یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے
بی بی سی کی لائیو پیج کوریج کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم اور بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی طرف سے 190 ملین پاؤنڈز اور توشہ خانہ نیب ریفرنسز میں جیل ٹرائل کے خلاف دائر کردہ درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ دوسری جانب نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے عمران خان کے خلاف سائفر مقدمے میں پراسیکیوٹر کے فرائض سرانجام دینے والے شاہ خاور کو چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ تعینات کر دیا ہے۔
بی بی سی کی لائیو پیج کوریج کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔
بلوچستان کے ضلع آواران سے پانچ افراد کو اغوا کر لیا گیا ہے۔ اغوا ہونے والے ان افرا د کا تعلق پنجاب سے بتایا جاتا ہے۔
آواران سے متصل ضلع کیچ میں انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے ان افراد کے اغوا کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اغوا ہونے والے افراد میں ٹیکنیشن اور مزدور شامل ہیں۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ اغوا ہونے والے پانچوں افراد ضلع آواران کے علاقے ساجدی بازار میں ایک موبائل ٹاور نصب کرنے گئے تھے۔
اہلکار نے بتایا کہ یہ افراد جس گاڑی میں گئے تھے وہ ضلع آواران کی حدود سے اندازاً سات کلومیٹر دور ضلع کیچ کے علاقے ڈانڈار سے ملی۔
انتظامیہ کے اہلکار نے بتایا کہ اغوا ہونے والے افراد جس کمپنی کا موبائل فون ٹاور لگانے گئے تھے اس کمپنی کے حکام نے بھی ان کے اغوا کی تصدیق کی ہے۔
اہلکار نے اغوا کے بعد ان افراد کی کیچ منتقلی کے امکان پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ضلع کیچ میں بھی ان کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
بلوچستان کے ضلع کیچ کے ڈپٹی کمشنر حسین جان نے صحافی محمد زبیر خان کو بتایا کہ تحصیل ہوشاپ سے پنجاب کے پانچ رہائشیوں کی بازیابی کے لیے آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔
ان کے مطابق لیویز کی ٹیم روانہ کردی گئی ہے اور مختلف مقامات پر بازیابی کے لیے کارروائیاں کی جارہی ہیں۔
خیال رہے کہ ضلع آوران کو بلوچستان کا سب سے زیادہ شورش زدہ ضلع سمجھا جاتا ہے۔ ضلع کیچ پولیس کے مطابق مغویوں نے اپنی نقل و حرکت کے حوالے سے پولیس کو کوئی اطلاع فراہم نہیں کی تھی۔ ان لوگوں کے استعمال میں ایک کرولا گاڑی تھی۔
بلوچستان کے نگراں وزیر اعلیٰ میر علی مردان ڈومکی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں انتخابات میں حصہ لینے والے تین امیدواروں پر حملے ہوئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے تربت میں عام انتخابات کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ آٹھ فروری کو پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے انتظامی سطح پر تیاریاں مکمل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ تمام ڈویژنز کے دورے کر کے عام انتخابات کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا ہے اور انتخابات سے متعلق اٹھائے گئے انتظامات اطمینان بخش ہیں۔
انھوں نے کہا کہ عام انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی سکیورٹی کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔ نگراں وزیر اعلٰی نے کہا کہ بلوچستان ماضی میں بھی دہشت گردی کا شکار رہا ہے تاہم اب حالات بہتری کی جانب جا رہے ہیں۔ انتظامیہ اور فورسز دہشت گردی کے خاتمے اور بحالی امن کے لیے پوری تندہی سے کام کر رہے ہیں اور پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ قبل ازیں کمشنر آفس تربت میں نگراں وزیر اعلیٰ بلوچستان کی زیر صدارت انتخابات کی تیاریوں کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔
