آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے پاکستان کے ساتھ کھڑے رہیں گے: امریکی صدر کا پاکستانی وزیرِ اعظم کو خط، نومنتخب حکومت کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار

وزیرِ اعظم شہباز شریف کو خط میں امریکی صدر نے لکھا ہے کہ دنیا اور خطے کو درپیش چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے امریکہ، پاکستان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ دوسری جانب پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے چین سے آنے والی ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم سے ملاقات کی ہے اور انھیں رواں ہفتے خیبرپختونخوا کے علاقے بشام میں ہونے والے خودکش کار حملے پر بریفنگ دی ہے۔

لائیو کوریج

  1. ٹوبہ ٹیک سنگھ میں خاتون کے قتل پر والد اور بھائی کو پھانسی کی سزا: ’واردات کے بعد والد کا بیٹے کو پانی پلانا اس جرم کو مزید سنگین بناتا ہے‘

  2. پٹرول کی قیمت میں 9 روپے فی لیٹر سے زیادہ اضافہ

  3. شانگلہ حملے کے بعد چین کی تحقیقاتی ٹیم کی اسلام آباد آمد: پاکستان سے ’سکیورٹی خطرات کے مکمل خاتمے‘ کو یقینی بنانے کا مطالبہ

  4. شہریوں کو انصاف کی فراہمی عدلیہ کا کام ہے یا خفیہ ایجنسیوں کا؟

  5. آصفہ بھٹو زرداری رکن قومی اسمبلی منتخب

    سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو اور صدرمملکت آصف زرداری کی صاحبزادی آصفہ بھٹو قومی اسمبلی کی نشست این اے 107 سے بلامقابلہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہو گئی ہیں۔ یہ نشست آصف زرداری کے صدر مملکت بنننے پر خالی ہو گئی تھی۔

    اپنے ایک ٹویٹ میں آصفہ بھٹو نے کہا کہ وہ شہید بینظیر آباد ون کے حلقے سے بلامقابلہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے پر شکر گزار ہیں۔ انھوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ اپنے حلقے کے عوام کی بہتری کے لیے بغیر کسی سیاسی وابستگی کے ہر ممکن کوشش کریں گی۔

    انھوں نے اپنی جماعت کے کارکنان، جیالوں اور میڈیا کا بھی شکریہ ادا کیا۔

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے آصفہ بھٹو کی کامیابی کا نوٹیفکیشن وکٹری کے نشان کے ساتھ ٹویٹ کیا ہے۔

    آصفہ بھٹو کی بہن بختاور نے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ نواب شاہ اپنی نئی رکن قومی اسممبلی پر جشن منا رہا ہے اور اسے اس اعزاز پر فخر ہے۔

  6. ’سیلون میں خواتین سروسز فراہم نہیں کریں گی‘: سوات میں مرد کے فیشل کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس کی کارروائی

  7. چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے پاکستان کے ساتھ کھڑے رہیں گے: امریکی صدر کا پاکستانی وزیرِ اعظم کو خط

    امریکی صدر جو بائیڈن نے پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھا ہے جس میں انھوں نے نومنتخب حکومت کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔

    وزیرِاعظم ہاؤس کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے خط میں لکھا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان شراکت داری دنیا اور ہمارے عوام کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے نہایت اہم ہے۔

    خیال رہے وزارتِ اعظمیٰ سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کو امریکی صدر جو بائیڈن کی طرف سے مبارکباد کا خط موصول ہوا ہے۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کو لکھے گئے خط میں امریکی صدر نے مزید لکھا ہے کہ دنیا اور خطے کو درپیش چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے امریکہ، پاکستان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔

    وزیرِاعظم ہاؤس کے مطابق امریکی صدر بائیڈن کا کہنا تھا کہ صحت عامہ کے تحفظ، معاشی ترقی اور سب کے لیے تعلیم پر پاکستان اور امریکہ کا مشترکہ وژن ہے جس دونوں ممالک مل کر فروغ دیتے رہیں گے۔

    امریکی صدر کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ امریکی 2022 کے سیلاب کی تباہ کن اثرات سے بحالی میں پاکستان کی معاونت جاری رکھے گا اور وہ پاکستان کے ساتھ مل کر انسانی حقوق کے تحفظ اور ترقی کے فروغ کے لیے پُرعزم ہیں۔

  8. وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی چین کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم سے ملاقات، چینی شہریوں کی سکیورٹی پر تبادلہ خیال

    پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے چین سے آنے والی ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم سے ملاقات کی ہے اور انھیں رواں ہفتے خیبرپختونخوا کے علاقے بشام میں ہونے والے خودکش کار حملے پر بریفنگ دی ہے۔

    وزارتِ داخلہ کے مطابق جمعے کو وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے چین کے سفارتخانے کا دورہ کیا اور چین کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کو اب تک ہونے والی تحقیقات کے حوالے سے آگاہ کیا۔

    خیال رہے منگل کو اسلام آباد سے داسو ہائیڈروپاور پراجیکٹ جانے والی چینی انجینیئرز کی گاڑی کو ایک خودکش حملہ آور نے نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں پانچ چینی انجینیئرز سمیت چھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    وزارتِ داخلہ کے مطابق چینی سفارتخانے ہونے والی ملاقات میں چینی شہریوں کے تحفظ اور مجموعی سکیورٹی کے اقدامات پر تبادلہ خیال بھی کیا گیا۔

