آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

استعفیٰ دینے والے سپریم کورٹ کے سینیئر جج جسٹس اعجاز الاحسن کون ہیں؟

سپریم کورٹ کے تین سب سے سینیئر ججز میں سے ایک جسٹس اعجاز الاحسن اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں اور انھوں نے اپنا استعفی صدر مملکت کو بھجوا دیا ہے۔ انھوں نے جمعرات کو سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے خلاف شکایات کی کارروائی میں حصہ نہیں لیا تھا۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل: پشاور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کا انتخابی نشان ’بلا‘ بحال کر دیا

    پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن اور انتخابی نشان سے متعلق کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے پی ٹی آئی کا انتخابی نشان ’بلا‘ بحال کر دیا ہے۔

    بدھ کو پشاور ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم دینے کے خلاف اور انتخابی نشان کے حصول سے متعلق مقدمے کی سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس ارشد علی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی۔

    عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا کہ الیکشن کمیشن کا 22 دسمبر کا فیصلہ غیر آئینی ہے۔

    فیصلے میں عدالت نے کہا کہ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کا سرٹیفیکیٹ ویب سائٹ پر جاری کیا جائے۔ پی ٹی آئی بلے کے نشان کی حقدار ہے۔‘

    یاد رہے کہ 22 دسمبر کو الیکشن کمیشن نے اپنا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن کو کالعدم قرار دیا تھا اور اس فیصلے کے ساتھ ہی پی ٹی آئی اپنے انتخابی نشان بَلے سے محروم ہو گئی تھی۔

  2. سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر نقوی اپنے عہدے سے مستعفی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر نقوی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انھوں نے اپنا استعفیٰ صدر مملکت عارف علوی کو بھجوایا ہے۔

    اس سے قبل جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل کو شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرایا۔ اپنے جواب میں جسٹس مظاہر نقوی نے خود پر عائد الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل جج کے خلاف معلومات لے سکتی ہے لیکن کونسل جج کے خلاف کسی کی شکایت پر کارروائی نہیں کر سکتی۔

    جواب میں جسٹس مظاہر نقوی نے کہا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جاری احکامات رولز کی توہین کے مترادف ہیں۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے اٹارنی جنرل کی بطور پراسیکیوٹر تعیناتی پر بھی اعتراض کیا۔

    اپنے جواب میں جسٹس مظاہرنقوی نے کہا ہے کہ لاہور کینٹ میں خریدا گیا گھر ٹیکس گوشواروں میں ظاہر کیا گیا، ایس ٹی جونز پارک والے گھر کی قیمت کا تخمینہ ڈی سی ریٹ کے مطابق لگایا گیا تھا۔

    جسٹس مظاہرنقوی نے اپنے جواب میں سپریم جوڈیشل کونسل سے شکایات خارج کرنے اور کارروائی ختم کرنے کی استدعا کی ہے۔

    واضح رہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی جو کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے سربراہ بھی ہیں، نے سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس گیارہ جنوری کو طلب کیا تھا اور اس میں ان 10 گواہوں کو بھی طلب کیا گیا ہے جنھوں نے جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے خلاف شکایات درج کروائی تھیں۔

    کونسل نے اٹارنی جنرل کو اس معاملے میں سپریم کورٹ کے جج کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے پراسیکوٹر مقرر کیا تھا۔

    سپریم جوڈییشل کونسل نے ان شکایات پر جسٹس مظاہر اکبر نقوی کو دو مرتبہ شو کارز نوٹس جاری کیے تھے اور گزشتہ روز جسٹس امین الدین کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے مزکورہ جج کی طرف سے سپریم کوڈیشل کونسل کی کارروائی روکنے کے لیے دائر کی گئی درخواست پر حکم امتناع جاری کرنے سے انکار کردیا تھا۔

    جسٹس مظاہر نقوی پر کیا الزامات ہیں؟

    سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے خلاف جمع کروائی گئی شکایات میں ان جائیدادوں کی تفصیلات بتائی گئی ہیں جو انھوں نے مبینہ طور پر اپنی سروس کے دوران بنائیں۔

    میاں داؤد ایڈووکیٹ کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل میں جمع کروائی گئی درخواست کے ساتھ جسٹس مظاہر اکبر نقوی، ان کے بیٹوں کے نام ’مشکوک انداز میں‘ خریدی گئی جائیدادوں کی دستاویزات منسلک ہیں۔

