پشاور
ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دینے اور انتخابی نشان
کے حصول سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے ہیں کہ
’یہاں پر کبھی ایک اور کبھی دوسرا لاڈلا بن جاتا ہے۔‘
بدھ
کو پشاور ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم دینے کے خلاف
اور انتخابی نشان کے حصول سے متعلق مقدمے کی سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس ارشد
علی پر مشتمل دو رکنی بنچ کر رہا ہے۔
سماعت
کے آغاز پر انصاف لائرز فورم کی جانب سے عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ پی ٹی آئی کے رہنما
اور وکیل بیرسٹر گوہر اسلام آباد میں مصروفیات کے باعث آج نہیں آئیں گے، ہمارے
دلائل مکمل ہوچکے ہیں، قانونی طور پر آج بیرسٹر گوہر کی ضرورت نہیں۔
پی
ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ امید ہے آج عدالت جلد فیصلہ سنائے گی، آج
تاریخی دن ہے اور اہم فیصلہ ہوگا، آج جمہوریت کی تاریخ کا اہم فیصلہ ہوگا، اگر
’بلا‘ نہ ملا تو بھی تیار ہیں لیکن فی الحال اس پر نہیں سوچنا چاہیے۔
کیس
میں فریق جہانگیر کے وکیل نوید اختر ایڈووکیٹ نے عدالت سے کہا کہ آج سپریم کورٹ میں
بھی کیس لگا ہے، جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ یہ بات کل ختم ہوچکی ہے، انھوں
نے بتایا وہ وہاں کیس نہیں کررہے، اگر کل یہ نہ بتایا ہوتا تو ہم پھر پرسوں کی تاریخ
دیتے۔
اس
موقع پر بیرسٹر ظفر نے عدالت کو انتخابی نشان کیس کے معاملے پر سپریم کورٹ سے رجوع
نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
اس
مقدمے میں صوابی کے فریق یوسف علی کے وکیل قاضی جواد ایڈووکیٹ نے عدالت کو آگاہ کیا
کہ میرے مؤکل پی ٹی آئی کے سابقہ ضلعی جنرل سیکرٹری رہے ہیں، میرے مؤکل کو میڈیا
سے پتا چلا کہ انٹرا پارٹی انتخابات ہورہے ہیں، وہ الیکشن میں حصہ لینا چاہتے تھے
لیکن ان کو موقع نہیں دیا گیا۔
اس
پر جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ آپ نے یہ نہیں کہا کہ انٹرا پارٹی الیکشن
دوبارہ کرائے جائے، الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دیا تو
آپ کو چاہیے تھا کہ دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کرتے، آپ اگر پارٹی سے تھے تو پارٹی
نشان واپس لینے پر آپ کو اعتراض کرنا چاہیے تھا لیکن آپ نے نہیں کیا۔
قاضی
جواد ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہمیں تو انتخابات میں موقع نہیں دیا گیا، اس کے خلاف الیکشن
کمیشن گئے، انٹرا پارٹی انتخابات پورے ملک کے لیے ہے، ہائی کورٹ صرف صوبے کو دیکھ
سکتا ہے۔
جسٹس
ارشد علی نے استفسار کیا کہ کیا ہر صوبے میں الگ الگ کیس کرنا چاہیے تھا ان کو؟
انٹرا پارٹی الیکشن پشاور میں ہوا تو یہاں پر کیسے کیس نہیں کرسکتے؟ جسٹس
اعجاز انور نے استفسار کیا کہ جو الیکشن ہوئے اس میں تمام ممبران منتخب ہوئے یا
صرف صوبے کی حد تک؟
جسٹس
اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ وہ آرڈر آپ نے پڑھا ہے، اس میں کہا ہے کہ کیس پشاور
ہائی کورٹ میں ہے اس لیے مداخلت نہیں کرتے، کیا کوئی انتخابات بغیر نشان کے منعقد
ہوئے؟
قاضی
جواد ایڈووکیٹ نے کہا کہ ماضی میں نان پارٹی انتخابات ہوئے، پارٹیز ختم بھی ہوئی
تو نئی بن گئی، اس پر جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ دیکھ لیں وہ مارشل لا کے
دور میں ہوا ہے۔
قاضی