کمشنر مکران سعید احمد عمرانی اور مکران ڈویژن کے تینوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں نے اجلاس میں انتخابات کی تیاریوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔
نگراں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ الیکشن کی تیاری مکمل ہے اور حکومت پرامن صاف شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے پرعزم ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ الیکشن میں حصہ لینے والے امیدواروں کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ امن و امان کے حوالے سے صورتحال پہلے سے بہتر ہے اور بحالی امن کے لیے مؤثر حکمت عملی مرتب کی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد ہائی کورٹ نےسابق وزیر اعظم اور بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خانکی طرف سے 190 ملین پاؤنڈز اور توشہ خانہ نیب ریفرنسز میں جیل ٹرائل کے خلاف دائر کردہ درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
بدھ کے روز اس کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے کی۔ اس بینچ کے دوسرے ممبر جسٹس طارق محمود جہانگیری ہیں۔
بدھ کے روز ہونے والی سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل شعیب شاہین ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ جیل ٹرائل نہیں ہو سکتا لیکن اس ضمن میں واضح کیے گئے پیرامیٹرز پر عمل کرنا ضروری ہے۔ جیل ٹرائل غیرمعمولی حالات میں ہوتا ہے جس کے لیے متعلقہ جج کا جوڈیشل آرڈر ہونا لازم ہے جبکہ نیب کے پاس وفاقی حکومت کو جیل ٹرائل کیلئے لکھنے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔‘
اس پر سپیشل پراسیکیوٹر نیب امجد پرویز نے کہا سابق وزیراعظم کی سکیورٹی کے باعث جیل ٹرائل کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
امجد پرویز نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو 9 مئی کو 190 ملین پاؤنڈ نیب ریفرنس میں گرفتار کیا گیا تھا اور گرفتاری کے بعد ریمانڈ سے متعلق سماعت ہونی تھی۔انھوں نے کہا کہ نیب نے وفاقی حکومت کو لکھا تھا کہ یہ وہ کیس ہے جس کی وجہ سے 9 مئی کے واقعات پیش آئے اور وفاقی حکومت سے درخواست کی گئی جیل سماعت کے لیے نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔
امجد پرویز نےاپنے دلائل کے حق میں بمبئی عدالت کا 1931 کا فیصلہ پیش کرتے ہوئے کہا اس فیصلے کی تین لائنوں میں موجودہ کیس کے تمام سوالات کا جواب ہے، اور جب ایک بار عدالت لگانے کے لیے نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا تو دوسرے کسی آرڈر کی ضرورت ہی نہیں۔
اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ قانون کے مطابق جیل ٹرائل غیرمعمولی حالات میں ہوتا ہے۔
دورانِ سماعت عمران خان کے وکیل شعیب شاہین ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ریفرنس دائر نہیں ہوا تھا مگر اس سے پہلے ہی ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری ہو گیا۔ ’نوٹیفیکیشن اور سمری کے عمل کو دیکھیں تو اس پورے پراسیس میں غیرضروری جلد بازی واضح ہے۔ نیب کی درخواست پر ایک ہی دن میں سمری تیار ہوئی اور کابینہ سے منظور بھی ہو گئی۔ ملک میں باقی سارے کام بھی اتنی تیزی سے ہوتے تو کئی مسائل حل ہو جاتے۔‘