    اس شکایت میں جسٹس مظاہر اکبر نقوی کی بیٹی کو برطانوی بینک اکاؤنٹ میں بھیجے گئے پاؤنڈز کی رسید بھی منسلک ہے۔ شکایت کے ساتھ منسلک دستاویزات میں کہا گیا کہ جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے 2021 میں گلبرگ لاہور میں 2 کنال 4 مرلے کا پلاٹ 4 کروڑ 44 لاکھ میں خریدا جبکہ اسے 7 کروڑ 20 لاکھ کا ڈکلیئر کیا گیا۔

    ان دستاویزات میں یہ بھی کہا گیا کہ جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے یہ پلاٹ 2022 میں 13 کروڑ میں اپنے مبینہ فرنٹ مین محمد صفدر کو فروخت کر دیا اور بعد ازاں اسے 4 کروڑ 96 لاکھ روپے کا ڈکلیئر کیا۔

    ان دستاویزات میں مزید کہا گیا ہے کہ جسٹس مظاہر نقوی نے سینٹ جونز پارک کینٹ میں 65 کروڑ مارکیٹ ویلیو والا 4 کنال کا پلاٹ 10 کروڑ 70 لاکھ روپے میں خریدا۔

    ان دستاویزات میں یہ بھی کہا گیا کہ مذکورہ جج نے اپنے مبینہ فرنٹ مین کی مدد سے ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک کنال کا پلاٹ صرف پانچ لاکھ روپے میں دلوایا جبکہ مارکیٹ میں اس پلاٹ کی قیمت اس وقت بیس لاکھ روپے سے زیادہ تھی۔

    ان دستاویزات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے دو بیٹوں کو ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں کمرشل پلاٹ محض نو لاکھ روپے میں دیے گئے جبکہ مارکیٹ میں ان پلاٹ کی ویلیو تین کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔

    ان دستاویزات میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ مذکورہ جج کی بیٹی کے فارن کرنسی اکاؤنٹ میں دس ہزار برطانوی پاؤنڈز دبئی سے ٹراسنفر کیے گئے۔

  3. ’سعودی عرب غزہ جنگ کے بعد اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے میں بدستور دلچسپی رکھتا ہے‘

  4. بریکنگ, سپریم کورٹ: سنگین غداری کیس میں سابق صدر پرویز مشرف کو سزائے موت دینے کا خصوصی عدالت کا فیصلہ برقرار, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

    سپریم کورٹ نے سابق آرمی چیف اور فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی سزا کے خلاف اپیل خارج کرتے ہوئے خصوصی عدالت کا سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے چار رکنی لارجر بینچ نے متفقہ طور پر سابق فوجی صدر کی اپیل کو خارج کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کا خصوصی عدالت کی تشکیل غیرآئینی قرار دینے کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دیا ہے۔

    یاد رہے کہ 17 دسمبر 2019 کو پشاور ہائیکورٹ کے اُس وقت کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کی سربراہی میں بننے والی خصوصی عدالت کے تین رکنی بینچ نے پرویز مشرف کو آئین شکنی اور سنگین غداری کا مجرم قرار دیتے ہوئے انھیں سزائے موت دینے کا فیصلہ سُنایا تھا۔

    تاہم 13 جنوری 2020 کو جسٹس مظاہر علی نقوی (موجودہ سپریم کورٹ جج) کی سربراہی میں لاہور ہائیکورٹ کے تین رکنی فل بینچ نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں سزائے موت سنانے والی خصوصی عدالت کی ناصرف تشکیل کو غیرقانونی قرار دیا بلکہ اس میں ہونے والی تمام تر کارروائی کو بھی کالعدم قرار دیا تھا۔

    لاہور ہائیکورٹ کے اس فیصلے کے خلاف پاکستان بار کونسل نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ اس درخواست میں پاکستان بار کونسل کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ آئین شکنی کے مقدمے کی سماعت کے لیے خصوصی عدالتی تشکیل سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے حکم پر کی گئی اور لاہور ہائی کورٹ جو کہ سپریم کورٹ کے ماتحت ہے کیسے اس فیصلے کی حکم عدولی کر سکتا ہے۔