    ملاقات کے دوران محسن نقوی نے چینی سفیر اور تحقیقاتی ٹیم کو حملے میں ملوث ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

  9. بریکنگ, سینیٹ انتخابات: بلوچستان کی تمام نشستوں پر امیدوار بلا مقابلہ منتخب, آسیہ انصر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    دو اپریل کو ہونے والے سینیٹ کے انتخابات میں بلوچستان کی صوبائی اسمبلی سے ٹیکنو کریٹ اور علما کی نشست پر بھی بلا مقابلہ انتخاب عمل میں آ گیا ہے۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق بلوچستان سے ٹیکنوکریٹ اورعلما کی دو نشستوں پر کامیاب امیداور پیپلز پارٹی کے بلال احمد اور جے یو آئی کے عبدالواسع قرار پائے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق دو اپریل کو ہونے والے انتخاب میں اب بلوچستان اسمبلی کی 11 نشستوں پر تمام امیدواروں کے بلامقابلہ ہونے کے باعث اب وہاں پولنگ نہیں ہو گی۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق اس وقت تک پنجاب کی سات جنرل نشستوں پر بھی بلا مقابلہ امیدوار کامیاب قرار پائے ہیں۔

    دو اپریل کو ہونے والے ایوان بالا کے انتخاب میں 18 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب کے بعد 30 نشستوں کے لیے تاحال 59 امیدوار میدان میں ہیں۔

    پنجاب سے نو، سندھ سے 20، اسلام آباد سے چار اور خیبرپختونخوا سے26 امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔

    یہ بھی یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا میں سینیٹ کے انتخابات کے حوالے گزشتہ روز فیصلہ جاری کیا تھا۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ اگر صوبائی اسمبلی میں پشاور ہائی کورٹ کے احکامات کے مطابق خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں پر امیدواروں سے حلف نہیں لیا گیا تو وہ صوبے میں سینیٹ کے انتخابات ملتوی کرنے پر مجبور ہوں گے۔

  10. سینیٹ انتخابات: بلوچستان کی تمام نشستوں پر امیدوار بلا مقابلہ منتخب،ایوان بالا کے الیکشن کے حوالے سے ہم اب تک کیا جانتے ہیں, آسیہ انصر، بی بی سی اردو ڈاٹ کام،اسلام آباد

    پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے انتخابات 2024 کا انعقاد دو اپریل کو ہونے جا رہا ہے اور الیکشن کمیشن کے مطابق اس نے انتخابات کے حوالے سے اپنی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق 2018 میں سابقہ فاٹا کے صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد سینیٹ میں فاٹا کے لیے مختص نشستیں 25 ویں آئینی ترمیم کے تحت ختم ہو چکی ہیں۔ لہذا کل 48 نشستوں پر سینیٹ کا انتخاب عمل میں آئے گا۔

    یاد رہے کہ رواں سال 12 مارچ کو 52 سینیٹرز اپنی چھ سالہ مدت پوری ہونے کے بعد ریٹائرڈ ہو گئے تھے تاہم سابقہ فاٹا سے منتخب چار ارکان سینٹ کی جانب سے خالی ہونے والی نشستوں پر سینیٹ کا انتخاب نہیں ہوگا۔

    صوبہ پنجاب میں سینیٹ الیکشن میں کل سات امیدوار بلا مقابلہ منتخب قرار

    الیکشن کمیشن نے اپنے اعلامیے میں پنجاب میں جن نشستوں پر انتخاب کے انعقاد کا اعلان کیا تھا۔ ان میں سات جنرل نشستیں، دو خواتین کے لیے مخصوص نشستیں، علما یا ٹیکنو کریٹ کی دو دو نشستوں جبکہ غیر مسلم کے لیے مختص ایک نشست پر انتخاب عمل میں آنا تھا۔

    اس وقت تک پنجاب سے سینیٹ الیکشن میں کل سات امیدوار بلا مقابلہ منتخب قرار پائے ہیں جن میں مسلم لیگ ن کے پرویز رشید، ناصر محمود، احد چیمہ اور طلال چوہدری بلا مقابلہ سینیٹر منتخب ہوگئے ہیں جب کہ حکومتی اتحاد کے محسن نقوی بھی بلا مقابلہ سینیٹر منتخب ہوگئے ہیں۔

    پنجاب سے ایم ڈبلیو ایم کے راجہ ناصر عباس اور حامد خان بھی بلا مقابلہ سینیٹر منتخب ہوگئے ہیں۔ ٹیکنوکریٹ کی نشست پر مصطفیٰ رمدے نے اپنے کاغذات واپس لیے تھے جب کہ جنرل نشست پر شہزاد وسیم، مصدق ملک، ولید اقبال اور عمر اعجاز چیمہ نے کاغذات واپس لیے تھے۔

    بلوچستان میں سات جنرل اور خواتین کی دو نشستوں پر امیدوار بلامقابلہ کامیاب

    بلوچستان میں سینیٹ کی 11 نشستوں میں سے سات جنرل اور خواتین کی دو سیٹوں پر امیدوار بلامقابلہ کامیاب قرار دیے گئے ہیں۔

