آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

صدارتی امیدوار محمود خان اچکزئی کے گھر ’پولیس کے چھاپے‘ کے خلاف احتجاج کا اعلان

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کے سربراہ اور صدارتی امیدوار محمود خان اچکزئی کے گھر پر پولیس نے بلا جواز چھاپہ مارا ہے۔ دوسری طرف حکومت بلوچستان کے سابق ترجمان جان اچکزئی نے کہا کہ پولیس نے یہ کارروائی ان کی رہائش گاہ کے سامنے اراضی پر قبضے کے خاتمے کے لیے کی۔

لائیو کوریج

  1. شہباز شریف بمقابلہ عمر ایوب: وزیرِ اعظم کے انتخاب کا طریقہ کیا ہے؟

    پاکستان کے 33 ویں وزیرِاعظم کے انتخاب کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس اتوار کو صبح 11 بجے شروع ہوگا۔

    وزارتِ اعظمیٰ کے انتخاب کے لیے پاکستان مسلم لیگ ن نے شہباز شریف کو بطور امیدوار نامزد کیا ہے جنھیں پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور دیگر جماعتوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ سُنّی اتحاد کونسل کے اراکین نے وزارتِ اعظمیٰ کے لیے عمر ایوب خان کو بطور امیدوار نامزد کر رکھا ہے۔

    وزیرِاعظم بننے کے لیے کسی بھی امیدوار کو قومی اسمبلی میں کم سے کم 169 اراکین کی حمایت حاصل ہونی چاہیے۔

    پاکستان کے آئین کے مطابق صرف مسلمان اراکینِ اسمبلی ہی ملک کے وزیرِاعظم بننے کے اہل ہیں۔

    وزیرِ اعظم کا انتخاب کیسے ہوگا؟

    ووٹنگ شروع ہونے سے قبل سپیکر کی جانب سے وزارتِ اعظمیٰ کے امیدواروں کے نام پڑھ کر سُنائے جائیں گے۔

    اگر قائد ایوان یعنی وزیر اعظم کے عہدے کے لیے ایک سے زیادہ امیدوار ہیں تو پھر تقسیم ہو گی اور ارکان قومی اسمبلی سے کہا جائے گا کہ فلاں امیدوار کے حمایتی دائیں جانب والی لابی میں چلے جائیں اور فلاں امیدوار کے حامی بائیں جانب والی لابی میں چلے جائیں۔

    گنتی کا عمل مکمل ہونے کے بعد قومی اسمبلی کے سپیکر کامیاب ہونے والے قائد ایوان کے نام کا اعلان کریں گے۔

    اگر دونوں امیدوار کم سے کم 169 اراکین کے ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو قومی اسمبلی میں دوبارہ ووٹنگ کروائی جائے گی اور وہ امیدوار جس نے ووٹنگ کے پہلے مرحلے میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے ہوں اور وہ ووٹنگ کے دوسرے مرحلے میں بھی اکثریتی ووٹ حاصل کرلے اسے پاکستان کا وزیرِاعظم منتخب کر لیا جائے گا۔

    وزیرِاعظم کے انتخاب کے حوالے سے قومی اسمبلی کے سپیکر صدر کو تحریری طور پر مطلع کریں گے جس کے بعد ان کے سیکریٹری کی جانب سے وزیرِاعظم کے منتخب ہونے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جائے گا۔

  2. سوشل میڈیا پر پابندی کے حوالے سے سینیٹر بہرامند تنگی کی قرارداد سے کوئی تعلق نہیں: پی پی پی

    پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کا کہنا ہے کہ ان کا سینیٹر بہرامند تنگی کی سینیٹ میں جمع کروائی گئی قرار داد سے کوئی تعلق نہیں۔

    سنیچر کو جاری ایک بیان میں پی پی پی کے سیکریٹری جنرل نیر حسین بخاری کا کہنا تھا کہ سینیٹر بہرامند تنگی کا پی پی پی سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ پارٹی نے ان کی بنیادی رُکنیت منسوخ کردی تھی۔

