آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز کا انٹیلیجنس اداروں کی ’مداخلت‘ پر سپریم جوڈیشل کونسل کو خط

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز نے خفیہ اداروں کے عدلیہ پر ’دباؤ‘ سے متعلق خط میں سپریم جوڈیشل کونسل سے مطالبہ کیا کہ آئی ایس آئی کے نمائندوں کی عدالتی امور میں مسلسل مداخلت پر جوڈیشل کنونشن بلایا جائے۔

لائیو کوریج

  1. پتنگ بازی پر پابندی کے باوجود ڈور پھرنے سے اموات: موٹرسائیکل سوار خود کو کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں؟

  2. ایچیسن تنازع: بچوں کی فیس معافی کے لیے سکول کے پرنسپل پر دباؤ نہیں ڈالا، وفاقی وزیر احد چیمہ

    وفاقی وزیر اقتصادی امور احد چیمہ نے اپنے بچوں کی فیس معافی کے لیے لاہور کے ایچیسن سکول پر دباؤ ڈالنے کے الزام کو مسترد کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے پرنسپل سے انفرادی فائدے کے بجائے پالیسی کی سطح پر تبدیلیوں کا مطالبہ کیا تھا۔

    جیو نیوز سے گفتگو کے دوران وہ کہتے ہیں کہ ان کی طرف سے میرٹ پر درخواست دی گئی۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی اہلیہ سرکاری افسر ہیں جنھوں نے 2022 میں درخواست دی کہ ان کا تبادلہ ہوگیا ہے لہذا بچوں کو چھٹیاں دی جائیں جس پر پرنسپل نے پوری فیس کا مطالبہ کیا۔

    احد چیمہ نے کہا کہ ان کے لیے اسلام آباد اور لاہور دونوں جگہوں پر بچوں کی پوری فیس دینا مشکل تھا اس کی وجہ سے ان کی اہلیہ نے ایچیسن سے فیس معافی کی پالیسی پر نظر ثانی کی درخواست کی۔

    وہ کہتے ہیں کہ ان کی اہلیہ نے گورنر پنجاب کو درخواست دی جنھوں نے معاملہ بورڈ کو بھیج دیا۔ احد چیمہ کے بقول 2019 میں بننے والے بورڈ نے 2023 میں ان کی درخواست کی حمایت کی اور اس حوالے سے پالیسی بنانے کا کہا۔ وہ کہتے ہیں کہ پرنسپل نے اسے پالیسی بنانے سے انکار کیا جس پر تنازع پیدا ہوا۔

    خیال رہے کہ ایچیسن کالج کے پرنسپل مائیکل تھامسن نے اپنے استعفے میں لکھا تھا کہ گورنر ہاؤس کی جانب سے ان پر دباؤ ڈالا گیا ہے تاہم سکولوں میں اقربا پروری اور سیاست کی کوئی گنجائش نہیں۔

    جبکہ تاہم گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن نے الزام عائد کیا ہے کہ پرنسپل ایچیسن نے اپنے خلاف ’انکوائری‘ سے بچنے کے لیے یہ حربہ اپنایا۔

    اس معاملے پر وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا تھا کہ ایچیسن کے پرنسل کے استعفے کو غلط رنگ دیا جا رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ احمد چیمہ کے بچے تین سال سے ایچیسن لاہور میں نہیں بلکہ اسلام آباد میں زیرِ تعلیم ہیں جبکہ انھوں نے ’جائز طریقے سے‘ درخواست لکھی تاکہ فیس معاف کی جائے۔

  3. تاحیات نااہلی کیس میں جسٹس یحییٰ آفریدی کا اختلافی نوٹ: ’نااہلی عدالتی فیصلے تک برقرار رہے گی‘

    آئین پاکستان کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کے کیس میں جسٹس یحییٰ خان آفریدی کا اختلافی نوٹ جاری جاری کیا گیا ہے۔

    19 صفحات پر مشتمل نوٹ میں جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے لکھا کہ ’میرے رائے میں سپریم کورٹ کا نااہلی سے متعلق اوریجنل فیصلہ قانونی طور درست ہے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’سپریم کورٹ کا فیصلہ طے شدہ اصولوں اور پارلیمانی سوچ کا عکاس ہے۔ ان وجوہات کی بنیاد پر اوریجنل فیصلے کو ختم کرنے کی ضرورت نہیں۔‘