    بلامقابلہ کامیاب ہونے والے امیدواروں میں سابق نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رہنما ایمل ولی خان بھی شامل ہیں۔

    بلوچستان کے الیکشن کمشنر محمد فرید آفریدی کے مطابق بلوچستان سے سینیٹ کی سات جنرل نشستوں پر بلامقابلہ کامیاب ہونے والے امیدواروں میں مسلم لیگ ن کے سید الناصر اور آغا شاہ زیب درانی، پاکستان پیپلز پارٹی کے سردار محمد عمر گورگیج، نیشنل پارٹی کے جان محمد بلیدی، عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ایمل ولی خان اور آزاد حیثیت سے سابق نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ شامل ہیں۔

    بلوچستان سے ہی خواتین کی دو مخصوص نشستوں پر مسلم لیگ ن کی راحت جمالی اور پاکستان پیپلز پارٹی کی حسنہ بانو بلامقابلہ سینیٹر منتخب ہوئی ہیں۔

    تاہم ٹیکنو کریٹس کی دو نشستوں پر تاحال تین امیدوار میدان میں ہیں۔ ان میں پاکستان پیپلز پارٹی کے بلال مندوخیل اور جے یو آئی ف کے مولانا عبد الواسع اور صلح الدین بھی شامل ہیں۔

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے سینٹ کی دو نشستوں پر انتخاب، چار امیدوار میدان میں

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے ایک ٹیکنو کریٹ اور ایک جنرل نسشت پر انتخاب ہونا ہے۔

    اسلام آباد کے چار امیدواروں کے ناموں کی حتمی فہرست جاری کر دی گئی ہے جس میں ایک جنرل نشست کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے رانا محمود الحسن سنی اتحاد کونسل کی جانب سے فرزند حسین شاہ امیدوار ٹینکو کریٹ نشت کے لیے مسلم لیگ ن کے محمد اسحاق ڈار اور سنی اتحاد کونسل کے راجا انصر محمود مدمقابل ہوں گے۔

    خیبر پختونخوا میں سینیٹ کی 11 نشستوں کے انتخابات ملتوی ہونے کا خدشہ

    صوبہ خیبر پختون خوا میں 11 نشستوں پر انتخاب ہونا ہے جس میں سات جنرل دو خواتین اور دو علما کی نشستیں شامل ہیں تاہم خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں پر امیدواروں سے حلف نہ لیے جانے کے باعث الیکشن کمیشن کا خیبر پختونخوا میں سینیٹ کے انتخابات ملتوی ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    الیکشن کمیشن نے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ اگر خیبرپختونخوا کی صوبائی اسمبلی میں پشاور ہائی کورٹ کے احکامات کے مطابق خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں پر امیدواروں سے حلف نہیں لیا گیا تو وہ صوبے میں سینیٹ کے انتخابات ملتوی کرنے پر مجبور ہوں گے۔

    یاد رہے کہ خیبر پختونخوا میں چونکہ پاکستان تحریک انصاف یا سنی اتحاد کونسل کی حکومت قائم ہے اس لیے یہاں اب تک ان نشستوں پر منتخب خواتین اور اقلیتی امیدواروں نے حلف نہیں لیا ہے۔

    اس تاخیر کی وجہ سے اپوزیشن کی جماعتوں سے وابستہ اراکین نے پشاور ہائی کورٹ میں پیٹیشن جمع کروائی تھی، جس کے بعد عدالت نے مخصوص نشستوں پر منتخب اراکین سے سینیٹ کے الیکشن سے پہلے حلف لینے کا حکم دیا تھا۔

    صوبہ سندھ میں 12 نشتسوں کے لیے 20 امیدوارمیدان میں

    سینیٹ کی 12 نشستوں پر صوبہ سندھ کی اسمبلی میں بھی سینیٹ کے انتخابات ہونا ہیں جن میں سات جنرل دو خواتین اور دو علما کی نشستیں شامل ہیں جبکہ ایک غیر مسلم کی نشست پر بھی الیکشن ہو گا۔ دو اپریل کو ہونے والے سینیٹ الیکشن کیلئے امیدواروں کی حتمی فہرست جکے مطابق سندھ کی 12نشستوں پر مجموعی طور پر 20 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق سینیٹ الیکشن کیلئے سندھ سے سات جنرل نشست پر11امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا، ان امیدواروں میں پی پی کے اشرف علی جتوئی،سرفراز راجڑ،دوست علی جیسر، سید خادم علی شاہ، سید مسرور احسن، ندیم احمد بھٹوشامل ہیں۔

    ایم کیوایم کے عامر ولی الدین چشتی، پی ٹی آئی کے آزاد امیدوار عبدالوہاب ،علی طاہر، میر راجہ خان جاکھرانی اور آزاد امیدوار فیصل واوڈا شامل ہیں۔

    خواتین کیدو مخصوص نشستوں پر تین امیدوار مقابلے میں ہیں، جس میں پی پی کی روبینہ قائم خانی، قرۃ العین مری، پی ٹی آئی کی آزاد امیدوار مہ جبین ریاض شامل ہیں۔

