آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
شمالی وزیرستان میں حملے کے بعد پی ٹی آئی کے حامیوں نے فوج مخالف مہم چلائی: عطا تارڑ کا دعویٰ
وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے شمالی وزیرستان میں فوجی چوکی پر ہونے والے دہشت گردوں کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا گروپ پر الزام عائد کیا کہ ایک پیروڈی اکاؤنٹ کے ذریعے فوج کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔
لائیو کوریج
امریکی کانگریس میں پاکستانی انتخابات پر سماعت: ڈونلڈ لو کے خلاف الزامات غلط ہیں اور ہمیشہ سے غلط تھے، امریکی محکمۂ خارجہ
مریم اکرام: ’پی ٹی آئی کے احتجاج میں شریک ہونے نہیں گئی تھی، خود کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ کام کیے‘
سینیٹ میں چھ نشستوں پر ضمنی انتخابات: پیپلز پارٹی چار، جبکہ ن لیگ اور جے یو آئی ایک، ایک نشست حاصل کرنے میں کامیاب
چھ نشستوں پر ہونے والے سینیٹ کے ضمنی انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی چار جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن اور جمعیت علمائے اسلام ف ایک، ایک نشست پر کامیاب قرار پائی ہے۔
یہ چھ نشستیں اُن سینیٹرز کی جانب سے خالی کی گئی تھیں جو 8 فروری 2024 کو ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لے کر صوبائی اسمبلیوں یا قومی اسمبلی کی نشستوں پر منتخب ہو چکے ہیں۔
اس ضمن میں جمعرات کی صبح قومی اسمبلی، سندھ اسمبلی اور بلوچستان اسمبلی میں ووٹنگ ہوئی۔
بلوچستان اسمبلی کے نتائج
نمائندہ بی بی سی محمد کاظم کے مطابق بلوچستان سے سینٹ کی خالی ہونے والی تین جنرل نشستوں پر جمعرات کو انتخاب ہوا۔
الیکشن کمشنر بلوچستان محمد فرید آفریدی کے مطابق تین عام نشستوں کے لیے بلوچستان اسمبلی کے موجودہ 62 میں سے 61 اراکین نے اپنے ووٹ کاسٹ کیے جن میں سے قدوس بزنجو کو سب سے زیادہ 23ووٹ ملے۔
میر عبد القدوس بزنجو نے حال ہی میں بلوچستان عوامیپارٹی چھوڑنے کے بعد پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی اور حالیہ عام انتخابات میں انھوں نے پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر حصہ لیا لیکن وہ کامیاب نہیں ہو سکے تاہم عام انتخابات میں شکست کے بعد پیپلز پارٹی نے انھیں سینٹ کے لیے ٹکٹ دیا تھا جس پر وہ کامیاب رہے۔
اس کے علاوہ مسلم لیگ ن کے امیدوار میر دوستین ڈومکی 17ووٹ لے کر سینیٹر منتخب ہوئے جبکہ جمعیت علمائے اسلام ف کے عبدالشکور غیبزئی 16ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار مبین خلجی کو صرف 5ووٹ ملے۔
بلوچستان سے سینیٹ کی تین نشستوں پر امیدواروں کے نتائج کے اعلان کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور جمیعت علمائے اسلام کی مرکزی قیادت کے درمیان یہ سمجھوتہ طے پا گیا تھا کہ جن جن جماعتوں کو بلوچستان اسمبلی میں اکثریت حاصل ہے اُن کو سینٹ کی ایک ایک نشست دی جائے’۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ تینوں جماعتوں کو بلوچستان اسمبلی میں اکثریت حاصل تھی جس کی وجہ سے ان کو ایک ایک نشست مل گئی۔
انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں سینٹ کے انتخابات ایک ایسے انداز میں ہوئے جن پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آئندہ بھی سینٹ کے انتخابات کے لیے ایسا فارمولا طے ہونا چاہیے کہ کوئی اس پر انگلی نہ اٹھا سکے۔
