افغانستان میں جنگ کے دوران امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر تقریبا بیس سال میدان جنگ میں رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق امریکہ یومیہ تین سو ملین ڈالرز افغانستان میں خرچ کرتا رہا۔
اس جنگ کی پہلی دہائی امریکی سیاسی اور فوجی ایوانوں میں اس بحث میں گزری کہ اس جنگ کا مقصد کیا ہے اور اس جنگ میں امریکہ کیا حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس جنگ کے دوران تقریبا سبھی، سیاسی اور سیکیورٹی، اجلاسوں میں پاکستان زیر بحث رہا ہے۔ کبھی ایک اتحادی کے طور پر اور کبھی امریکہ اور افغان حکومت کے ان الزامات کا مرکز کہ یہ طالبان کو پناہ دیئے ہوئے ہے یا القاعدہ کے رہنما اور اراکین پاکستان میں چھپے ہوئے ہیں۔
پاکستان ان الزامات کو تو رد کرتا رہا ہے کہ وہ طالبان کی تنظیم نو میں مدد کر رہا ہے یا اس کی لیڈرشپ پاکستان کی پناہ میں ہے تاہم دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ میں امریکہ کا اتحادی بننے کے بعد خود پاکستانی ریاست کو بھی القاعدہ سمیت کئی دہشتگرد تنظیموں نے ایک دشمن کے طور پر دیکھا اور اس کے بعد کیا ہوا، یہ ہم سب جانتے ہیں۔
مگر یہ اہم ہے کہ اتحادی کی حیثیت اور ملک میں شروع ہونے والی دہشتگردی کی لہر وہ اہم ترین نکات تھے جن کی بنیاد پر امریکہ کے متعدد کانگریس ممبران، سینیٹرز، پینٹاگون اور امریکی انٹیلیجنس کے سینیئر حکام، حتی کہ مختلف ادوار کے صدور نے بھی کئی ایسے مواقع پر پاکستان کی حمایت بھی کی جب ملک کے لیے ایک سخت حکمت عملی اختیار کرنے کی تجویز دی گئی۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان پر ’ڈو مور‘ کی تلوار ہمیشہ ہی لٹکی رہی ہے۔
اب ایک بار پھر ایسا موقع آیا ہے کہ امریکہ پاکستان سے متعلق پالیسی پر بات کر رہا ہے۔
بین الاقوامی امور کی ماہر سمبل خان کا کہنا تھا کہ اس وقت خود امریکی سیکیورٹی حکام اور حکمران بھی یہ طے کررہے ہیں کہ افغانستان میں کیا غلط ہوا، کہ اربوں ڈالرز خرچ کرنے کے بعد بھی اتنی تیزی سے حکومت کیسے گر گئی، تو امریکی سیکرٹری خارجہ اس قسم کے سوالات کا سامنا کر رہے تھے کمیٹی کے سامنے۔ اس طرح کی صورتحال میں الزام تراشی بھی ہوتی ہے اور کسی نہ کسی کو قربانی کا بکرا بھی بنایا جاتا ہے تو پاکستان کے ساتھ تو بیس سال سے یہی ہو رہا ہے۔ 2005 کے بعد سے پاکستان پر ہی الزام لگ رہا ہے جب بھی طالبان کے جنگ جاری رکھنے کے بات ہوئی۔‘
وہ امریکی سیکرٹری خارجہ کے بیان کو کسی حد تک متوازن بھی قرار دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے: ’میرے خیال میں ان کا جواب بیلنس بھی تھا کہ انھوں نے کہا کہ وہ تین معاملات پر پاکستان کے ساتھ انگیجڈ رہیں گے۔ جن میں دہشتگردی کی معاونت یا سہولت کاری، انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور ایک جامع حکومت کی تشکیل شامل ہے۔ اور پاکستان کے بھی تو یہی مطالبات ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ کچھ عرصے میں نہ صرف طالبان بلکہ افغانستان میں دیگر گروپس کے ساتھ بھی روابط قائم کیے جس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان میں ایک جامع حکومت ہو۔ انھوں نے کہا افغانستان میں طالبان کی جانب سے تمام فریقین پر مشتمل ایک جامع افغان حکومت کا نہ بننا خود پاکستان کے لیے بھی ایک دھچکا تھا۔
