آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پٹرول کی قیمت میں 9 روپے فی لیٹر سے زیادہ اضافہ

پاکستان بھر کے 300 سے زائد وکلا نے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سپریم کورٹ کو لکھے گئے ایک خط میں زور دیا کہ وہ آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت خفیہ اداروں کی طرف سے عدلیہ میں مداخلت کے الزامات کا نوٹس لے۔ ادھر وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں نو روپے سے زیادہ اضافے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے جس کے مطابق فی لیٹر پٹرول کی نئی قیمت 289 روپے 41 پیسے ہو گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, اسلام آباد ہائی کورٹ کا عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ہفتے میں ایک دن ملاقات کروانا کا حکم, شہزاد ملک، بی بی سی نامہ نگار

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے عید کے موقع پر اور ہفتے میں ایک دن بشریٰ بی بی کی عمران خان سے ملاقات کرانے کا حکم دیا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے بشریٰ بی بی کی بنی گالا سب جیل سے اڈیالہ جیل منتقلی اور بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواستوں پر سماعت کی۔

    اس دوران اسٹیٹ کونسل عبد الرحمان اور اسلام آباد انتظامیہ کی ڈائریکٹر لاء عدالت میں پیش ہوئیں، اسٹیٹ کونسل نے کہا کہ عدالت کےحکم پر ڈائریکٹر لاء نے بنی گالا سب جیل کا دورہ کرکے رپورٹ پیش کر دی ہے۔

    عدالت نے اسٹیٹ کونسل کو رپورٹ کی کاپی درخواست گزار کو فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بنی گالا سب جیل کا دورہ کرنے والی افسر سہولیات سے مطمئن ہوئی ہیں۔

    عدالت نے بشریٰ بی بی کو اڈیالہ جیل منتقل نہ کرنے اور بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کرانے پر اڈیالہ جیل اور چیف کمشنر کی رپورٹ پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ سب سیاست ہے۔

    جسٹس میاں گل حسن نے کہا کہ 31 جنوری کو سزا کے بعد 141 خواتین جیل میں داخل ہوئیں، آپ کہتے تھے جیل ’اوور کرواڈڈ‘ ہے، آپ کا مطلب ہے کہ بس سیاست ہو، ایک طرف کہا جارہا ہےجگہ کماور قیدی زیادہ ہیں، دوسری جانب 141 خواتین داخل ہوگئیں، جب نئی خواتین جیل میں داخل ہوگئیں تو پھر منتقلی نہ کرنے کا جواز تو ختم ہوگیا۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ آپ لوگ عدالت کو مطمئن نہیں کر سکے، آپ بلائیں ناں اپنے چیف کمشنر اور ایڈوکیٹ جنرل کو ، آپ لوگ تُلے ہوئے ہیں کہ رولا آف لاء کا انڈیکس صفر پر آجائے۔

    عدالت نے مزید کہا کہ آپ یہاں کیوں کھڑے ہیں پنجاب والوں کو بلاتے ہیں، آپ ذرا اپنےسپرنٹنڈنٹ کو توہین عدالت کی کارروائی سےبچانےکی کوشش توکریں، آپ کایہ مؤقف بینچ نمبر سات نے مستردکر دیا تھا، وہاں پنجاب کا سینئر لاء افسر پیش ہوا۔

    عدالت نے کہا کہ تاریخ پر ملزمان کا ملنا، ملنا نہیں ہوتا، وہ توسماعت ہورہی ہوتی ہے، ملاقات کا مطلب علیحدگی میں باقاعدہ ملاقات ہوتا ہے، آپ نے کیس کی سماعت کے دوران ملاقات کا کہہ کر جان چھڑا لی۔

    عدالت نے آئندہ سماعت پر اس حوالے سے بھی دلائل طلب کیے کہ حکومت کسی کی نجی پراپرٹی کوسب جیل کیسے قراردے سکتی ہے۔

    عدالت نے ہفتے میں ایک دن بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرانے کے ساتھ ساتھ عید پر بھی بانی پی ٹی آئی اور اہلیہ کی ملاقات کرانے کا حکم دیا اور سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔

  2. قومی اسمبلی کا اجلاس آج طلب

    سپیکر نے آج شام چار بجے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا جس کا سات نکاتی ایجنڈا جاری کیا گیا ہے۔ اس میں سٹیل درآمدات کی سمگلنگ، انڈر انوائسنگ، مس ڈیکلریشن کے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس شامل ہیں۔

