آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

انڈیا میں مزید 2400 سے زائد ہلاکتیں، پاکستان میں 1490 نئے یومیہ متاثرین

انڈیا میں کورونا مثبت کیسز کی شرح بدستور کم ہو رہی ہے۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران انڈیا میں ایک لاکھ 11 ہزار سے زیادہ نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ اسی دورانیے میں 2400 سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ آج سے پاکستان میں پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا میں چند تعلیمی ادارے کھل رہے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. پاکستان میں کورونا کے نئی مریضوں میں کمی پر ’اظہار اطمینان‘

    پاکستان میں انسداد کورونا کے قومی ادارے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے ملک بھر میں عالمی وبا کی صورتحال میں کمی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

    وفاقی وزیر اسد عمر کی زیر صدارت این سی او سی کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا جس میں معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان بھی شریک تھے۔

    جاری کردہ بیان کے مطابق 20 لاکھ ٹیچرز میں سے چار لاکھ 50 ہزار کی ویکسینیشن مکمل کر لی گئی ہے اور دیگر وزارتوں کو بھی اسی طرز پر اپنے ملازمین کو ویکیسن لگوانے کی ہدایات کر دی گئی ہے۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں روز ایئرپورٹس پر 27 پروازوں پر سوار اوسطاً 4500 مسافر پہنچ رہے ہیں۔ ایئرپورٹس پر 388 کورونا مریضوں کی نشاندہی کرنے میں مدد ملی ہے۔

    بیان کے مطابق پاکستان میں افغانستان سے 22924 مسافر پیدل داخل ہوئے، ان میں سے 28 کورونا مثبت ہونے پر قرنطینہ میں بھیجے گئے۔

    این سی او سی اجلاس میں کہا گیا کہ ملک بھر میں 600 سے زیادہ نادرا سینٹرز 5 جولائی سے ویکسینیشن سرٹیفیکیٹ کا اجرا شروع کریں گے جبکہ آئندہ ہفتے سے 5000 سے زیادہ ای سہولت مراکز پر اس کا آغاز کیا جا رہا ہے۔

    اجلاس میں بتایا گیا کہ تیسری لہر کے لاک ڈاؤن کے بعد سیاحتی سیکٹر کو کھولنے کے لیے خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے سیف ٹوارزم ٹریننگ کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ بعد ازاں اسی ماڈل کو گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اپنایا جائے گا۔

  2. پاکستان میں 55 فیصد سے زائد افراد کورونا ویکسین لگانے کے حامی ہیں: ڈاکٹر فیصل سلطان

    وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کے مطابق پاکستان میں کورونا ویکسین کو لے کر شکوک و شبہات رکھنے والے افراد کی تعداد دوسرے مملک کی نسبت کم ہے۔

    ڈاکٹر فیصل نے این سی او سی میں میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا کہ حکومت کی جانب سے کیے جانے والے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملک میں 55 فیصد سے زائد افراد کورونا ویکسین لگانے کے حامی ہیں لیکن اس کے باوجود حکومت عوام کو ویکسین لگانے کے لے قائل کرنے کے لیے منظم آگاہی مہم کا آغاز کر رہی ہے۔

    اس کے علاوہ عوام کی حوصلہ افزائی کے لیے پروگرام بھی ترتیب دیے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ پہلی جولائی سے 50 سال سے زائد عمر والے افراد کو بغیر ویکسین سرٹیفیکیٹ گلگت بلتستان میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہو گی۔

    خیال رہے کہ پاکستان میں 50 سال سے زائد عمر والے افراد کی تعداد تقریباً دو کروڑ ساٹھ لاکھ جبکہ این سی او سی کے مطابق ان میں سے اب تک صرف 16 لاکھ افراد کو ویکسین لگائی گئی ہے۔

    آج سے وفاقی دالحکومت اور پنجاب میں سکولوں میں تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ این سی او سی کے ترجمان کے مطابق تعلیم کے شعبے سے تعلق رکھنے والے عملے کے ساڑھے چار لاکھ افراد کو ویکسین لگائی جا چکی جبکہ ان کی کل تعداد بیس لاکھ ہے۔

    ڈاکٹر فیصل سلطان نے امید ظاہر کی کہ اس سال کے آخر تک پاکستان سات کڑور آبادی کو ویکسین لگا دے گا اور اس کے لیے ویکسین کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