انھوں نے کہا کہ یہ بہت مثبت بیان تو نہیں ہے مگر اس کو ایک وارننگ نہیں کہا جا سکتا۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ مکمل رابطے میں ہیں اور افغان صورتحال پر بات چیت مستقل ہو رہی ہے۔
’سیکرٹری بلنکن کے الفاظ تو پاکستان ہی کا موقف ہیں اور اس بیان میں دونوں ملکوں کے مل کر کام کرنے کا راستہ ہی ہے۔ میرا خیال نہیں کہ جو امریکی سیکرٹری خارجہ نے کہا اور جو پاکستان چاہتا ہے اس میں کوئی بڑا فرق ہے۔ پاکستان کے لیے بھی افغانستان میں طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کی وہی شرائط ہیں جو امریکہ کی ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ آئندہ آنے والے دنوں اور ہفتوں میں جو ایک چیز ہم دیکھیں گے وہ پاکستان کا کردار ہے جو اس نے گذشتہ 20 سال میں ادا کیا لیکن ہم یہ بھی دیکھنا چاہتے ہیں کہ آئندہ برسوں میں اس کا کیا کردار ہوگا اور ایسا کرنے کے لیے اسے کیا ضرورت ہوگی۔
انٹونی بلنکن نے پاکستان سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ جب تک افغان طالبان بین الاقوامی مطالبات پورے نہیں کرتے انہیں قانونی حیثیت دینے سے انکار کریں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں جو دیکھنا ہے وہ یہ کہ بین الاقوامی برادری کے پاس وہ چیز ہے جو طالبان کی زیر قیادت حکومت کو درکار ہے اگر اسے کسی بھی قسم کا قانونی جواز یا مدد حاصل کرنی ہو۔
امریکہ کی جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں وزٹنگ سکالر اور بین الاقوامی امور کی ماہر ڈاکٹر ثروت رؤف کہتی ہیں کہ امریکہ کی جانب سے ایسی توقع کیے جانا اچنبھے کی بات نہیں ہے۔
وہ اس کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’پاکستان سے اس وقت یہ توقع کی جا رہی ہے کہ حکومتی سطح پر یہ باور کرایا جائے کہ افغانستان اس معاہدے کی پاسداری کرے گا جو امریکہ ساتھ کیا گیا ہے اور دنیا کے دیگر ممالک کو جو گارنٹی دی گئی ہے‘۔
وہ کہتی ہیں کہ ’ہم ایک گلومبلایزڈ دنیا میں رہتے ہیں اور کوئی ایک ریاست دوسری ریاست سے جدا نہیں ہے۔ ایک ریاست میں ہونے والا واقعہ پوری دنیا پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔ میرے خیال میں امریکہ کا یہ مطالبہ غلط نہیں ہے۔ یہ توقع رکھنا بھی غلط نہیں جب آپ نے اتنا پیسہ لگایا ہو اور آپ یہ سمجھ گیے ہوں کہ جنگ راستہ نہیں ہے۔‘
اس سوال پر کہ اسی اجلاس میں امریکی سیکرٹری خارجہ نے دہرایا ہے کہ پاکستان نے دہشتگرد تنظیموں کو پناہ دی، حمایت کی اور افغانستان کے مستقبل پر شرائط لگاتا ہے، کیا یہ بیان افغانستان سے انخلا سے متعلق سخت سوالوں کی وجہ سے دیا گیا۔
ڈاکٹر ثروت نے کہا کہ جہاں تک طالبان کو پناہ دینے کا الزام ہے میرے خیال میں امریکہ کی یہ پرانی روش رہی ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں اور نہ ہی ایسا کسی دباؤ میں کیا جاتا ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’طالبان کی پچھلی حکومت میں کئی ناخوشگوار واقعات ہوئے۔ اس وقت پوری دنیا کی نظر افغانستان پر ہے کہ طالبان کیا نئی سوچ لاتے ہیں، وہ اپنے انداز حکومت میں کچھ تبدیلی اور لچک دکھائیں گے اور کیا ملک کے اندر اور باہر ان کا انٹریکشن متوازن ہوگا۔ اور میرے خیال میں توازن رکھنے کی یہ توقع کچھ غلط نہیں ہے، اور شاید خود طالبان بھی یہی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کا یہ تاثر دنیا کے سامنے جائے کہ وہ مثبت انداز میں آگے بڑھنے کو تیار ہیں۔‘