    جبکہ خصوصی عدالت کی جانب سے دی جانے والی سزا کے خلاف اپیل سابق صدر مشرف کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی۔

    خصوصی عدالت نے سزائے موت کے فیصلے میں کیا کہا تھا؟

    17 دسمبر 2019 کو پشاور ہائیکورٹ کے اُس وقت کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کی سربراہی میں بننے والی خصوصی عدالت کے تین رکنی بینچ نے پرویز مشرف کو آئین شکنی اور سنگین غداری کا مجرم قرار دیتے ہوئے انھیں سزائے موت دینے کا فیصلہ سُنایا تھا۔

    بینچ میں موجود دو ججز یعنی جسٹس سیٹھ وقار اور جسٹس شاہد کریم نے پرویز مشرف کو آئین شکنی اور سنگین غداری کا مجرم قرار دیا تھا جبکہ جسٹس نذر اکبر نے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ استغاثہ اپنا کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ خصوصی عدالت کے 196 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں جسٹس نذر اکبر کا 42 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ بھی شامل ہے۔

    فیصلے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ استغاثہ کے شواہد کے مطابق ملزم مثالی سزا کا مستحق ہے اور اسے ہر الزام میں الگ الگ سزائے موت سنائی جاتی ہے۔

    خصوصی عدالت نے سربراہ جسٹس سیٹھ وقار نے اپنے فیصلے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حکم دیا تھا کہ وہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو گرفتار کرنے اور سزا پر عملدرآمد کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں اور اگر وہ (پرویز مشرف) مردہ حالت میں ملیں تو ان کی لاش اسلام آباد کے ڈی چوک لائی جائے جہاں اسے تین دن تک لٹکایا جائے۔

    جسٹس وقار نے اپنے اس حکم کی توجیہہ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ چونکہ ماضی میں کسی بھی فرد کو پاکستان میں اس جرم میں سزا نہیں دی گئی اور عدالت نے اپنا فیصلہ مجرم کی عدم موجودگی میں سنایا ہے، اس لیے اگر مجرم سزا پانے سے قبل وفات پا جاتا ہے تو یہ سوال اٹھے گا کہ آیا فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔

    مشرف کو سزا دینے کے حق میں فیصلہ دینے والے دوسرے جج جسٹس شاہد کریم نے جسٹس سیٹھ وقار کے فیصلے میں پرویز مشرف کی موت کی صورت میں ان کی لاش ڈی چوک پر لٹکانے کے حکم سے اختلاف کیا تھا اور کہا تھا کہ اُن کے خیال میں مجرم کو سزائے موت دینے کا حکم کافی ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا تھا کہ آئین شکنی اور سنگین غداری ایک آئینی جرم ہے اور یہ وہ واحد جرم ہے جس کی سزا آئینِ پاکستان میں دی گئی ہے۔

    آئین کی شق نمبر چھ کے مطابق وہ شخص جس نے 23 مارچ 1956 کے بعد آئین توڑا ہو یا اس کے خلاف سازش کی ہو ، اس کے عمل کو سنگین غداری قرار دیا جائے گا اور اس کو عمر قید یا سزائے موت سنائی جائے گی۔

    آج کی سماعت کے دوران کیا ہوا؟

    اس کیس میں بدھ کے روز ہونے والی سماعت کے آغاز پر پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اُن کے مرحوم مؤکل کے ورثا بیرون ملک میں مقیم ہیں اور انھوں نے ورثا سے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی اور انھیں پیغامات بھی بھیجے لیکن انھوں نے اس بارے میں کوئی جواب نہیں دیا۔

    جس پر بینچ کے سربراہ قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف کے ورثا کی عدم موجودگی یا اجازت کے بغیر ان کے وکیل کو نہیں سنا جا سکتا۔

    انھوں نے کہا کہ مفروضوں کی بنیاد پر فیصلے نہیں ہونے چاہییں جبکہ عدالت ورثا کے حق کے لیے کوئی دروازہ بند نہیں کرنا چاہتی۔

    بینچ میں موجود جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 12 کے تحت پرویز مشرف کے ساتھ ملوث تمام افراد کے خلاف عدالتی کارروائی کے دروازے تو کھلے ہیں۔ سابق فوجی صدر کے وکیل کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی کے نفاذ میں پرویز مشرف تنہا ملوث نہیں تھے اور اس وقت کے وزیراعظم، وزیر قانون، پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کے ججز بھی اس میں ملوث تھے۔

    سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کو سنے بغیر خصوصی عدالت نے سزا دی اور ایک شخص کو پورے ملک کے ساتھ ہوئے اقدام پر الگ کر کے سزا دی گئی۔

    اس پر چیف جسٹس نے سابق فوجی صدر کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کے لاہور ہائیکورٹ کے بارے میں تحفظات کیا ہیں؟ جس پر سلمان صفدر نے کہا کہ میں لاہور ہائیکورٹ میں مشرف کا ٹرائل کرنے والے جج کے سامنے سپریم کورٹ میں بھی پیش نہیں ہوتا تھا۔

    انھوں نے چیف جسٹس سے استدعا کی کہ وہ اس بارے میں چیمبر میں کچھ گذارشات کرنا چاہتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے انھیں جواب دیا کہ وہ کسی کو چیمبر نہیں بلاتے ہیں۔

    سماعت کے دوران عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان سے استفسار کیا کہ آپ پرویز مشرف کی اپیل کی مخالفت کر رہے ہیں یا حمایت؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی حکومت سابق فوجی صدر کی اپیل کی مخالفت کرتی ہے۔

    پاکستان بار کونسل کے وکیل حامد خان کا کہنا تھا کہ سابق فوجی صدر پرویزمشرف نے سزا کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے جو کریمنل اپیل ہے، ہماری درخواست لاہور ہائیکورٹ کے سزا کالعدم کرنے کے خلاف ہے جو آئینی معاملہ ہے، چنانچہ دونوں اپیلوں کو الگ الگ کر کے سنا جائے تاہم عدالت نے اس سے اتفاق نہیں کیا اور چیف جسٹس نے کہا کہ موجودہ کیس میں لاہور ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار اور اپیل دو الگ معاملات ہیں، لیکن وہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔

  5. پی ٹی آئی کے انتخابی نشان سے متعلق کیس: ’یہاں کبھی ایک، کبھی دوسرا لاڈلا بن جاتا ہے‘ جسٹس اعجاز انور

    پشاور ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دینے اور انتخابی نشان کے حصول سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے ہیں کہ ’یہاں پر کبھی ایک اور کبھی دوسرا لاڈلا بن جاتا ہے۔‘

    بدھ کو پشاور ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم دینے کے خلاف اور انتخابی نشان کے حصول سے متعلق مقدمے کی سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس ارشد علی پر مشتمل دو رکنی بنچ کر رہا ہے۔

    سماعت کے آغاز پر انصاف لائرز فورم کی جانب سے عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ پی ٹی آئی کے رہنما اور وکیل بیرسٹر گوہر اسلام آباد میں مصروفیات کے باعث آج نہیں آئیں گے، ہمارے دلائل مکمل ہوچکے ہیں، قانونی طور پر آج بیرسٹر گوہر کی ضرورت نہیں۔

    پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ امید ہے آج عدالت جلد فیصلہ سنائے گی، آج تاریخی دن ہے اور اہم فیصلہ ہوگا، آج جمہوریت کی تاریخ کا اہم فیصلہ ہوگا، اگر ’بلا‘ نہ ملا تو بھی تیار ہیں لیکن فی الحال اس پر نہیں سوچنا چاہیے۔

    کیس میں فریق جہانگیر کے وکیل نوید اختر ایڈووکیٹ نے عدالت سے کہا کہ آج سپریم کورٹ میں بھی کیس لگا ہے، جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ یہ بات کل ختم ہوچکی ہے، انھوں نے بتایا وہ وہاں کیس نہیں کررہے، اگر کل یہ نہ بتایا ہوتا تو ہم پھر پرسوں کی تاریخ دیتے۔

    اس موقع پر بیرسٹر ظفر نے عدالت کو انتخابی نشان کیس کے معاملے پر سپریم کورٹ سے رجوع نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

    اس مقدمے میں صوابی کے فریق یوسف علی کے وکیل قاضی جواد ایڈووکیٹ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ میرے مؤکل پی ٹی آئی کے سابقہ ضلعی جنرل سیکرٹری رہے ہیں، میرے مؤکل کو میڈیا سے پتا چلا کہ انٹرا پارٹی انتخابات ہورہے ہیں، وہ الیکشن میں حصہ لینا چاہتے تھے لیکن ان کو موقع نہیں دیا گیا۔