  3. دہلی میں لاک ڈاؤن میں مرحلہ وار نرمی کا آغاز، میٹرو ٹرین سروس بحال

    10 مئی کے بعد سے پہلی مرتبہ پیر کو دہلی میں لاک ڈاؤن کے بعد سے پہلی مرتبہ میٹرو ٹرین چلائی جا رہی ہے۔ اب دہلی حکومت کورونا وائرس کے وبا کی وجہ سے عائد کردہ لاک ڈاؤن کو آہستہ آہستہ کھول رہی ہے۔

    تاہم فی الحال میٹرو 50 فیصد مسافروں کے ساتھ چلے گی اور 10 سے 15 منٹ کے وقفے پر دستیاب ہو گی۔

    دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے ٹویٹ میں کہا ہے کہ دہلی میں کچھ سرگرمیاں شروع ہو رہی ہیں لیکن کورونا سے روک تھام کے تمام ضوابط اپنانے کی ضرورت ہے۔

  4. پنجاب، سندھ اور خیبر پختون خواہ میں تعلیمی ادارے آج کھل رہے ہیں

    ریڈیو پاکستان کے مطابق پاکستان میں آج یعنی سات جون سے پاکستان کے تین صوبوں پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخواہ میں تعلیمی ادارے کھل رہے ہیں۔

    حکام کے مطابق سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں سے قواعد و ضوابط کی پابندی کرنے کا کہا گیا ہے۔

  5. بریکنگ, انڈیا میں مثبت کیسز کی شرح پانچ فیصد سے کم، مزید دو ہزار چار سو سے زیادہ اموات

    انڈیا میں ایک لاکھ 11 ہزار سے زیادہ نئے مریض سامنے آئے جبکہ 2444 افراد کی کورونا وائرس کے باعث ہلاکت ہوئی۔

    اب تک ملک میں ایک لاکھ 73 ہزار افراد اس وائرس سے صحتیاب بھی ہوئے ہیں جبکہ کل 20 لاکھ سے زیادہ ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔

    اس وقت انڈیا میں مثبت کیسز کی شرح پانچ فیصد سے بھی گر گئی ہے۔ یاد رہے کہ اپریل کے مہینے میں یہ شرح 19 فیصد بھی رہی تھی۔

  6. بریکنگ, پاکستان میں کووڈ کے مزید 1490 مریض، 58 اموات

    گذشتہ روز پاکستان میں کووڈ 19 کے باعث مزید 1490 افراد متاثر ہوئے جبکہ 58 اس وائرس کے باعث ہلاک بھی ہوئے۔

    گذشتہ ماہ ملک میں مثبت کیسز کی شرح نو فیصد یا اس سے زیادہ تھی تاہم اب یہ گر کر تین فیصد پر آ گئی ہے۔ گذشتہ روز ملک میں 49 ہزار سے زیادہ ٹیسٹ بھی کیے گئے۔

  7. پاکستان کے صوبہ پنجاب میں کورونا کے 403 نئے کیس، مزید 49 اموات

    پاکستان کے صوبہ پنجاب میں کورونا وائرس کے 403 نئے کیس جبکہ مزید 49 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔

    گذشتہ 24 گھنٹے میں کورونا وائرس سے مرنے والوں میں 24 کا تعلق لاہور سے تھا۔

    پنجاب میں کورونا وائرس سے اب تک 342192 افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ 10290 افراد اس وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

    صوبے میں کورونا سے صحت یاب ہونے والے افراد کی کل تعداد 317190 ہے۔

  8. کووڈ 19: وبا کے ڈیڑھ برس بعد ہم اس وائرس کے بارے میں مزید کیا جان پائے ہیں؟

    جب سے عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کووڈ 19 کو عالمی وبا قرار دیا اس وقت سے لے کر اب تک ہم نے وائرس کو سمجھنے اور اس سے نمٹنے کے لیے بے مثال سائنسی کوششیں دیکھی ہیں۔

    تحقیق اور ویکسین تیار کرنے کے معاملے میں پوری دنیا کے محققین نے ایک ساتھ مل کر پہلے کبھی ایسا کام نہیں کیا جیسا انھوں نے کووڈ کے معاملے میں کیا ہے اور جس کام کو کرنے میں برسوں لگتے انھیں مہینوں میں حاصل کیا۔

  9. میٹ ہین کوک: کورونا وائرس کی ’ڈیلٹا‘ قسم زندگی کو زیادہ مشکل بناتی ہے‘

    برطانیہ کے وزیر صحت میٹ ہین کوک نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی نئی قسم ’ڈیلٹا‘ کی نمو کی شرح اندازے کے مطابق 40 فیصد ہے۔

