انڈیا میں کورونا وبا سے جڑی ایک بیماری ایم آئی ایس-سی بچوں میں دیکھی جا رہی ہے اور دارالحکومت دہلی میں ہی اس کے 200 کیسز بتائے جاتے ہیں۔
دنیا کے مشہور طبی جریدوں میں سے ایک 'دی لانسیٹ' کے مطابق 'ملٹی سسٹم انفلیمیٹری سنڈروم' یا ایم آئی ایس-سی بچوں میں ایک سنگین بیماری ہے جو اس وقت کووڈ 19 (سارس-کووڈ-2) سے وابستہ سمجھی جا رہی ہے۔
دہلی سے ملحق اترپردیش کے شہر غازی آباد کے چار سال کے امن کو بھی یہی شکایت ہے اور انھیں فوری طور پر انتہائی نگہداشت کے شعبے میں داخل کیا گیا ہے۔
امن کا علاج کرنے والے ڈاکٹر اجیت کمار نے بتایا کہ 'امن کی ای سی جی خراب تھی۔ ان کا ایکو (دل کی دھڑکن کی گونج) بھی اچھی نہیں تھی۔ دوسرے صحت کے مارکر بھی درست نہیں تھے۔ اس عمر کے بچوں میں یہ غیر معمولی چیز تھی۔'
ڈاکٹر اجیت نے کہا: 'جب لوگ کورونا سے صحتیاب ہو رہے ہیں بچوں میں ایم آئی ایس-سی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ بنیادی طور پر یہ کورونا انفیکشن کے بعد کی حالت ہے۔ تاہم بچوں میں ایم آئی ایس-سی اب بھی شاذ و نادر ہی ہے۔ لیکن جن بچوں کو یہ ہوا ہے اس کی وجہ کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔ چونکہ اس دوسری لہر میں کورونا کا پھیلاؤ کافی زیادہ ہے لہذا بچوں کے معاملات بھی بڑی تعداد میں سامنے آئے ہیں۔'
ڈاکٹر اجیت کمار کے ہسپتال میں بچوں کے لیے چھ آئی سی یو بیڈ ہیں اور ان میں سے بیشتر پر ایم آئی ایس-سی کے مریض ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دارالحکومت دہلی کے علاقے میں اب تک اس بیماری کے تقریباً 200 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق انڈیا کی مختلف ریاستوں میں بچے ایم آئی ایس-سی سے پریشان ہیں۔ اس سلسلے میں انڈین اکیڈمی آف پیڈیاٹرک انٹینسیوٹ کیئر نے اطلاع دی ہے کہ پچھلے کچھ دنوں میں ایسے کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔
انسٹی ٹیوٹ کے مطابق ایم آئی ایس-سی کے معاملات میں اچانک اضافہ ہوا ہے جس سے چار سے 18 سال تک کے ایسے بچے متاثر ہوئے ہیں جنھیں کورونا کا سامنا رہا ہے۔ تاہم کچھ معاملات میں اس بیماری کا اثر چھ ماہ تک کے بچوں میں بھی دیکھا گیا ہے۔
امریکی ادارہ سی ڈی سی مئی 2020 سے اس بیماری کا مطالعہ کر رہا ہے۔ سی ڈی سی کے مطابق ایم آئی ایس-سی ایک غیر معمولی (کم واقع ہونے والا)، لیکن خطرناک مرض ہے جس کا تعلق کووڈ 19 سے ہے۔
امریکی سوسائٹی کے مطابق یہ بیماری بچوں کے دل، پھیپھڑوں، گردوں، آنتوں، دماغ اور آنکھوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
امریکی محققین کے مطابق میں اس میں مبتلا کچھ بچوں کو گردن میں درد، جسم پر خارش، گہری آنکھیں اور مسلسل تھکاوٹ کی شکایات بھی دیکھنے میں آئی ہیں۔