    خیال رہے سینیٹر بہرامند خان تنگی نے سینیٹر میں ایک قرار جمع کروائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’نوجوان نسل کو منفی اور خطرناک اثرات‘ سے بچانے کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز فیس بُک، ٹِک ٹاک، انسٹاگرام، ٹوئٹر (ایکس) اور یوٹیوب پر پابندی عائد کی جائے۔

    ان کی جانب سے جمع کروائی گئی قرار داد میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ’ثقافت اور اسلام مخالف اقدار کو فروغ دینے اور زبان اور مذہب کی بنیاد پر لوگوں میں نفرت پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔‘

    قرار داد میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے ’فیک نیوز‘ اور پاکستانی فوج کے خلاف ’پروپگینڈا‘ مہم کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔

    پی پی پی کے سیکریٹری جنرل نیر حسین بخاری کا کہنا ہے کہ سینیٹر بہرامند تنگی کو پارٹی پالیسی سے انحراف کرنے پر اظہارِ وجوہ نوٹس بھیجا گیا تھا جس کا جواب دینے میں وہ ناکام رہے تھے۔

    نیر حسین بخاری کے مطابق جواب دینے میں ناکامی کے بعد پی پی پی چارسدہ کے صدر نے بہرامند تنگی کی رُکنیت معطل کردی تھی۔

    سینیٹر بہرامند تنگی 11 مارچ کو سینیٹ کی رُکنیت سے ریٹائر ہو رہے ہیں۔

  3. لاہور میں احتجاج کے دوران 80 سے زائد کارکنان گرفتار: پی ٹی آئی کا دعویٰ

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما حماد اظہر نے دعویٰ کیا ہے کہ مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف احتجاج کے دوران پولیس نے ان کے 80 زائد کارکنان کو گرفتار کیا ہے۔

    سنیچر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کی جانب سے ملک کے ہر شہر میں احتجاج کیا گیا ہے جس کے دوران ’ہمارے بہت سے لوگوں کو گرفتار کیا گیا‘۔

    ان کا کہنا تھا کہ گرفتار ہونے والے کارکنان کو قانونی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’اگلے ہفتے اس سے بھی پُرزور احتجاج ہوگا۔ پُرامن احتجاج ہمارا آئینی حق ہے اور مینڈیٹ کی بحالی اور عمران خان کی رہائی تک احتجاج جاری رہیں گے۔‘

    پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ لاہور شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے جس کے تحت عوامی اجتماعات یا ریلیاں نکالنے پر پابندی ہے۔

    لاہور میں ایک مقام پر پولیس اہلکار یا پیغام دیتے ہوئے نظر آئے کہ ’ہم کسی کو روڈ بلاک کرکے لاہور کے پُرامن شہریوں کے لیے مشکلات پیدا نہیں کرنے دیں گے۔‘

    بی بی سی اردو کے رابطہ کرنے پر پنجاب کے آئی جی ڈاکٹر عثمان انور کا کہنا تھا کہ ’آج انھوں نے سڑکیں بلاک کی ہیں مختلف مقامات پر اور کئی جگہوں پر پنجاب میں بڑا پُرامن احتجاج ہوا ہے وہ ہونے دیا گیا ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر آپ مال روڈ بلاک کرکے ماحول خراب کریں گے تو انھیں ہٹایا جائے گا۔‘

    تاہم ان کی جانب سے پی ٹی آئی کے کارکنان کی گرفتاریوں کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔

  4. وزیرِاعظم کا انتخاب: شہباز شریف اور عمر ایوب کے کاغذاتِ نامزدگی منظور

    پاکستان مسلم لیگ ن کے وزارتِ اعظمیٰ کے امیدوار شہباز شریف اور پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ سُنّی اتحاد کونسل کے وزارتِ اعظمیٰ کے امیدوار عمر ایوب کے کاغذاتِ نامزدگی منظور کر لیے ہیں

