آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کیمیائی حملے کا ’جواب‘، شامی اڈے پر امریکی میزائل حملے

امریکہ نے گذشتہ ہفتے شام میں عام شہریوں پر کیمیائی مادے کے حملے کے بعد جمعرات کی شب شام کے ایک فوجی اڈے پر انسٹھ ٹوماہاک کروز میزائل داغے ہیں۔ اس صورتحال پر بی بی سی اردو کی لائیو کوریج۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, ’باقی 36 میزائل کہاں گرے ہیں معلوم نہیں‘

     روس نے کہا ہے کہ یہ حملہ زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوئے اور 59 میں سے صرف 23 میزائل فضائی اڈے تک پہنچ سکے اور باقی 36 میزائل کہاں گرے ہیں معلوم نہیں۔  

  2. بریکنگ, کئی شامی طیاروں کو نقصان پہنچا ہے اور کئی تباہ ہو گئے ہیں: پینٹاگون

    پینٹاگون نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’میزائل حملوں کو نتائج کو جانچا جا رہا ہے اور ابتدائی خبروں کے مطابق یہ معلوم ہوتا ہے کہ کئی طیارے تباہ اور کئی کو نقصان پہنچا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ فضائی اڈے پر موجود سہولیات اور سامان کو بھی نقصان پہنچا ہے جس سے شامی حکومت کی کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کی صلاحیت میں کمی پیش آئی ہے۔ 

  3. ’امریکی میزائل حملوں کی تیاری پہلے ہی سے کی گئی تھی‘

     روس کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ’یہ صاف ظاہر ہے کہ امریکی میزائل حملوں کی تیاری پہلے ہی سے کی گئی تھی۔ کسی بھی ماہر کے لیے یہ واضح ہے کہ واشنگٹن نے حملوں کا فیصلہ ادلیب کے حملے سے پہلے کیا تھا اور ادلیب کا واقعہ بہانے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔‘  

  4. تمام ذمہ داری اسد پر عائد ہوتی ہے: نیٹو سیکرٹری جنرل

    امریکی اور یورپی ممالک کے فوجی اتحاد نیٹو کی سیکریٹری جنل جینس سٹولٹین برگ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’اس حملے کی تمام ذمہ داری شامی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ ‘

    انھوں نے کہا کہ ’کیمیائی ہتھیار کا استعمال قطعی قابل قبول نہیں اور اس کی سزا ملنا ضروری ہے اور ان حملوں کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ضروری ہے۔‘

    یاد رہے کہ امریکہ کے وزیر دفاع جنرل جیمس میٹس نے جینس سٹولٹین برگ امریکہ کے میزائل حملے سے قبل آگاہ کیا تھا۔ 

  5. ضرورت ہے کہ حالات کو مزید بگڑنے سے بچایا جائے: چین

    چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چن ینگ نے پریس بریفنگ میں کہا کہ ’اب اس بات کی ضرورت ہے کہ حالات کو مزید بگڑنے سے بچایا جائے۔ ہم کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے مکمل خلاف ہیں چاہے وہ کوئی بھی ملک، ادارہ یا انفرادی حیثیت میں کوئی شخص کسی بھی مقصد کے لیے استعمال کرے۔‘

  6. شام میں مظالم کے خاتمے کے لیے کوششیں کریں گے: یورپی یونین

    یورپی یونین کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے ٹویٹ کے ذریعے شام پر کیے جانے والے امریکی حملے پر اپنے رد عمل کا اظہار کیا جس میں انھوں نے کہا کہ ’امریکی حملہ ظاہر کرتا ہے کہ شامی حکومت کے ہولناک کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے خلاف ہمت کی ضرورت ہے اور یورپی یونین امریکہ کے ساتھ مل کر شام میں ڈھائے جانے والے مظالم کے خاتمے کے لیے اپنی پوری کوشش کرے گا۔‘

  7. مثبت پہل لیکن عالمی برادری کو ثابت قدم رہنے کی ضرورت: ترکی

    ترکی نے شام کے خلاف امریکی حملے کو مثبت پہلو قرار دیا اور کہا ہے کہ عالمی برادری کو شامی حکومت کی بربریت کے خلاف اپنے موقف کو مستقل برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔

    ترکی کے نائب وزیراعظم نعمان قرت المعاون نے ترکی میں فاکس ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر بشار الاسد کو عالمی سطح پر پوری طرح سے سزا دینا چاہیے اور شام میں امن کے عمل کو تیز تر کرنے کی ضرورت ہے۔

    ترکی کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’شام کے فضائی اڈے پر امریکی حملہ خوش آئند پیشرفت ہے اور ترکی ایسے تمام اقدامات کی حمایت کرے گا جس سے شامی حکومت کا احتساب ہو سکے۔‘

    دوسری جانب ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے ترجمان نے ’شام کے اوپر نو فلائی زون اور سیف زون کے قیام‘ کا مطالبہ کیا۔ 

  8. امریکی حملے سے ہونے والی تباہی

    روس کی جانب سے حمص کے قریب واقع اڈے پر ہونے والی تباہی کی فوٹیج جاری کی گئی ہے

  9. شام کے فضائی دفاع کو مضبوط کیا جائے گا: روس

    روسی وزارت دفاع نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ شیرت فضائی اڈے پر امریکی میزائل حملے کے بعد شام کے فضائی دفاع کو مضبوط کیا جائے گا۔ 

    ترجمان ااور کوناشینکوو نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’شام کے انتہائی حساس مقامات اور اڈوں کو محفوظ بنانے کے لیے مختلف اقدامت لیے جائینگے تاکہ ان کی قابلیت اور صلاحیت میں بہتری آسکے۔‘