اس پر چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ وہ بھی یہی بات نوٹ کر رہے ہیں اور یہی بات کہنے لگے تھے۔ اٹارنی جنرل نے اس موقع پر عدالت کو آگاہ کیا کہ اڈیالہ جیل میں نیب مقدمات کا ٹرائل اوپن کورٹ میں ہو رہا ہے۔
شعیب شاہین ایڈووکیٹ نے کہا اسلام آباد ہائیکورٹ کو احتساب عدالت کے جج، نیب اور وفاقی حکومت کا کنڈکٹ بھی دیکھنا چاہیے کیونکہ احتساب عدالت کے جج تمام اہم کیسز کو چھوڑ کر دو کیسز کی سماعت کے لیے روزانہ اڈیالہ چلے جاتے ہیں۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے عمران خان کے خلاف سائفر مقدمے میں بطور پراسیکیوٹر پیش ہونے والے وکیل شاہ خاور کو چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ تعینات کر دیا ہے۔
شاہ خاور اس وقت پی سی بی کے چیف الیکشن کمشنر بھی ہیں اور انھیں مستقل چیئرمین پی سی بی کے لیے انتخابات بھی کروانے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
بلوچستان کے علاقے خاران میں نامعلوم افراد نے الیکشن کمیشن کے پرانے دفتر کو بم حملے کا نشانہ بنایا ہے۔
خاران پولیس کے ایک اہلکار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ نامعلوم افراد کی جانب سے الیکشن کمیشن کے پرانے دفتر پر دستی بم سے حملہ کیا۔
اہلکار نے بتایا کہ دستی بم کے پھٹنے سے دھماکہ ہوا لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
خاران میں گذشتہ اتوار کو پیپلز پارٹی کے امیدوار نورالدین نوشیروانی کے گھر کے قریب دستی بم سے حملہ کیا گیا تھا جبکہ چند روز قبل ایک سکول کے قریب بھی دھماکہ ہوا تھا جہاں انتخابی عملے کی تربیت کا اہتمام کیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAPP
امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر اسد مجید نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کے روبرو سائفر کے مقدمے میں اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا ہے کہ سات مارچ 2022 میں امریکی اسٹنٹ سیکریٹری برائے جنوبی ایشا ڈونلڈ لو سے ہونے والی اپنی ملاقات اور اس ملاقات میں ہونے والی گفتگو کو جب انھوں نے اسلام آباد بطور خفیہ سائفر ٹیلی گرام رپورٹ کیا تو اُس میں ’خطرہ‘ یا ’سازش‘ کے الفاظ کا کوئی حوالہ نہیں تھا۔
کمرہ عدالت میں موجود صحافی رضوان قاضی اور جیل کے ایک اہلکار کے مطابق منگل کے روز اڈیالہ جیل راولپنڈی میں سائفر مقدمے کی سماعت کے دوران اسد مجید سمیت چھ گواہان کے بیانات ریکارڈ ہوئے ہیں جس کے بعد اس کیس میں بیان ریکارڈ کروانے والے استغاثہ کے گواہان کی مجموعی تعداد 25 ہو گئی ہے۔
بی بی سی نے آج اڈیالہ جیل میں ہونے والی سماعت کا احوال صحافی رضوان قاضی کی زبانی جانا ہے اور اس کی تصدیق اس موقع پر عدالت میں موجود جیل حکام سے بھی کی ہے۔
اسد مجید نے اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا کہ سائفر کے حوالے سے پاکستان میں نیشنل سکیورٹی کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا، جس میں انھیں بھی طلب کیا گیا تھا اور اس اجلاس میں امریکہ کو ڈی مارش جاری کرنے کا فیصلہ ہوا۔
صحافی رضوان قاضی کے مطابق اسد مجید نے اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ہی ڈی مارش ایشو کرنے کی تجویز دی تھی۔ انھوں نے کہا کہ سائفر کے معاملے پر جو کچھ ہوا وہ پاکستان امریکہ تعلقات کے لیے دھچکا تھا۔
جیل حکام کے مطابق اسد مجید نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ جنوری 2019 سے مارچ 2022 تک وہ امریکہ میں پاکستان کا سفیر تھے اور سات مارچ 2022 کو امریکی محکمہ خارجہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری برائے جنوبی اور وسطی ایشیائی اُمور مسٹر ڈونلڈ لو کو ورکنگ لنچ پر مدعو کیا تھا اور یہ ایک پہلے سے طے شدہ ملاقات تھی جس کی میزبانی واشنگٹن میں پاکستان ہاؤس میں کی گئی تھی۔