    قومی اسمبلی سیکریٹیریٹ کے مطابق قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق نے دونوں امیدواروں کی موجودگی میں ان کے کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال کی اور منظوری دی۔

    قومی اسمبلی کا اجلاس اتوار کو صبح 11 بجے شروع ہوگا جس میں پاکستان کے وزیرِاعظم کے انتخاب کے لیے ووٹنگ ہوگی۔

    ملک کا وزیرِاعظم بننے کے لیے کسی بھی امیدوار کو کم سے کم 169 اراکینِ قومی اسمبلی کی حمایت کی ضرورت ہوتی ہے۔

  5. لاپتہ افراد کے مسئلے کا حل پارلیمان کی کمیٹیوں کے ذریعے نکالیں گے: بلاول بھٹو زرداری

    پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وہ بے نظیر بھٹو کی مفاہمت کی پالیسی کے تحت بلوچستان کے مسائل کو حل کرنے کے لیے اقدامات کریں گے۔

    کوئٹہ میں وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کی تقریب حلف برداری کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم مفاہمت کی پالیسی کے تحت تمام سیاسی جماعتوں سے بات چیت کریں گے اور مسائل حل کرنے کی کوشش کریں گے کیونکہ ایک شخص یا ایک پارٹی بلوچستان کے مسائل کو حل نہیں کرسکتی۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر مسائل کو مل کر حل کرنے کی کوشش کی جائے تو اس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک دہشت گردی اور انتہاپسندی کا مسئلہ ہے تو اسے سوات کی طرح اسے ’تھری ڈیز‘ یعنی ڈائیلاگ ، ڈویلپمنٹ اور ڈیٹیرینس کے تحت حل کریں گے۔

    لاپتا افراد کے مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہ اہم مسئلہ ہے اور پارلیمان کے کمیٹیوں کے زریعے اس کا حل نکالا جائے گا۔

    انھوں نے تمام سیاسی جماعتوں کودعوت دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے اتفاق رائے پیدا کریں تاکہ اس مسئلے کا حل نکالا جائے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی سابق حکومت نے 18ویں ترمیم اور آغاز حقوق بلوچستان کے زریعے بلوچستان کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی، اگر بعد میں بھی ان پر عمل کیا جاتا تو آج بلوچستان میں صورتحال مختلف ہوتی۔

  6. لاہور میں پی ٹی آئی مظاہرین کے خلاف پولیس کا کریک ڈاؤن، ’مال روڈ بلاک کریں گے تو ہٹایا جائے گا‘, روحان احمد، بی بی سی اردو

    پاکستان میں عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے لاہور میں احتجاجی مظاہرے کے دوران پولیس نے متعدد سیاسی کارکنان کو حراست میں لے لیا ہے۔

    پی ٹی آئی کے علاقائی رہنماؤں کے مطابق پولیس نے لاہور کے حلقے این اے 117 سے پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈر علی اعجاز بٹر، حلقہ 119 سے ٹکٹ ہولڈر میاں شہزاد فاروق، پی پی 149 سے ٹکٹ ہولڈر حافظ ذیشان رشید اور پی پی 158 سے ٹکٹ ہولڈر میاں شرافت علی کو بھی پولیس کی جانب سے حراست میں لیا گیا ہے۔

    پولیس کی جانب سے پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما شہباز شریف کے خلاف لاہور میں الیکشن لڑنے والے پی ٹی آئی کے رکن افضال عظیم کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں ان کو کہنا تھا کہ ’میں نے شہباز شریف کو ہرایا اس لیے مجھے گرفتار کیا جا رہا ہے۔‘

    خیال رہے لاہور کے حلقے این اے 123 سے شہباز شریف نے افضال عظیم کو 15 ہزار سے زائد ووٹوں سے شکست دی تھی۔

    پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ لاہور شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے جس کے تحت عوامی اجتماعات یا ریلیاں نکالنے پر پابندی ہے۔

