آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے پاکستان کے ساتھ کھڑے رہیں گے: امریکی صدر کا پاکستانی وزیرِ اعظم کو خط، نومنتخب حکومت کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار

وزیرِ اعظم شہباز شریف کو خط میں امریکی صدر نے لکھا ہے کہ دنیا اور خطے کو درپیش چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے امریکہ، پاکستان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ دوسری جانب پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے چین سے آنے والی ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم سے ملاقات کی ہے اور انھیں رواں ہفتے خیبرپختونخوا کے علاقے بشام میں ہونے والے خودکش کار حملے پر بریفنگ دی ہے۔

لائیو کوریج

  1. عدالتی امور میں خفیہ اداروں کی مبینہ مداخلت: حکومت کا ایک رُکنی تحقیقاتی کمیشن بنانے کا فیصلہ

    پاکستان کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ان کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی جانب سے عدالتی امور میں مداخلت کی شکایات کی تحقیقات کے لیے ایک رُکنی کمیشن بنائے گی۔

    جمعرات کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ملاقات کے بعد وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ اور اٹارنی جنرل منصور اعوان نے ایک پریس کانفرنس کی۔

    اس ملاقات میں سپریم کورٹ کے کے سینیئر جج جسٹس منصور علی شاہ بھی شریک تھے۔

    وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ یہ ملاقات چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی خواہش پر ہوئی تھی۔

    انھوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ملاقات میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے جانب سے کی گئی شکایات پر چھان بین کرنے کی یقین دہانی کراوئی ہے اور یہ طے پایا ہے کہ تحقیقات کے لیے سابق عدالتی شخصیت پر مشتمل ایک رُکنی کمیشن بنایا جائے گا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ملک میں قانون موجود ہے اور آئین کے مطابق اور اس طرح کے معاملات پر تحقیقات حکومت کرواتی ہے۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز نے 25 مارچ کو سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے اپنے خط میں عدالتی امور میں آئی ایس آئی اور دیگر انٹیلیجنس اداروں کی طرف سے براہ راست مداخلت اور ججوں کو ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے تھے۔

    وزیرِ قانون کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کل یہ معاملہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں رکھیں گے اور ان کے خیال میں دو یا چار دنوں میں اس کمیشن کے حوالے سے ایک نوٹیفکیشن بھی جاری ہوجائے گا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ کمیشن کے لیے ریٹائرد چیف جسٹسز اور ریٹائرڈ ججو کے نام بھی زیرِ غور آئیں گے۔

    وزیرِ قانون کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے چیف جسٹس کو یقین دہانی کروائی ہے کہ ان کی حکومت عدلیہ کی آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

  2. وزیراعظم شہباز شریف اور چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے درمیان ملاقات شروع, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    وزیراعظم شہباز شریف اور چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے درمیان ملاقات سپریم کورٹ آف پاکستان میں شروع ہو گئی ہے۔

    اس ملاقات میں وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ بھی موجود ہیں۔ گزشتہ روز وزیر قانون نے اس حوالے سے میڈیا کے کچھ نمائندوں سے بات چیت میں بتایا تھا کہ اس ملاقات میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی طرف سے لکھے گئے خط کا معاملہ زیر بحث آنے کا امکان ہے۔

    یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز نے خفیہ اداروں کے عدلیہ پر ’دباؤ‘ سے متعلق خط میں سپریم جوڈیشل کونسل سے مطالبہ کیا تھا کہ آئی ایس آئی کے نمائندوں کی عدالتی امور میں مسلسل مداخلت پر جوڈیشل کنونشن بلایا جائے۔

    اس خط میں کہا گیا تھا کہ کہ جوڈیشل کنونشن سے پتہ چلے گا کہ کیا ملک کی دیگر ہائیکورٹ کے ججز کو بھی اس صورتحال کا سامنا ہے۔

    اس خط میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ ججز کے کوڈ آف کنڈکٹ میں رہنمائی نہیں کی گئی کہ ایسی صورتحال میں ججز کیسے رد عمل دیں؟ اور اس کے علاوہ یہ بھی واضح نہیں کہ ججز اس طرح کی مداخلت کو کیسے ثابت کریں؟

