آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

انڈیا ورلڈ کپ میں پاکستان کے خلاف تاحال ناقابلِ تسخیر، احمد آباد میں سات وکٹوں سے شکست دے دی

احمد آباد کے نریندر مودی کرکٹ سٹیڈیم میں ورلڈ کپ میں اپنے تیسرے میچ میں انڈیا نے پاکستان کو سات وکٹوں کے بھاری مارجن سے شکست دے دی ہے اور پاکستان کی جانب سے دیا گیا 192 رنز کا ہدف 31ویں اوور میں پورا کر لیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. 13ویں اوور میں امام الحق کی وکٹ گِر گئی، پاکستان کے 74 رنز پر دو آؤٹ

    پانڈیا کی باہر جاتی گیند کے پیچھے جاتے ہوئے امام الحق کی ایج لگی اور وکٹ کیپر کے ایل راہل نے یہ کیچ تھاما۔

    13 اوورز کے اختتام پر پاکستان کا سکور 74/2

  2. بریکنگ, انڈیا کے خلاف 41 رنز پر پاکستان کی پہلی وکٹ گر گئی

    انڈیا کے خلاف پاکستان کی پہلی وکٹ 41 رنز پر گئی۔ عبداللہ شفیق 20 رنز بنا کر محمد سراج کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔

  3. احمد آباد نریندر مودی سٹیڈیم: انڈیا اور پاکستان کے میچ سے قبل گراؤنڈ میں سچن تندولکر ورلڈ کپ ٹرافی کے ساتھ

  4. پانچ اوورز کے اختتام پر پاکستان نے بغیر کسی نقصان کے 23 رنز بنا لیے

    پاکستان نے انڈیا کے خلاف پہلے پانچ اوورز میں بغیر کسی نقصان کے 23 رنز بنائے ہیں۔ اس وقت وکٹ پر امام الحق اور عبداللہ شفیق موجود ہیں۔

  5. پاکستانی اوپنرز کے پراعتماد آغاز پر نریندر مودی سٹیڈیم میں سناٹا

    پاکستان کے اوپنرز کی طرف سے پراعتماد آغاز پر اس وقت انڈیا کے شہر حیدر آباد کے نریندر مودی سٹیڈیم میں مکمل سناٹا چھایا ہوا ہے۔

    اس وقت چوتھے اوور کا میچ جاری ہے۔ پاکستان کا سکور 21 رنز بغیر کسی نقصان کے ہے۔

  6. بی بی سی کی احمدآباد میں مودی سٹیڈیم کے باہر پاکستان انڈیا میچ سے قبل فینز سے گفتگو

    احمد آباد کے کرکٹ سٹیڈیم میں انڈیا اور پاکستان کے میچ کو ٹورنامنٹ کا ’بلاک بسٹر ایونٹ‘ قرار دیا گیاہے۔ لاکھوں لوگ اس کھیل کو دیکھیں گے اور امید ہے کہ 132,000 افراد کی گنجائش والا سٹیڈیم بھی کھچا کھچ بھرا ہوگا۔بی بی سی کے نامہ نگار شکیل اختر احمدآباد میں سٹیڈیم کے باہر موجود ہیں اور انھوں نے میچ سے قبل فینز سے بات کی۔

  7. تماشائیوں کی بڑی تعداد انڈین کرکٹ ٹیم کی کٹ پہنے ہوئے

    انڈیا کے شہر احمد آباد کے نریندر مودی کرکٹ سٹیڈیم میں تماشائیوں کی بڑی تعداد انڈین کرکٹ ٹیم کی کٹ پہن کر اپنی ٹیم کو سپورٹ کر رہی ہے۔

    انڈیا نے پاکستانی تماشائیوں کے ویزوں میں تاخیر کی جس کی وجہ سے پاکستان سے کرکٹ شائقین وہاں جانے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ اس سٹیڈیم میں تقریباً سوا لاکھ تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش موجود ہے۔