قومی اسمبلی
دوسری جانب قومی اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی 204 ووٹ لے کر سینیٹر منتخب ہو گئے ہیں۔
ان کے مدمقابل پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ اور سنی اتحاد کونسل کے امیدوار الیاس مہربان کو 88 ووٹ ملے۔ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے اسلام آباد سے سینٹ کی خالی نشست پر یوسف رضا گیلانی کی کامیابی پر انھیں مبارکباد دی ہے۔
سندھ اسمبلی
اسی طرح سندھ کی دو نشستوں پر پیپلز پارٹی کے امیدوار اسلم ابڑو اور سیف اللہ دھاریجو کامیاب قرار پائے ہیں۔ اسلم ابڑو نے 57 جبکہ سیف اللّٰہ دھاریجو نے 58 ووٹ حاصل کیے۔
ان کے مدِمقابل سُنی اتحاد کونسل کے امیدوار نذیر اللہ اور شازیہ سہیل نے 4، 4 ووٹ حاصل کیے۔ ایوان میں 124 ووٹ کاسٹ ہوئے جبکہ ایک ووٹ مسترد ہوا۔
تین دن کی مندی کے بعد سٹاک مارکیٹ میں تیزی: انڈیکس میں ہزار پوائنٹس سے زائد اضافے کی وجوہات کیا ہیں؟, تنویر ملک، صحافی
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعرات کے روز زبردست تیزی کا رجحان دیکھا گیا اور 100 انڈیکس 1015 پوائنٹس کے اضافے کے بعد 65046 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا ہے۔
یہ اضافہ رواں ہفتے کے ابتدائی تین دن میں لگاتار شدید مندی کے بعد دیکھنے میں آیا ہے۔ رواں ہفتے کے پہلے روز یعنی پیر کو انڈیکس میں 38 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی تاہم منگل کے روز مارکیٹ میں 953 پوائنٹس اور بدھ کے روز 753 پوائنٹس کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ سٹاک مارکیٹ کے انڈیکس میں مجموعی طور پر تین دنوں میں 1750 پوائنٹس کے لگ بھگ کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
تاہم جمعرات کو 1015 پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے۔
سٹاک مارکیٹ تجزیہ کاروں نے گذشتہ دنوں کی کمی کی وجہ سرمایہ کاروں کی اُس محتاط پالیسی کو قرار دیا تھا جو وہ آئی ایم ایف پروگرام اور مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود کے تعین کے بارے میں اپنائے ہوئے ہیں۔
مارکیٹ میں جمعرات کے روز ہونے والی تیزی کے بارے میں تجزیہ کار احسن محنتی نے کہا کہ اس کی ایک وجہ وزارت خزانہ کا اعلامیہ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والے اہداف کو حاصل کر لیا ہے اور اس کے بعد ایک ارب ڈالر کی نئی قسط جاری ہونے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس مثبت پیش رفت سے پاکستان کے لیے اگلی قسط کے جاری ہونے کے امکانات واضح ہو گئے ہیں جس نے مارکیٹ میں مثبت رجحان کو پیدا کیا۔
تجزیہ کار محمد رضوان نے کہا کہ مارکیٹ میں تیزی کی وجہ ملک کے نئے وزیر خزانہ کے جانب سے معیشت کے ٹھیک کرنے کے اقدامات کا اعلان ہے جس میں ایف بی آر میں اصلاحات، نجکاری کے عمل کو تیز کرنا اور ’ایس آئی ایف سی‘ کے ذریعے نئی سرمایہ کاری کو ملک میں لانا ہے۔
محمد بشیر: وہ جج جنھوں نے ہر اس پاکستانی وزیرِاعظم کو جیل بھیجا جس نے انھیں ایکسٹینشن دی
احتساب عدالت نے حسن اور حسین نواز کے وارنٹِ گرفتاری منسوخ کر دیے
ایون فیلڈ، العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز میں 2017 میں اشتہاری قرار دیے ملزمان حسن نواز اور حسین نواز نے احتساب عدالت میںسرینڈر کر دیا ہے۔