  3. بریکنگ, عید تک نو مئی کے 103 ملزمان میں سے 20 کو رہا کر دیا جائے گا: اٹارنی جنرل

    فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلیوں پر سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں چھ رکنی لارجر بنیچ کر رہا ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس عرفان سعادت خان بھی بنچ کا حصہ ہیں۔

    اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ نو مئی کے 103 ملزمان میں سے 20 کو رہا کر دیا جائے گا۔

    انھوں نے بتایا کہ مجوزہ طریقہ کار کے بعد ان 20 افراد کو رہا کیا جائے گا۔

    اٹارنی جنرل کے مطابق یہ 103 ملزمان میں سے 20 ملزمان ایسے ہیں جو کم سزا کی کیٹیگری میں آتے ہیں۔

    انھوں نے عدالت کو بتایا کہ آرمی چیف سے حتمی منظوری سمیت تین مراحل مکمل کرنے کے بعد ملزمان کو رہا کیا جائے گا۔

    بیرسٹر اعتزاز احسن نے عدالت کو بتایا کہ فوجی عدالت جو ٹرائل چلا رہی اس میں تو آرمی چیف ہوتے ہی نہیں۔انھوں نے کہا کہ جب آرمی چیف نے کیس سنا ہی نہیں تو حتمی منظوری کیسے دے سکتے ہیں۔

    اعتزاز احسن نے کہا کہ آرمی چیف کا ملزمان کی رہائی کا فیصلہ کرنا غیر آئینی ہے۔

    اٹارنی جنرل نے بتایا کہ آرمی ایکٹ کے مطابق آرمی چیف سے حتمی منظوری لینا لازمی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پہلا مرحلہ محفوظ شدہ فیصلہ سنایا جانا، دوسرا اس کی توثیق ہو گی۔

    ان کے مطابق تیسرا مرحلہ کم سزا والوں کو آرمی چیف کی جانب سے رعایت دینا ہو گا۔

    سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کو 20 ملزمان رہا کرنے کی اجازت دے دی۔

    تاہم جسٹس امین الدین نے کہا کہ ’چند ملزمان کی رہائی کی اجازت دی تو بھی اپیلوں کے حتمی فیصلے سے مشروط ہوگی۔‘

    جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ جنھیں رہا کرنا ہے ان کے نام بتا دیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب تک خصوصی عدالتوں سے فیصلے نہیں آجاتے نام نہیں بتا سکتا۔ انھوں نے مزید بتایا کہ جن کی سزا ایک سال ہے انھیں رعایت دے دی جائے گی۔

    جسٹس عرفان سعادت خان نے کہا کہ پھر رہائی کا فیصلہ عید سے پہلے ہونا چاہیے تا کہ اپنوں کے ساتھ عید گزاریں۔

    سپریم کورٹ نے آئندہ سماعت پر رہائی پانے والے اور کم سزا والے ملزمان کی رپورٹ طلب کر لی۔

    سپریم کورٹ نے کہا کہ بتایا جائے کہ کتنے ملزمان کی سزا تین سال سے کم بنتی ہے۔

    عدالت نے واضح کیا کہ فوجی عدالتوں میں ملزمان کو حتمی سزائیں سنانے پر حکم امتناع برقرار رہے گا۔

    اس مقدمے کی سماعت اپریل کے آخری ہفتے تک ملتوی کردی گئی۔

    اوکیل ملزمان فیصل صدیقی نے کہا کہ ’اگر یہ ملزمان عام عدالتوں میں ہوتے تو اب تک باہر آچکے ہوتے۔‘

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ’کیا آپ مقدمات انسداد دہشتگردی کی عدالتوں میں چلوانا چاہتے ہیں، جہاں انسداد دہشتگردی میں تو 14 سال سے کم سزا ہے ہی نہیں۔‘

    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ’انسداد دہشتگردی کی عدالت ہوتی تو اب تک ملزمان کی ضمانتیں ہو چکی ہوتیں۔‘

    وکیل نے مزید کہا کہ ’ان مقدمات میں تو کوئی شواہد ہے ہی نہیں۔‘

    جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ ایف آئی آر میں کیا دفعات لگائی گئی ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایف آئی آر میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور انسداد دہشتگردی کی دفعات لگائی گئی ہیں۔

    جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ پھر ہم ان ملزمان کو ضمانتیں کیوں نہ دے دیں اور ہم ان ملزمان کی سزائیں کیوں نہ معطل کردیں۔‘

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’سزا معطل کرنے کیلئے پہلے سزا سنانا ہوگی۔‘ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ضمانت تب دی جا سکتی ہے جب عدالت کہے کہ قانون لاگو نہیں ہو سکتا۔

    سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوا حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل واپس لینے کی استدعا منظور کرلی۔

    خیبرپختونخوا حکومت نے سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے خلاف اپیل واپس لینے کی استدعا کی تھی۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ کوشش کریں عید سے تین چار دن پہلے 20 افراد کو چھوڑ دیں۔ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ’جی ٹھیک ہے ہم کوشش کریں گے۔‘

    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ’ایسا نہ ہو کہ یہ باہر نکلیں اور تھری ایم پی او کے تحت دوبارہ گرفتار کرلیں۔‘

    سپریم کورٹ نے کہا کہ ’صرف ان کیسز کے فیصلے سنائے جائیں جن میں نامزد افراد عید سے پہلے رہا ہوسکتے ہیں۔‘

    اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی کہ کم سزا والوں کو قانونی رعایتیں دی جائیں گی۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کوعملدرآمد رپورٹ رجسٹرار کے پاس جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔

  4. پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس کاروبار کے دوران ریکارڈ 67200 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کے روز تیزی کا رحجان جاری ہے اور انڈیکس میں اب تک 650 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد یہ کاروبار کے دوران 67200 پوائنٹس کی سطح سے اوپر پہنچ گیا۔

    سٹاک ایکسچینج کے انڈیکس کی ملکی تاریخ میں یہ ریکارڈ سطح ہے۔ اس سے پہلے انڈیکس کی بلندترین سطح 67167 پوائنٹس تھی جب 13 دسمبر 2023 کو کاروبار کے دوران انڈیکس اس سطح پر پہنچا تھا۔

    تجزیہ کار تیزی کی وجہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو قرار دیتے ہیں۔

    تجزیہ کار محمد سہیل کے مطابق پاکستان میں نج کاری کے شعبے میں پیشرف اور آئی ایم ایف کے ساتھ ساتھ ہونے والے معاہدے کے بعد سے سرمایہ کاروں کی جانب سے مسلسل کئی دن سے سٹاک مارکیٹ میں خرید کا رجحان دیکھا جا رہا ہے اور جمعرات کے روز تیزی بھی اس کا تسلسل ہے۔

  5. اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججوں کا خط: عدلیہ پر اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ کے الزامات کی حقیقت کیا ہے؟

  6. پاکستان میں چینی شہریوں پر حملے: کیا یہ پاکستانی سکیورٹی اداروں کی ناکامی ہے؟

  7. 24 گھنٹوں کی اہم خبروں کا خلاصہ

    گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی اہم خبروں کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔

    • وزیراعظم شہباز شریف آج چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ سے سپریم کورٹ میں ملاقات کریں گے۔ وزیر قانون نے اس حوالے سے میڈیا کے کچھ نمائندوں سے بات چیت میں کہا ہے کہ اس ملاقات میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی طرف سے لکھے گئے خط کا معاملہ زیر بحث آنے کا امکان ہے۔
    • پاکستان بار کونسل نے اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے الزامات کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے تین سینیئر ججز پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
    • شام میں چینی انجینیئرز پر خود کش حملے کے واقعے پر وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں واقعے کی مشترکہ تحقیقات کی ہدایت کی ہے۔
    • پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز کے خط پر سپریم کورٹ لارجر بینچ تشکیل دے کر سماعت کرے، یہ ججز کے خط نہیں، چارج شیٹ ہے۔
    • اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کو وفاقی دارلحکومت میں چھ اپریل کو جلسے کی مشروط اجازت دے دی ہے
  8. وزیراعظم شہباز شریف اور چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی ملاقات میں ہائی کورٹ کے ججز کے لکھے گئے خط کا معاملہ زیر بحث آنے کا امکان

    وزیراعظم شہباز شریف جمعرات کے روز چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ سے سپریم کورٹ میں ملاقات کریں گے۔

    ملاقات کل دن دو بجے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور اٹارنی جنرل منصور عثمان کی موجودگی میں ہو گی۔

