننٹ کرنل رچرڈ ہیچٹ نے ایک بریفنگ میں کہا کہ ’میں جانتا ہوں کہ رفاہ کا سرحدی راستہ اب بھی کھلا ہے۔ جو کوئی بھی باہر نکل سکتا ہے، میں انھیں غزہ سے جانے کا مشورہ دوں گا۔‘

    مصر اور غزہ کی پٹی کے درمیان سرحدی راستہ عام طور پر غزہ کے شہریوں کے لیے ایک لائف لائن ہے۔

  12. بریکنگ, اسرائیلی فضائیہ کا حماس کے کمانڈر کے گھر سمیت 200 اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    اسرائیلی فضائیہ کا کہنا ہے کہ اس نے غزہ پر کارروائی کرتے ہوئے راتوں رات 200 اہداف کو نشانہ بنایا ہے

    اسرائیلی فضائیہ نے ابھی ایک تازہ بیان جاری کیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے غزہ میں حماس اور دیگر عسکریت پسند گروپوں کے 200 ٹھکانوں کو راتوں رات فضائی حملوں سے نشانہ بنایا ہے۔

    سوشل میڈیا پر جاری بیان میں اسرائیلی فضائیہ نے کہا کہ درجنوں لڑاکا طیاروں نے رمل اور خان یونس کے علاقوں پر حملے کیے اور اہداف کو تباہ کیا جس میں کمانڈنٹ اور کنٹرول سینٹرز، ہتھیاروں کے ذخیرہ کرنے کے ڈپو جو ان کے بقول ایک مسجد کے اندر تھا کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ جبکہ اس کے علاوہ حماس کے ایک مبینہ کمانڈر کے گھر کو بھی ہدف بنایا گیا ہے۔

  13. اسرائیلی طبی رضاکار نے حماس کے حملے کے بعد کیا دیکھا؟ ’وہاں افراتفری کا عالم تھا‘

    اسرائیل کی قومی رضاکار ہنگامی ریسکیو سروس یونائیٹڈ ہتزالہ کے ترجمان رافیل پوچ کا کہنا ہے کہ ’وہاں افراتفری کا عالم تھا۔‘

    انھوں نے بی بی سی کے نیوز ڈے پروگرام کو بتایا کہ سنیچر کی صبح ان کی آنکھ راکٹوں کے دھماکوں سے کھلی تھی جو اسرائیل پر حماس کے حملے کا حصہ تھے، جس میں اب تک تقریباً 900 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    اس کے بعد آنے والے پریشان کن گھنٹوں کے بارے میں پوچ کا کہنا ہے کہ ’ہمارے رضاکاروں کا ایک رکن زخمی ہوا، جبکہ ایک اور زخمی رکن دوسرے لوگوں کی جان بچانے کی کوشش کرتے ہوئے مارا گیا۔‘

    لوگوں کو طبی خدمات فراہم کرنے کے لیے اسرائیل بھر میں تقریباً 1500 رضاکاروں کو بلایا گیا ہے۔ پوچ نے بتایا کہ کس طرح انھوں نے ہیلی کاپٹروں اور ایمبولینسوں کے ذریعے زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں تک پہنچایا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ نئے رضاکار ان لوگوں کی جگہ لینے کے لیے قدم بڑھا رہے ہیں جو تھکے ہوئے ہیں اور انھیں آرام کی ضرورت ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم قصبوں میں گھر گھر جا رہے ہیں جہاں لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں کیونکہ یہ بہت خطرناک ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ انھیں خوراک، پانی اور دوائیاں فراہم کی جائیں۔‘

  14. بریکنگ, جبالیہ پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملے کے بعد تباہی کے مناظر

    فلسطینی محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی کے شمال میں گنجان آباد جبالیہ پناہ گزین کیمپ میں اسرائیلی حملے میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہو گئے۔

    بی بی سی عربی نے فضائی حملے سے ہونے والی تباہی کے چند مناظر کو فلمایا ہے۔

    انتباہ: کچھ ناظرین کو یہ مناظر پریشان کن لگ سکتی ہیں۔

  15. بریکنگ, حماس کے حملے میں 18 تھائی شہریوں کی ہلاکت

    تھائی لینڈ کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اسرائیل پر حماس کے حملے میں ہلاک ہونے والے تھائی شہریوں کی تعداد 18 ہو گئی ہے۔

    بی بی سی نے گذشتہ روز رپورٹ کیا تھا کہ حماس کے عسکریت پسندوں نے 12 تھائی باشندوں کو ہلاک اور 11 کو اغوا کر لیا ہے۔

    وزارت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل سے یرغمال بنائے گئے تھائی شہریوں کی رہائی میں مدد کے لیے کہہ رہا ہے۔

  16. غزہ پر زمینی حملہ کرنا اتنا اسان نہیں ہے, فرینک گارڈنر، سیکورٹی نامہ نگار

    بعض حلقوں میں ایک مفروضہ پایا جاتا ہے کہ حماس سے اسرائیل کو درپیش خطرہ کسی نہ کسی طرح زمینی سطح پر مکمل حملے کے ساتھ ختم ہو سکتا ہے۔

    تاریخ بتائے گی کہ یہ اتنا بھی آسان نہیں ہے جس کی کچھ لوگ امید کر رہے ہیں۔

    جب اسرائیل نے 2014 میں غزہ پر حملہ کیا تھا تو 2,000 سے زیادہ فلسطینی مارے گئے اور ہر جنازے میں پہلے سے زیادہ بنیاد پرست نوجوانوں نے جنم لیا۔

