انڈیا کے وزیر صحت نے تمام ریاستوں پر زور دیا ہے کہ بلیک فنگس
انفیکشن کو وبائی امراض سے متعلق ایک قانون کے تحت باقاعدہ ایک مرض قرار دیا جائے۔
وزارت صحت نے وفاق کے زیر انتظام تمام علاقوں کو اپنے ایک حالیہ خط میں لکھا ہے کہ انڈیا کی کئی
ریاستوں میں میوکورمائیکوسز کا فنگس انفیکشن کی شکل میں ایک نیا چیلنج
ابھر کر سامنے آیا ہے۔
اس کی تشخیص ایسے مریضوں میں زیادہ ہو رہی ہے جنھیں دوران علاج
سٹیروائزڈ دیے گئے اور ان کا شوگر لیول بھی کنٹرول سے باہر رہا ہو۔
وزارت صحت کے مطابق اس انفیکشن سے مرنے والوں کی تعداد میں تیزی سے
اضافہ ہو رہا ہے۔
مئی کے دوسرے ہفتے کی ایک صبح ممبئی میں مقیم آنکھوں کے سرجن ڈاکٹر
اکشے نائر ایک 25 سالہ خاتون کا آپریشن کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔ یہ خاتون تین
ہفتے قبل ہی کووڈ 19 سے صحتیاب ہوئی تھیں۔
میوکورمائیکوسز ایک نایاب مگر خطرناک فنگل انفیکشن ہے۔ یہ
انفیکشن ناک، آنکھوں یا کبھی کبھی دماغ پر اثر انداز ہوتا ہے۔
انڈیا میں جہاں کووڈ 19 کی تباہ کُن دوسری لہر جاری ہے، وہیں
ڈاکٹروں کی جانب سے اس نایاب فنگس جسے 'بلیک فنگس' بھی کہا جاتا ہے کے کیسز کووڈ
کے مریضوں یا اس سے صحتیاب ہونے والوں میں تیزی سے سامنے آنے لگے ہیں۔
رواں سال مارچ کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں میوکورمائیکوسز سے جڑے کووڈ سے 41 کیس سامنے آئے۔ ان میں سے 70 فیصد کی تعداد انڈیا میں تھی۔
ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق کیسز کی تعداد سرکاری سطح پر بتائے جانے والے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے جو انڈیا میں کووڈ 19 کی دوسری لہر کے پیش نظر اتنی حیران کن بات نہیں ہے۔
میوکورمائیکوسز ایک انتہائی نایاب قسم کا انفیکشن ہے جو کہ مٹی،
پودوں، کھاد، اور گلے سڑے پھلوں اور سبزیوں میں پائے جانے والی پھپپوندی سے پھیلتا
ہے۔
ممبئی میں آنکھوں کے سرجن ڈاکٹر اکشے نائر کہتے ہیں کہ ’یہ ہر جگہ
پایا جاتا ہے، مٹی میں، ہوا میں یہاں تک کہ صحت مند لوگوں کے ناک میں بھی ہوتا ہے۔‘
یہ ناک کی نالیوں، دماغ اور پھیپھڑوں پر اثر انداز ہوتا ہے اور
ذیابیطس کے مریضوں یا ایسے لوگوں جن کا مدافعاتی نظام انتہائی کمزور ہو جیسے کہ
ایڈز یا سرطان کے مریض، ان کے لیے یہ انفیکشن مہلک بھی ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹروں کا ماننا ہے کہ میوکورمائیکوسز کے کیسز میں تیزی اس لیے آ
رہی ہے کیوںکہ کووڈ کے مریضوں میں سٹیرائڈز کا بہت زیادہ استعمال کیا جا رہا ہے۔
میوکورمائیکوسز انفیکشن میں مبتلا تقریباً 50 فیصد افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔
سٹیرائڈز پھیپھڑوں میں سوجن کم کرتے ہیں اور کووڈ کی وجہ سے مریض
کا مدافعاتی نظام کیونکہ بہت تیزی سے چل رہا ہوتا ہے اور آپ کو نقصان پہنچانے لگتا
ہے تو وہ اسے نظام کو بھی روکتے ہیں۔
مگر سٹیرائڈز کی وجہ سے قوتِ مدافعت کم ہونے لگتی ہے اور مریضوں کے
خون میں شوگر کی سطح بڑھنے لگتی ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ قوتِ مدافعت میں یہ کمی
میوکورمائیکوسز کے بڑھتے کیسز کی وجہ ہے۔