    ٹیکنو کریٹ کی دو نشستوں پر چارامیدوار مقابلےمیں ہیں جن میں پی پی کے سرمد علی،ضمیر حسین گھمرو، پی ٹی آئی کے عبدالوہاب اور تحریک انصاف کے منظور احمد بھٹہ شامل ہیں۔

    اقلیت کی ایک نشست پردو امیدواروں میں مقابلہ ہوگا، پی ٹی آئی کے بھگوان داس اور پیپلز پارٹی کی پونجو مل بھیل شامل ہیں۔

    سینیٹ انتخابات کے لیے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں پولنگ صبح نو سے چار بجے تک ہو گی۔

  11. پتنگ کی جان لیوا ڈور سے کیسے بچا جائے؟

  12. پی آئی اے: خسارے میں ڈوبی پاکستان کی قومی ایئرلائن کو ٹھیک کرنے کے بجائے فروخت کیوں کیا جا رہا ہے؟

  13. عدالتی امور میں مبینہ مداخلت کی تحقیقات کا معاملہ: پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017 کیا ہے؟

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی جانب سے پاکستان کے خفیہ اداروں پرعدالتی امور اورکارروائی میں مداخلت کے الزامات کے بعد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان معاملے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیشن بنانے پر جمعرات کے روز اتفاق ہوگیا ہے۔

    یہ کمیشن ’پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ، 2017‘ کے تحت بنایا جائے گا اور وزیراعظم وفاقی کابینہ کے اجلاس میں تحقیقاتی کمیشن بنانے کی منظوری لیں گے۔

    یہاں جان لیں کہ یہ کمیشن ہے کیا اور اس کے اختیارات کیا ہوں گے۔

    سال 2017 میں پاکستان مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں سنہ 1956 کے قانون کو ختم کر کے پارلیمنٹ نے پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017 کے نام سے اس قانون کی منظوری دی۔

    • اس قانون میں وفاقی حکومت کو عوامی مفاد میں اہم امور پر تحقیقات کرانے کا وسیع اختیار دیا گیا ہے۔
    • کمیشن کے پاس فیکٹ فائنڈنگ یعنی حقائق تک پہنچنے کا ٹاسک سونپا جاتا ہے۔ کمیشن رپورٹ کی روشنی میں پھر بعد میں ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔
    • اگر کوئی تحقیقات میں تعاون نہیں کرتا یا پھر اس کام میں رکاوٹیں ڈالتا ہے تو ایسے میں کمیشن کے پاس ہائی کورٹ کے مساوی توہین کمیشن کے اختیارات بھی ہیں، جس کے تحت کسی فرد کو سزا بھی سنائی جا سکتی ہے۔
    • اگر کوئی شخص کمیشن یا اس کے کسی رکن کے خلاف ہرزہ سرائی کرے گا تو اس کے خلاف بھی توہین کمیشن کی کارروائی کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔
    • اس قانون کے تحت اگر کمیشن میں ایک سے زیادہ افراد شامل ہوں تو پھر ایسے میں ان میں سے ایک کو اس کمیشن کا سربراہ بنانے کا اختیار بھی حکومت کے پاس ہی ہے۔
    • حکومت یہ کمیشن ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے بنا سکتی ہے۔ اس میں چیف جسٹس یا دیگر اداروں یا سیاسی پارٹیوں سے مشاورت کی شرط عائد نہیں کی گئی ہے۔
    • کمیشن کو وقت دینے اور پھر تحقیقات مکمل کرنے کے لیے مزید وقت دینے کے اختیارات بھی وفاقی حکومت کو حاصل ہیں۔
    • اس کمیشن کو سول کورٹ کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ اس کمیشن کو کسی بھی فرد کو بلانے اور اس سے حلفیہ بیان ریکارڈ کرنے کا بھی اختیار ہے۔ کمیشن دستاویزات کا پتا چلا سکتا ہے اور پھر ثبوت حوالے کرنے کے بارے میں بھی حکم صادر کر سکتا ہے۔ کمیشن بیان حلفی کے ذریعے یہ ثبوت لے سکتا ہے۔
    • یہ کمیشن گواہان کو طلب کر سکتا ہے اور کسی بھی دفتر اور عدالت سے پبلک ریکارڈ یا اس کی کاپی طلب کر سکتا ہے۔ اگر کسی شخص کو کسی قانون کے تحت کوئی استحقاق حاصل بھی ہے تو کمیشن اگر بلائے تو اس شخص یا ادارے کو حاصل استحقاق ختم تصور کیا جائے گا۔
    • یہ کمیشن بااختیار ہوتا ہے کہ وہ تحقیقات کے بعد کیس مجسٹریٹ کو بھیج سکتا ہے۔ کمیشن پولیس سے بھی کسی معاملے کی تحقیقات کا کہہ سکتا ہے۔
    • کمیشن خود طے کر سکتا ہے کہ اس نے تحقیقات کو کیسے آگے بڑھانا ہے اور پھر اس قانون کے تحت کمیشن کی حتمی رپورٹ کو عام کر دیا جائے گا۔
    • کمیشن کو جوڈیشل اختیارات حاصل ہوں گے جبکہ کمیشن جیسے ہی اپنی فائنل تحقیقاتی رپورٹ جمع کرائے گا تو پھر یہ کمیشن خود بخود تحلیل ہو جائے گا۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز نے 25 مارچ کو سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھا تھا۔