    وزیر قانون نے اس حوالے سے میڈیا کے کچھ نمائندوں کو آگاہ بھی کیا ہے اور امکان ہے کہ اس ملاقات میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی طرف سے لکھے گئے خط کا معاملہ زیر بحث آئے گا۔

  9. بریکنگ, اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے الزامات: پاکستان بار کونسل نے تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کر دیا

    پاکستان بار کونسل نے اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے الزامات کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کر دیا۔

    پاکستان بار کونسل نے اپنے اعلامیے میں کہا ہے سپریم کورٹ کے تین سینیئر ججز پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے۔

    اعلامیے کے مطابق ’اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے الزامات کی تحقیقات لازمی ہیں، عدلیہ کی آزادی پر سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا، سپریم جوڈیشل کونسل ایسے الزامات کی تحقیقات کا فورم نہیں، الزامات کی تحقیقات کیلئے چیف جسٹس پاکستان کو کمیٹی تشکیل دینی چاہیے۔‘

  10. کیا مولانا فضل الرحمان احتجاجی تحریک کے اعلان سے موجودہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں؟

  11. بریکنگ, سپریم کورٹ کا فل کورٹ اجلاس ختم

    سپریم کورٹ میں ججز کا فل کورٹ اجلاس ختم ہو گیا ہے۔ سپریم کورٹ کا یہ فل کورٹ اجلاس دو گھنٹے اور 12 منٹ تک جاری رہا۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججوں کی جانب سے عدالتی معاملات میں خفیہ اداروں کی مداخلت کے الزامات کے بعد پاکستان کے چیف جسٹس فائز عیسی نے عدالتِ عظمیٰ کا فل کورٹ اجلاس طلب کیا تھا۔

  12. بریکنگ, عدالتی امور میں خفیہ اداروں کی مداخلت کے الزامات، سپریم کورٹ کا فل کورٹ اجلاس جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججوں کی جانب سے عدالتی معاملات میں خفیہ اداروں کی مداخلت کے الزامات کے بعد پاکستان کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی جانب سے طلب کیا گیا عدالتِ عظمیٰ کا فل کورٹ اجلاس جاری ہے۔

    بدھ کی شام چار بجے طلب کیے جانے والے اجلاس میں سپریم کورٹ کے تمام جج شریک ہیں۔

    اس اجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں کے اس خط کا جائزہ لیا جائے گا جس میں سپریم جوڈیشل کونسل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے نمائندوں کی عدالتی امور میں مسلسل مداخلت پر جوڈیشل کنونشن بلایا جائے۔

    اس خط میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے ادارہ جاتی ردعمل کی ضرورت ہے اور عدالتی کنونشن سے پتا چلے گا کہ کیا ملک کی دیگر ہائیکورٹ کے ججوں کو بھی اس صورتحال کا سامنا ہے۔

    خط میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو انٹیلیجنس ادارے کی مداخلت کے بارے میں بات کرنے پر 11 اکتوبر 2018 کو عہدے سے برطرف کیے جانے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے 22 مارچ کے فیصلے میں جسٹس شوکت صدیقی کی برطرفی کو غلط قرار دیا تھا اور انھیں ریٹائرڈ جج قرار دیا تھا۔

    خط میں جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے عائد کردہ الزامات کی تحقیقات ہونی چاہئیں، ہائیکورٹ ججز کا خط میں جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی کے تحقیقات کرانے کے موقف کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا گیا۔

    خط میں کہا گیا کہ اگر عدلیہ کی آزادی میں مداخلت ہو رہی تھی تو عدلیہ کی آزادی کو ’انڈرمائن‘ کرنے والے کون تھے اور ان کی معاونت کس نے کی؟

    اس خط میں کہا گیا ہے کہ سب کو جوابدہ کیا جائے تاکہ یہ عمل دہرایا نہ جا سکے۔ اس کے علاوہ ججز کے کوڈ آف کنڈکٹ میں کوئی رہنمائی نہیں کہ ایسی صورتحال کو کیسے رپورٹ کریں۔

    خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس سلسلے میں تحقیقات کا دائرہ وسیع ہونا چاہیے کہ کہیں اب بھی تو اس طرح کی مداخلت جاری نہیں اور کہیں مقدمات کی سماعت کے لیے مارکنگ اور بینچز کی تشکیل میں اب بھی تو مداخلت جاری نہیں؟

    ججز کی طرف سے لکھے گئے خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تحقیقات ہونی چاہییں کہ کیا سیاسی مقدمات میں عدالتی کارروائی پر اثرانداز ہونا ریاستی پالیسی تو نہیں اور کہیں انٹیلیجنس آپریٹوز کے ذریعے ججز کو دھمکا کر اس پالیسی کا نفاذ تو نہیں کیا جا رہا ہے۔

    اس خط کے سامنے آنے کے بعد ملک بھر سے بار کونسلز نے بھی اس معاملے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جبکہ پاکستان تحریکِ انصاف نے اسے چارج شیٹ قرار دیا ہے۔

  13. بریکنگ, وزیر اعظم شہباز شریف کا بشام واقعے کی جامع مشترکہ تحقیقات کرنے کی ہدایت

    بشام میں چینی انجینیئرز پر خود کش حملے کے واقعے پر وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں واقعے کی مشترکہ تحقیقات کی ہدایت کی ہے۔

    بدھ کو وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزرا اور آرمی چیف سمیت سکیورٹی ایجنسیز کے سربراہان، آئی جیز اور دیگر متعلقہ حکام نے بھی شرکت کی۔

    اجلاس کے اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے بشام واقعے کی مشترکہ تحقیقات کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ مشترکہ تحقیقات کے لیے تمام ریاستی وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ اجلاس میں پاکستان میں کام کرنے والے چینی باشندوں کی سکیورٹی سے متعلق امور پر بھی غور کیا گیا۔

    اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس وحشیانہ فعل کے مرتکب افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    اجلاس میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر نے ملک سے دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لیے مسلح افواج کے عزم کا اعادہ کیا۔ آرمی چیف نے کہا کہ قوم نے پچھلی دو دہائیوں میں ثابت قدمی سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی ہے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ روز خیبرپختونخوا کے ضلع شانگلہ کے علاقے بشام میں خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی چینی انجینیئرز کی گاڑی سے ٹکرا دی جس کے نتیجے میں خاتون سمیت پانچ چینی باشندے اور گاڑی کا ڈرائیور ہلاک ہو گئے تھے۔

  14. بریکنگ, خیبرپختونخوا اسمبلی میں مخصوص نشستوں کا معاملہ: پشاور ہائیکورٹ کا سپیکر کو ارکان سے حلف لینے کا حکم

    پشاور ہائی کورٹ نے سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی کو مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والے پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور جے یو آئی ایف کے ارکان سے حلف لینے کی ہدایت کی ہے۔

    ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے یہ فیصلہ ان ارکان کی جانب سے دائر کی گئی درخواستوں پر سنایا۔

    مختصر تحریری فیصلے میں عدالت عالیہ نے کہا ہے کہ سپیکر مخصوص نشستوں پر منتخب ممبران سے حلف لیں اور انھیں رول آف ممبرزپر دستخط کی اجازت دی جائے۔

    جسٹس عتیق شاہ اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل بینچ نے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ ان ارکان کو دو اپریل کو ہونے والے سینیٹ انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے بھی سہولت فراہم کی جائے۔

  15. اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز کے خط کی اوپن کورٹ تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر, شہزاد ملک، بی بی سی اردو - اسلام آباد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز کے خط کی اوپن کورٹ تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی گئی ہے جس میں سپریم کورٹ سے بااختیار کمیشن تشکیل دے کر انکوائری کرانے کی استدعا کی گئی ہے۔

    میاں دائود ایڈووکیٹ نے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کا سپریم کورٹ کے ججز کو خط ایک طے شدہ منصوبہ لگتا ہے۔

    درخواست کے مطابق ’ایسا لگتا ہے کہ تحریک انصاف کے اشارے پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز نے خط لکھا ہے۔ آئی ایس آئی کی عدالتی کارروائی میں مداخلت کیخلاف ججز کے سپریم جوڈیشل کونسل سے رجوع کرنے نے سارا معاملہ مشکوک کر دیا ہے۔‘