    لاہور میں ایک مقام پر پولیس اہلکار یا پیغام دیتے ہوئے نظر آئے کہ ’ہم کسی کو روڈ بلاک کرکے لاہور کے پُرامن شہریوں کے لیے مشکلات پیدا نہیں کرنے دیں گے۔‘

    بی بی سی اردو کے رابطہ کرنے پر پنجاب کے آئی جی ڈاکٹر عثمان انور کا کہنا تھا کہ ’آج انھوں نے سڑکیں بلاک کی ہیں مختلف مقامات پر اور کئی جگہوں پر پنجاب میں بڑا پُرامن احتجاج ہوا ہے وہ ہونے دیا گیا ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر آپ مال روڈ بلاک کرکے ماحول خراب کریں گے تو انھیں ہٹایا جائے گا۔‘

    تاہم ان کی جانب سے پی ٹی آئی کے کارکنان کی گرفتاریوں کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔

  7. ضیاالحق کے دور میں افغانستان میں جلاوطنی کاٹنے والے صدارتی امیدوار محمود خان اچکزئی کون ہیں؟, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے حمایت یافتہ سنی اتحاد کونسل کی جانب سے صدارت کے لیے نامزد امیدوار محمود خان اچکزئی معروف قوم پرست جماعت پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ ہیں۔

    ان کا تعلق بلوچستان کے افغانستان سے متصل سرحدی ضلع قلعہ عبداللہ کے علاقے گلستان سے ہے۔

    محمود خان اچکزئی معروف قوم پرست رہنما خان عبد الصمد خان اچکزئی کے صاحبزادے ہیں۔

    عبدالصمد خان کو قیامِ پاکستان سے قبل اور بعد میں بنیادی انسانی حقوق کے لیے طویل قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑی تھیں۔

    محمود خان اچکزئی نے ابتدائی تعلیم گلستان اور کوئٹہ سے مکمل کرنے کے بعد پشاور سے انجنئیرنگ کی ڈگری حاصل کی ہے۔

    محمود خان اچکزئی نے ایک معروف سیاسی گھرانے سے تعلق ہونے کی بناء پر ملازمت یا کوئی پیشہ اختیار کرنے کے بجائے عملی سیاست میں قدم رکھا۔

    1970 کے اوائل میں دستی بم حملہ میں خان عبد الصمد خان اچکزئی کی ہلاکت کے بعد محمود خان اچکزئی کو پارٹی کا سربراہ بنادیا گیا۔

    ضیاء الحق کے مارشل لاء کے دوران انہیں افغانستان میں جلا وطنی اختیار کرنا پڑی۔ وہ 1988 میں بے نظیر بھٹو کی حکومت میں پاکستان واپس آئے۔

    محمود خان اچکزئی اور ان کی پارٹی نے کسی بھی مارشل لاء اور غیر جمہوری حکومتوں سے سمجھوتہ نہیں کیا بلکہ وہ ملک میں فوجی آمریتوں کے خلاف جدو جہد میں پیش پیش رہے۔

    محمود خان اچکزئی ملک میں اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار خلاف اپنے سخت گیر بیانیے کی وجہ سے بھی جانے جاتے ہیں۔

    محمود خان اچکزئی اور ان کی جماعت ملک میں جمہوریت کی بحالی کی تمام تحریکوں کا حصہ رہے ہیں۔ وہ عمران خان کی حکومت کے دور میں بننےوالے سیاسی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا بھی حصہ تھے، تاہم 2024 کے انتخابات کے دوران مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی پالیسیوں انھیں اختلاف رہا اور وہ ان دونوں جماعتوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے نظر آئے۔

  8. تشدد کا راستہ ترک کریں اور قومی دھارے میں شامل ہوں: نومنتخب وزیرِاعلیٰ بلوچستان کا مسلح تنظیموں کو پیغام

    پاکستان کے صوبے بلوچستان کے نومنتخب وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی نے مسلح تنظیموں کو پیغام دیا ہے کہ وہ تشدد کا راستہ ترک کردیں۔