    اپنے خط میں ان چھ ججز نے عدالتی امور میں آئی ایس آئی اور دیگر انٹیلیجنس اداروں کی طرف سے براہ راست مداخلت اور ججوں کو ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

  14. جو ادارے نقصان میں ہیں ان کو نجکاری کی جانب لے کر جائیں گے: وزیر خزانہ

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف کے بڑے پروگرام میں شامل ہونے جا رہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پی آئی اے کی نجکاری اور ائیرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ پر اچھی پیش رفت ہو رہی ہے، جسے وقت پر مکمل کر لیں گے۔

    پاکستان سٹاک ایکسینج میں منعقد تقریب سے خطاب میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کو اپنے آپریشنل اخراجات میں کمی کرنی ہے۔ جو ادارے نقصان میں ہیں ان کو نجکاری کی جانب لے کر جائیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ’پاکستان آئی ایم ایف کے بڑے پروگرام میں شامل ہو رہا ہے۔ آئی ایم ایف حکام سے 14 اور 15 اپریل واشنگٹن میں ملاقات ہو گی جس میں نئے پروگرام کے خدوخال کے اوپر بات چیت ہو گی۔‘

    ان کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ تفصیلی مذاکرات پاکستان میں ہوں گے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ مائیکرو اکنامک سٹیبیلیٹی جاری رکھیں گے۔

    وزیرخزانہ نے کہا کہ اہم اقتصادی اشاریوں میں بہتری کے ساتھ 2024 میں معیشت کا آغاز بہتر انداز میں ہوا ہے۔ وزارت خزانہ وزارت قانون اور ایف بی آر کے ساتھ مل کر ٹیکس ریونیو میں ہونے والی لیکیج کو دور کرنے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کام کر رہی ہے۔

    انھوں نے ملکی ترقی میں ایم ایس ایز کی اہمیت کو بھی اجاگرکیا اورکہا کہ وزارت خزانہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے سرمائے تک رسائی کو آسان بنانے کے لیے کیپٹل مارکیٹ کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ شرح مبادلہ میں اضافہ ہوا ہے اور ملک میں مہنگائی کی شرح میں کمی ہو گی۔ نگران حکومت نے معیشت کی بہتری کے لیے کام کیے۔

  15. ریٹائرڈ جج کے ذریعے تحقیقات آزادانہ، غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات سے مذاق ہے‘: تحریک انصاف

    پاکستان تحریک انصاف نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے خط کے مندرجات کی تحقیقات کے وفاقی حکومت کی جانب سے انکوائری کمیشن کے قیام اور اس کے ذریعے تحقیقات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ججز کا خط وفاقی حکومت کی ایجنسیوں کےخلاف ایک فردِ جرم ہے، کھلی عدالت میں اس پرکارروائی کا جائے۔

    پاکستان تحریک انصاف نے کور کمیٹی کے اجلاس کے اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کو ملکی عدلیہ اور قانونی مفاد سے جڑے اس حسّاس ترین معاملے ہر چیف جسٹس کی وزیراعظم سے ملاقات پر تشویش ہے۔

    اعلامیے کے مطابق ’اس اہم معاملے کو عدالتِ عظمیٰ کے لارجر بنچ کے سامنے رکھنے اور کھلی عدالت میں اس پر کارروائی کے مطالبے کا اعادہ کرتے ہیں۔‘

    اعلامیے کے مطابق ’اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کا خط وفاقی حکومت کی ایجنسیوں کے خلاف ایک فردِ جرم ہے۔ معزز عدالتِ عالیہ کے حاضر سروس ججز کے سنجیدہ ترین مراسلے کی ایک ریٹائرڈ جج کے ذریعے تحقیقات آزادانہ، غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات سے ایک بھونڈا مذاق ہے۔‘

    کورکمیٹی تحریک انصاف کے مطابق ’ اپنے خط میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز نے چیف جسٹس آف پاکستان اور سپریم جیوڈیشل کونسل کے سامنے عدلیہ کے وجود کو لاحق بنیادی چیلنج کو بے نقاب کیا ہے۔ ہائیکورٹ کے ججز کے مطالبے کی روشنی میں جیوڈیشل کانفرنس بھی طلب کی جائے اور ہر سطح کے ججز کو اس موضوع پر حقائق قوم کے سامنے رکھنے کا موقع دیا جائے۔‘

    دوسری جانب پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین ریاضت علی نے جیو نیوز کے پروگرام میں اینکر شاہزیب خانزادہ کے سوال کے جواب میں کہا ہے کہ ’اگر فل کورٹ کو اور چیف جسٹس کو کمیشن پر کوئی اعتراض نہیں تو ہم کون ہوتے ہیں۔

    پاکستان بار کونسل کے عہدے دار نے کہا کہ ’ہم نےچیف جسٹس کو درخواست کی تھی کہ تحقیقات کے لیے ایسی کمیٹی بنائی جائے جس میں تین سینیئر جج صاحبان ہوں تاہم اگر عدلیہ کمیشن بنانے پر راضی ہے تو ہم اس معاملے میں کیا کہہ سکتے ہیں۔‘

  16. عدالتی امور میں مبینہ مداخلت پر وزیر اعظم خود کمیشن نہیں بنا سکتے، کابینہ کا اجلاس سنیچر کو ہو گا: وزیر قانون