    درخواست کے مطابق چھ ججز نے اپنے خط میں عمران خان کے صرف ایک مقدمے کی مثال پیش کی ہے تاہم ایک بھی مقدمے کا واضح حوالہ اور ثبوت نہیں دیا گیا۔ یہ خط عوام کے عدلیہ پر اعتماد کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔

    درخواست کے مطابق ججز کا خط ریلیز ہوتے ہی تحریک انصاف نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اور چیف جسٹس پاکستان کیخلاف مہم چلانا شروع کر دی۔ ان چھ ججز ایک برس کے دوران آئی ایس آئی کی مداخلت بارے خط و کتابت کسی کو لیک نہیں ہوئی لیکن یہ خط لیک ہوگیا۔ ان سارے حالات کی کڑیاں ملائیں تو لگتا ہے کہ ججز نے تحریک انصاف کا بیانیہ بنانے کیلئے کردار ادا کیا ہے۔

    درخواست کے مطابق ججز کے خط کے ایک ایک لفظ کی عدلیہ اور فوج کو کھلے ذہنوں کے ساتھ تحقیقات کرنی چاہیئں، ججز کو کھلے دل سے موقع دیا جائے کہ آئیں ثبوتوں کے ساتھ اپنے الزامات ثابت کریں۔ سپریم کورٹ ایک بااختیار کمیشن بنانے کر ججز کے الزامات کی اوپن کورٹ انکوائری کرے اور جو جج یا آئی ایس آئی افسر الزام ثابت نہ کر سکے، اسکے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کی جائے۔

  16. چھ ججز کی جانب سے لکھے گئے خط کے معاملے بار ایسوسی ایشنز نے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کر دیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے خط کے معاملے پر اسلام آباد بار ایسوسی ایشن اور سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے۔

    سندھ ہائی کورٹ بار کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ بار ایسوسی ایشن کے ہنگامی اجلاس میں ہائیکورٹ کے ججز کا چیف جسٹس آف پاکستان کو لکھے گئے خط کا جائزہ لیا گیا۔

    اعلامیہ کے مطابق سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کا عدالتی معاملات میں مداخلت پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ سندھ ہائیکورٹ بار نے ججز کے خط پر تحقیقات کا مطالبہ کردیا ہے اور کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے تین ججز پر مشتمل جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے۔

    دوسری جانب اس خط کے معاملے پر اسلام آباد بار کونسل، اسلام آباد ہائی کورٹ بار اور اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار نے بھی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے اور کہا ہے کہ اس معاملے کی شفاف انکوائری کروائی جائے اور جو لوگ اس معاملے میں ملوث ہیں انکے خلاف قانونی کاروائی کی جائے۔

  17. پی ٹی آئی کا ہائی کورٹ ججز کے خط کے معاملے پر سپریم کورٹ سے کارروائی کا مطالبہ، ’ یہ خط نہیں چارج شیٹ ہے‘

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز کے خط پر سپریم کورٹ لارجر بینچ تشکیل دے کر سماعت کرے، یہ ججز کے خط نہیں، چارج شیٹ ہے۔

    اسلام آباد میں رہنما پی ٹی آئی عمر ایوب کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب میں چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز نے خط میں مداخلت سے آگاہ کیا، ہائی کورٹ کے چھ ججز دباؤ سے متاثر ہوئے، ججز کو پریشر میں لانے کا ایک ہی مقصد تھا جو ججز نے خط میں لکھا۔ ‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ججز نے خط میں لکھا کہ سیاسی مقدمات میں مداخلت کی گئی، عمران خان کے خلاف جتنے کیسز کے فیصلے آئے وہ اس خط کے بعد ختم ہوگئی۔ یہ پی ڈی ایم حکومت کا کارنامہ تھا ان ہی حالات میں دو سو مقدمات بنائے گئے۔عمران خان کے خلاف جو ٹرائل ہوئے ہیں، وہ متاثر ہوئے ہیں، تمام فیصلے کالعدم ہیں عدلیہ عمران خان کے خلاف تمام فیصلے کالعدم قرار دیے جائیں، اور عمران خان کو فوری رہا کیا جائے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’وکلا تنظیمیں ہمییشہ ججز کے تحفظ اور عدلیہ کی آزادی کے لیے برسر پیکار رہتی تھیں، گذشتہ دو برس سے وکلا سیاست بھی متاثر نظر آئی۔ ‘

