پاکستان کی نجی فضائی کمپنی ایئربلیو نے مبینہ طور پر کورونا وائرس سے متاثرہ 52 مریضوں کو شارجہ سے پاکستان پہنچا دیا ہے، سول ایوی ایشن کا الزام ہے کہ جعلی منفی پی سی آر ٹیسٹ کی بنیاد پر ان متاثرہ مسافروں کو پاکستان لایا گیا ہے۔
سول ایوی ایشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایئر بلیو کی پرواز 16 مئی کو 27 پازئیٹو مسافروں کو لے کر شارجہ سے پشاور ایئرپورٹ پہنچی، جبکہ اس سے ایک ہفتہ قبل یعنی دس مئی کو پرواز پی اے 611 چوبیس کورونا پازیٹیو مسافروں کو دبئی سے پشاور لے کر پہنچی تھی۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ نجی ایئرلائن کی جانب سے کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر سول ایوی ایشن اٹھارتی نے 17 مئی کو دبئی سے پشاور کی پرواز کا اجازت نامہ منسوخ کر دیا ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ مذکورہ نجی ائیر لائن، وارننگ کے باوجود کورونا ایس او پیز نظر انداز کر رہی ہے اور اس عمل سے دوسرے مسافروں کی جانوں کو بھی خطرات لاحق ہیں۔
دریں اثنا سول ایوی ایشن کی جانب سے 16 مئی کو ’ان باؤنڈ ٹو ٹریول پاکستان آن فیک نیگیٹو پی سی آر ٹیسٹ رزلٹ‘ کے عنوان سے جاری کیے گئے مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ ریپڈ اینٹی جن ٹیسٹ (آر اے ٹی) کے ذریعے ان متاثرہ افراد کا پتہ لگایا گیا۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ دیگر فضائی کمپنیاں ایس او پیز کی پیروی کر رہی ہیں۔
دھوکہ دہی کے الزام میں دبئی سے پشاور کی پرواز کا اجازت نامہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔
ایئربلیو کے ڈپٹی ڈائریکٹر راحیل احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ سول ایوی ایشن نے علجت میں ان پر جرمانہ عائد کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایس او پیز کی پیروی کرتے ہوئے جن مسافروں نے گذشتہ 72 گھنٹوں میں پی سی آر ٹیسٹ کرائے ہوں، ان کے منفی ٹیسٹ رزلٹ دیکھنے کے بعد ہی انھیں جہاز پر سوار کیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ 72 گھنٹے میں یہ افراد وائرس سے متاثر ہوجائیں۔
انھوں نے بتایا کہ اب وہ مبینہ متاثرہ افراد کے پی سی آر ٹیسٹ کے نتائج متعلقہ لیبارٹریوں سے بھی چیک کرا رہے ہیں کہ کہیں یہ ٹیسٹ نتائج جعلی تو نہیں۔
ایئر بلیو کے ترجمان نے واضح کیا کہ دبئی اور شارجہ کی جن لیبارٹریوں سے ٹیسٹ کرائے جاتے ہیں وہ اعلیٰ معیار کی ہیں اور دبئی حکومت کے محکمہ صحت سے باضابطہ منظور شدہ ہیں۔
دلچسپ بات ہے کہ ایئربلیو کا آپریشن پاکستان کے تمام بڑے ایئرپورٹس پر جاری ہے اور صرف پشاور ایئرپورٹ پر 52 مسافروں کے ٹیسٹ مثبت قرار دیے گئے ہیں۔
ایئر بلیو کمپنی کے مالک شاہد خاقان عباسی ہیں جو سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ نون کے سرگرم رہنما ہیں۔