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز کی جانب سے لکھے گئے خط کے معاملے پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت عدالت کے چھ ججز کو ہرگز کٹہرے میں کھڑا نہیں کر رہی۔ کمیشن لگانے کا اختیار نہ تحریک انصاف کے پاس ہے نہ کسی تبصرہ نگار کے پاس، بلکہ آئین کے مطابق کابینہ کے سامنے یہ معاملہ رکھنے کے بعد کمیشن کے نام کا اعلان کیا جائے گا۔

    جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں اینکر شاہزیب کے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ’وزیر اعظم نے واضح طور پر کہا ہے کہ عدلیہ کی آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا، وزیر اعظم اور چیف جسٹس کی آج کی میٹنگ کا فیصلہ سپریم کورٹ کے فل کورٹ اجلاس کے بعد ہوا۔‘

    وفاقی وزیر کے مطابق ’پاکستان تحریک انصاف خود اپنے دامن میں جھانکے اور انھیں اپنے دور حکومت کا جائزہ لینا چاہیے کہ کیا کیا نہیں ہوا ان کے دور میں؟ ہم اس میں سے خود گزرے ہیں۔ پی ٹی آئی یہ بھول رہی ہے کہ وہ اس سارے معاملہ میں فریق ہے اور شاید اس مرحلے میں کچھ اور شواہد بھی سامنے آئیں کہ ان کا ان معاملات میں کس حد تک کردار ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ایک چھٹی لکھی سپریم جوڈیشل کاونسل کو اور اس کی کاپیز سپریم کورٹ کے تمام جج صاحبان کو بھیجی گئیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز نے جنھوں نے یہ چھٹی لکھی انھوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے رکھا جائے۔ چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کی فل کورٹ میٹنگ کی اور پھ وزیر اعظم سے ملاقات کا پیغام پہنچایا۔ وزیر اعظم نے اس معاملے میں تاخیر کے بغیر ملاقات کی جس میں چیف جسٹس اور جسٹس منصور علی شاہ تھے جنھوں نے معاملہ کی سنگینی سے آگاہ کیا۔‘

    وفاقی وزیر نے وزیر اعظم اور چیف جسٹس کی ملاقات کے حوالے سے بتایا کہ ’فل کورٹ کے بعد یہ خواہش سپریم کورٹ کی جانب سے آئی کہ وہ وزیر اعظم سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ اس ملاقات میں بات ہوئی کہ معاملہ کیونکہ عدالت کے اندر کے معاملات کا ہے اس لیے کمیشن میں ایسے نیک نام اور غیر جانبدار شخص ہوں جو عدلیہ کی سربراہی کر چکے ہوں تو وزیر اعظم نے اس مشورے کو صائب قرار دیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اگر یہ میرے اکیلے کا اختیارہوتا تو میں کمیشن کا اعلان ابھی کر دیتا لیکن آئین میں یہ اختیار کابینہ کے پاس ہے تو میں یہ معاملہ کابینہ کے سامنے رکھتا ہوں۔‘

    ’وزیر اعظم نے ملاقات میں صاف لفظوں میں کہا کہ عدالت کی آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں اور یہ ہماری ریڈ لائن ہو گی کیونکہ ہم خود ریسیونگ اینڈ پر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ معاملہ میں کابینہ میں لے جاتا ہوں۔‘

    ان کے مطابق ’ہمارے کچھ وزرا کیونکہ موجود نہیں تو کابینہ کا اجلاس اب جمعے کے بجائے سینیچر کو ہو گا جس میں تمام کابینہ موجود ہو گی اور اس کی رائے لی جائے گی جس کے بعد کمیشن کا قیام عمل میں آئے گا۔‘

    اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ’ماضی میں حاضر سروس ججز نے بھی کمیشن چلائے مگر ان کی جو حالت قوم نے کی وہ بھی ہم سب کے سامنے ہے ۔ جو پانچ چھ نام ہیں ان کے بارے میں آپ سب کو معلوم ہے کہ ان کے بارے میں کیا باتیں ہوتی ہیں تاہم دو تین نام ایسے ہیں جن کی غیر جانبداری پر کسی کو اعتراض نہیں۔ تو ایسا نام آئے گا جس پر کسی کو اعتراض نہیں ہو گا۔ یہ اختیار نہ پی ٹی آئی نہ کسی تبصرہ نگار کے پاس ہے کہ ان کی مرضی کا کمیشن لگایا جائے۔ ‘

    انھوں نے کہا کہ ’حکومت ان ججزکو کسی کٹہرے میں کھڑا نہیں کر رہی بلکہ ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ نے فل کورٹ اجلاس کے بعد وزیر اعظم کے سامنے معاملہ رکھا۔ آج کی میٹنگ کا فیصلہ سپریم کورٹ کے فل اجلاس کے بعد ہوا۔

  17. ’عدالتی امور میں ایگزیکٹو کی مداخلت برادشت نہیں کی جائے گی‘: فُل کورٹ میٹنگ کے بعد سُپریم کورٹ سے اعلامیہ جاری

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی جانب سے پاکستان کے خفیہ اداروں پر عدالتی امور اور کارروائی میں مداخلت کے الزامات کے بعد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان معاملے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیشن بنانے پر اتفاق ہوگیا ہے۔