    انھوں نے زور دیا کہ ’اپنے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر عدلیہ کی آزادی کے لیے ایک ہو جائیں ہم عدلیہ کو یقین دلاتے ہیں کہ پوری قوم آپ کے پیچھے کھڑی ہو گی، تحریک انصاف کا ہر کارکن آپ کے پیچھے کھڑا ہوگا لارجر بینچ آج ہی تشکیل دیا جائے، اور اس خط پر سماعت کی جائے۔‘

    بیرسٹر گوہر نے مطالبہ کیا کہ جن ججز نے خط لکھا ہے ان کی اوران کے اہل خانہ کی حفاظت کی جائے۔

  18. اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کو چھ اپریل کو جلسے کی مشروط اجازت دے دی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو - اسلام آباد

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کو وفاقی دارالحکومت میں جلسے کے انعقاد سے متعلق درخواست کی سماعت میں انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے قواعد و ضوابط پر عمل درآمد کروا کے انھیں جلسے کی اجازت دے دیں۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت پی ٹی آئی کے وکیل رہنما شیر افضل مروت نے استدعا کی کہ تحریک انصاف اب چھ اپریل کو اسلام آباد میں جلسہ کرنا چاہتی ہے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس میں کہا ’آپ صرف یہ خیال رکھیں کہ کوئی ہنگامہ آرائی نا ہو۔‘

    یاد رہے کہ اس سے قبل ڈی سی اسلام آباد نے پی ٹی آئی کی جلسے کی اجازت سے متعلق درخواست مسترد کردی تھی جس پر تحریک انصاف نے معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نے دوران سماعت ضلعی انتظامیہ کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ نے جو شرائط عائد کرنی ہیں وہ کر دیں، کسی کا رائٹ آف اسمبلی تو نہیں چھینا جا سکتا۔ ‘

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کا کہنا تھا جلسے سب نے کیے ہیں، انتظامیہ قواعد و ضوابط اور شرائط طے کر لے اور ان پر عملدرآمد کروا کے جلسے کی اجازت دے دے۔

    دوران سماعت سرکاری وکیل نے کہا کہ سکیورٹی خدشات کے باعث جلسے کی اجازت نہیں دی گئی تھی، پہلے بھی ان کو جو اجازت دی گئی اس کی خلاف ورزی ہوئی تھی جس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا جو شرائط نارمل ہوتی ہیں وہ لگائیں اس میں کوئی حرج نہیں، غیر معمولی شرائط عائد نہ ہوں۔

    پی ٹی آئی کے وکیل نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ ’ہم ہر قسم کی شرائط کی پابندی کے لےے تیار ہیں۔‘

    سرکاری وکیل نے کہا کہ گزشتہ روز دہشتگردی کا ایک افسوسناک واقعہ بھی ہوا ہے، جس پر عدالت نے کہا زندگی رکتی نہیں، چلتی رہتی ہے، ہم نے اسی طرح دہشتگردی کا خاتمہ کرنا ہے۔

  19. پاکستان میں سی پیک منصوبوں پر کام کرنے والے چینی کیوں نشانہ بن رہے ہیں اور یہ حملے کون کر رہا ہے؟

  20. بریکنگ, ’ضمنی انتخابات کا بائیکاٹ کریں گے‘: مولانا فضل الرحمان کا انتخابی نتائج کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان

    جمعیت علما اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اعلان کیا ہے کہ ان کی جماعت پاکستان کے تمام صوبوں میں عام انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کے خلاف تحریک چلائے گی۔

    بدھ کو جاری ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی نے 8 فروری کے انتخابات کے نتائج کو مسترد کر دیا ہے اور ’یہ پارلیمنٹ عوام کی نمائندہ کم اور اسٹیبلشمنٹ کی نمائندہ زیادہ ہے۔‘

    انھوں نے اعلان کیا کہ وہ اپنی تحریک کا آغاز 25 اپریل کو بلوچستان سے کریں گے جبکہ 2 مئی کو کراچی اور 9 مئی کو پشاور میں جلسے کیے جائیں گے۔

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ’ہم ان اجتماعات کو عوامی اسمبلی کا نام دیتے ہیں۔‘