آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

انڈیا میں مزید 2400 سے زائد ہلاکتیں، پاکستان میں 1490 نئے یومیہ متاثرین

انڈیا میں کورونا مثبت کیسز کی شرح بدستور کم ہو رہی ہے۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران انڈیا میں ایک لاکھ 11 ہزار سے زیادہ نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ اسی دورانیے میں 2400 سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ آج سے پاکستان میں پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا میں چند تعلیمی ادارے کھل رہے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. ویتنام کے شہر ہو چی من سٹی میں نئی سختیاں

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ویتنام میں حکام نے کووڈ کی ایک ایسی قسم کی تشخیص کی ہے جو برطانوی اور انڈین قسموں سے مل کر بنی ہے۔

    ملک کے وزیر صحت نے کہا ہے کہ یہ ہوا میں تیزی سے پھیلتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ جلد اس نئی قسم کا جینوم ڈیٹا شائع کریں گے۔

    ان کے مطابق یہ دیگر قسموں سے بھی زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے۔

    حکومت نے اتوار کو اعلان کیا ہے کہ ویتنام کے تجارتی مرکز ہو چی من شہر میں 31 مئی سے آئندہ 15 روز تک سماجی فاصلہ برقرار رکھنے سمیت دیگر سختیاں نافذ کی جائے گی تاکہ کووڈ کا پھیلاؤ روکا جاسکے۔

    یہاں روزانہ ایک لاکھ ٹیسٹ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

  2. پاکستان میں بند کیے گئے کچھ تعلیمی ادارے آج سے کھل رہے ہیں

    پاکستان کے صوبہ پنجاب میں آج سے دسویں اور بارہویں جماعت کے طلبا کے لیے تعلیمی ادارے کھول دیے جائیں گے۔

    وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس کے مطابق ایک دن میں صرف 50 فیصد طلبا کو بلانے کی اجازت ہو گی تاہم 7 جون 2021 سے پہلے دیگر جماعتوں کے طلبا کے سکول آنے پر پابندی ہو گی۔

    خیال رہے کہ انھوں نے پنجاب میں تمام سرکاری و نجی سکولز کے ٹیچرز کے لیے ویکسین کا اعلان کیا تھا۔

    دوسری جانب خیبر پختونخوا میں این سی او سی کے فیصلے کے مطابق سکولوں میں گریڈ 10 اور گریڈ 12 کی کلاسز کے لیے سکول اور کالجز آج سے کھولے جا رہے ہیں۔

    ملک میں زیادہ متاثرہ شہروں میں کورونا کیسز کی شرح بڑھنے کے باعث تعلیمی ادارے بند کیے گئے تھے۔

  3. انڈیا میں کووڈ سے جڑی بیماری جو بچوں کو متاثر کر رہی ہے

    انڈیا میں کورونا وبا سے جڑی ایک بیماری ایم آئی ایس-سی بچوں میں دیکھی جا رہی ہے اور دارالحکومت دہلی میں ہی اس کے 200 کیسز بتائے جاتے ہیں۔

    دنیا کے مشہور طبی جریدوں میں سے ایک 'دی لانسیٹ' کے مطابق 'ملٹی سسٹم انفلیمیٹری سنڈروم' یا ایم آئی ایس-سی بچوں میں ایک سنگین بیماری ہے جو اس وقت کووڈ 19 (سارس-کووڈ-2) سے وابستہ سمجھی جا رہی ہے۔

    دہلی سے ملحق اترپردیش کے شہر غازی آباد کے چار سال کے امن کو بھی یہی شکایت ہے اور انھیں فوری طور پر انتہائی نگہداشت کے شعبے میں داخل کیا گیا ہے۔ امن کا علاج کرنے والے ڈاکٹر اجیت کمار نے بتایا کہ 'امن کی ای سی جی خراب تھی۔ ان کا ایکو (دل کی دھڑکن کی گونج) بھی اچھی نہیں تھی۔ دوسرے صحت کے مارکر بھی درست نہیں تھے۔ اس عمر کے بچوں میں یہ غیر معمولی چیز تھی۔'

    ڈاکٹر اجیت نے کہا: 'جب لوگ کورونا سے صحتیاب ہو رہے ہیں بچوں میں ایم آئی ایس-سی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ بنیادی طور پر یہ کورونا انفیکشن کے بعد کی حالت ہے۔ تاہم بچوں میں ایم آئی ایس-سی اب بھی شاذ و نادر ہی ہے۔ لیکن جن بچوں کو یہ ہوا ہے اس کی وجہ کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔ چونکہ اس دوسری لہر میں کورونا کا پھیلاؤ کافی زیادہ ہے لہذا بچوں کے معاملات بھی بڑی تعداد میں سامنے آئے ہیں۔'