انھوں نے عدالت کو بتایا کہ ملاقات میں ہونے والی کمیونیکیشن کا سائفر ٹیلی گرام سیکریٹری خارجہ کو بھجوایا گیا اور پاکستان ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات میں ڈپٹی ہیڈ آف مشن اور ڈیفنس اتاشی بھی موجود تھے۔ امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر کا کہنا تھا کہ ملاقات میں دونوں سائیڈز کو معلوم تھا کہ میٹنگ کے منٹس لیے جا رہے ہیں۔
اڈیالہ جیل راولپنڈی میں سائفر مقدمے کی سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں موجود صحافی رضوان قاضی اور جیل کے ایک اہلکار کے مطابق سائفر کیس میں اسدمجید، فیصل ترمذی اور اکبر درانی سمیت استغاثہ کے چھ گواہوں نے منگل کے روز بیان قلمبند کروائے ہیں۔ یوں اب تک مجموعی طور پر 25 گواہوں کے بیان قلم بند کیے جا چکے ہیں۔
اس مقدمے کے مرکزی ملزم عمران خان اور شریک ملزم شاہ محمود قریشی کے وکلا کل سے گواہوں پر جرح کا آغاز کریں گے۔ صحافی قاضی رضوان کے مطابق منگل کے روز جب اس مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تو شاہ محمود قریشی روسٹرم پر آ گئےاور اس مقدمے کی سماعت کرنے والے جج ابوالحسنات ذوالقرنین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کی گارنٹی کے باوجود میرے ساتھ ہاتھ ہوا ہے۔‘ انھوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ کاغذات نامزدگی کی تصدیق نہ ہونے کے باعث این اے 150، این اے 151 اور پی پی 218 سے اُن کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے ہیں۔ صحافی رضوان قاضی کے مطابق شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ جب انھوں نے کاغذات نامزدگی کی تصدیق کا کہا تھا تو جج صاحب نے کہا تھا کہ ’میرا حکم نامہ ساتھ لگا دو۔‘
انھوں نے کہا کہ جج صاحب کے حکم نامے کے باوجود اُن کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے۔ اس پر مقدمے کی سماعت کرنے والے جج نے شاہ محمود قریشی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’شاہ صاحب ہم نے قانونی طریقہ کار پورا کر دیا تھا۔‘ جیل کے اہلکار کے مطابق اس موقع پر پراسیکیوٹر رضوان عباسی کے بولنے پر شاہ محمود قریشی غصے میں آ گئے اور کہا کہ وہ اپنے بنیادی حقوق کی بات کر رہے ہیں اور یہ بیچ میں کیوں بول رہے ہیں؟ بعدازں عدالت نے یہ معاملہ رفع دفع کروا دیا۔
عمران خان کی صحافیوں کی گفتگو
سائفر مقدمے کی سماعت کے بعد عمران خان نے کمرہ عدالت میں موجود میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈونلڈ لو نے جو بات کی اس پر پاکستانی سفیر اسد مجید نے آفیشل میٹنگ میں ڈی مارش کرنے کی سفارش کی تھی۔
انھوں نے کہا کہ سفیر کی سفارش پر ڈی مارش کیا گیا اور مگر دوسری جانب کہا جا رہا ہے کہ سازش نہیں ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ سائفر میں اگر کوئی انھونی چیز نہیں تھی تو ڈی مارش کیوں کیا گیا اور کیا دنیا میں کوئی امریکہ کو ویسے ہی ڈی مارش کرتا ہے؟
سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ تین ہفتے کے اندر اندر ان کی منتحب حکومت گرا دی گئی، اس سے بڑی سازش کیا ہے؟ انھوں نے الزام عائد کیا کہ سائفر کے بعد ہمارے ممبران ٹوٹنا شروع ہوئی اور راجہ ریاض سمیت بہت سے لوگ امریکی ایمبیسی جا رہے تھے جس پر آئی بی کی رپورٹ بھی موجود تھی۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ اس وقت کے وزیر حارجہ شاہ محمود قریشی کو بائی چانس اس سائفر کا پتہ چلا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ سائفر کو دبانے کی پوری کوشش کی گئی کیونکہ اس سے ڈونلڈ لو ایکسپوز ہو گئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ جس روز ڈی مارش کیا گیا سائفر اسی روز پبلک ہو گیا تھا اور نیشنل سکیورٹی کمیٹی میٹنگ میں سائفر کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کہا گیا۔