عدالت نے دونوں کے دائمی وارنٹ گرفتاری منسوخ کرتے ہوئے ان کا اشتہاری کا سٹیٹس بھی ختم کردیا جبکہ 50، 50 ہزار روپے کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے نیب سے کل تک تمام کیسسز کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔
جمعرات کی صبح حسن اور حسین نواز نےعدالت کے سامنےحاضری لگائی۔ وکیل قاضی مصباح نے عدالت سے استدعا کی کہ وارنٹ گرفتاری حاضری کے لیے تھے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ یہ کیسز میں ملزم ہیں؟ وکیل نے بتایا کہ تین کیسز میں عدالت نے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے، ایون فیلڈ ریفرنس میں اس عدالت سے سزا پانے والے تینوں ملزمان نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر بری ہوگئے ہیں۔
فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف احتساب عدالت سے بری ہوگئے تھے جبکہ نیب نے فلیگ شپ ریفرنس میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے اپیل واپس لے لی تھی۔
وکیل قاضی مصباح نے عدالت کو بتایا کہ اس کے علاوہ العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف بری ہوگئے ہیں۔
اس دوران عدالت نے حسن اور حسین نواز کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کرتے ہوئے 50، 50 ہزار کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے دونوں ملزمان کی بریت کہ درخواستوں پر کل تک نیب سے ریکارڈ بھی طلب کر لیا۔
وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات اور رویے میں تبدیلی: علی امین گنڈاپور کی ’سافٹ ٹون‘ کی وجہ کوئی ’مجبوری‘ ہے؟
بریکنگ, پشاور ہائی کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے لیے درخواست خارج کر دی
پشاور ہائی کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے لیے درخواست خارج کر دی ہے۔
پشاور ہائی کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں نہ ملنے کے خلاف درخواست کو خارج کیا۔
پشاور ہائی کورٹ: سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں نہ ملنے کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو پشاور
پشاور ہائی کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں نہ ملنے کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے لیے دائر درخواست پر سماعت جسٹس اشتیاق ابراہیم کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے کی جس میں جسٹس اعجاز انور، جسٹس عتیق شاہ، جسٹس شکیل احمد اور جسٹس سید ارشد علی شامل تھے۔
الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر مہمند اور سنی اتحاد کونسل کے وکیل بیرسٹر علی ظفر سماعت کے دوران پیش ہوئے۔
بیرسٹر علی ظفر نے اس دوران دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد اراکین نے قومی اسمبلی میں 86، پنجاب اسمبلی میں107، خیبرپختونخوا اسمبلی میں 90، سندھ اسمبلی میں 9 اور بلوچستان میں ایک ممبر نے سنی اتحاد کونسل کو جوائن کیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سنی اتحاد کونسل آرٹیکل 106 (تھری) (ایم) کے تحت مخصوص نشستوں کی اہل ہے، سنی اتحاد کونسل کے خلاف چھ مختلف درخواستیں سامنے آئیں جس میں تین مؤقف اختیار کیے گئے۔
بیرسٹر علی ظفر نے عدالت کو بتایا کہ ’اعتراض یہ تھا کہ سنی اتحاد کونسل نے الیکشن نہیں لڑا، مخصوص نشستوں کی لسٹ فراہم نہیں کی اس لیے سنی اتحاد کونسل کو سیٹیں نہ دی جائیں باقی دیگر پارٹیوں کو مخصوص نشستیں دی جائیں۔‘