    جسٹس یحییٰ خان آفریدی مزید کہتے ہیں کہ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی ’عدالتی فیصلے کے برقرار رہنے تک برقرار رہے گی۔

    ’عدالتی فیصلے کی بنیاد پر ہونے والی نااہلی تاحیات نہیں۔ میری رائے میں 62 ون ایف کے تحت نااہلی الیکشن ایکٹ میں دی گئی پانچ سالہ نااہلی پر غالب ہوگی۔‘

  4. بلوچستان میں دو ہزار اساتذہ کی برطرفی کا حکم, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    ‎وزیراعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے نوکری سے غیر حاضر رہنے والے دو ہزار اساتذہ کی برطرفی کا حکم دیا ہے۔

    ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق اس بات کا حکم وزیراعلٰی نے محکمہ تعلیم سے متعلق ایک اعلٰی سطحی اجلاس میں دیا۔ اجلاس میں وزیر اعلی کو محکمہ تعلیم سے متعلق بریفنگ دی گئی۔

    ‎وزیرِ اعلی نے کہا کہ چیف سیکریٹری ایک ماہ میں عادی غیر حاضر ٹیچرز کو برطرف کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ ‎وزیر اعلی نے کہا کہ محکمہ تعلیم میں کوئی مداخلت نہیں ہوگی۔ ‎انھوں نے میرٹ پر ضلعی تعلیمی افسران لگانے کی ہدایت کی۔

    ‎وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ اگر اس کے باوجود کوئی ٹیچر غیر حاضر پایا گیا تو سیکریٹری تعلیم کے خلاف کارروائی ہوگی۔

    ‎وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں فی بچے پر ماہانہ 5625 روپے خرچ کیا جا رہا ہے جو کہ سالانہ 72 ہزار روپے کے لگ بھگ بنتے ہیں۔ ‎وزیر اعلی نے کہا کہ اتنے اخراجات میں تو ہر بچہ ملک کے اعلٰی ترین نجی تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل کرسکتا ہے۔

  5. اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ، قرارداد ویٹو نہ کرنے پر اسرائیل امریکہ سے ناراض

  6. اپیلیٹ ٹربیونل نے مراد سعید کو سینیٹ الیکشن کے لیے اہل قرار دے دیا

    صوبہ خیبرپختونخوا کے شہر پشاور کے اپیلیٹ ٹریبونل نے تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر مراد سعید کو سینیٹ کے انتخابات کے لیے اہل قرار دیا ہے۔

    12 مارچ کو سینیٹ انتخابات کے لیے مراد سعید کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے گئے تھے۔ تاہم اب اپیلیٹ ٹریبونل نے اپنا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے مراد سعید کی اپیل منظور کی ہے۔

    سماعت کے دوران مراد سعید کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ریٹرننگ افسر نے اعتراض اٹھایا تھا کہ ان کے موکل مفرور ہیں تاہم اس بنیاد پر کاغذات نامزدگی مسترد نہیں کیے جاسکتے۔

    وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ مراد سعید کی جان کو خطرہ ہے اس لیے وہ سامنے نہیں آ رہے جبکہ ان کے خلاف عائد کردہ مقدمات کی تفصیلات کے لیے کیس دائر کیا جاچکا ہے۔

    خیال رہے کہ مراد سعید نو مئی کے واقعات کے بعد سے روپوش ہیں جبکہ ان کے وکیل کے مطابق کاغذات نامزدگی پر انھوں نے خود دستخط کیے۔

    دوسری طرف اپیلیٹ ٹریبونل نے خرم ذیشان کی بھی اپیل بھی منظور کی ہے جبکہ اعظم سواتی کو ٹیکنوکریٹ کی نشست پر اہل قرار دیا گیا ہے۔

  7. گلگت سے ’اغوا‘ ہونے والی کم عمر بچی کی مانسہرہ میں شادی: ’میری بیٹی نے صرف چھ جماعتیں پاس کی ہیں‘