    انھوں نے کہا ہے کہ ’یہ ہر ایک کے لئے زندگی کو زیادہ مشکل بناتا ہے۔‘

    میٹ ہین کوک نے مزید کہا کہ سائنسی تحقیق کے مطابق ویکسین کی ایک خوراک کورونا وائرس کی ’ڈیلٹا‘ قسم کے خلاف اتنی مؤثر ثابت نہیں ہوتی تاہم ویکسین کی دونوں خوراکیں وائرس کی اس قسم کے خلاف بھی مؤثر ہیں۔

  10. لوگ ویکسین کیوں نہیں لگواتے؟

    کیا کورونا کی ویکسین لگوانے میں آپ کو بھی کوئی ہچکچاہٹ ہے؟

    پاکستان میں لیڈی ہیلتھ ورکرز گھر گھر جا کر کورونا ویکسین سے متعلق لوگوں کے خدشات دور کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

  11. پنجاب، اسلام آباد میں پہلی سے آٹھویں تک کلاسز کل سے شروع، سندھ میں تعلیمی ادارے ابھی بند رہیں گے

    پاکستان کے صوبہ سندھ میں سکول کھلنے کے حوالے سے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا جبکہ صوبہ پنجاب اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پہلی سے آٹھویں تک کی کلاسز کل سے شروع ہو رہی ہیں۔

    سندھ کے صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی کا کہنا ہےکہ سکول 7 جون تک نہیں بلکہ تا حکم ثانی بند کیےگئے تھے لہذا کل 7 جون سے صوبے میں سکول نہیں کھل رہے۔

    سعید غنی کا کہنا تھا کہ محکمہ تعلیم کی سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس چند روز میں ہو گا، جس میں کورونا وائرس کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ہی تعلیمی اداروں کے حوالے سے کوئی فیصلہ لیا جائے گا۔

    دوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی کہا ہے کہ سکول کھولنے کے لیے تمام اساتذہ کی ویکسینیشن ضروری ہے تاہم جو سرکاری ملازمین ویکسین نہیں لگوائیں گے ان کی تنخواہیں روک لی جائیں گی۔

  12. عوام سے اپیل ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور ویکیسن لگوائیں: یاسمین راشد

    وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ہے کہ کورونا وائرس ابھی گیا نہیں اور کیسز میں موجودہ کمی سختیوں کی وجہ سے آئی ہے۔

    اتوار کو پریس کانفرنس کے دوران صوبے میں کورونا وائرس کی صورتحال کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ ہم بار بار یہ کہہ رہے کہ ایس او پیز پر عمل کر کے کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اگر تاجر برادری ایس اور پیز پر عمل درآمد کرے تو کاروبار بند نہیں ہوں گے۔

    ڈاکٹر یاسمین راشد نے یہ بھی کہا کہ یہ تمام پابندیاں رکاوٹیں عوام کے فائدے کے لیے ہیں اور حکومت کا اس سے کوئی فائدہ نہیں۔

    ویکسین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر صحت نے کہا کہ عوام سے اپیل ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور ویکیسن لگوائیں۔

  13. انڈیا میں کووڈ کے مریضوں کو نابینا کرنے والا بلیگ فنگس کتنا خطرناک ہے؟

    انڈیا میں فنگس کا ایک نایاب اور خطرناک انفیکشن بھی کورونا کے کچھ مریضوں کو متاثر کر رہا ہے۔ فنگس کی میوکورمائیکوسز نامی قسم کورونا سے متاثرہ یا صحتیاب ہونے والے افراد میں مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔

    انڈیا میں کورونا کے بعض متاثرین میوکورمائیکوسز سے متاثر ہوئے ہیں جسے ’بلیک فنگس‘ کا نام دیا گیا ہے۔ ایسے کچھ لوگ بھی اس سے متاثر ہوئے ہیں جو کووڈ سے صحتیاب ہو رہے تھے۔

    رواں سال مارچ کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں میوکورمائیکوسز سے جڑے کووڈ سے 41 کیس سامنے آئے۔ ان میں سے 70 فیصد کی تعداد انڈیا میں تھی۔

  14. جی سیون گروپ کے سربراہی اجلاس میں عالمی سطح پر ویکسینیشن کا ہدف مقرر کیا جائے گا

    برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانس امیر ممالک کے رہنماؤں پر زور دیں گے کہ وہ آئندہ سال کے آخر تک کووڈ 19 کے خلاف دنیا کو ویکسین فراہم کرنے کا عہد کریں۔