    سنیچر کو صوبائی اسمبلی میں بلوچستان کے وزیرِاعلیٰ منتخب ہونے کے بعد پہلی تقریر میں سرفراز بگٹی نے مسلح تنظیموں کے حوالے سے کہا کہ ’وہ تشدد کا راستہ ترک کریں اور واپس آ کر مین سٹریم (قومی دھارے) کا حصہ ہوں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’لیکن اس کے باوجود اگر کوئی تشدد کا راستہ چھوڑنے کو تیار نہ ہو تو قانون کی بالادستی، ریاست کی رٹ قائم کرنے کی ذمہ داری ہمیں آئین نے دی ہے۔‘

    ’ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اپنے معصوم لوگوں کی حفاظت کریں۔ معصوم لوگوں کے قتل و غارت کو روک سکیں۔‘

    انھوں نے دہشتگردی، گورننس اور موسمیاتی تبدیلوں کو بلوچستان کے بڑے چیلنجز قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ کل ہی گوادر جائیں گے اور شہر سے بارش کا سارا پانی نکال کر ہی واپس آئیں گے۔

  9. پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ سُنی اتحاد کونسل کے اراکینِ اسمبلی نے محمود خان اچکزئی کو صدارتی امیدوار نامزد کر دیا

    پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے صدر کے انتخاب کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروا دیے ہیں۔

    محمود خان اچکزئی کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حمایت یافتہ سُنّی اتحاد کونسل کے اراکین اسمبلی کی حمایت بھی حاصل ہے۔

    پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما علی محمد خان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر تصدیق کی ہے کہ ان کی جماعت کی جانب سے محمود خان اچکزئی کے کاغذاتِ نامزدگی اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کروائے گئے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’عمران خان صاحب کی طرف سے بہت مضبوط اور قومی یکجہتی کا پیغام گیا ہے کہ ملک کی سب سے بڑی جماعت جو وفاق کی علامت ہے اس نے آبادی کے لحاظ سے ایک نسبتاً چھوٹے اور محرومی کے شکار صوبے بلوچستان سے اپنا صدر مملکت کا امیدوار منتخب کیا ہے۔‘

    دوسری جانب صدارتی الیکشن کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری کے کاغذات نامزدگی بھی جمع کروا دیے گئے ہیں۔

    ان کے کاغذات نامزدگی پاکستان پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے پریذائیڈنگ افسر اور چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق کے پاس جمع کروائے ہیں۔

    سینیٹ اور قومی اسمبلی میں صدارتی الیکشن کے لیے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ پریذائیڈنگ افسر مقرر ہیں۔

    خیال رہے پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کے قائدین پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں کہ صدر کے عہدے کے لیے آصف علی زرداری ان کے مشترکہ امیدوار ہوں گے۔

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صدارتی انتخاب کا شیڈول جاری کر دیا ہے جس کے مطابق پولنگ 9 مارچ کو ہو گی۔

    پاکستان کے اگلے صدر کے انتخاب کے لیے پولنگ 9 مارچ کو صبح 10 بجے سے دن 4 بجے تک بیک وقت پارلیمان اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ہوگی۔

    جمع کروائے جانے والے کاغذات کی جانچ پڑتال 4 مارچ کو ہوگی جبکہ امیدوار اپنے کاغذاتِ نامزدگی 5 مارچ تک واپس لے سکتے ہیں۔

    صدارتی انتخاب میں حصہ لینے والے افراد کی حتمی فہرست 5 مارچ کو جاری کی جائے گی۔

  10. مبینہ دھاندلی کے خلاف ملک بھر میں پی ٹی آئی کا احتجاج، اسلام آباد میں سکیورٹی ہائی الرٹ

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے زیرِ اہتمام عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک کے مختلف شہروں میں جاری ہیں۔

    جماعت کے کے مطابق انتخابی دھاندلی کے خلاف احتجاجی مظاہرے راولپنڈی، لاہور، فیصل آباد، چکوال، حیدر آباد، دھابیجی، لیہ، کراچی، خانیوال، سیالکوٹ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، مظفر گڑھ سمیت ملک کے متعدد شہروں میں جاری ہیں۔