  8. بریکنگ, پاکستان میں صحافیوں کے ساتھ کیا ہوا، اِس پر کتابیں لکھی جاسکتی ہیں، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے صحافیوں کو جاری نوٹسز سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ پاکستان میں میڈیا اور صحافیوں کے ساتھ کیا ہوا، اس پر تو کتابیں لکھی جاسکتی ہیں۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

    سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل منصور عثمان اور پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین روسٹرم پر آ گئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ اس کیس کی تاریخ پہلے دیکھ لیتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ دو رکنی بینچ نے 2021 میں نوٹس لیا تھا اس وقت یہ معاملہ حل ہو جاتا تو آج آپ کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتے، اس وقت یہ معاملہ دو رکنی سے پانچ رکنی بینچ کے سامنے چلا گیا، کہا گیا صرف چیف جسٹس سوموٹو نوٹس لے سکتے ہیں، وہ معاملہ ایف آئی اے نوٹس ملنے سے زیادہ سنگین تھا۔

    بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ دونوں معاملات کی اپنی اپنی سنگینی ہے، اِس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ دونوں کو ایک جیسا سنگین نہیں کہہ سکتے، ایف آئی اے نوٹس مکمل غیر قانونی بھی ہو چیلنج ہو سکتے ہیں، الزام تو لگایا جاتا ہے مگر عدالت پیش ہو کر مؤقف نہیں دیا جاتا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم بھی جانتے ہیں کہ ایف آئی آر کیسے ہوتی ہے، لوگ تاریخ بھول جاتے ہیں کہ اس وقت کس کی حکومت تھی، لوگوں کو آج سے مسئلہ ہے۔

    انھوں نے استفسار کیا کہ کیا عمران شفقت پر کوئی ٹھوس کیس ہے؟ کوئی سنجیدہ جرم تھا یا پھر صرف تنگ کرنے کے لیے ایف آئی آر کاٹی گئی۔

    جواب میں اٹارنی جنرل نے کہا کہ عمران شفقت نے کوئی سنجیدہ جرم نہیں کیا، میرے خیال میں اس کیس میں ایسا کچھ نہیں ہے۔

    چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ ریاست سے پوچھ رہا ہوں کہ صحافیوں کے خلاف فوجداری جرم بنتا تھا؟ جواب میں اٹارنی جنرل نے کہا کہ میرے خیال میں کوئی فوجداری جرم نہیں بنتا تھا۔

    دریں اثنا ایف آئی اے نے صحافی عمران شفقت اور عامر میر کے خلاف مقدمات واپس لینے کی یقین دہانی کرا دی۔

    بعدازاں چیف جسٹس نے بیرسٹر صلاح الدین سے استفسار کیا کہ آپ کی درخواست کیا ہے؟

    بیرسٹر صلاح الدین نے جواب دیا کہ پریس ایسوسی ایشن سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ ایسوسی ایشن کی درخواست ہے، میں مطیع اللہ جان اور ابصار عالم کی بھی نمائندگی کر رہا ہوں۔

    انھوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے انکوائری درج کرنے کے بعد گرفتاری کا اختیار رکھتی ہے، اس اختیار کو میڈیا اور صحافیوں کی آواز دبانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ہم کسی ایف آئی آر کو درج ہونے سے روک سکتے ہیں؟ ایف آئی آر غلط ہو سکتی ہے مگر اسے کیس ٹو کیس ہی دیکھا جائے گا، پاکستان میں میڈیا اور صحافیوں کے ساتھ کیا ہوا اس پر تو کتابیں لکھی جاسکتی ہیں۔ بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ پیکا کی ایک سیکشن 20 ہے جسے بار بار غلط استعمال کیا جاتا ہے۔

    دریں اثنا عدالت نے صحافیوں کو ہراساں کرنے کے خلاف کیس کی سماعت 27 مارچ تک ملتوی کردی۔

  9. بریکنگ, فوجی عدالتوں میں شہریوں کے مقدمات کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل، زیر حراست 103 افراد کی تفصیلات طلب, شہزاد ملک، بی بی سی نامہ نگار

    سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں شہریوں کے خلاف مقدمات کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلیوں پر سماعت کے دوران عدالت نے اٹارنی جنرل سے زیر حراست 103 افراد کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔

    پیر کو سپریم کورٹ کے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں چھ رکنی لارجر بینچ نے مقدمے کی سماعت کی، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید، جسٹس مسرت ہلالی جسٹس عرفان سعادت خان بینچ میں شامل ہیں۔

    سماعت کے آغاز پر درخواست گزار جسٹس (ر) جواد ایس خواجہ کے وکیل خواجہ احمد حسین نے بینچ کے سائز پر اعتراض عائد کردیا۔

    انھوں نے کہا کہ 103 ملزمان زیر حراست ہیں، ان کے اہل خانہ عدالتی کارروائی میں شامل ہونا چاہتے ہیں چنانچہ عدالت اہل خانہ کو سماعت دیکھنے کی اجازت دے۔

    اس پر جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ کمرہ عدالت بھرا ہوا ہے، انھیں کہاں بٹھائیں گے؟ عدالت آنے پر اعتراض نہیں ہے، ان کا معاملہ دیکھ لیتے ہیں۔

    بعد ازاں جسٹس (ر) جواد ایس خواجہ کے وکیل نے نو رکنی لارجر بینچ بنانے کی استدعا کر دی، انھوں نے کہا کہ ہم نے اپنی متفرق درخواست میں بھی 9 رکنی لارجر بینچ بنانے کی استدعا کی تھی، عدالت سے استدعا ہے کہ یہ سپریم کورٹ کمیٹی سے گزارش کرے کہ نو رکنی بینچ بنایا جائے۔

    سماعت کے دوران خیبرپختونخوا حکومت نے فوجی عدالتوں میں شہریوں کے خلاف ٹرائل کالعدم قرار دینے کے خلاف دائر اپیلیں واپس لینے کی استدعا کر دی ہے، خیبرپختونخوا حکومت کے وکیل نے صوبائی کابینہ کی قرارداد عدالت میں پیش کر دی۔ خیبرپختونخوا حکومت کے وکیل نے دلیل دی کہ انٹرا کورٹ اپیلیں واپس لینا چاہتے ہیں۔

    اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ کابینہ قرارداد پر تو اپیلیں واپس نہیں کر سکتے، مناسب ہوگا کہ اپیلیں واپس لینے کے لیے باضابطہ درخواست دائر کریں۔

    بعد ازاں فوجی عدالتوں کے خلاف درخواست گزاروں نے بینچ کے ساتھ نجی وکلا پر بھی اعتراض عائد کر دیا، اس موقع پر وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سرکاری اداروں کی جانب سے اٹارنی جنرل نے پانچ اپیلیں دائر کر رکھی ہیں، بعض وزارتوں کی جانب سے نجی وکلا کی خدمات حاصل کی گئی ہیں، اٹارنی جنرل نے خود اپیلیں دائر کی ہیں تو عوام کا پیسہ نجی وکلا پر کیوں خرچ ہو؟

    وکیل خواجہ احمد حسین کا کہنا تھا کہ بینچ کی تشکیل کے لیے مناسب ہوگا کہ معاملہ دوبارہ ججز کمیٹی کو بھیجا جائے، پہلے بھی نو رکنی بینچ تشکیل دینے کی استدعا کی تھی۔ اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ پہلے ہی نو رکنی بینچ بن جاتا تو آج اپیلوں پر سماعت ممکن نا ہوتی۔

    بعد ازاں عدالت نے اٹارنی جنرل سے زیر حراست 103 افراد میں سے بریت کے اہل افراد کے حوالے سے تفصیلات طلب کرلی ہیں۔

    جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ بتائیں کتنے ملزمان کو کتنی سزائیں ہوئی ہیں؟ یہ بھی بتائیں کتنے ملزمان بری ہوئے ہیں؟ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ٹرائل مکمل ہو چکا ہے لیکن عدالت نے حتمی فیصلے سے روکا تھا، عدالت نے کہا آپ ہدایات لے لیں۔

    اس کے بعد عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 28 مارچ تک ملتوی کردی۔

  10. انسپکٹر ذیشان کاظمی: کراچی آپریشن کے ’انکاؤنٹر سپیشلسٹ‘ اور ’خوف کی علامت‘ کو کیسے قتل کیا گیا