    اس پر جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ آپ نے یہ نہیں کہا کہ انٹرا پارٹی الیکشن دوبارہ کرائے جائے، الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دیا تو آپ کو چاہیے تھا کہ دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کرتے، آپ اگر پارٹی سے تھے تو پارٹی نشان واپس لینے پر آپ کو اعتراض کرنا چاہیے تھا لیکن آپ نے نہیں کیا۔

    قاضی جواد ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہمیں تو انتخابات میں موقع نہیں دیا گیا، اس کے خلاف الیکشن کمیشن گئے، انٹرا پارٹی انتخابات پورے ملک کے لیے ہے، ہائی کورٹ صرف صوبے کو دیکھ سکتا ہے۔

    جسٹس ارشد علی نے استفسار کیا کہ کیا ہر صوبے میں الگ الگ کیس کرنا چاہیے تھا ان کو؟ انٹرا پارٹی الیکشن پشاور میں ہوا تو یہاں پر کیسے کیس نہیں کرسکتے؟ جسٹس اعجاز انور نے استفسار کیا کہ جو الیکشن ہوئے اس میں تمام ممبران منتخب ہوئے یا صرف صوبے کی حد تک؟

    جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ وہ آرڈر آپ نے پڑھا ہے، اس میں کہا ہے کہ کیس پشاور ہائی کورٹ میں ہے اس لیے مداخلت نہیں کرتے، کیا کوئی انتخابات بغیر نشان کے منعقد ہوئے؟

    قاضی جواد ایڈووکیٹ نے کہا کہ ماضی میں نان پارٹی انتخابات ہوئے، پارٹیز ختم بھی ہوئی تو نئی بن گئی، اس پر جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ دیکھ لیں وہ مارشل لا کے دور میں ہوا ہے۔

    قاضی جواد ایڈووکیٹ نے کہا کہ لیکن یہ سب ایک لیگل فریم کے اندر ہوا ہے۔ جسٹس اعجاز انور نے استفسار کیا کہ اچھا آپ یہ بتائیں آپ کی پارٹی ہے تو کیا ان کو انتخابی نشان ملنا چاہیے؟ اس پر قاضی جواد ایڈووکیٹ نے کہا کہ میں رولز کی بات کرتا ہوں جو قانون ہے وہی ہونا چاہیے۔

    جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیے کہ نہیں ویسے آپ کیا چاہتے ہیں ان کے خلاف انتخابی نشان واپسی کی کارروائی ٹھیک ہے؟

    قاضی جواد ایڈووکیٹ نے جواب دیا کہ میں تو قانون کی بالادستی کی بات کرتا ہوں، قانون کے مطابق کارروائی کو سپورٹ کرتا ہوں۔ انھوں نے مزید کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ دوبارہ انٹرا پارٹی انتخابات ہوں اور اس میں حصہ لوں، ان کو شوکاز نوٹسز دیے گئے۔سب کچھ کوئی ایک دن میں نہیں ہوا۔

    دریں اثنا کیس میں فریق صوابی کے یوسف علی کے وکیل قاضی جواد کے دلائل مکمل ہوگئے، جس کے بعد کیس میں فریق کوہاٹ کے شاہ فہد کے وکیل طارق آفریدی نے دلائل کا آغاز کیا۔

    طارق آفریدی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ سن سکتا ہے، پشاور ہائی کورٹ اس کیس کو نہیں سن سکتا، ہائی کورٹ کے حدود سے متعلق آرٹیکل 199 واضح ہے۔

    جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ آپ کو عدالت میں موجود ہونا چاہیے تھا، قاضی جواد نے بھی اختیارات پر ایک گھنٹہ لیا۔

    اس دوران کیس میں فریق کوہاٹ کے شاہ فہد کے وکیل احمد فاروق ایڈووکیٹ نے کہا کہ یہ پارٹی جیسے ہی بنی وہیں سے لاڈلا پن شروع ہوا، اس پر جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ آپ قانونی بات کریں، یہاں پر کبھی ایک اور کبھی دوسرا لاڈلا بن جاتا ہے۔

