آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پٹرول کی قیمت میں 9 روپے فی لیٹر سے زیادہ اضافہ
پاکستان بھر کے 300 سے زائد وکلا نے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سپریم کورٹ کو لکھے گئے ایک خط میں زور دیا کہ وہ آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت خفیہ اداروں کی طرف سے عدلیہ میں مداخلت کے الزامات کا نوٹس لے۔ ادھر وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں نو روپے سے زیادہ اضافے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے جس کے مطابق فی لیٹر پٹرول کی نئی قیمت 289 روپے 41 پیسے ہو گئی ہے۔
لائیو کوریج
وفاقی کابینہ کا اجلاس جاری, سحر بلوچ/بی بی سی اردو، اسلام آباد
وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس شروع ہوچکا ہے۔
آج کا اجلاس خاصا اہم بتایا جا رہا ہے جس میں پانچ نکات زیرِ بحث آئیں گے۔ اس اجلاس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کے خط کا معاملہ زیرغور آئے گا۔ جبکہ الزامات کی انکوائری کے لیے کمیشن کے قیام کی منظوری دی جائے گی۔
اجلاس میں مالی سال 2023-24 کے وسط مدتی بجٹ جائزہ رپورٹ کا جائزہ لیا جائے گا۔ اور مالی سال 2021-22 کی مشترکہ وفاقی، صوبائی اور ضلعی فنانشل سٹیٹمنٹ پیش کی جائے گی۔ اجلاس میں پیپرا کی سالانہ رپورٹس کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔
کابینہ کا اجلاس زوم پر ہو گا اور بیشتر وزرا آن لائن شرکت کریں گے۔ اس سے قبل وزیراعظم کی مصروفیات کے باعث دو بار کابینہ اجلاس موخر کیا گیا تھا۔
کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف مختلف وزارتوں اور ڈویژن کو اہم اہداف سونپیں گے۔
اعلامیہ کے مطابق رومانیہ کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کے پروگرام پر دستخط بھی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔ مختصر مدت کے اہداف 100 دن، درمیانی مدت کے 6 ماہ اور طویل المدتی 5 سال پر مبنی ہوں گے۔ وزیراعظم وزارتوں اور ڈویژنوں کو سونپے گئے اہداف پر باقاعدہ بریفنگز اور رپورٹس کا جائزہ لیں گے۔
’مزدور عید سے پہلے بے روزگار ہوگئے‘: چینی انجینیئرز پر حملے کے بعد داسو ڈیم سیمت دیگر منصوبوں پر کام بند
وفاقی کابینہ کا اجلاس آج: عدالتی امور میں آئی ایس آئی کی مداخلت کے الزام پر کمیشن کا معاملہ زیرِ غور
وزیر اعظم شہباز شریف کی صدارت میں کابینہ کا اجلاس جمعے کو ملتوی ہونے کے بعد آج ہوگا جس میں ججز کی جانب سے مداخلت کے الزام کی تحقیقات کے لیے کمیشن کی منظوری متوقع ہے۔
مقامی ذرائع ابلاع کے مطابق مختلف وجوہات کی بنا پر کابینہ کے اجلاس کو ملتوی کیا گیا تھا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا اجلاس آج طلب کیا ہے جو دن 12 بجے ہو گا۔
کابینہ ارکان اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز کے خط کے معاملے پر غور کریں گے جس میں خفیہ اداروں پر عدالتی امور میں مداخلت کا الزام لگایا گیا تھا۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا تھا کہ حکومت اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی جانب سے عدالتی امور میں مداخلت کی شکایات کی تحقیقات کے لیے ایک رُکنی کمیشن بنائے گی۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’وزیر اعظم نے واضح طور پر کہا ہے کہ عدلیہ کی آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔‘
پاکستانی فوج کی معاشی بحالی کے لیے حکومتی اقدامات میں معاونت کی یقین دہانی
پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں انسداد بجلی چوری پالیسی، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جدید بنیادوں پر تشکیل نو، بجلی چوری کے مکمل خاتمہ کے لیے سمارٹ میٹرز کی تنصیب اور کرپٹ افسران کے خلاف سخت کارروائی کے احکامات پر وفاق اور صوبائی حکومتوں کے درمیان معاہدوں کی منظوری دی گئی۔