جواد ایڈووکیٹ نے کہا کہ لیکن یہ سب ایک لیگل فریم کے اندر ہوا ہے۔ جسٹس
اعجاز انور نے استفسار کیا کہ اچھا آپ یہ بتائیں آپ کی پارٹی ہے تو کیا ان کو
انتخابی نشان ملنا چاہیے؟ اس پر قاضی جواد ایڈووکیٹ نے کہا کہ میں رولز کی بات
کرتا ہوں جو قانون ہے وہی ہونا چاہیے۔
جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیے کہ نہیں ویسے آپ کیا چاہتے ہیں ان کے خلاف انتخابی نشان واپسی کی کارروائی ٹھیک ہے؟
قاضی
جواد ایڈووکیٹ نے جواب دیا کہ میں تو قانون کی بالادستی کی بات کرتا ہوں، قانون کے
مطابق کارروائی کو سپورٹ کرتا ہوں۔ انھوں نے مزید کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ دوبارہ
انٹرا پارٹی انتخابات ہوں اور اس میں حصہ لوں، ان کو شوکاز نوٹسز دیے گئے۔سب کچھ کوئی
ایک دن میں نہیں ہوا۔
دریں
اثنا کیس میں فریق صوابی کے یوسف علی کے وکیل قاضی جواد کے دلائل مکمل ہوگئے، جس
کے بعد کیس میں فریق کوہاٹ کے شاہ فہد کے وکیل طارق آفریدی نے دلائل کا آغاز کیا۔
طارق
آفریدی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ سن سکتا ہے، پشاور
ہائی کورٹ اس کیس کو نہیں سن سکتا، ہائی کورٹ کے حدود سے متعلق آرٹیکل 199 واضح
ہے۔
جسٹس
اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ آپ کو عدالت میں موجود ہونا چاہیے تھا، قاضی جواد نے
بھی اختیارات پر ایک گھنٹہ لیا۔
اس
دوران کیس میں فریق کوہاٹ کے شاہ فہد کے وکیل احمد فاروق ایڈووکیٹ نے کہا کہ یہ
پارٹی جیسے ہی بنی وہیں سے لاڈلا پن شروع ہوا، اس پر جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے
کہ آپ قانونی بات کریں، یہاں پر کبھی ایک اور کبھی دوسرا لاڈلا بن جاتا ہے۔
احمد
فاروق ایڈووکیٹ نے کہا کہ اپنے کارکنوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں دیا، انٹرا پارٹی
انتخابات کا اچانک بلبلا اٹھا اور اعلان کیا گیا کہ کابینہ بن گئی۔
جسٹس
اعجاز انور کے ریمارکس دیے کہ وہی بلبلا ابھی پھٹا ہے، ان ریمارکس پر عدالت میں
قہقہے گونج اٹھے۔
احمد
فاروق ایڈووکیٹ نے کہا کہ انتخابات آئین کے مطابق نہیں کرائے گئے، الیکشن کمیشن فیصلہ
کے خلاف بھی سول کورٹ جانا چاہیے تھا، الیکشن ایکٹ میں یہ لازمی نہیں کہ ہر
انتخاباب میں وہی نشان ملے گا، اگر 2 جماعتیں مانگ لیں تو الیکشن کمیشن کو اختیار
ہے۔
کیس
میں فریق نورین فاروق اور راجا طاہر کے وکیل میاں عزیز الدین نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ انٹرا پارٹی انتخابات کے بعد
الیکشن کمیشن کے پاس سرٹیفیکٹ مجاز شخص نے جمع نہیں کیا، جب فریقین کو معلوم ہوا
تو عدالت میں کیس کردیا، عدالت نے کیس کمیشن کے پاس بھیج دیا، اس کے بعد مجاز شخص
کے ذریعے سرٹیفیک جمع کیا گیا۔
اس
کے بعد کیس میں فریق چارسدہ کے جہانگیر کے وکیل نوید اختر نے دلائل کا آغاز کرتے
ہوئے کہا کہ میرا مؤکل ضلعی صدر رہ چکا ہے، ایک بیان پر جہانگیر کو پارٹی سے فارغ
کیا گیا، آئین کے مطابق عہدیداروں کو منتخب نہیں کیا گیا جو لازمی ہے۔
انھوں
نے کہا کہ عہدیداروں کی تازہ فہرست الیکشن کمیشن کو دینی ہوتی ہے، انتخابی نشان بھی
سیاسی پارٹی کو اس کی کریڈیبلیٹی کے مطابق دیا جاتا ہے، پارٹی کے آئین اور ووٹر کے
تحفظ کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
دریں
اثنا عدالت نے ریمارکس دیے کہ مزید کیس کو وقفے کے بعد سنتے ہیں اور عدالت نے سماعت میں وقفہ کردیا۔