    جمعرات کو سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ملاقات کے دوران ’پاکستان کمیشنز آف انکوائری ایکٹ، 2017‘ کے تحت الزامات کی تحقیقات کے لیے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں انکوائری کمیشن بنانے کی تجویز دی گئی تھی۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم وفاقی کابینہ کے اجلاس میں تحقیقاتی کمیشن بنانے کی منظوری لیں گے۔

    اعلامیے کے مطابق ملاقات کے دوران ’چیف جسٹس نے واضح کیا کہ عدالتی امور اور کارروائی میں ایگزیکٹو کی مداخلت برادشت نہیں کی جائے گی اور کسی بھی صورت میں عدلیہ کی آزادی پر سمجھوتا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘

    اس ملاقات میں سپریم کورٹ کے سینیئر جج جسٹس منصور علی شاہ بھی موجود تھے۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے چیف جسٹس آف پاکستان اور سینیئر جج کی آرا کی مکمل توثیق کی اور یقین دہانی کروائی کہ ان کی جانب سے عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں گے۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز نے 25 مارچ کو سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے اپنے خط میں عدالتی امور میں آئی ایس آئی اور دیگر انٹیلیجنس اداروں کی طرف سے براہ راست مداخلت اور ججوں کو ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے تھے۔

    سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ الزامات کی سنگینی کو مدِنظر رکھتے ہوئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 26 مارچ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور دیگر ججوں سے افطار کے بعد رات آٹھ بجے اپنی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔

    اس ملاقات کے دوران سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تمام ججوں سے انفرادی طور پر ان کے تحفظات سُنے اور یہ ملاقات تقریباً ڈھائی گھنٹے جاری رہیں۔

    اعلامیے میں کہا گہا ہے کہ 27 مارچ کو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل اور وفاقی وزیرِ قانون سے ملاقات کی۔ اس کے بعد چیف جسٹس اور سپریم کورٹ سینیئر ترین جج نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور پاکستان بار کونسل کے سینیئر ترین رُکن سے بھی ملاقاتیں کی۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ان ملاقاتوں کے بعد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 27 مارچ کو فُل کورٹ اجلاس طلب کیا گیا، جس میں اسلام آباد ہائی کے کے چھ ججوں کی جانب سے لکھے گئے خط پر تبادلہ خیال ہوا۔

    اس فُل کورٹ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ صوتحال کی سنگینی کو مدِنظر رکھتے ہوئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو وزیراعظم سے ملاقات کرنی چاہیے۔

    سُپریم کورٹ سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جمعرات کو وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد چیف جسٹس قاضی فائر عیسیٰ نے فُل کورٹ کے اجلاس کے ملاقات میں ہونے والی بات چیت کے حوالے سے آگاہ کیا۔

  18. الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا میں سینیٹ الیکشن ملتوی کرنے کا عندیہ دے دیا

    الیکشن کمیشن کا خیبر پختونخوا میں سینیٹ کے انتخابات کے حوالے سے کہا ہے کہ اگر صوبائی اسمبلی میں پشاور ہائی کورٹ کے احکامات کے مطابق خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں پر امیدواروں سے حلف نہیں لیا گیا تو وہصوبے میں سینیٹ کے انتخابات ملتوی کرنے پر مجبور ہوں گے۔

    سینیٹ کے انتخابات کے حوالے سے خیبر پختونخوا میں اس وقت ایک رسہ کشی جاری ہے جس میں مبینہ طور پر صوبائی حکومت کی کوشش ہے کہ خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں پر منتخب اراکین سینیٹ کے انتخابات سے پہلے حلف نہ اٹھا سکیں۔

    دوسری جانب حزبِ اختلاف کی جماعتیں چاہتی ہیں کہ یہ امیدوار حلف اٹھالیں جس سے اپوزیشن کے اراکین کی تعداد بڑھ جائی گی اور انھیں سینیٹ میں بھی زیادہ نشستیں مل سکیں گی۔

    الیکشن کمیشن اور پشاور ہائی کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کو خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستیں دینے کی درخواست مسترد کر دی تھی، جس کے بعد قومی اسمبلی اور صوبوں میں سنی اتحاد کونسل کے حصے کی نشستیں دیگر جماعتوں میں تقسیم کر دی گئی تھیں۔

    خیبر پختونخوا میں چونکہ پاکستان تحریک انصاف یا سنی اتحاد کونسل کی حکومت قائم ہے اس لیے یہاں اب تک ان نشستوں پر منتخب خواتین اور اقلیتی امیدواروں نے حلف نہیں لیا ہے۔

    اس تاخیر کی وجہ سے اپوزیشن کی جماعتوں سے وابستہ اراکین نے پشاور ہائی کورٹ میں پیٹیشن جمع کروائی تھی، جس کے بعد عدالت نے مخصوص نشستوں پر منتخب اراکین سے سینیٹ کے الیکشن سے پہلے حلف لینے کا حکم دیا تھا۔

    عدالت نے سپیکر صوبائی اسمبلی سے کہا تھا کہ اس بارے میں اقدامات کیے جائیں تاکہ یہ نو منتخب اراکین سینیٹ کے انتخاب میں اپنا حق رائے دیہی استعمال کر سکیں۔