عمران خان نے الزام عائد کیا کہ سائفر معاملے پر پارلیمنٹ کی کمیٹی بنائی گئی جو کسی کی دھمکی پر ختم ہو گئی۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ فوج آرمی چیف کی ہدایت کے بغیر کچھ نہیں کرتی اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کے خلاف انھوں نے کبھی کوئی بیان نہیں دیا ۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں پتہ ہے کہ فوج کیسے کام کرتی ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اسلام آباد میں بلوچ لاپتہ افراد کے لیے جاری دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ماہرنگ بلوچ کی جانب سے کی گئی پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے لوگوں کے لیے جدوجہد کرتے رہیں اور اب یہ دھرنا اسلام آباد سے کوئٹہ شفٹ ہو جائے گا اور مظاہرین 27 جنوری کو وہاں جلسہ کریں گے۔
خیال رہے کہ یہ بلوچ مظاہرین اسلام آباد میں 20 دسمبر 2023 سے دھرنا دیے ہوئے تھے۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ ’سپریم کورٹ سپریم جوڈیشل کونسل پر واچ ڈاگ نہیں ہے ہمیں آئین سازوں کے بنائے بیلنس کو برقرار رکھنا ہو گا۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کا کہنا تھا کہ ’آپ کے خلاف ریفرنس کی بنیاد تقریر ہے۔ آپ اس تقریر کے متن سے انکار نہیں کر رہے۔‘
چیف جسٹس نے کہا کہ ’سپریم جوڈیشل کونسل ایک مضبوط آئینی باڈی ہے۔ آپ کہہ رہے تھے انکوائری کمیشن بنا دیں لیکن جوڈیشل کونسل کی موجودگی میں کمیشن بنانے کی کیا ضرورت ہے؟
چیف جسٹس نے کہا کہ ’آرٹیکل 210 پڑھیں تو سپریم جوڈیشل کے پاس وسیع آئینی اختیارات ہیں۔ ہر آئینی باڈی یا ادارے کے پاس آزادانہ فیصلے کا حق ہے۔‘
’سپریم کورٹ سپریم جوڈیشل کونسل سمیت کسی آئینی ادارے کی نگران نہیں ہے۔ سپریم کورٹ صرف آئینی خلاف ورزی کی صورت میں حرکت میں آ سکتی ہے۔ موجودہ کیس میں بہت محتاط چلنا ہو گا کہ کہیں اداروں کے درمیان قائم آئینی توازن خراب نہ ہو۔ شوکت صدیقی کیس کا فیصلہ بھی 50 سالوں تک عدالتی نظیر کے طور پر استعمال ہو سکتا ہے۔‘
سپریم کورٹ نے جسٹس شوکت صدیقی کی برطرفی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو اس درخواست کو سماعت کے لیے دوبارہ بھی مقرر کیا جا سکتا ہے۔
جسٹس عرفان سعادت کا شوکت صدیقی کیس کی سماعت کے دوران کہنا تھا کہ ’ریکارڈ دیکھیں تو یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی کہ شوکت صدیقی کو موقع نہیں دیا گیا، دو ماہ سے زیادہ کارروائی چلی، ان کے جوابات کا جائزہ بھی لیا گیا۔‘
جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ ’آپ پر الزام یہ نہیں تھا کہ آپ درست کہہ رہے ہیں یا غلط، آپ پر الزام تھا کہ آپ نے پبلک میں عدلیہ کو بدنام کیا۔‘
’آپ نے اس تقریر سے انکار تو نہیں کیا تھا؟‘ اس پر وکیل حامد خان کا کہنا تھا کہ ’جب شوکت صدیقی کے الزامات آئے تو جسٹس انور کاسی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی جاری تھی۔‘
وکیل حامد خان کا کہنا تھا کہ ’شوکت صدیقی کے الزامات مسترد کرنے پر انور کانسی کو بری کر دیا گیا۔‘
اس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ’حامد خان صاحب ہم سپریم جوڈیشل کونسل پر ایسے انگلیاں نہیں اٹھائیں گے۔‘