    ملک کے مختلف علاقوں میں مظاہروں کے دوران پولیس بھی کافی متحرک نظر آئی اور ان کی جانب سے کچھ افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔

    دوسری جانب پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ ہے اور پولیس کے مطابق ضلع بھر میں گشت بڑھا دیا گیا ہے۔

    سنیچر کو جاری ایک بیان میں پولیس کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں ’سکیورٹی ہائی الرٹ‘ ہے اور شہری دورانِ سفر ضروری شناختی دستاویزات اپنے ساتھ رکھیں اور دورانِ چیکنگ پولیس سے تعاون کریں۔

  11. وزیراعظم کے انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا آج آخری دن

    پاکستان کے عام انتخابات کے بعد اب ملک کے نئے وزیراعظم کے انتخاب کا عمل شروع ہو چکا ہے جس کے لیے کاغذاتِ نامزدگی آج سے وصول کیے جائیں گے۔

    کاغذاتِ نامزدگی دوپہر 2 بجے تک وصول کیے جائیں گے جبکہ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 3 بجے تک مکمل ہو گی۔

    یاد رہے کہ وزیر اعظم کا انتخاب 3 مارچ اتوار کو ہو گا۔ اتحادی جماعتوں کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کا مقابلہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے عمر ایوب کے ساتھ ہو گا۔

  12. بریکنگ, پیپلز پارٹی کے امیدوار میر سرفراز احمد بگٹی بلوچستان کے وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے, محمد کاظم، کوئٹہ

    پیپلز پارٹی کے امیدوار میر سرفراز احمد بگٹی بلوچستان کے وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے ہیں۔

    بلوچستان اسمبلی کے 41 اراکین نے وزارت اعلیٰ کے عہدے کے لیے میر سرفراز بگٹی کو ووٹ دیے۔

    ان کے مقابلے میں وزارت اعلیٰ کے عہدے کے لیے کوئی امیدوار نہیں تھا۔

    وزیر اعلیٰ کے باقاعدہ انتخاب کے لیے اسمبلی کا اجلاس سپیکر کیپٹن ریٹائرڈ عبدالخالق کی صدارت میں منعقد ہوا۔

    جمیعت علمائے اسلام کے اراکین نے انتخابی عمل کا بائیکاٹ کرتے ہوئے اجلاس میں شرکت نہیں کی جبکہ نیشنل پارٹی کے اراکین نے انتخابی عمل میں حصہ نہیں لیا۔

    وزیر اعلٰی بلوچستان کے انتخاب کے لیے پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، بلوچستان عوامی پارٹی سمیت اتحادی جماعتوں کے اراکین نے ووٹ دیا۔

    سپیکر نے ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد اعلان کیا کہ سرفراز احمد بگٹی 41 ووٹ لیکر وزیر اعلٰی بلوچستان منتخب ہوگئے ہیں۔

    بلوچستان اسمبلی میں سادہ اکثریت کے ساتھ وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے لیے 33 ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

  13. صدارتی انتخاب: آصف علی زرداری کے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیے گئے

    صدارتی الیکشن کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری کے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیے گئے ہیں۔

    ان کے کاغذات نامزدگی پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے پریذائیڈنگ افسر اور چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق کے پاس جمع کروائے ہیں۔

    سینیٹ اور قومی اسمبلی میں صدارتی الیکشن کے لیے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ پریذائیڈنگ افسر مقرر ہیں۔

    خیال رہے پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کے قائدین پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں کہ صدر کے عہدے کے لیے آصف علی زرداری ان کے مشترکہ امیدوار ہوں گے۔

    بلاول بھٹو زرداری، آصف زرداری کے تجویز کنندہ اور فاروق ایچ نائیک تائید کنندہ ہیں۔