  11. بریکنگ, ریٹائرمنٹ کے بعد مختلف واقعات پر غلط بیانی کا معاملہ: سابق جنرل قمر باجوہ اور سابق لیفٹینٹ جنرل فیض حمید کے خلاف درخواست کی سماعت آج ہو گی

    سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹینٹ جنرل فیض حمید اور دیگر کے خلاف ایف آئی اے میں مقدمہ اندراج کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کردی گئی ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق آج اس درخواست کی سماعت کریں گے

    مقدمہ اندراج کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف آئی اے ، جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید کو نوٹس جاری کر رکھا ہے۔صحافی جاوید چوھدری، شاہد میتلا، پیمراکو بھی اس ضمن میں نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

  12. بریکنگ, سپریم کورٹ کا چھ رکنی بینچ شہریوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات کی سماعت کے خلاف اپیلوں پر آج سماعت کرے گا, شہزاد ملک، بی بی سی نامہ نگار

    شہریوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلیں سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہیں اور اس ضمن میں سپریم کورٹ نے نیا چھ رکنی بینچ تشکیل دیدیاجو آج ان اپیلوں پر سماعت کرے گا۔

    سپریم کورٹ کے جج جسٹس امین الدین خان چھ رکنی بینچ کی سربراہی کریں گے جبکہ جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹسعرفان سعادت خان بینچ کا حصہ ہیں۔

    سپریم کورٹ کے مستعفی ہونے والے جج جسٹس اعجاز الااحسن کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے سویلین کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانے کے عمل کو خلاف آئین قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ آرمی ایکٹ کے تحت صرف سکیورٹی فورسز میں تعینات افراد کے ہی فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے جاسکتے ہیں تاہم جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے چھے رکنی بینچ نے اس فیصلے کے خلاف دائر کی گئی انٹرکورٹ اپیلوں پر سماعت کرتے ہوئے اس پانچ رکنی بینچ کے فیصلے کو معطل کر دیا تھا۔

    اس عدالتی فیصلے کے خلاف انٹرکورٹ اپیلیں وفاق کے علاوہ صوبہ خیبر پختونخوا سندھ اور پنجاب کی حکومتوں نے دائر کی تھیں۔

    سپریم کورٹ کے چھے رکنی بینچ نے اس فیصلے کو معطل کرتے ہوئے فوجی عدالتوں کو سویلین کے خلاف مقدمات پر اپنی کارروائی جاری رکھنے کا کہا تھا تاہم ان عدالتوں کو اس وقت تک ان مقدمات پر فیصلہ کرنے سے روک دیا ہے جب تک سپریم کورٹ ان انٹراکورٹ اپیلوں پر فیصلہ نہیں سنا دیتی۔

    نو مئی کے واقعات کے بعد وفاقی حکومت نے ان افراد کے خلاف فوجی عدالتوں میں بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا جو فوجی اور حساس تنصیبات پر حملوں میں ملوث ہیں۔

    اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ ایک سو تین سویلین کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے جا رہے ہیں۔ سویلین کے مقدمات فوجی عدالتوں میں بھیجنے کے حکومتی فیصلے کے خلاف سابق وزیر اعظم عمران خان کے علاوہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے بھی سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔

  13. اسٹیبلشمنٹ بھی ناراض بلوچوں کے ساتھ بات کرنے کو تیار ہے، ہتھیار پھینکنے والوں کے لیے ریاست کے دروازے کھلے ہیں: سرفراز بگٹی

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے تمام ناراض بلوچوں کو ایک مرتبہ پھر ہتھیار پھینک کر قومی دھارے میں شامل ہونے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ بھی چاہتی ہے کہ ناراض بلوچوں سے بات کی جائے اور ہتھیار پھینک کر اور تشدد ترک کرنے والوں کے لیے ریاست کے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔

    نجی ٹی وی چینل ڈان نیوز کے پروگرام ’لائیو ود عادل شاہ زیب‘ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ قومی دھارے میں شامل ہونے کی صرف ایک شرط ہے کہ ہتھیار پھینکنا ہوں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ہم ان ناراض بلوچوں کو موقع دینا چاہتے ہیں کہ آئیں اور قومی دھارے میں شامل ہوں، پرامن بلوچستان کی پالیسی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے وقت میں بنی تھی، اس میں بہت سارے لوگوں نے سرنڈر کیا تھا جن کا ریاست نے خیال کیا تھا اور حال ہی میں سرفراز بنگلزئی نے خود سرنڈر کیا۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ اس طرح اگر ناراض بلوچوں کی مرکزی قیادت یا دوسرے درجے کی قیادت واپس آنا چاہتی ہے، ہتھیار ڈالنا چاہتی ہے تو اس سے اچھی بات کیا ہو سکتی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ یقیناً سب سے اہم اسٹیک ہولڈر ہے اور انھیں اس شورش کے بارے میں جو کچھ معلوم ہے وہ کسی سیاستدان کو نہیں معلوم، وہ اس نقطہ پر ساتھ ہیں کہ عام معافی کا اعلان ہونا چاہیے اور جو لوگ ہتھیار پھینک کر اور تشدد ترک کر کے آنا چاہتے ہیں ان کے لیے ریاست نے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔

  14. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • طورخم سرحد پر پاکستان کی جانب ایف آئی اے اور ایف سی کے اہلکاروں کے درمیان ہاتھا پائی میں دونوں اداروں کے اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق طورخم بارڈر پر ایف آئی اے اور ایف سی کے مابین ’تلخ کلامی‘ اور ’ہاتھا پائی‘ کے معاملے پر ایف سی حکام کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ’آج صبح طورخم بارڈر پر ایف آئی اے اور ایف سی کے کچھ اہلکاروں کے مابین رش کم کرنے کے حوالے سے تلخ کلامی ہوئی۔ ’جس کے بعد وہاں موجود دونوں اداروں کے اہلکاروں کے مابین ہاتھا پائی ہوئی۔ جس میں دونوں اطراف کے اہلکاروں کو معمولی زخم آئے۔‘ خیال رہے کہ اس واقعے سے متعلق منظر عام پر آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اس لڑائی میں ایف آئی اے اور ایف سی کے اہلکار زخمی ہوئے۔
    • پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر سیف کو اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز پر الزام لگانے سے قبل اڈیالہ جیل حکام کی رپورٹ پڑھ لیتے۔ انھوں نے کہا کہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ پرویزالٰہی جیل میں گرنے سے زخمی ہوئے ہیں یا ان پر تشدد ہوا ہے اور پرویز الٰہی پر اگر تشدد ثابت ہوا تو مریم نواز پر مقدمہ درج کرائیں گے۔ تاہم دوسری جانب وزیراطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ ’ اڈیالہ جیل کے حکام کے مطابق پرویز الٰہی واش روم میں گرے اور زخمی ہوئے، آپ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز پر الزام لگانے سے قبل اڈیالہ حکام کی رپورٹ پڑھ لیتے۔‘
    • اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کی صدارت پر تنازع کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے اسے دوبارہ تشکیل دیتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو اس کی صدارت سونپ دی ہے۔ جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق اب ای سی سی کے چیئرمین وزیر خزانہ محمد اورنگزیب ہوں گے اور کمیٹی اراکین میں وزیر اقتصادی امور، وزیر تجارت، وزیر پاور، وزیر پیٹرولیم اور وزیر منصوبہ بندی شامل ہوں گے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل اقتصادی رابطہ کمیٹی کے چیئرمین وزیراعظم خود بنے تھے۔
    • وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان میں تاجروں کی جانب سے انڈیا کے ساتھ تجارت بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے جس کے بعد حکومت اس معاملے کا جائزہ لے رہی ہے۔ لندن میں پاکستانی ہائی کمشنر ڈاکٹر فیصل کے ساتھ پریس کانفرنس کےدوران ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے کاروباری افراد چاہتے ہیں انڈیا کے ساتھ تجارت بحال ہو، اس کا جائزہ لیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ہمسائے تبدیل نہیں کیے جاسکتے اور ’ہمیں اپنے پڑوسیوں کےساتھ ہی رہنا ہے۔‘
  15. بریکنگ, بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    پاکستان کی سیاست، معیشت، خارجہ پالیسی اور دیگر داخلی و خارجی اہم خبریں جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