    احمد فاروق ایڈووکیٹ نے کہا کہ اپنے کارکنوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں دیا، انٹرا پارٹی انتخابات کا اچانک بلبلا اٹھا اور اعلان کیا گیا کہ کابینہ بن گئی۔

    جسٹس اعجاز انور کے ریمارکس دیے کہ وہی بلبلا ابھی پھٹا ہے، ان ریمارکس پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔

    احمد فاروق ایڈووکیٹ نے کہا کہ انتخابات آئین کے مطابق نہیں کرائے گئے، الیکشن کمیشن فیصلہ کے خلاف بھی سول کورٹ جانا چاہیے تھا، الیکشن ایکٹ میں یہ لازمی نہیں کہ ہر انتخاباب میں وہی نشان ملے گا، اگر 2 جماعتیں مانگ لیں تو الیکشن کمیشن کو اختیار ہے۔

    کیس میں فریق نورین فاروق اور راجا طاہر کے وکیل میاں عزیز الدین نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ انٹرا پارٹی انتخابات کے بعد الیکشن کمیشن کے پاس سرٹیفیکٹ مجاز شخص نے جمع نہیں کیا، جب فریقین کو معلوم ہوا تو عدالت میں کیس کردیا، عدالت نے کیس کمیشن کے پاس بھیج دیا، اس کے بعد مجاز شخص کے ذریعے سرٹیفیک جمع کیا گیا۔

    اس کے بعد کیس میں فریق چارسدہ کے جہانگیر کے وکیل نوید اختر نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ میرا مؤکل ضلعی صدر رہ چکا ہے، ایک بیان پر جہانگیر کو پارٹی سے فارغ کیا گیا، آئین کے مطابق عہدیداروں کو منتخب نہیں کیا گیا جو لازمی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ عہدیداروں کی تازہ فہرست الیکشن کمیشن کو دینی ہوتی ہے، انتخابی نشان بھی سیاسی پارٹی کو اس کی کریڈیبلیٹی کے مطابق دیا جاتا ہے، پارٹی کے آئین اور ووٹر کے تحفظ کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

    دریں اثنا عدالت نے ریمارکس دیے کہ مزید کیس کو وقفے کے بعد سنتے ہیں اور عدالت نے سماعت میں وقفہ کردیا۔

  6. پولیس چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ تین پولیس اہلکاروں سمیت چار افراد ہلاک, عزیز اللہ خان بی بی سی اردو، پشاور

    خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں انڈس ہائی وی پر پولیس چوکی پر نامعلوم افراد نے دستی بموں اور جدید اسلحے سے حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں تین پولیس اہلکاروں سمیت چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    یہ واقعہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب تقریباً دو بجے ضلع کوہاٹ میں لاچی کے مقام پر ٹول پلازہ کے قریب پیش آیا ہے ۔

    ضلعی پولیس افسر فرحان خان نے بی بی سی کو بتایا کہ حملہ آوروں کی تعداد پانچ سے چھ تک بتائی گئی ہے اور حملہ آوروں نے دستی بم پھینکے ہیں اور جدید اسلحے سے فائرنگ کی ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ اس مقام سے ایم 4 ایس اور ایم 16 ایس کے استعمال ہونے کے شواہد بھی ملے ہیں۔ حملہ آوروں نے پہلے گرینیڈ پھینکے اور پھر فائرنگ کی۔

    اس حملے میں تین پولیس اہلکاروں سمیت چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ حملہ آور ٹول پلازہ سے رقم بھی ساتھ لے گئے ہیں ۔

    خیبر پختونخوا میں پولیس پر تین دنوں میں یہ چوتھا حملہ ہوا ہے ۔ منگل کو ضلع بنوں میں نامعلوم افراد نے انسداد پولیو مہم کے لیے جانے والے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی تھی جس میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوگئے تھے موقع پر موجود اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی جس سے ایک حملہ آور بھی زخمی ہوا تھا ۔

    دو روز پہلے پختونخوا کے قبائلی ضلع باجوڑ میں انسداد پولیو مہم کے لیے جانے والے پولیس اہلکاروں کے ٹرک پر آئی ای ڈی سے حملہ کیا گیا تھا۔ ٹرک کے قریب دھماکے سے پانچ اہلکار ہلاک اور 22 زخمی ہو گئے تھے۔ گزشتہ روز دو مزید زخمی بھی دم توڑ گئے تھے۔