  8. انڈیا کے خلاف پاکستان کی اننگز کا آغاز

    احمد آباد کے نریندر مودی کرکٹ سٹیڈیم میں انڈیا کے خلاف اس وقت پاکستان کی بیٹنگ جاری ہے۔ پاکستان کی طرف سے امام الحق اور عبداللہ شفیق نے اوپننگ کی ہے۔

  9. انڈین اوپنر شبھمن گِل کی ٹیم میں واپسی

    انڈیا کے کپتان روہت شرما نے جب ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کے فیصلے کا دفاع کیا تو انھوں نے یہ بھی خبر دی کہ ان کے ان فارم اوپنر شبھمن گل آج کا میچ کھیل رہے ہیں۔

    اس اعلان پر تماشائیوں نے خوب جشن منایا۔ خیال رہے کہ شبھمن بیماری کی وجہ سے ٹیم سے آؤٹ ہو گئے تھے۔

  10. احمد آباد نریندر مودی کرکٹ سٹیڈیم میں تقریباً سوا لاکھ تماشائیوں کی گنجائش موجود ہے

  11. بریکنگ, انڈیا کا ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ

    انڈیا کے شہر احمد آباد کے نریندر مودی سٹیڈیم میں ٹاس جیت کر انڈیا نے پاکستان کو پہلے کھیلنے کی دعوت دی ہے۔

  12. پاکستان اور انڈیا کون سی ٹیم کس شعبے میں کتنی مضبوط ہے؟, وکاس پانڈے عہدہ,بی بی سی نیوز، احمد آباد

    پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والے میچوں کو اکثر انڈیا کے مشہور بلے بازوں اور پاکستان کے زبردست باؤلنگ اٹیک کے درمیان مقابلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

    اکثر کہا جاتا ہے کہ پاکستان فاسٹ بولرز بنانے کی ایک ’فیکٹری‘ ہے کیونکہ وہ مستقل طور پر ایسے فاسٹ بولرز تیار کرتا ہے جو یا تو بہت تیز ہوتے ہیں یا پھر ان میں سوئنگ کرانے کی ایسی صلاحیتیں ہیں جو تقریباً ایک آرٹ کی طرح ہے۔

    لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ آج انڈیا کے پاس قابل رشک باؤلنگ لائن اپ ہے جو پاکستانی بیٹنگ کو زیر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

    پاکستان کی بیٹنگ کی صلاحیت کرشماتی کپتان بابر اعظم کے گرد گھومتی ہے، جن کے متعلق اکثر اتنی بات نہیں ہوتی جتنا کہ وہ مستحق ہیں۔ ان کا شاندار سٹروک دیکھنا کرکٹ کے شائقین کے لیے کسی تحفے سے کم نہیں۔ لیکن جو چیز انھیں خاص بناتی ہے وہ ان کی آسانی سے بیٹنگ کے گیئرز کو سوئچ کرنے کی صلاحیت ہے۔

    وہ اپنی اننگز کو خاموشی سے آگے بڑھاتے ہیں، تقریباً ایسے جیسے وہ دوسروں کی نظروں سے چھپ رہے ہیں۔ اس سے پہلے کہ ان کے مخالفین کو اندازہ ہو کہ کیا ہو رہا ہے، ان کا سکور 50 یا 60 تک پہنچ چکا ہوتا ہے اور پھر وہ اپنی مرضی سے چوکے، چھکے مارنے لگ جاتے ہیں۔ وہ میدان میں بھی نہایت پرسکون رہتے ہیں اور پریشان نہیں ہوتے، چاہے میچ کیسا ہی چل رہا ہو۔

    انڈیا کو ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں ان کی اوسط کو بھی مدِ نظر رکھنا چاہیے، جو سنہ 2019 میں ہونے والے ورلڈ کپ کے بعد سے 70 ہے۔

    اگر ان کا بلا چل گیا تو انڈیا کے لیے مشکل ہو جائے گی۔ لیکن وہ انڈیا کے لیے واحد مسئلہ نہیں ہیں۔

    وکٹ کیپر محمد رضوان شاندار فارم میں ہیں، انھوں نے منگل کو 131 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیل کر اپنی ٹیم کو سری لنکا کے 344 رنز کے ہدف کے ریکارڈ تعاقب کو یقینی بنایا۔