    وہ جمعے کو جی سیون گروپ کے سربراہی اجلاس میں عالمی سطح پر ویکسینیشن کا ہدف مقرر کریں گے۔

    امریکہ، فرانس، جرمنی، اٹلی اور جاپان سب نے کہا ہے کہ وہ عالمی ویکسین پروگرام کوویکس کو ویکسین کی کتنی خوراکیں عطیہ کریں گے تاہم کینیڈا اور برطانیہ نے اس حوالے سے ابھی تک کوئی اعدادوشمار جاری نہیں کیے۔

  15. غریب ممالک کو کورونا ویکسین بنانے کی اجازت کیوں نہیں؟

    اگر کسی ملک نے کورونا وائرس کی ویکسین بنا لی ہے تو باقی ممالک وہی نسخہ استعمال کر کے اپنی ویکسین کیوں نہیں بنا لیتے؟

  16. آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریہ میں کورونا کے دو نئے کیس، میلبورن میں لاک ڈاؤن میں نرمی متوقع

    آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریہ میں اتوار کے روز کورونا وائرس کے دو نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یے نئے کیس ایک کئیر ہوم میں سامنے آئے ہیں تاہم ریاست کی جانب سے ابھی ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔

    دوسری جانب وکٹوریہ کے ریاستی دارالحکوت میلبورن میں 10 جون سے لاک ڈاؤن میں نرمی کی توقع بھی کی جاری ہے۔

  17. چین میں کورونا وائرس کے 30 نئے کیس

    چین میں سنیچر کے روز کورونا وائرس کے 30 نئے کیس سامنے آئے ہیں۔

    صحت کے حکام کے مطابق ان نئے کیسز میں سے 23 بیرون ملک منتقلی جبکہ 7 مقامی طور پر منتقلی کے کیس ہیں۔

    واضح رہے کہ دنیا میں کورونا وائرس کا پہلا کیس چین کے شہر ووہان میں سامنے آیا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ وائرس دنیا بھر میں پھیل گیا۔

  18. کیا انڈین حکومت سال کے اختتام تک ملک کی تمام آبادی کو ویکسین لگا پائے گی؟

    انڈیا کی مرکزی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس سال کے اختتام تک ملک کی تمام آبادی کو کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگا دی جائے گی۔

    انڈیا کی 100 کروڑ کی آبادی کے لیے ویکسین کی 200 کروڑ خوراکوں کی ضرورت ہو گی۔

    4 جون تک ملک میں کورونا وائرس ویکسین کی 22 کروڑ خوراکیں دی جا چکی ہیں۔

    جنوری میں جب انڈیا میں ویکسین دینے کا سلسلہ شروع ہوا تو اپریل میں ویکسین لگانے کی شرح سب سے زیادہ تھی اور یومیہ تقریباً 40 لاکھ افراد کو ویکسین دی جا رہی تھی۔

    مئی میں 18 برس سے زائد عمر کے تمام افراد کو ویکسین لگانے کا عمل شروع ہو گیا تاہم اب یومیہ بنیادوں پر صرف 23 لاکھ افراد کو ہی ویکسین لگائی جا رہی ہے۔

    جس کے بعد دسمبر تک ملک کی سادی آبادی کو ویکسین لگانے کے دعوے پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔

  19. کورونا: پاکستان میں سنیچر کے روز بھی یومیہ کیسز کی تعداد دو ہزار سے کم

    پاکستان میں کورونا وائرس کے یومیہ کیسز کی تعداد سنیچر کے روز بھی دو ہزار سے کم رہی اور ملک بھر سے کورونا وائرس کے 1629 کیس رپورٹ ہوئے۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد 76 رہی۔

    اس وقت ملک بھر میں کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح 3.10 فیصد ہے جبکہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں 52427 ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔

  20. انڈیا کی کل آْبادی میں سے 3.37 فیصد کو ویکسین کی دونوں خوراکیں مل گئیں

    انڈیا میں سنیچر کے روز کورونا وائرس کے 114534 نئے کیس سامنے آئے ہیں جبکہ 2678 افراد اس وائرس سے ہلاک ہوئے ہیں۔

    اس وقت ملک میں کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح 5.07 فیصد ہے۔

    سنیچر کو تقریباً 33.4 لاکھ افراد کو کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین دی گئی ہے۔

    انڈیا کی کل آبادی میں سے اب تک 13.49 فیصد کو کورونا وائرس ویکسین کی ایک خوراک جبکہ 3.37 فیصد کو دونوں خوراکیں دی جا چکی ہیں۔