    اس موقع پر فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ وہ آصف علی زرداری کے دوسرے کاغذاتِ نامزدگی بھی جمع کروا رہے ہیں۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ان سے اس کی وجہ پوچھی تو فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ وہ احتیاطی تدبیر کے طور پر دو کاغذاتِ نامزدگی جمع کروا رہے ہیں اور دونوں کاغذاتِ نامزدگی میں تجویز اور تائید کنندہ مختلف ہیں۔

  14. وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی تقریب حلف برداری دوپہر 3 بجے منعقد ہو گی

    گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی نے آئین کے آرٹیکل 130 کی شق 5 کے تحت نو منتخب وزیراعلٰی خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی حلف برداری کی سمری پر دستخط کر دیے ہیں۔

    نومنتخب وزیر اعلٰی خیبرپختونخوا کی تقریب حلف برداری آج دوپہر 3 بجے گورنر ہاؤس میں منعقد ہو گی۔

    گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی نومنتخب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور سے ان کے عہدے کا حلف لیں گے۔

  15. خیبرپختونخوا میں بارشوں کے باعث سات افراد ہلاک اور پانچ زخمی

    خیبرپختونخوا میں گذشتہ روز سے جاری بارشوں کے باعث سات افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔

    ریسکیو 1122 کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں پانچ بچے، خاتون اور مرد شامل ہیں۔

    ڈائریکٹر جنرل ریسکیو1122 کے مطابق چھتیں گرنے کے واقعات کے دوران متعدد جانور بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

  16. پاکستان میں صدارتی انتخاب 9 مارچ کو، کاغذاتِ نامزدگی جمع کروانے کے لیے آج دن 12 بجے تک کا وقت

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صدارتی انتخاب کا شیڈول جاری کر دیا ہے جس کے مطابق پولنگ 9 مارچ کو ہو گی جبکہ کاغذاتِ نامزدگی آج دن 12 بجے تک جمع کروائے جا سکیں گے۔

    پاکستان کے اگلے صدر کے انتخاب کے لیے پولنگ 9 مارچ کو صبح 10 بجے سے دن 4 بجے تک بیک وقت پارلیمان اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ہوگی۔

    الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے خواہشمند افراد 2 مارچ تک اپنے کاغذاتِ نامزدگی اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں پریزائڈنگ افسران کے پاس جمع کروا سکتے ہیں۔

    جمع کروائے جانے والے کاغذات کی جانچ پڑتال 4 مارچ کو ہوگی جبکہ امیدوار اپنے کاغذاتِ نامزدگی 5 مارچ تک واپس لے سکتے ہیں۔

    صدارتی انتخاب میں حصہ لینے والے افراد کی حتمی فہرست 5 مارچ کو جاری کی جائے گی۔

    خیال رہے پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کے قائدین پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں کہ صدر کے عہدے کے لیے آصف علی زرداری ان کے مشترکہ امیدوار ہوں گے۔

  17. انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف پی ٹی آئی آج ملک بھر میں احتجاج کرے گی

    پاکستان تحریکِ انصاف نے اعلان کیا ہے کہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف ان کی جماعت کے کارکنان آج ملک بھر میں احتجاج کریں گے۔

    پی ٹی آئی کے ایکس / ٹوئٹر اکاؤنٹ سے شئیر کیے گئے ایک پیغام میں کارکنان کو ہدایت کی گئی ہے کہ ’اس حکومت سے نجات کے لیے اپنا جمہوری حق استعمال کریں اور پرامن احتجاج کے ذریعے اپنے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھیں۔‘

  18. اسلام آباد میں سکیورٹی ہائی الرٹ اور دفعہ 144نافذ العمل

    ترجمان اسلام آباد کیپیٹل پولیس کے مطابق آج اسلام آباد میں سکیورٹی ہائی الرٹ اور دفعہ 144نافذ العمل ہے۔

    ترجمان کے مطابق ضلع بھر میں گشت کو بڑھا دیا گیا ہے جبکہ ناکہ پوائنٹس پر چیکنگ سخت کردی گئی ہے۔