سپریم کورٹ میں سابق جج اسلام آباد ہائیکورٹ شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کے خلاف اپیل پر سماعت جاری ہے جس میں اٹارنی جنرل آف پاکستان کو بُلایا گیا۔ اس پر اٹارنی جنرل نے اپیل دائر کرنے سے عدالت کو آگاہ کر دیا۔
اس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ’توقع ہے ہماری اپیل پر آج یا کل نمبر لگ جائے گا، عافیہ شیربانو کیس فیصلہ کالعدم ہوجائے تو معاملہ کونسل میں جا سکتا ہے، شوکت صدیقی کیس میں ان کی مراعات بحال کرنے کا آرڈر بھی ہوسکتا ہے۔ وسیع تناظر میں دیکھنا ہو تو معاملہ کونسل میں جا سکتا ہے۔‘
اُن کا عدالت میں مزید کہنا تھا کہ ’جج کو انکوائری کے بغیر ہٹایا نہیں جا سکتا یہ بنیادی حق کا معاملہ ہے۔ عافیہ شیربانو کیس میں ہماری اپیل کو اس کیس سے یکجا کیا جائے۔ عافیہ شیربانو فیصلہ کالعدم کر کے ہی معاملہ کونسل کو واپس بھیجا جا سکتا ہے۔‘
اٹارنی جنرل کے بعد جسٹس (ر) انور کانسی کے وکیل وسیم سجاد روسٹرم پر آئے اُن کا کہنا تھا کہ ’سپریم کورٹ کو کیس ریمانڈ بیک کرنے سے آئین نہیں روکتا۔ عدالت مکمل انصاف کے دائرہ اختیار میں بھی جا سکتی ہے۔‘
اس پر حامد خان نہ کہا کہ ’یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس تھا جہاں جج کو انکوائری کے بغیر ہٹایا گیا، ایک تفصیلی فیصلہ آنا چاہئے جج کو ہٹانے سے پہلے انکوائری کیوں ضروری ہے۔ 1956 اور 1962 کے آئین میں صدارتی ریفرنس کے بغیر جج کو ہٹایا نہیں جا سکتا تھا۔‘ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’1973 کے آئین میں بھی پہلے یہی شرط تھی۔ 2005 میں پہلی بار آئین میں صدارتی ریفرنس کے علاوہ طریقہ کار متعارف کرایا گیا۔‘
بینچ میں شامل جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ ’جب ایک جج کی تقریر واضح ہے اور موجود ہے کیا پھر بھی انکوائری کی ضرورت ہے۔ شوکت عزیز صدیقی پر کرپشن کے الزامات بھی ہیں۔‘
عافیہ شہر بانو کیس کیا ہے؟
واضح رہے کہ جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے عافیہ شہر بانو کی درخواست پر فیصلہ دیا تھا کہ جج کے مستعفی یا مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد اس کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکتی۔
واضح رہے کہ عافیہ شہر بانو نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں درخواست دائر کی تھی تاہم بطور چیف جسٹس انھوں نے اس شکایت کو نہیں سنا تھا اور ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد انھوں نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی اور کہا تھا کہ سابق چیف جسٹس سے تمام مراعات واپس لی جائیں، جس پر جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے فیصلہ دیا تھا کہ اعلیٰ عدلیہ کا جو جج ریٹائرڈ یا مستعفی ہو جائے تو ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی نہیں کی جا سکتی۔
سپریم کورٹ میں سابق جج اسلام آباد ہائیکورٹ شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کے خلاف اپیل پر سماعت جاری۔
دورانِ سماعت سابق دی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے وکیل خواجہ حارث کا دلائل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ’شوکت عزیز صدیقی کی اپنی تقریر ہی کافی ہے کہ انھوں نے مس کنڈکٹ کا مظاہرہ کیا، تقریر میں عدلیہ کی تضحیک کی گئی۔‘
اس پر ریمیرکس دیتے ہوئے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’تقریر کر کے کیسے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی، متعلقہ شق دکھائیں، آپ ججز کا کوڈ آف کنڈکٹ پڑھ لیں، تقریر کو پبلسٹی نہیں بلکہ نشاندہی کرنے والے کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر ایک ادارے میں کرپشن ہو تو کسی جج کو کیا کرنا چاہیے۔‘