    اس کے بعد سے حماس نے سرحد پار سے راکٹ فائر کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

    خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے مسلح ونگ میں تقریباً 30,000 جنگجو ہیں، جن میں سے زیادہ تر فلسطینی سرزمین کے دفاع کے عزم میں جنونی ہیں۔ وہ اپنی سرنگوں، تہہ خانوں، بنکروں اور چور راستوں کو حملہ آوروں سے بہتر جانتے ہیں۔

    اس طرح کی گنجان آبادی والے علاقے میں ٹینکوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے، جو گھات لگا کر حملہ کرنے کے لیے انتہائی خطرناک ہو گا۔

    خالصتاً فوجی نقطہ نظر سے، ایک زمینی حملہ قلیل مدتی کامیابی کا باعث بن سکتا ہے، جس سے حماس کے زیادہ تر کمانڈروں کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔

    لیکن دیرپا امن معاہدے کی عدم موجودگی میں، حماس ممکنہ طور پر خود کو دوبارہ مضبوط کرے گی، جو ناراض، بنیاد پرست نوجوان جنگجوؤں کی نئی نسل کو اپنے میں شامل کرے گی۔

  17. ’صحرا النقب‘ میں میوزک فیسٹیول پر حملے سے شروع ہونے والا حماس کا آپریشن: ’وہ پانچ گھنٹے کی ڈراؤنی فلم جیسا تھا‘

  18. لندن اور نیویارک میں فلسطین کی حمایت میں ریلیاں

    جہاں کچھ مغربی عمارتیں اسرائیل کی حمایت کے لیے نیلے اور سفید رنگ میں روشن کی گئی ہیں، وہیں لندن اور نیویارک میں بھی فلسطینیوں کی حمایت میں بڑے بڑے اجتماعات ہوئے ہیں۔

  19. ’حماس کو ہرانا ہو گا، آپ حماس کی اصلاح نہیں کر سکتے‘: امریکی رکن کانگرس

    کیلیفورنیا سے امریلی رکن کانگریس بریڈ شرمین نے بی بی سی نیوز کو بتایا ہے کہ غزہ میں تنازع ’مہینوں‘ تک جاری رہ سکتا ہے، لیکن ان کا خیال ہے کہ اسرائیلی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’آپ صرف یہ دکھاوا نہیں کر سکتے کہ ایسا نہیں ہوا اور صرف انھیں [حماس] کو اس جدید ترین فوجی طاقت کے ساتھ چھوڑ دیں جس کا انھوں نے مظاہرہ کیا ہے۔ آپ کو حماس کو غیر مسلح کرنا پڑے گا۔‘

    طاقتور ایوان کی خارجہ امور کی کمیٹی کے رکن بریڈ شرمین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی اس وقت ترجیح اسرائیل کی نہ صرف فوجی بلکہ سفارتی طور پر بھی مدد کرنا ہونا چاہیے۔

    شرمین کا کہنا ہے کہ حماس نے اس خوف سے حملہ کرنے کی ذمہ داری محسوس کی ہو گی کہ سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے تک پہنچ جائے گا جس کی ثالثی بائیڈن اور وائٹ ہاؤس کر رہا تھا۔

    شرمین کا کہنا ہے کہ ’انھوں نے ایسا کیا کیونکہ انھیں یہ کرنا پڑا۔‘

    جب ان سے کارروائیوں کے اگلے مرحلے کے بارے میں ان کی تشویش کے بارے میں پوچھا گیا تو وہ کہتے ہیں کہ لوگوں کو اس امکان کے لیے تیاری کرنی چاہیے کہ حماس یرغمالیوں کو پھانسی دے گی۔

    شرمین کہتے ہیں کہ ’آپ کو حماس کو شکست دینا ہو گی، آپ حماس کی اصلاح نہیں کر سکتے۔‘

  20. ’جنگوں میں سب سے پہلے نقصان بچوں کا ہوتا ہے‘: یونیسیف

    اقوام متحدہ کے بچوں سے متعلق ادارے یونیسیف نے متنبہ کیا ہے کہ تنازعات کے علاقے میں انسانی صورتحال ’تیزی سے بگڑ رہی ہے‘ اور اس کا کہنا ہے کہ امدادی کارکنوں کو بچوں اور خاندانوں کو زندگی بچانے والی خدمات اور سامان پہنچانے کے لیے محفوظ راستہ کی ضرورت ہے۔

    یونیسیف اقوام متحدہ کا وہ ادارہ ہے جو دنیا بھر میں بچوں کو انسانی ہمدردی اور نشو و نما کے لیے مدد فراہم کرتا ہے۔

    یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے پیر کی شب ایک بیان میں کہا ہے کہ ’میں تمام فریقین کا یاد دلاتی ہوں کہ جیسا کہ تمام جنگوں کی طرح اس جنگ میں بھی سب سے پہلے اور زیادہ نقصان بچوں کا ہوتا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’میں بجلی، خوراک، ایندھن اور پانی کو غزہ کے لیے بند کرنے کے اقدامات کے بارے میں بھی گہری فکر مند ہوں، جس سے بچوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔‘

    انھوں نے ’غزہ میں یرغمال بنائے گئے بچوں کی بھی فوری اور محفوظ رہائی کا مطالبہ کیا تاکہ وہ اپنے اہل خانہ یا دیکھ بھال کرنے والوں کے ساتھ دوبارہ مل سکیں۔‘