    سی ٹی ڈی کے خصوصی دستے گشت پر تعینات کیے گئے ہیں جو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ شہری دوران سفر ضروری شناختی دستاویزات ہمراہ رکھیں اور دوران چیکنگ پولیس کے ساتھ تعاون کریں۔

    ایف نائن پارک کی طرف ٹریفک کا رش ہوسکتا ہے اس لیے شہری اس طرف غیرضروری سفر سے اجتناب کریں اور کسی بھی ایمرجنسی کے متعلق پکار 15 یا آئی سی ٹی 15 ایپ پر اطلاع دیں۔

    یاد رہے پاکستان تحریکِ انصاف نے انتحابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف آج 02 مارچ کو ملک بھر میں احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔

  19. خیبرپختونخوا کے نومنتخب وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور آج عہدے کا حلف اٹھائیں گے

    خیبرپختونخوا کے نومنتخب وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور آج اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

    قائدِ ایوان منتخب ہونے کے لیے ان کے حق میں 90 ممبرانِ صوبائی اسمبلی نے ووٹ دیا۔ ان کے مخالف امیدوار پاکستان مسلم لیگ ن کے عباد اللہ خان نے 16 ووٹ حاصل کیے۔

    آزاد حیثیت میں ڈیرہ اسماعیل خان سے الیکشن جیتنے والے علی امین گنڈا پور کو سنی اتحاد کونسل کی حمایت حاصل تھی جبکہ ان کے مد مقابل مسلم لیگ ن کے عباد اللہ خان تھے جنھیں پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز کی حمایت بھی حاصل تھی۔

    صوبائی اسمبلی میں اپنے پہلے خطاب میں نو منتخب وزیرِ اعلٰی علی امین گنڈا پور نے کہا کہ ’میں سترہ سال سے ایک پارٹی کا رکن ہوں لیکن آج میں ایک آزاد حیثیت ہے یہاں وزیر اعلٰی بنا، مجھے اس کا بہت دکھ ہے۔‘

    خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں علی امین گنڈاپور گذشتہ برس 9 مئی کے پُرتشدد احتجاجی مظاہروں میں اپنے ملوث نہ ہونے کی نہ صرف دلیلیں دیتے ہوئے نظر آئے بلکہ انھوں نے پولیس حکام کو الٹی میٹم بھی دیا کہ جو لوگ ان واقعات میں ملوث نہیں ان کے خلاف ایف آئی آر اگلے ایک ہفتے میں ختم کی جائیں۔

    آئیے آپ کو یہ بتاتے ہیں کہ علی امین گنڈا پور کون ہیں اور صوبائی سطح پر اپنی جماعت کے لیے انھوں نے کون سے کام کیے جن کے باعث ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔

  20. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزد کردہ امیدوار سرفراز بُگٹی بلوچستان کے بلامقابلہ وزیرِ اعلیٰ منتخب ہوگئے ہیں۔
    • پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزد کردہ امیدوار سید غلام مصطفیٰ شاہ 197 ووٹ لے کر قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر منتخب ہوگئے ہیں۔
    • پاکستان کے الیکشن کمیشن نے صدارتی انتخاب کا شیڈول جاری کردیا ہے جس کے مطابق پولنگ 9 مارچ کو ہوگی۔
    • امریکہ میں دو درجن سے زائد اراکینِ کانگرس نے صدر جو بائیڈن اور سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان میں بننے والی نئی حکومت کو اس وقت تک تسلیم نہ کریں جب تک عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات نہ ہو جائیں۔
    • پاکستان کے صوبے بلوچستان میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اب تک کم ازکم تین افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
    • اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن، ایس ایس پی آپریشنز اور تھانہ مارگلہ کے ایس ایچ او نے توہین عدالت کیس میں سزا کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کے لیے انٹراکورٹ اپیلیں دائر کردیں ہیں جن پر سماعت 4 مارچ کو ہوگی۔