اس پر خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ ’اسے اپنے چیف جسٹس کو بتانا چاہیے۔‘
ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’کسی چیف جسٹس کی بات تسلیم کرنے اور کسی جج کی بات تسلیم نہ کرنے کا کوئی معیار تو ہونا چاہیے۔ قوم اب کافی کچھ برداشت کر چکی ہے۔ ہماری تشویش ادارے کی ساکھ سے متعلق ہے۔ قوم کو سچ کا علم ہونا چاہیے۔ کیا آپ نہیں چاہتے سچ سامنے آنا چاہیے؟ ہم کارروائی کو کیسے آگے بڑھائیں؟‘
وکیل سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’سپریم کورٹ ازخود نوٹس لے۔‘
اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’قوم کو بھی پتہ چلنا چاہیے الزامات سچے ہیں یا جھوٹے، ادارے لوگوں کی خدمت کیلئے ہوتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK/ QASIM KHAN SURI
سپریم کورٹ میں سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نااہلی کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے قاسم سوری کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا ہے۔ قاسم سوری کو اپنے دستخط کے ساتھ خود جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس فائز عیسی نے ریمارکس دیے قاسم سوری ملک میں آئینی بحران کی وجہ بنے۔ قاسم سوری نے حکم امتناع لے کر پوری اسمبلی مدت کو انجوائے کیا۔ اب کہہ رہے ہیں اسمبلی ختم کیس غیر موثر ہو گیا۔ قاسم سوری پر کیوں نہ آئین شکنی کی کارروائی کا حکم دیا جائے۔ حکم امتناع لینے کے بعد مقدمہ سماعت کیلئے مقرر ہی نہیں کرنے دیا گیا۔
سپریم کورٹ کے اندرونی سسٹم کے ساتھ ہیراپھیری کی گئی۔ وکیل نعیم بخاری نے آگاہ کیا کہ قاسم سوری کا مقدمہ دیگر کیسز کےساتھ عدالت نے یکجا کر دیا تھا۔ چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ کونسا مقدمہ لگنا ہے کونسا نہیں سپریم کورٹ میں پہنچنے والے لمبے ہاتھ ختم کر رہے ہیں۔ معلوم ہے مقدمات کیسے یکجا کرائے جاتے ہیں۔
سپریم کورٹ نے قاسم سوری کا کیس مقرر نا ہونے اور سٹے برقرار رہنے پر رجسٹرار کو نوٹس کرتے ہوئے تین ہفتے میں رپورٹ طلب کر لی۔ عدالت نے قاسم خان سوری کے حریف لشکری رئیسانی کو بھی نوٹس جاری کر دیا۔ کیس کی آئندہ سماعت ایک ماہ بعد ہوگی۔
سپریم کورٹ میں سابق جج اسلام آباد ہائیکورٹ شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کے خلاف اپیل پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ سماعت کر رہا ہے۔ لارجر بینچ میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس عرفان سعادت شامل ہیں۔
آج اس سپریم کورٹ میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید اور آئی ایس آئی کے سابق اہلکار برگیڈیئر (ر) عرفان رامے کی جانب سے اُن کے وکیل خواجہ حارث دلائل دے رہے ہیں۔
خواجہ حارث کے ساتھ عدالت میں پیش ہونے والے وکیل وسیم سجاد سے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے سوال کیا گیا کہ آپ کس کے وکیل ہیں جس پر اُن کا کہنا تھا کہ ’میں سابق چیف جسٹس ہائی کورٹ انور کانسی کا وکیل ہوں۔‘
وکیل شوکت صدیقی کا دلائل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ’سپریم جوڈیشل کونسل صدر پاکستان کو بنا انکوائری کوئی رپورٹ پیش نہیں کر سکتی۔‘
اس پر سماعت کرنے والے پانچ رُکنی بینچ میں شامل جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ ’آپ کے موکل پر الزام کیا ہے؟‘ جس پر حامد خان کا کہنا تھا کہ ’تقریر کرنے کا الزام ہے۔‘