    ان اہلکاروں کے جنازہ کے وقت جب اعلیٰ حکام موجود تھے اس وقت سادہ کپڑوں میں ملبوس ایک اہلکار نے کہا تھا کہ کب تک پولیس اہلکاروں کے یہ جنازے اٹھاتے رہیں گے ان حملوں کی روک تھام کے لیے اعلیٰ حکام کوئی اقدامات نہیں کر رہے آئے روز وہ لاشیں اٹھا رہے ہیں۔

    انھوں نے ایک گرینڈ جرگہ بلانے کا مطالبہ کیا اور کہاں کہ اس بارے میں اعلی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے۔

    پولیس حکام نے بتایا کہ ایسا لگتا ہے کہحملہ آوروں کو پہلے سے تمام معلومات حاصل تھیں کیونکہ مسلح افراد نے پہلے ڈیوٹی پر تعینات ایک اہلکار کو ماتھے پر فائر کیا ہے اس کے بعد وہ چوکی کے اندر داخل ہوئے ہیں جہاں ایک شہری موجود تھا اسے بھی پولیس اہلکار سمجھ کر مارا گیا ہے اور اس کے بعد اس کمرے میں دستی بم پھینکے ہیں جہاں پولیس اہلکار موجود تھے ۔

    اس چوکی میں ہائی وے کے اہلکار جس کمرے میں موجود تھے وہ محفوظ رہے ہیں۔ پولیس کے مطابق ایسی اطلاعات ہیں کہ حملہ آور ٹول پلازہ سے فرار ہوتے وقت اپنے ساتھ 80000 روپے سے ایک لاکھ روپے تک کی نقدی بھی ساتھ لے گئے ہیں ۔

  7. بریکنگ, لاہور کے این اے 130 سے پی ٹی آئی رہنما یاسمین راشد کے کاغذات نامزدگی منظور

    پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے حلقہ این اے 130 سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کو الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت مل گئی۔

    ایپلیٹ ٹریبیونل کے جج جسٹس طارق ندیم نے فیصلہ سناتے ہوئے ریٹرنگ افسر کا کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

    الیکشن ٹربیونل نے مقدمے کی سماعت کا آغاز کیا تو اس کے روبرو ڈیپٹی کمشنر اور ریٹرننگ افسر پیش ہوئے۔ ٹریبیونل کے جج جسٹس طارق ندیم نے استفسار کیا کہ ‏احکامات کے باوجود این اے 130 کا ریٹرنگ افسر کل ٹریبونل میں پیش کیوں نہ ہوا۔ ‏عدالت نے ریٹرننگ افسر کے غیر سنجیدہ رویے پر برہمی کا اظہار کیا۔

    جس پر ریٹرنگ افسر کا کہنا تھا کہ ‏میری گزشتہ روز طبعیت خراب ہوگئی تھی، ‏طبعیت ناساز ہونے پر چلا گیا تھا۔ جسٹس طارق ندیم نے کہا کہ ‏آپ غیر سنجیدہ ہین جس کی وجہ سے آج بھی اپیلوں پر سماعت کر رہے ہیں، ‏آج تمام اپیلوں پر فیصلے کرنا ہیں، جسٹس طارق ندیم نے کہا کہ ‏ہم صبح سے رات گئے بیٹھ کر اپیلیں سن رہے ہیں۔ ‏ٹریبونل نے آر او کا میڈیکل سرٹیفکیٹ مسترد کرتے ہوئے این اے 130 سے ڈاکٹر یاسمین راشد کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی۔

  8. بریکنگ, پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں انتخابی نشان ’بلے‘ کے حصول سے متعلق درخواست واپس لے لی, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے سپریم کورٹ میں ’بلے‘ کے انتخابی نشان کے حصول سے متعلق دائر درخواست واپس لے لی ہے۔

    بدھ کو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے پی ٹی آئی کے انتخابی نشان کے حصول سے متعلق درخواست کی سماعت کا آغاز کیا تو پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوھر اپنے وکیل حامد خان کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے۔

    انھوں نے عدالت سے کہا کہ ہم یہ درخواست واپس لینا چاہتے ہیں، جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بیرسٹر گوہر سے استفسار کیا کہ آپ کون ہیں؟ اس پر بیرسٹر گوہر نے جواب دیا کہ میں درخواست گزار کا وکیل ہوں۔