    اس کے تحت وزیر خزانہ محمد اورنگزیب این ایف سی ایوارڈ پر عملدرآمد کی جولائی تا دسمبر 2021 کی رپورٹ پیش کریں گے اور اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کے خلاف شکایات کا ازالہ نہ ہونے پر توجہ دلاؤ نوٹس بھی ایجنڈے کا حصہ ہے۔

  3. منور سہروردی: بینظیر بھٹو کے ساتھ سائے کی طرح رہنے والے محافظ کو کس نے قتل کروایا؟

  4. بریکنگ, عدالتی امور میں ’مداخلت‘ کے خلاف 300 سے زیادہ وکلا کا سپریم کورٹ سے ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ

    پاکستان بھر کے 300 سے زائد وکلا نے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سپریم کورٹ کو لکھے گئے ایک خط میں زور دیا کہ وہ آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت خفیہ اداروں کی طرف سے عدلیہ میں مداخلت کے الزامات کا نوٹس لے۔

    اتوار کو پاکستان بھر سے 300 سے زائد وکلا کی جانب سے لکھے گئے خط میں مزید کہا گیا ہے کہ وہ ہائیکورٹ ججوں کے خط کے معاملے پر مناسب کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ عوامی مفاد اور بنیادی حقوق کے نفاذ کا معاملہ ہے لہذا سپریم کورٹ آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت اس معاملے کا نوٹس لے۔

    وکلا کی جانب سے لکھے گئے خط میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ تمام دستیاب ججوں پر مشتمل بینچ تشکیل دے کر اس معاملے کی سماعت کرے اور مفاد عامہ ککے اس معاملے کی عدالتی کارروائی کو عوام کے لیے براہ راست نشر کیا جائے۔

    خط میں مزید کہا گیا ہے کہ جب ججز کو منظم طریقے سے تھریٹ کیا جاتا ہے تو پورے نظام عدل پر اثر پڑتا ہے، اگر جج بغیر کسی خوف کے انصاف فراہمی میں آزاد نہیں تو پھر وکلا سمیت پورا قانونی نظام اہمیت نہیں رکھتا۔

    خط میں لکھا گیا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب ایسے الزامات لگائے گئے بلکہ اس سے قبل شوکت صدیقی نے بھی ایسے الزامات لگائے تھے۔ فوری اور شفاف انکوائری میں ناکامی سے عدلیہ کی آزادی پر عوام کے اعتماد کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان بار کونسل اور تمام بار ایسوسی ایشنز عدلیہ کی آزادی کو مستحکم کرنے کے لیے اجتماعی لائحہ عمل طے کرکے فوری وکلا کنونشن بلائیں۔

    وکلا کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ اس معاملے کو شفاف طریقے سے نمٹا کر عدلیہ کی آزادی پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے، شفافیت یقینی بنانے کے لیے اس معاملے کو سیاست زدہ نہ کیا جائے اس لیے سپریم کورٹ گائیڈ لائنز مرتب کرے اور تمام ہائیکورٹس کے ساتھ مل کر شفاف ادارہ جاتی میکانزم قائم کرے تاکہ آئندہ عدلیہ کی آزادی کو مجروح کرنے کی کسی بھی کوشش کی اطلاع دی جا سکے۔

    خط میں مزید کہا گیا ہے کہ مؤثر اور شفاف طریقے سے اس معاملے کو نمٹایا جائے تاکہ مستقبل میں عدلیہ کی آزادی پر حرف نا آئے

    یاد رہے کہ 26 مارچ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کے اراکین کو ایک چونکا دینے والا خط لکھا تھا جس میں ان کے رشتہ داروں کے اغوا اور تشدد کے ساتھ ساتھ ان کے گھروں میں خفیہ نگرانی کے ذریعے ججوں پر دباؤ ڈالنے کی کوششوں کے بارے میں کہا گیا تھا۔

    خط پر ججز محسن اختر کیانی، طارق محمود جہانگیری، بابر ستار، سردار اعجاز اسحاق خان، ارباب محمد طاہر اور سمن رفعت امتیاز کے دستخط تھے۔

    اس کے ایک دن بعد، مختلف حلقوں سے تحقیقات کے مطالبے سامنے آئے تھے اور اس پر چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ کے ججوں کا فل کورٹ اجلاس طلب کیا تھا۔