جمعے کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری پریس ریلیز کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت غیر قانونی سرگرمیوں کے دائرے کے خلاف اقدامات کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا جس میں وفاقی کابینہ کے اراکین، چیف آف آرمی سٹاف، صوبائی وزراء اعلیٰ اور اعلیٰ سطح کے حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کا ایجنڈہ جرائم پیشہ مافیا اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف اقدامات تھے۔ اجلاس کے شرکا کو جرائم پیشہ مافیا، سمگلنگ، ذخیرہ اندوزی، منی لانڈرنگ، بجلی چوری اور غیر قانونی غیر ملکیوں کی وطن واپسی کے حوالہ سے اٹھائے گئے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
شرکا نے ان اقدامات کے پاکستان کے عوام کی بہتری، اقتصادی اور فلاحی خوشحالی کے حوالہ سے ان اقدامات کے مثبت اثرات کو سراہا۔ اجلاس کے شرکا نے سمگلروں، ذخیرہ اندوزوں اور مارکیٹ اجارہ داروں کے خلاف کارروائی کے عزم کا اعادہ کیا جس سے عام شہریوں کو فوری ریلیف کی فراہمی اور معاشی بہتری حاصل ہو سکے۔
اجلاس نے انسداد بجلی چوری پالیسی، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جدید بنیادوں پر تشکیل نو، بجلی چوری کے مکمل خاتمہ کیلئے سمارٹ میٹرز کی تنصیب اور کرپٹ افسران کے خلاف سخت کارروائی کے احکامات پر وفاق اور صوبائی حکومتوں کے درمیان معاہدوں کی منظوری دی۔
چیف آف آرمی سٹاف نے اجلاس کو پاکستان آرمی کی جانب سے ملک کی معاشی بحالی کے حکومتی اقدامات کے لیے بھرپور معاونت کی غیر متزلزل یقین دہانی کرائی۔
اجلاس کے اختتام پر وزیراعظم نے تمام فریقین کو ہدایت کی کہ وہ غیر قانونی سرگرمیوں اور جرائم پیشہ مافیا کو مقررہ مدت کے اندر سزائیں یقینی بنانے کیلئے مختلف اقدامات بھرپور انداز میں اٹھائیں۔
بی بی سی کی لائیو کوریج میں خوش آمدید
گذشتہ روز کی بڑی خبریں:
1 - چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے پاکستان کے ساتھ کھڑے رہیں گے: امریکی صدر کا پاکستانی وزیرِ اعظم کو خط
امریکی صدر جو بائیڈن نے پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھا ہے جس میں انھوں نے نومنتخب حکومت کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔
وزیرِاعظم ہاؤس کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے خط میں لکھا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان شراکت داری دنیا اور ہمارے عوام کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے نہایت اہم ہے۔
خیال رہے وزارتِ اعظمیٰ سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کو امریکی صدر جو بائیڈن کی طرف سے مبارکباد کا خط موصول ہوا ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف کو لکھے گئے خط میں امریکی صدر نے مزید لکھا ہے کہ دنیا اور خطے کو درپیش چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے امریکہ، پاکستان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔
وزیرِاعظم ہاؤس کے مطابق امریکی صدر بائیڈن کا کہنا تھا کہ صحت عامہ کے تحفظ، معاشی ترقی اور سب کے لیے تعلیم پر پاکستان اور امریکہ کا مشترکہ وژن ہے جس دونوں ممالک مل کر فروغ دیتے رہیں گے۔
امریکی صدر کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ امریکی 2022 کے سیلاب کی تباہ کن اثرات سے بحالی میں پاکستان کی معاونت جاری رکھے گا اور وہ پاکستان کے ساتھ مل کر انسانی حقوق کے تحفظ اور ترقی کے فروغ کے لیے پُرعزم ہیں۔
2 - آصفہ بھٹو زرداری رکن قومی اسمبلی منتخب
سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو اور صدرمملکت آصف زرداری کی صاحبزادی آصفہ بھٹو قومی اسمبلی کی نشست این اے 107 سے بلامقابلہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہو گئی ہیں۔ یہ نشست آصف زرداری کے صدر مملکت بنننے پر خالی ہو گئی تھی۔