    اس بارے میں جمعیت علما اسلام ف کی جانب سےخواتین کے لیے مختص نشست پر منتخب رکن صوبائی اسمبلی ایمن جلیل نے ایک آڈیو بیان میں کہا ہے کہ ان کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن فروری میں جاری کیا گیا تھا لیکن اس میں تاخیر کی گئی اور اب 2 اپریل کو سینیٹ کے انتخاب ہونے جا رہے ہیں لیکن اب تک ان سے حلف نہیں لیا گیا۔

    انھوں نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی اور باقی تین صوبوں میں اراکین سے حلف لے لیا گیا ہے لیکن خیبر پختونخوا میں مخصوص نشستوں پر منتخب خواتین اور اقلیتی اراکین کو ان کے حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

  19. بلوچستان میں سینیٹ کی 11 نشستوں پر نو افراد بلامقابلہ منتخب, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    پاکستان کے صوبے بلوچستان میں سینیٹ کی 11 نشستوں میں سے سات جنرل اور خواتین کی دو سیٹوں پر امیدوار بلامقابلہ کامیاب قرار دیے گئے ہیں۔

    بلامقابلہ کامیاب ہونے والے امیدواروں میں سابق نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رہنما ایمل ولی خان بھی شامل ہیں۔

    بلوچستان کے الیکشن کمشنر محمد فرید آفریدی کے مطابق گزشتہ روز 20 امیدواروں کی کاغذات نامزدگی واپس لینے کے بعد خواتین کی دو مخصوص نشستوں پر دو امیدوار باقی رہ گئی تھیں جبکہ سات جنرل نشستوں پر آٹھ امیدوار اور ٹیکنو کریٹس کی دو نشستوں پر تین امیدوار میدان میں رہ گئے تھے۔

    تاہم جنرل نشستوں پر ایک امیدوار اعجاز احمد بلوچ نے انتخاب سے ریٹائرمنٹ کی درخواست دے دی جس کے بعد سات جنرل نشستوں پر سات ہی امیدوار رہ گئے۔

    الیکشن کیمشن کے مطابق بلوچستان سے سینیٹ کی سات جنرل نشستوں پر بلامقابلہ کامیاب ہونے والے امیدواروں میں مسلم لیگ ن کے سید الناصر اور آغا شاہ زیب درانی، پاکستان پیپلز پارٹی کے سردار محمد عمر گورگیج، نیشنل پارٹی کے جان محمد بلیدی، عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ایمل ولی خان اور آزاد حیثت سے سابق نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ شامل ہیں۔

    ایمل ولی خان خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے دوسرے رہنما ہیں جو کہ رواں سال بلوچستان سے رکن پارلییمنٹ منتخب ہوئے ہیں۔

    اس سے قبل 8 فروری کے عام انتخابات میں جمیعت العلما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان ضلع پشین سے رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

    خیال رہے کہ ایمل ولی خان اور مولانا فضل الرحمان دونوں نے خیبرپختونخوا میں عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی نشستوں پر الیکشن لڑے تھے لیکن وہ جیت نہ سکے تھے۔

    ایمل ولی خان سینیٹ کے انتخابات کے لیے عوامی نیشنل پارٹی، پیپلز پارٹی اور نیشنل پارٹی کے مشترکہ امیدوار تھے۔

    سابق نگراں وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ بلوچستان سے دوسری مرتبہ سینیٹر منتخب ہوئے ہیں۔

    وہ 2018ء میں بلوچستان عوامی پارٹی کی ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہوئے تھے لیکن اس مرتبہ وہ آزاد حیثیت سے بلامقابلہ سینیٹر منتخب ہوئے ہیں۔

    خواتین کی دو مخصوص نشستوں پر مسلم لیگ ن کی راحت جمالی اور پاکستان پیپلز پارٹی کی حسنہ بانو بلامقابلہ سینیٹر منتخب ہوئی ہیں۔

    بلوچستان سے ٹیکنو کریٹس کی دو نشستوں پر جو تین امیدوار میدان میں ہیں ان میں پاکستان پیپلز پارٹی کے بلال مندوخیل اور جے یو آئی ف کے مولانا عبد الواسعکے علاوہ صلح الدین بھی شامل ہیں۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما صادق عمرانی نے بتایا کہ ان سیاسی جماعتوں کے درمیان ٹیکنوکریٹس کی دونشستوں پر پاکستنا پیپلز پارٹی کے بلال مندوخیل اور جے یو آئی ف کے مولانا عبد الواسع کی نامزدگی کی گئی تھی اور ٹیکنو کریٹس کی نشستوں پر انتخاب کی صورت میں بھی انہی دو امیدواروں کی کامیابی یقینی ہے۔

    صادق عمرانی نے سینٹ کے انتخابات میں پارٹیوں کے درمیان اتفاق رائے کو اہم اور اچھی پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پہلے بلوچستان میں سینیٹ کے انتخابات میں منڈی لگتی تھی جس سے بلوچستان کی بدنامی ہوتی تھی ۔

    انھوں نے کہا کہ اس مرتبہ پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی کوششوں سے ایسا نہیں ہوا بلکہ ہر پارٹی کو اس کی نمائندگی کے حساب سے اس کا حصہ ملا ہے۔