    واضح رہے کہ جمعرات کو وزیر اعظم شہباز شریف نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے ملاقات کی تھی جہاں دونوں نے کابینہ کی منظوری کے بعد عدالتی امور میں مداخلت کے خدشات کی تحقیقات کے لیے کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا۔

    سنیچر کو وفاقی کابینہ نے سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں انکوائری کمیشن کے قیام کی منظوری دی جو الزامات کی تحقیقات کرے گا اور فیصلہ کرے گا کہ آیا یہ الزامات درست ہیں یا نہیں۔

  5. حکومت و سیاسی جماعتیں سینیٹ انتخابات میں آزاد امیدواروں کی حمایت کیوں کر رہی ہیں؟

  6. پٹرول کی قیمت میں اضافہ، اطلاق آج رات سے

    حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 09 روپے 66 پیسے اضافہ کر دیا ہے۔ تاہم ڈیزل کی قیمت میں کمی کی گئی۔

    وزارت خزانہ نے پٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

    فی لیٹر پٹرول کی نئی قیمت 289 روپے 41 پیسے ہے۔

    دوسری جانب ڈیزل کی قیمت میں تین اعشاریہ 32 پیسے کمی کی گئی ہے اور اس کی نئی قیمت فی لیٹر 282 روپے 24 پیسے ہے۔

  7. بریکنگ, گوادر میں نامعلوم مسلح افراد کا حملہ، دو سکیورٹی اہلکار ہلاک اور دو زخمی

    بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں کم از کم دو سکیورٹی اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔

    محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے ایک سینیئر اہلکار نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ حملہ آنکڑہ ڈیم کے علاقے میں کیا گیا۔

    انھوں نے بتایا کہ حملے کا نشانہ بننے والے اہلکاروں کا تعلق سکیورٹی فورسز کی بم ڈسپوزل ٹیم سے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حملہ آنکڑہ ڈیم کے نزدیک کیا گیا جس میں فورسز کے دو اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔ انھوں نے بتایا کہ زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے گوادر شہر منتقل کیا گیا۔ ضلع گوادر میں دو ہفتوں کے دوران یہ دوسرا حملہ ہے۔

    اس سے قبل گوادر شہر میں گوادر پورٹ اتھارٹی کمپلیکس پر حملہ کیا گیا تھا جس میں سرکاری حکام کے مطابق دو سکیورٹی اہلکار مارے گئے تھے جبکہ آٹھ حملہ آور بھی ہلاک ہوئے تھے۔

    ایران سے متصل ضلع گوادر انتظامی لحاظ سے بلوچستان کے مکراں ڈویژن کا حصہ ہے۔ گوادر کی طرح مکران ڈویژن کے دو دیگر اضلاع کیچ اور پنجگور میں بھی بدامنی کے اس نوعیت کے واقعات کمی و بیشی کے ساتھ طویل عرصے سے پیش آرہے ہیں۔

    تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کی بہتری کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کی وجہ سے اب وہاں صورتحال میں پہلے کے مقابلے میں بہتری آئی ہے۔

  8. وزیر اعظم شہباز شریف نے تمام وزارتوں کے طویل اور قلیل مدتی اہداف مقرر کیے ہیں: عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ معاشی مسائل کے حل کے لیے وزیراعظم شہباز شریف نے تمام وزارتوں کو طویل اور قلیل مدتی اہداف دیے ہیں۔

    لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران عطا تارڑ نے کہا کہ ’وزیر اعظم شہباز شریف نے چند دن پہلے تحریری طور پر تمام وزارتوں کو اہداف کا دستاویز ارسال کر دیا تھا۔ اس میں قلیل مدتی اور طویل مدتی دونوں اہداف شامل ہیں۔ وزارتوں سے کارکردگی کے حوالے سے باقاعدہ جواب لیا جائے گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ان اہداف میں مہنگائی میں کمی، برآمدات میں اضافہ، سرمایہ کاری وغیرہ شامل ہیں۔ ’اخراجات کم ہوں، تیل کی کھپت میں کمی لائی جائے، روپیہ مستحکم ہو، یہ سب آپس میں منسلک ہیں۔ طویل مدت میں ریلیف بڑھے گا۔‘

    انھوں نے سابق وزیر اعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’معاشی مسائل اتنے نہیں تھے جو چار سال میں آئے۔‘

