پاکستان کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی گونج انڈیا کے
زیرانتظام کشمیر میں بھی سُنائی دے رہی ہے۔
سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی بیٹی
التجا مفتی، جو اُن کی میڈیا ایڈوائزر بھی ہیں، نے ایکس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے
پاکستان کے انتخابات کا موازنہ کشمیر میں ہوئے 1987 کے انتخابات کے ساتھ کیا ہے۔
انھوں
نے لکھا ہے کہ ’پاکستان میں جس طرح عمران خان سے ان کی انتخابی جیت چھینی جا رہی
ہے وہ 1987 میں یہاں ہوئی شرمناک دھاندلی کی
یاد دلا رہا ہے جب انتخابی نتائج کے ساتھ فراڈ کیا گیا۔
’یہ غیرمعمولی مماثلت ہے کہ
اُس وقت یہاں جماعت اسلامی پر کریک ڈاوٴن کیا گیا، آج وہاں پی ٹی آئی پر کریک ڈاوٴن کیا گیا۔‘
التجا مفتی نے پاکستانی فوج سے کہا ہے کہ وہ ’جموں کشمیر
کی خون میں ڈوبی تاریخ سے سبق لے کیونکہ انتخابی نتائج میں دھاندلیوں کی وجہ سے
یہاں مسلح تشدد بھڑکا جس کا خمیازہ کشمیری ابھی تک بھگت رہے ہیں۔‘
خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے دھاندلی کے الزامات کی تردید کی ہے جبکہ پاکستان کے نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ انتخابی خلاف ورزیوں کے حوالے سے متعلقہ فورمز موجود ہیں۔
اُس سال جماعت اسلامی سمیت کئی
نظریاتی جماعتوں اور دیگر علیحدگی پسند گروپوں نے ’مسلم متحدہ محاذ‘ نامی سیاسی
اتحاد بنا کر انتخابات میں نیشنل کانفرنس کے رہنما فاروق عبداللہ کو انتخابات میں
چیلنج کرنے کا اعلان کیا۔
فاروق نے کانگریس کے ساتھ سیاسی اتحاد کیا تھا، جس پر
اکثر لوگ اُن سے ناراض بھی تھے۔
چنانچہ الیکشن میں بڑے پیمانے پر
محاذ کو ووٹ ملے، لیکن نتائج کا اعلان ہوا تو اسے صرف پانچ سیٹوں پر فاتح قرار دیا
گیا جب کہ باقی سبھی سیٹوں پر نیشنل کانفرنس کی جیت کا اعلان ہوا۔
2002 میں بی بی سی کے ساتھ گفتگو کے دوران کانگریس کی خاتون رہنما
کھیم لتا وکھلو نے بتایا: ’ہاں یہ سچ ہے کہ اُس الیکشن میں شرمناک دھاندلی ہوئی۔
جیتے ہوئے امیدواروں کو ہارنے والوں کی لِسٹ میں رکھا گیا اور ہارنے والوں کو
جیتنے والوں کی لسٹ میں رکھا گیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی،
اتحادالمسلمین اور پیپلز کانفرنس وغیرہ اُس وقت ہارنے والوں کی فہرست میں تھے۔ مگر
پھر ان ہی گروپوں نے حریت کانفرنس بنائی جس کا موقف انڈیا سے علیحدگی تھا۔
یہاں کے اکثر سیاسی حلقے اُن
دھاندلیوں کے لیے فاروق عبداللہ کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انھی
دھاندلیوں کی وجہ سے نوجوانوں کا جمہوری طریقوں سے بھروسہ اُٹھ گیا اور انھوں نے ہتھیار اُٹھا کر مسلح
تشدد کا راستہ اپنایا۔
حالانکہ التجا مفتی نے نیشنل
کانفرنس یا فاروق عبداللہ کا نام نہیں لیا ہے تاہم نیشنل کانفرنس کی ترجمان افراٴ
جان نے ایک بیان میں عمران خان کی موجودہ سیاسی حالت پر افسوس کا اظہار کیا اور اس
کا موازنہ 1989 کے کشمیرسے کیا۔
’یہ صورتحال
(پاکستانی انتخابات) نیشنل کانفرنس کی دہائیوں پر مبنی اُس جدوجہد کی یاد دلاتی ہے
جو پراکسی پارٹیوں کے خلاف کرنا پڑی تھی۔ 1989 میں انڈین حکومت کے اُسوقت کے وزیرداخلہ مفتی سید (محبوبہ
کے والد) نے نیشنل کانفرنس کے اعتراض کے باوجود جگموہن ملہوترا کو کشمیر میں
تعینات کیا جسے تشدد کا طویل سلسلہ شروع ہوا۔‘
سابق میئر اور اپنی پارٹی‘ کے ترجمان جنید عظیم متو نے بھی ایکس پر لکھا: ’پاکستان میں فوج، عدلیہ، پولیس اور الیکشن کمیشن سمیت سبھی اداروں کو بکھرتا ہوا دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ پاکستان خود اپنے لیے شرمندگی کا باعث ہے۔ شکر خدا کا ہم نے 1947 میں پاکستان نہیں بلکہ انڈیا کو چُن لیا تھا۔‘