جسٹس اعجاز انور نے استفسار کیا کہ ’ہم کیس خیبرپختونخوا کی حد تک سن رہے ہیں؟ جس پر بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ یہ کیس قومی اسمبلی اور خیبرپختونخوا اسمبلی تک محدود ہے۔‘
بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں قبضہ گروپس کو دی گئیں، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ قبضہ گروپس نہ کہیں ان کو سیٹیں تو الیکشن کمیشن نے دی ہیں۔
’ہر وہ شہری جو سرکاری ملازم نہ ہو وہ سیاسی جماعت بنا سکتا ہے یا کسی پارٹی میں شمولیت اختیار کر سکتا ہے‘
بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ’کل سوال آیا کہ کیا قومی اسمبلی نشستوں پر اس کورٹ کا اختیار بنتا ہے؟ اس پر بات کرنا چاہتا ہوں، 6 سوالات ہیں جو عدالت نے اٹھائے وہ بہت اہم ہیں۔
انھوں نے مؤقف اپنایا کہ ’سوال آیا کہ سیاسی پارٹی کیا ہے، میرے خیال میں سیاسی جماعت وہ ہے جو ان لسٹ ہے اور الیکشن ایکٹ کے سیکشن 210 اور 202 میں سیاسی پارٹی کا ذکر موجود ہے، سنی اتحاد کونسل نے الیکشن نہیں لڑا لیکن یہ ضروری نہیں، بائیکاٹ بھی الیکشن کا حصہ ہوتا ہے۔
عدالت نے پوچھا کہ آپ کا کہنا ہے کہ ’اگر ایک پارٹی الیکشن نہ لڑے تو پھر پولیٹیکل پارٹی ہوتی؟ پولیٹیکل پارٹی تو سیٹیں جیتنے کے لیے الیکشن میں حصہ لیتی ہے۔‘
بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ’سنی اتحاد کونسل کے پاس انتخابی نشان ہے اور الیکشن لڑنے کا اختیار ہے، آئین میں پولیٹیکل جسٹس کا ذکر واضح لکھا گیا ہے، ہر وہ شہری جو سرکاری ملازم نہ ہو وہ سیاسی جماعت بنا سکتا ہے یا کسی پارٹی میں شمولیت اختیار کر سکتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’آرٹیکل 72 کہتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو کئی حقوق حاصل ہیں۔ سیاسی پارٹیاں الیکشن میں حصہ لے سکتی ہیں اور حکومت بنا سکتی ہیں اور مخصوص نشستیں بھی حاصل کر سکتی ہیں۔‘
بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیے کہ آرٹیکل 17 کے تحت میرے کئی بنیادی حقوق بنتے ہیں، الیکشن کمیشن پارلیمانی پارٹی اور پولیٹیکل پارٹی میں فرق کرنے میں کنفیوز ہے۔
الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر مہمند نے مؤقف اختیار کیا کہ ’یہ درخواستیں تمام اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں کے لیے ہیں جو کہ اس عدالت کے دائرہ اختیار سے بھی باہر ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’سندھ ہائیکورٹ میں درخواستیں ان درخواستوں سے مماثلت رکھتی ہیں۔ الیکشن کمیشن کی تمام درخواستوں میں ایک ہی درخواست گزار ہے۔ درخواستوں میں ایک ہی پیٹرن کو فالو کیا گیا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ میں بھی لارجر بینچ کے لیے استدعا کی گئی ہے۔‘
اگر سپیشل پراسیکیوٹر پیش نہ ہوئے تو پیر کو فیصلہ کر دوں گا: اسد طور کی ضمانت کی درخواست پر جج ہمایوں دلاور کے ریمارکس
یوٹیوبر اسد طور کے خلاف سرکاری اداروں پر الزامات لگانےسے متعلق کیس میں ایف آئی اے سپیشل پراسیکیوٹر سید اشفاق حسین عدالت میں پیش نہ ہونے پر عدالت نے سپیشل پراسکیوٹر کو پیر کو حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے درخواست ضمانت پر پیر تک سماعت ملتوی کر دی ہے۔