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ’مہنگائی میں تین فیصد کمی جون تک ہوجائے گی۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ وزارت خزانہ کو یہ ہدف دیا گیا ہے کہ مہنگائی اور بیروز گاری میں کمی کرنی ہے جبکہ آئی ایم ایف کے معاملات کو مکمل کرنا ہے اور قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ کرنی ہے۔

    عطا تارڑ نے کہا کہ حکومتی اخراجات میں کمی کے لیے جلد ایک رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کی جائے گی۔

    ایکس کی بندش سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’میری کوشش ہے تمام پلیٹ فارمز ایکس، فیس بک، ٹک ٹاک، انسٹاگرام کے دفاتر پاکستان میں کھولے جائیں۔ اس سے روابط آسان ہوتے ہیں، نوکریاں پیدا ہوتی ہیں۔ اِن مسائل کا حل موجود ہے، تمام مسائل حل ہوں گے۔‘

  9. ’ہم فضا کی بلندی سے سمندر میں جا گرے‘: پاکستان میں ایڈونچر سپورٹس کتنے محفوظ ہیں؟

  10. پاکستانی عدلیہ کا نائن الیون: وسعت اللہ خان کا کالم

  11. چیف جسٹس کے عہدے کی معیاد مقرر کرنے کی کوئی تجویز زیرِ غور نہیں: عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے حکومت کی طرف سے چیف جسٹس کے عہدے کی مدت کا تعین کرنے سے متعلق خبروں کی تردید کی ہے اور انھیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔

    جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ حکومت کے پاس فی الحال ایسی کوئی تجویز زیر غور نہیں، نہ ایسی کوئی دستاویز دیکھنے میں آئی اور نہ ایسی کوئی بات ہوئی ہے۔

    عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ بعض ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر بے بنیاد مہم چلائی جا رہی ہے۔ ’کسی بھی سطح پر چیف جسٹس کے عہدے کی میعاد پر بات نہیں ہوئی۔ یہ خبر غلط ہے، حکومت ایسا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔‘

    موجودہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 25 اکتوبر 2025 کو ریٹائر ہوجائیں گے۔ آئین میں سپریم کورٹ کے جج کے لیے عمر کی حد 65 سال ہے۔

  12. ججز کے الزامات کی تحقیقات کے لیے قائم انکوائری کمیشن کے سربراہ تصدق حسین جیلانی کون ہیں؟

  13. پی آئی اے کی اہلکار کی گرفتاری اور پھر معطلی: ’کینیڈا سے ممنوعہ اشیا کی فہرست کا انتظار ہے‘

  14. خیبرپختونخوا میں بارشوں کے باعث مختلف حادثات میں سات افراد ہلاک, محمد زبیر خان، صحافی

    پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں حالیہ بارشوں کے باعث مختلف حادثات میں سات افراد ہلاک اور نو زخمی ہو گئے ہیں۔

    ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122 کے مطابق مختلف حادثات میں ہلاک ہونے والے چار افراد کی عمریں 10 سال سے کم ہیں۔

    چھتیں گرنے کے واقعات پشاور، نوشہرہ، شانگلہ، بنوں اور باجوڑ میں پیش آئے۔ اس کے علاوہ مختلف اضلاع میں کچی چھتیں اور دیواریں گرنے سے جزوی نقصانات بھی ہوئے۔

    ریسکیو 1122 کی میڈیکل اور ڈیزاسٹر ٹیموں نے ریسکیو آپریشنز میں حصہ لیا۔

    ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122 کے مطابق ریسکیو کے خیبر پختونخوا کے تمام کنٹرول روم مکمل فعال ہیں اور ٹال فری نمبر 1122 پر کال کرکے خدمات حاصل کی جاسکتی ہیں۔

  15. کوہستان میں شدید بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ سے شاہراہ قراقرم کم از کم دو مقامات پر ٹریفک کے لیے بند, محمد زبیر خان، صحافی

    کوہستان میں شدید بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ سے شاہراہ قراقرم کم از کم دو مقامات پر ٹریفک کے لیے گزشتہ پانچ گھنٹوں سے بند ہے۔

    ریسیکو 1122 کے مطابق اپر کوہستان میں برسین کے مقام پر بارشوں کے بعد لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے، جس کی وجہ سے سڑک پر وزنی پتھر بھی گرے ہیں، جس سے روڈ ٹریفک کے لیے بند ہو گیا۔