  10. حملہ جارحیت ہے: روس

    روس کے صدر ولاد میر پوتن کے ترجمان دیمتری پیسکوؤف نے شام کی شائرات ایئر بیس پر حملے کو 'ایک خود مختار ملک کے خلاف جارحیت قرار دیا۔'

    ان کا کہنا تھا کہ صدر پوتن اس حملے کو عراق میں امریکی کارروائی میں ہونے والی شہریوں کی ہلاکتوں سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش قرار دیتے ہیں اور ’اس سے امریکہ اور روس کے تعلقات کو شدید نقصان پہنچختا ہے۔‘

    روسی پارلیمان کے ایوان بالا میں دفاعی اور سکیورٹی کمیٹی کے سربراہ وکٹر وزیروف کا کہنا تھا کہ روس اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی سکیورٹی کاؤنسل کا فوری اجلاس طلب کرنے مطالبہ کرے گا۔

    روسی خبر رساں ادارے آر آئی اے کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ’اس (حملے) کو اقوام متحدہ کے ایک رکن ملک کے خلاف امریکی جارحیت بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔‘

    پینٹاگون کا کہنا ہے کہ حملے سے قبل ایک خصوصی ہاٹ لائن کے ذریعے روسی حکام کو اس حملے کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا تھا۔ 

  11. حملے کی پوری طرح سے حمایت کرتے ہیں: نتن یاہو

    اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کا کہنا ہے کہ وہ اس حملے کی پوری طرح سے حمایت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا: ’صدر ٹرمپ نے الفاظ اور ایکشن سے ایک مضبوط اور واضح پیغام دیا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال یا ان کے پھیلاؤ کی اجازت ہر گز نہیں دی جائے گی۔‘

  12. شام اور خطّے میں حالات مزید پیچیدہ ہوں گے: ایران

    ایران نے امریکی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے شدت پسندوں کے ہاتھ مضبوط ہوں گے۔

    ایرانی نیوز ایجنسی آئی ایس این اے نے وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’اس طرح کے اقدامات سے شام اور خطّے میں حالات کو مزید پیچیدہ کر دیں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’ایران اس یکطرفہ حملے کی پرزور مذمت کرتا ہے۔ ان حملوں سے شام میں دہشت گردوں کو پروان ملے گا۔‘

  13. بریکنگ, حملے میں شہری ہلاکتیں ہوئی ہیں: شامی سرکاری میڈیا

    شام کے سرکاری خبر رساں ادارے ثنا کے مطابق شامی حکومت کے حمص کے نزدیک واقع فضائی اڈے پر امریکہ کے میزائل حملے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے عام شہریوں کی تعداد نو ہو گئی ہے جن میں چار بچے بھی شامل ہیں۔

    خبر رساں ادارے کے مطابق مرنے والے شہری فضائی اڈے کے نزدیک گاؤں کے رہنے والے تھے۔

    یہ واضح نہیں ہے کہ ان مرنے والوں میں وہ چھ افراد بھی شامل ہیں جن کے بارے میں شامی فوج نے پہلے اعلان کیا تھا۔

    دوسری جانب روس کی وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا ہے کہ چار شامی فوجی اس حملے میں ہلاک ہوئے ہیں جبکہ دو فوجی گمشدہ ہیں اور چھ شدید زخمی ہیں۔

  14. ٹوماہاک میزائلوں سے حملے

      امریکی محکمۂ دفاع کے مطابق ٹوماہاک کروز میزائل امریکی بحری جہازوں یو ایس ایس پورٹر اور یو ایس ایس راس سے داغے گئے اور یہ جنگی جہاز مشرقی بحیرۂ روم میں موجود ہیں۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ میزائلوں سے طیارے کھڑے کرنے کے مقامات، ایندھن اور اسلحے کے ڈپو، ایئر ڈیفینس نظام اور ریڈاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ محکمۂ دفاع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہمیشہ کی طرح اس حملے میں شہری ہلاکتوں سے بچنے کی ہرممکن کوشش کی گئی  

  15. امریکی حملے، باغیوں کا خیرمقدم

    امریکہ کی جانب سے کروز میزائل حملوں کا شامی حزب اختلاف کے گروہ سیریئن نیشنل کولیشن نے خیر مقدم کیا ہے۔ اتحاد کے ترجمان احمد رمضان نے خبر رساں اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'ہم مزید حملوں کی امید کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ یہ محض ایک آغاز ہے۔'

  16. ’مہذب ممالک شام کے تنازعے کے حل میں مدد دیں‘

      امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے ہی اس شامی فضائی بیس پر حملے کا حکم دیا تھا جہاں سے منگل کو شامی فضائیہ نے حملے کیے تھے۔ امریکی صدر نے اس موقع پر 'تمام مہذب ممالک' سے شام میں تنازعے کو ختم کرنے میں مدد کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔  

  17. یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ نے اس سکیورٹی فورس کو نشانہ بنایا ہے جس کو شامی صدر بشار الاسد خود کمانڈ کرتے ہیں۔

  18. شامی اڈے پر 59 کروز میزائلوں سے حملہ

    امریکہ نے شام میں باغیوں کے زیرِ اثر علاقوں میں شامی فوج کی جانب سے مشتبہ کیمیائی حملے کے جواب میں فضائی اڈے پر میزائلوں سے حملے کیے ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ مشرقی بحیرۂ روم میں بحری بیڑے سے 59 ٹام ہاک کروز میزائلوں سے شام کے ایک فضائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