اپنے ایک ٹویٹ میں آصفہ بھٹو نے کہا کہ وہ شہید بینظیر آباد ون کے حلقے سے بلامقابلہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے پر شکر گزار ہیں۔ انھوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ اپنے حلقے کے عوام کی بہتری کے لیے بغیر کسی سیاسی وابستگی کے ہر ممکن کوشش کریں گی۔
انھوں نے اپنی جماعت کے کارکنان، جیالوں اور میڈیا کا بھی شکریہ ادا کیا۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے آصفہ بھٹو کی کامیابی کا نوٹیفکیشن وکٹری کے نشان کے ساتھ ٹویٹ کیا ہے۔
آصفہ بھٹو کی بہن بختاور نے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ نواب شاہ اپنی نئی رکن قومی اسممبلی پر جشن منا رہا ہے اور اسے اس اعزاز پر فخر ہے۔
3- وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی چین کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم سے ملاقات، چینی شہریوں کی سکیورٹی پر تبادلہ خیال
پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے چین سے آنے والی ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم سے ملاقات کی ہے اور انھیں رواں ہفتے خیبرپختونخوا کے علاقے بشام میں ہونے والے خودکش کار حملے پر بریفنگ دی ہے۔
وزارتِ داخلہ کے مطابق جمعے کو وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے چین کے سفارتخانے کا دورہ کیا اور چین کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کو اب تک ہونے والی تحقیقات کے حوالے سے آگاہ کیا۔
خیال رہے منگل کو اسلام آباد سے داسو ہائیڈروپاور پراجیکٹ جانے والی چینی انجینیئرز کی گاڑی کو ایک خودکش حملہ آور نے نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں پانچ چینی انجینیئرز سمیت چھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
وزارتِ داخلہ کے مطابق چینی سفارتخانے ہونے والی ملاقات میں چینی شہریوں کے تحفظ اور مجموعی سکیورٹی کے اقدامات پر تبادلہ خیال بھی کیا گیا۔
ملاقات کے دوران محسن نقوی نے چینی سفیر اور تحقیقاتی ٹیم کو حملے میں ملوث ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی یقین دہانی کروائی ہے۔
سینیٹ انتخابات: بلوچستان کی تمام نشستوں پر امیدوار بلا مقابلہ منتخب
دو اپریل کو ہونے والے سینیٹ کے انتخابات میں بلوچستان کی صوبائی اسمبلی سے ٹیکنو کریٹ اور علما کی نشست پر بھی بلا مقابلہ انتخاب عمل میں آ گیا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق بلوچستان سے ٹیکنوکریٹ اورعلما کی دو نشستوں پر کامیاب امیداور پیپلز پارٹی کے بلال احمد اور جے یو آئی کے عبدالواسع قرار پائے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق دو اپریل کو ہونے والے انتخاب میں اب بلوچستان اسمبلی کی 11 نشستوں پر تمام امیدواروں کے بلامقابلہ ہونے کے باعث اب وہاں پولنگ نہیں ہو گی۔
الیکشن کمیشن کے مطابق اس وقت تک پنجاب کی سات جنرل نشستوں پر بھی بلا مقابلہ امیدوار کامیاب قرار پائے ہیں۔
دو اپریل کو ہونے والے ایوان بالا کے انتخاب میں 18 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب کے بعد 30 نشستوں کے لیے تاحال 59 امیدوار میدان میں ہیں۔
پنجاب سے نو، سندھ سے 20، اسلام آباد سے چار اور خیبرپختونخوا سے26 امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔
یہ بھی یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا میں سینیٹ کے انتخابات کے حوالے گزشتہ روز فیصلہ جاری کیا تھا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ اگر صوبائی اسمبلی میں پشاور ہائی کورٹ کے احکامات کے مطابق خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں پر امیدواروں سے حلف نہیں لیا گیا تو وہ صوبے میں سینیٹ کے انتخابات ملتوی کرنے پر مجبور ہوں گے۔