    عبداللہ شفیق نے بھی میچ میں سنچری بنا کر بین الاقوامی کرکٹ میں اپنی جگہ مضبوط کر لی ہے۔

    فخر زمان اور امام الحق بھی انڈیا کے لیے مشکلات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا بابر اور رضوان کے جلدی آؤٹ ہونے کی صورت میں وہ اننگز کو دوبارہ سنبھال سکتے ہیں۔

    اگر انڈیا پاکستان کے ٹاپ آرڈ کو سنبھال لیتا ہے تو وہ پاکستانی مڈل آرڈر میں سمجھی جانے والی کمزوری کا فائدہ اٹھانا چاہے گا۔

    لیکن اگر مہمانوں کی بیٹنگ میں کمی ہے تو ان کی بولنگ اس کو پورا کر سکتی ہے۔

    پاکستان کے بولرز سری لنکا کے خلاف بہت اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکے تھے، اور ٹیم کی فیلڈنگ بھی بری رہی تھی۔ لیکن انڈیا کے خلاف میچ ایک ایسا تھیٹر ہے جہاں ہر کھلاڑی اپنی بہترین کارکردگی دینا چاہتا ہے۔ اور یہی وہ تحریک ہے جو ہر پاکستانی بولر چاہتا ہے۔

    شاہین شاہ آفریدی کے پاس دونوں صلاحتیں ہیں۔ صحیح جگہوں پر مسلسل باؤلنگ کرنے اور بلے باز کو ریش شاٹ کھیلنے پر مجبور کرنے کی ان میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔

    انڈیا یا تو انھیں خاموشی سے کھیلے گا یا شروع میں ہی ان پر حاوی ہونے کے لیے ان پر حملہ کرے گا۔

    پاکستان کو نسیم شاہ کی کمی محسوس ہوگی کیونکہ وہ انجری کی وجہ سے باہر ہیں لیکن آفریدی کو حارث رؤف اور حسن علی کی صورت زبردست پارٹنر ملیں گے۔

    ان کا سپن کا شعبہ شاداب خان اور محمد نواز پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے لیکن اس بارے میں سوالات ہیں کہ کیا وہ اپنے تیز رفتار ہم منصبوں کی طرح انڈین بلے بازوں کو بھی پریشان کر سکتے ہیں۔

    انڈیا کی بیٹنگ لائن اپ پاکستانی اٹیک بالخصوص سپنرز کو خاموش کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

    کپتان روہت شرما، جنھوں نے بدھ کو افغانستان کے خلاف 63 گیندوں پر سنچری بنا کر اپنی کلاس اور تباہ کن صلاحیت کا مظاہرہ کیا، غالباً بائیں ہاتھ کے کھلاڑی ایشان کشن کے ساتھ اننگز کا آغاز کریں گے۔

    لیکن ان کے باقاعدہ اوپننگ پارٹنر شبمن گل بیمار رہے تو وہ ان کی کمی ضرور محسوس کریں گے۔ گِل ٹاپ فارم میں ہیں اور ان کی کمی محسوس کی جائے گی لیکن انڈیا کے پاس ان کی جگہ لینے کے لیے کافی کھلاڑی موجود ہیں۔

  13. پاکستان انڈیا کے بڑے مقابلے سے پہلے ہہلے پاکستانی فینز کو ٹیم سے کیا امید ہے؟

  14. احمدآباد، پاکستان-انڈیا کے سنسنی خیز میچ کے لیے تیار, شکیل اختر بی بی دی اردو ڈاٹ کام، احمدآباد

    احمدآباد کا نریندر مودی سٹیڈیم میں ورلڈ کپ کےپاکستان-انڈیا میچ کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ دونوں ٹیمیں میچ سے پہلے کئی مشق سیش کر چکی ہیں۔ نریندر مودی سٹیڈیم انڈیا میں کرکٹ کا سب سے بڑا سٹیڈیم ہے۔