    ریسیکو 1122 کے مطابق لوہر کوہستان میں دیجال کے قریب ’شیطان پیڑی‘ کے نام سے مشہور علاقہ بھی لیبنڈ سلائیڈنگ کے باعث بند ہے۔

    ریسکیو اہلکاروں کے مطابق اس علاقے میں اکثر لینڈ سلائیڈنگ ہوتی رہتی ہے۔

    لینڈ سلائیڈنگ کے سبب سے سڑک کے دونوں طرف گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ چکی ہیں جبکہ کوہستان اور گلگت بلتستان آنے اور جانے والی ٹریفک کو دیامیر، بشام اور مانسہرہ کے مقام پر روکا جارہا ہے، جس وجہ سے اب مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

    کوہستان انتظامیہ کے مطابق روڈ کی بحالی کے اقدامات کیے جارہے ہیں۔اس وقت جو لوگ گلگت بلتستان، کوہستان وغیرہ کی طرف سفر کرنا چاہتے ہیں وہ فی الحال اپنا سفر شروع نہ کریں جب تک روڈ پر موجود پہلی لینڈ سلائیڈنگ کو صاف نہیں کر دیا جاتا ہے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ ماہ بھی شدید بارشوں کے باعث کوہستان ہی کے مقام سے شاہراہ قراقرم متعدد مقامات پر ٹریفک کے لیے بند ہوگئی تھی، جسے کئی گھنٹوں کے بعد بحال کیا جاسکا تھا۔

  16. بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں دھماکا، ایک شخص ہلاک اور 14 زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    پاکستان کے صوبے بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور 14زخمی ہوئے ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر ہرنائی جاوید ڈومکی نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی اردو کو بتایا کہ یہ واقعہ ضلع ہرنائی اور ضلع دکی کے درمیانی علاقے میں پیش آیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد ماڑی پور گیس کمپنی کے ملازمین تھے۔

    انھوں نے بتایا کہ دھماکے کا نشانہ بننے والے افراد ایک گاڑی میں سروے کے لیے جارہے تھے جہاں ان کی گاڑی نامعلوم افراد کی جانب سے بچھائی جانے والی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی۔

    ہرنائی بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے اندازاً 180 کلومیٹر کے فاصلے پر مشرق میں واقع ہے۔

    اس ضلع کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ شورش سے متاثر ہیں۔

    ماضی میں اس علاقے میں ایسے واقعات کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی قبول کرتی رہی ہے۔

    دریں اثنا وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے ہرنائی پیش آنے والے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم اور بے گناہوں کا خون بہانے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔

  17. جسٹس تصدق حسین جیلانی ہائی کورٹ ججز کے الزامات کی تحقیقات کے لیے کمیشن کے سربراہ مقرر

    پاکستان کی وفاقی کابینہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے آئی ایس آئی اور دیگر خفیہ اداروں کی عدالتی امور میں مداخلت کے الزامات کی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کرنے کی منظوری دے دی ہے اور سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کو اس کا سربراہ مقرر کر دیا ہے۔

    سنیچر کو اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں ہوا، جس میں وفاقی کابینہ کی جانب سے انکوائری کمیشن کے قیام اور چیف جسٹس (ر) تصدق حسین جیلانی کو اس کا سربراہ مقرر کرنے کی منظوری دی گئی۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز نے 25 مارچ کو سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے ایک خط میں عدالتی امور میں آئی ایس آئی اور دیگر انٹیلیجنس اداروں کی طرف سے براہ راست مداخلت اور ججوں کو ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے تھے۔

    وفاقی کابینہ کی جانب سے انکوائری کمیشن کی ’ٹی او آرز‘ کی بھی منظوری دی ہے۔ ’ٹی او آرز‘ کے مطابق مطابق انکوائری کمیشن معزز جج صاحبان کے خط میں عائد کردہ الزامات کی مکمل چھان بین کرے گا اور تعین کرے گا کہ یہ الزامات درست ہیں یا نہیں۔

    وفاقی کابینہ کی جانب سے انکوائری کمیشن کی ’ٹی او آرز‘ کی بھی منظوری دی ہے۔ ’ٹی او آرز‘ کے مطابق مطابق انکوائری کمیشن معزز جج صاحبان کے خط میں عائد کردہ الزامات کی مکمل چھان بین کرے گا اور تعین کرے گا کہ یہ الزامات درست ہیں یا نہیں۔