    ڈاکٹر اجیت کمار کے ہسپتال میں بچوں کے لیے چھ آئی سی یو بیڈ ہیں اور ان میں سے بیشتر پر ایم آئی ایس-سی کے مریض ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق دارالحکومت دہلی کے علاقے میں اب تک اس بیماری کے تقریباً 200 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

    خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق انڈیا کی مختلف ریاستوں میں بچے ایم آئی ایس-سی سے پریشان ہیں۔ اس سلسلے میں انڈین اکیڈمی آف پیڈیاٹرک انٹینسیوٹ کیئر نے اطلاع دی ہے کہ پچھلے کچھ دنوں میں ایسے کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔

    انسٹی ٹیوٹ کے مطابق ایم آئی ایس-سی کے معاملات میں اچانک اضافہ ہوا ہے جس سے چار سے 18 سال تک کے ایسے بچے متاثر ہوئے ہیں جنھیں کورونا کا سامنا رہا ہے۔ تاہم کچھ معاملات میں اس بیماری کا اثر چھ ماہ تک کے بچوں میں بھی دیکھا گیا ہے۔

    امریکی ادارہ سی ڈی سی مئی 2020 سے اس بیماری کا مطالعہ کر رہا ہے۔ سی ڈی سی کے مطابق ایم آئی ایس-سی ایک غیر معمولی (کم واقع ہونے والا)، لیکن خطرناک مرض ہے جس کا تعلق کووڈ 19 سے ہے۔

    امریکی سوسائٹی کے مطابق یہ بیماری بچوں کے دل، پھیپھڑوں، گردوں، آنتوں، دماغ اور آنکھوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ امریکی محققین کے مطابق میں اس میں مبتلا کچھ بچوں کو گردن میں درد، جسم پر خارش، گہری آنکھیں اور مسلسل تھکاوٹ کی شکایات بھی دیکھنے میں آئی ہیں۔

  4. ’عالمی ادارۂ صحت کو کووڈ کی ابتدا سے متعلق مکمل تحقیق کی اجازت ملنی چاہیے‘

    برطانیہ کے وزیر برائے ویکسین نے کہا ہے کہ عالمی وبا کی شروعات سے متعلق عالمی ادارۂ صحت کو مکمل تحقیقات کی اجازت ملنی چاہیے۔

    ناظم الزھاوی کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا جب اخبار سنڈے ٹائمز نے اپنی خبر میں بتایا کہ برطانوی جاسوس اب سمجھتے ہیں کہ یہ ’ممکن ہے‘ کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کی ابتدا ووہان میں کسی چینی لیبارٹری میں ہونے والی لیک سے ہوئی۔

    اس خبر کے مطابق بیجنگ کی جانب سے رد کردہ اس مفروضے پر امریکی سفارتی ذرائع نے بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ’ہم کسی نئی بیماری کے پھیلاؤ سے بس جانوروں کی کسی مارکیٹ یا بائیو لیب سے دور ہیں۔‘

    چین پر الزامات لگایا گیا تھا کہ کووڈ 19 وائرس کی ابتدا ووہان میں انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی سے ہوئی۔

    ناظم الزھاوی نے سکائی نیوز کو بتایا کہ ’ہمیں یہ سمجھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑنی چاہیے کہ ایسا کیوں ہوا۔۔۔ اس سے مستقبل میں عالمی وباؤں سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔‘

    عالمی ادارۂ صحت نے ماہرین نے فروری میں کہا تھا کہ اس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ کووڈ 19 لیبارٹری میں کسی حادثے سے پھیلا۔

  5. پاکستان میں کورونا کے دو ہزار سے زیادہ نئے مریض، 43 اموات

    پاکستان میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 2117 نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے۔

    گذشتہ روز کووڈ کی تشخیص کے لیے 52223 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے تھے۔

    ملک میں کووڈ 19 سے مزید 43 اموات ہوئی ہیں۔ مثبت کیسز کی شرح 4.05 فیصد بتائی گئی ہے۔

  6. کووڈ 19 سے متعلق بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    اب تک کی اہم اطلاعات:

    • انڈیا میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد متاثرین، 3129 اموات
    • تھائی لینڈ میں کورونا کے کیسز کی نصف تعداد جیلوں میں قید افراد ہیں
    • انڈین ریاست مہاراشٹر میں 15 جون تک لاک ڈاؤن، تیسری لہر میں بچوں کے متاثر ہونے کا خدشہ