    اب سے کچھ دیر میں ایک لاکھ سے زیادہ شائقین اس میچ کو دیکھنے کے لیے سٹیڈیم میں ہوں گے۔ میچ کےآغازسے پہلے سٹیڈیم میں میوزیکل شو کا اہتمام کیا گیا ہے۔

    میچ شروع ہونے سے ڈیڑھ گھنٹے پہلے ساڑھے بار بجے سے اریجیت سنگھ، شنکرمہادیو اور اوسرسکھوندرسنگھ شائقین کواپنے گانوں سے مسحورکریں گے۔

    اس میچ کو دیکھنےاور انڈین ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے کئی بڑے فلمسٹارز اور اہم شخصیات سٹیڈیم میں آنےوالی ہیں-

    اس میچ کے لیے پورے برصغیر میں زبردست جوش پایا جاتا ہے۔ دونوں ٹیموں کے کھلاڑی اپنی بہترین پرفارمنس دینے کے لیے پوری طرح فٹ ہیں۔

    میچ سے پہلے سٹیڈییم اس کے اطراف اور پورے شہر میں ہزاروں سکیورٹی اہلکار حفاظت پر مامور کیے گئے ہیں۔ کئی جگہ فساد شکن دستے تعینات ہیں۔

    حفاظتی انتظامات کے لیے این ایس جی کے کمانڈوز کی مدد لی گئی ہے۔ شہر کا ماحول بالکل پرسکون اورکرکٹ میں ڈوبا ہوا ہے۔ جمعہ کو جب ہم تین بجے کے قریب سٹیڈیم پہنچے اس وقت پاکستانی ٹیم وہاں پریکٹس کر رہی تھی۔ یہاں کا موسم حیدرآباد سے ذرا گرم ہے-

    میچ شروع ہوتے وقت درجہ حرارت 35 ڈگری کے آس پاس ہو گا۔ یہاں دن میں ہوائیں بہت ہلکی ہوتی ہیں، جس سے گرمی کی تپش زیادہ محسوس ہو تی ہے۔

    میچ سے پہلے کل پاکستان ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے ٹیم کی تیاریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم اس میچ میں پورے اعتماد کے ساتھاترے گی۔ انھوں نے امید ظاہر کی ان کی پرفارمنس اس میچ میں بہتر ہو گی۔ بابر نے کہا کہ کچھ برسوں سے انڈیا کے ساتھ پاکستان کو کھیل کا تجربہ عالمی کپ کا ہی ہے اس لیے اس میں ایک گیپ ہے جو پاکستانی ٹیم پر کرنے کی کوشش کرے گی۔

    دوسری جانب انڈین ٹیم کے کپتان روہت شرما نے کہا کہ وہ دو میچ جیت کر آئے ہے ہیں اور ان کی تیاری بالکل ویسی ہی جیسی گذشتہ دو میچوں میں رہی تھی۔

    ٹیم کسی اضافی دباؤ کے بغیر کھیلے گی۔ شبھمن گل کی واپسی کے امکان سے ٹیم میں ایک نئی توانائی آ گئی ہے۔

    یہ میچ ممکنہ طور پر بلیک سوائل پچ پر کھیلا جائے گا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ بلیک سوائل پچ سونئگ بالرز کے لیے مددگار ہوتی ہے۔ عام طور پر یہ مانا جا رہا ہے کہ یہ بڑے سکور کا میچ ہو گا۔

    ون ڈے ورلڈ کپ میں انڈیا کے خلاف پاکستان کا ریکارڈ اچھا نہیں رہا ہے۔ سٹیڈیم میں سوا لاکھ کے قریب شائقین ہوں گے جو سبھی انڈیا کی ٹیم کی حمایت کر رہے ہوں گے۔ پاکستانی ٹیم کے لیے یکطرفہ شائقین کے زبردست شور اور نعروں کے درمیان بھی کھیلنا ایک چیلنج ہو گا۔

    پردیپ میگزین جیسے کئی سپورٹس تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ دونوں ٹیمیں اچھی ہیں۔ انڈیا پر ہوم گراؤنڈ ہونے اور شائقین کی زبردست سپورٹ ملنے کے سبب میچ جیتنے کا دباؤ پاکستان سے زیادہ ہوگا۔

    بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اس طرح کے حالات میں پاکستانی ٹیم بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتی ہے۔ پاکستان کے لیے ماضی کی شکستوں کا حساب چکانے اور کرکٹ کی ایک نئی تارخ لکھنے کا یہ ایک سنہری موقع ہے۔

    ورلڈ کپ میں انڈیا۔پاکستان کا یہ میچ ایک ایسا گیم ہے جس کا سبھی کو انتظار تھا۔ خود اآئی سی سی نے ٹیلی ویژن پر اس میچ کومشتہر کیا تھا۔ میچ کا نتیجہ جو بھی ہو لوگ آج ایک سنسنی خیز کھیل کی توقع کر رہے ہیں۔

  15. انڈیا ورلڈّ کپ میں سات بار پاکستان کو شکست دے چکا ہے

    جہاں تک بات ہے ورلڈ کپ کی تو ان مقابلوں میں انڈیا پاکستان کو سات بار شکست دے چکا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہو گا کہ انڈیا جیت کے تسلسل کو برقرار رکھتا ہے یا پھر پاکستان شکست کی روایت کو توڑتا ہے۔

    دونوں ٹیموں کو اپنی حکمت عملی کو ’فائن ٹیون‘ کرنے کے لیے آخری لمحے تک انتظار کرنا پڑے گا۔ اگر دونوں ٹیموں پر نظر دوڑائیں تو یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ شائقین کرکٹ کو ایک اچھا کھیل دیکھنے کو ملے گا۔

  16. انڈیا اورپاکستان ابھی تک ٹورنامنٹ میں ناقابل شکست ٹیمیں

    انڈیا اور پاکستان اس ورلڈ کپ میچمیں دو دو میچز کھیل چکے ہیں اور دونوں ہی ٹیمیوں اپنے دونوں میچز میں فاتح رہی ہیں۔ ابھی تک پوائنٹ ٹیبل پر انڈیا پاکستان سے آگے ہے مگر آج کی شکست یا فتح دونوں ٹیموں میں فرق کو واضح کر دے گی۔

    نیوزی لینڈ نے تین میچز جیت کر اس وقت تک ٹورنامنٹ میں آگے ہیں۔ جنوبی افریقہ دو میچز جیت کر اچھے رن ریٹ کی وجہ سے دوسرے نمبر ہے جبکہ انڈّیا اور پاکستان تیسرے اور چوتھے نمبر پر ہیں۔ آسٹریلیا ابھی تک اس ورلڈ کپ کے اپنے ابتدائی دونوں میچز میں ہار چکا ہے۔

  17. انڈیا بمقابلہ پاکستان: ورلڈ کپ 2023 کا ’بلاک بسٹر‘ مقابلہ کچھ دیر میں شروع ہوگا

    احمد آباد کے کرکٹ سٹیڈیم میں آج پاکستان اور روایتی حریف انڈیا ورلڈ کپ کے ایک میچ میں تھوڑی دیر بعد آمنے سامنے ہوں گے۔ اس میچ کو ٹورنامنٹ کا ’بلاک بسٹر ایونٹ‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سٹیڈیم میں تقریباً سوا لاکھ تماشائیوں کی گنجائش موجود ہے۔

    دونوں ٹیموں نے اپنے پہلے دو میچ جیت کر ٹورنامنٹ میں پراعتماد آغاز کیا ہے۔

    لیکن انڈیا بمقابلہ پاکستان ایک ایسا میچ ہوتا ہے جہاں ماضی کی کارکردگی جیت کی ضامن نہیں ہوتی۔ یہ مہارت، تیاری، حکمت عملی اور سب سے بڑھ کر اعصاب کی جنگ کا امتحان ہوتا ہے۔

  18. بی بی سی اردو کے لائیو پیج پر خوش آمدید

    آج انڈیا کے شہر احمد آباد کے نریندر مودی سٹیڈیم میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان ورلڈ کپ 2023 کا اہم میچ ہوگا، جس کی ہم لمحہ بہ لمحہ تفصیلات دیتے رہیں گے۔