    اس خط کے منظر عام پر آنے کے بعد پاکستان کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا فل کورٹ اجلاس بھی منعقد ہوا۔

  18. گوجرانوالہ میں نو مئی کے حملوں میں ملوث 51 ملزمان کو پانچ، پانچ سال قید کی سزا, احتشام شامی/ گوجرانوالہ، صحافی

    صوبہ پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے گذشتہ سال نو مئی کو راہوالی کینٹ چیک پوسٹ پر حملے کے مقدمے میں مختصر فیصلہ سنایا ہے۔ اس کے مطابق رکن پنجاب اسمبلی کلیم اللہ خان سمیت 51 ملزمان کو پانچ، پانچ سال قید کی سزا دی گئی ہے۔

    خیال رہے کہ یہ مقدمہ 9 مئی کو راہوالی کینٹ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد درج ہوا تھا۔ کیس کا تفصیلی فیصلہ ابھی جاری نہیں کیا گیا۔

    یہ فیصلہ عدالت کی جج مسز نتاشہ نسیم نےسنیچر کو مقدمے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد سنایا۔ ملزمان کا سینٹرل جیل گوجرانوالہ میں ٹرائل کیا گیا تھا اور فیصلہ بھی جیل کے کورٹ روم میں سنایا گیا۔

    اس موقع پر جیل کے اندر اور باہر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

    پی ٹی آئی کی قیادت و کارکنوں کی جانب سے نو مئی کو آرمی چیک پوسٹ راہوالی کینٹ اور پاکستانی فوج و پولیس اہلکاروں پر حملوں کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

    تھانہ کینٹ میں 10 مئی 2023 کو درج ہونے والے مقدمے میں ناجائز اسلحہ، قتل و دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئیں۔ مقدمے کے مدعی ایس ایچ او مدثر رفیق بٹ ہیں۔

    مقدمے میں پنجاب اسمبلی کے رکن کلیم اللہ خان، پی ٹی آئی کے مقامی راہنمائوں جمال ناصر چیمہ، رضوان ظفر چیمہ، رضوان مصطفیٰ سیان، سابق ایم پی اے شبیر مہر سمیت 23 نامزد اور 400 نامعلوم افراد ملزم تھے جبکہ بعض ملزمان کو بعد ازاں شناخت ہونے پر مقدمے کی ضمنیوں میں نامزد کیا گیا۔

    خیال رہے کہ 9 مئی حملوں میں راہوالی چیک پوسٹ کے قریب راشد مقبول نامی نوجوان جاں بحق ہوا تھا جوکہ پولیس رضاکار بتایا گیا۔

    ایف آئی آر کے مطابق سرکاری گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کی گئی، ایس ایس پی انویسٹیگیشن ، ڈی ایس پی اور ایس ایچ او سمیت آٹھ افسران و اہلکاران زخمی ہوئے مقدمے میں پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کو بھی ملزم نامزد کیا گیا تھا۔

  19. چین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ بشام جیسا واقعہ دوبارہ نہیں ہوگا: شہباز شریف

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بشام میں چینی انجینیئرز پر حملے میں ملوث عناصر پاکستان اور چین کے درمیان دوستی کو آگے بڑھتا نہیں دیکھنا چاہتے۔

    کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 26 مارچ کو بشام میں اندوہناک واقعہ ہوا۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کے پیچھے وہ عناصر ہیں جو ’نہیں چاہتے کہ پاک-چین دوستی آگے بڑھے، ہم نے چینی حکام اور عوام کو یقین دہانی کروائی کہ اس اندوہناک واقعے کی تحقیقات کی جائیں گی اور ملوث ملزمان کو قرار واقعی سزا ملے گی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ پوری کوشش کہ جائے گی کے دوبارہ ایسا واقعہ نہ ہو اور دہشتگردی کے خاتمے تک ’ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔‘

    شہباز شریف نے کہا کہ ’ہمیں بتدریج اپنے قرضوں کو نیچے لے کر آنا ہے اور خودانحصاری کی طرف جانا ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام سے ہمیں استحکام ضرور ملے گا کہ لیکن ہر شعبے میں ترقی اور روزگار کے مواقع ہمیں خود پیدا کرنے ہیں۔‘

  20. کاکول میں پاکستانی کرکٹرز کا فٹنس کیمپ جہاں ’کرکٹ نہیں کھیلی جاتی بلکہ فوجی ٹرینرز کے ساتھ مشقیں ہوتی ہیں‘