اسد طور کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری پر سماعت سپیشل سینٹرل جج ہمایوں دلاور نے کی۔ اسد طور کے وکیل ہادی علی نے درخواست ضمانت پر دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا اسد طور کو ایف آئی اے کا نوٹس موصول ہوا، مقدمہ درج ہوا، سیکشن 9 میں دہشتگردی سے متعلق ہے لیکن مقدمہ میں کوئی ذکر نہیں۔
انھوں نے کہا کہ اسد طور ایک صحافی بھی ہیں اور اس مقدمے کا مقصد آواز دبانا ہے۔ ضمانت منظور ہونے کے بعد بھی جیل میں گزارے گئے دنوں کا مداوا نہیں ہو سکتا۔
درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’اسد طور کا ریکارڈ صاف ہے اور وہ اپنی والدہ کے کفیل ہیں۔
ایف آئی اے سپیشل پراسیکیوٹر سید اشفاق حسین کی عدم دستیابی پر ایف آئی اے کی جانب سے بتایا گیا کہ تفتیشی افسر بیمار ہیں آج ریکارڈ پیش نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’آپ آج دلائل دے دیں باقی سماعت پیر تک ملتوی کر دیتے ہیں۔‘
جج ہمایوں دلاورنےاسپیشل پراسیکیوٹر کو پیر کو حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر سپیشل پراسیکیوٹر پیش نہ ہوئے تو پیر کو فیصلہ کر دوں گا۔
سٹینڈ بائی معاہدے کے لیے آئی ایم ایف کے جائزہ اجلاس کا آغاز آج: ’جائزہ مشن 1.1 ارب ڈالر کی حتمی قسط جاری کرنے کی سفارش کرے گا‘
پاکستان کی وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے جائزہ مشن کے ساتھ مذاکرات کا آغاز آج سے ہو گا۔
چودہ سے اٹھارہ مارچ تک شیڈول اس جائزہ اجلاس میں سٹینڈ بائی معاہدے کے تحت آخری قسط ملنے کے اہداف کے حوالے سے بات ہو گی۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق ’پاکستان نے تمام اہداف پورے کر لیے ہیں۔‘
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اگر آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول معاہدہ ہو گیا تو جائزہ مشن 1.1 ارب ڈالر کی قسط جاری کرنے کی سفارش کرے گا اور جائزہ مشن کی سفارشات کی آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ سے منظوری کے بعد قسط جاری ہو گی۔
گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ
گذشتہ روز پاکستان میں سب سے اہم خبر وزیرِ اعلٰی خیبرپختونخوا کی وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ملاقات اور اس کے بعد مسلم لیگ ن کے رہنماؤں احسن اقبال اور امیر مقام کے ساتھ مل کر کی گئی پریس کانفرنس تھی۔
- پاکستان سٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز بھی مندی کا رجحان ریکارڈ کی گیا اور کاروباری اوقات کے اختتام تک انڈیکس میں 753 پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی ہے جس کے بعد 100 انڈیکس 64048 پوائنٹس کی سطح تک گِر گیا ہے۔
- ’شہباز شریف سے ملاقات مثبت رہی، حکومتیں تشکیل پا چکیں اب عوام کے مسائل پر بات ہو گی‘: علی امین گنڈاپور
- آئی ایم ایف کا جائزہ اجلاس 14 سے 18 مارچ کو ہو گا جس کے بعد 1.1 ارب ڈالر کی حتمی قسط جاری ہو گی
- سارا ملک جھوٹ پر چل رہا ہے، انتخابی دھاندلی پر سپریم کورٹ جائیں گے: عمران خان
- عمران خان سے ملاقات کا معاملہ: اسلام آباد ہائی کورٹ نے سپرینٹینڈنٹ اڈیالہ جیل کو 15 مارچ کے لیے نوٹس جاری کر دیا
پاکستان کی سیاسی صورتحال پر بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید
پاکستان کی سیاسی صورتحال پر بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔
یہاں آپ کو پاکستان بھر کی سیاسی اور معاشی خبروں کا خلاصہ بتایا جائے گا۔ آج سے پہلے کی خبروں کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