    چیف جسٹس نے حامد خان سے مخاطب ہو کر کہا کہ حامد خان صاحب آپ نے پرسوں کہا تھا آپ وکیل ہیں، حامد خان نے جواب دیا کہ ہمارا کیس اس وقت پشاور ہائیکورٹ میں ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کھڑے نہیں ہوئے، یہ بتائیں آپ وکیل نہیں ہیں اس کیس میں؟

    حامد خان نے جواب دیا کہ میں اس کیس میں وکیل نہیں ہوں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کل کو کوئی آکر یہ دعویٰ کر دے کہ ہم نے درخواست واپس نہیں کی تھی تو پھر؟

    علی ظفر کہاں ہیں انھیں تو اعتراض نہیں درخواست واپس لینے پر؟

    حامد خان نے کہا نہیں انھیں اعتراض نہیں، وہ اس وقت پشاور ہائیکورٹ میں ہیں، بیرسٹر گوہر نے استدعا کی کہ وہ اپنی درخواست واپس لینا چاہتے ہیں جس پر عدالت نے ان کی درخواست واپس لینےکی بنیاد پرنمٹا دی۔

    بعدازاں سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا پشاور ہائیکورٹ میں بلے کے نشان سے متعلق کیس چل رہا ہے،اس لیے سپریم کورٹ میں ہماری درخواست غیر موثر ہوچکی تھی، ہمیں امید ہے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ ہمارے حق میں ہو گا جس کی وجہ سے درخواست واپس لے لی۔

  9. سابق صدر پرویز مشرف کی سزائے موت کے فیصلے کے خلاف مقدمے کی سماعت آج سپریم کورٹ میں ہو گی, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

    سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی آئین شکنی کے مقدمے میں خصوصی عدالت کی طرف سے دی گئی سزائے موت کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت آج سپریم کورٹ میں ہو گی۔

    چیف جسٹس قاضی فائر عیسی کی سربراہی میں چار رکنی لارجر بینچ اس اپیل پر سماعت کرے گا۔

    گذشتہ سماعت کے دورانسابق فوجی صدر کے وکیل سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا تھا کہ پرویز مشرف کے ورثا اس معاملے میں مایوس ہو چکے ہیں اور اب وہ اس اپیل کی پیروی نہیں کرنا چاہتے جس پر عدالت نے مرحوم اپیل کنندہ کے ورثا کے ایڈریس معلوم کر کے سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس کو حکم دیا تھا کہ وہ ان سے رابطہ کرکے معلومات حاصل کریں اور عدالت کو آگاہ کریں۔

    واضح رہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس سیٹھ وقار کی سربراہی میں خصوصی عدالت نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو آئین شکنی کے مقدمے میں موت کی سزا سنائی تھی تاہم جس وقت انھیں موت کی سزا سنائی گئی تھی اس وقت پرویز مشرف ملک میں موجود نہیں تھے اور علاج کی غرض سے متحدہ امارات میں تھے جہاں پر ان کی وفات ہوئی۔

    خصوصی عدالت کے اس فیصلے کے خلاف لاہورہائی کورٹ کے ایک تین رکنی بینچ نےآئین شکنی کے مقدمے کی سماعت کرنے والے خصوصی بینچ کی تشکیل ہی غیر آئینی قرار دی تھی اور لاہور ہائی کورٹ کے اس تین رکنی بینچ میں جسٹس مظاہر اکبر نقوی بھی شامل تھے جنھیں اس فیصلے کے کچھ عرصے کے بعد سپریم کورٹ کا جج تعینات کر دیا گیا تھا۔

    لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف پاکستان بار کونسل نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے جس کی سماعت بھی آج ہی پرویز مشرف کی اپیل کے ساتھ ہی ہو گی۔

    اس درخواست میں پاکستان بار کونسل کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہآئین شکنی کے مقدمے کی سماعت کے لیے خصوصی عدالتکی تشکیل سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے حکم پر کی گئی اور لاہور ہائی کورٹ جو کہ سپریم کورٹ کے ماتحت ہے کیسے اس فیصلے کی حکم عدولی کرسکتی ہے۔

    یادرہے کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے خلاف شکایت سپریم جوڈیشل کونسل میں زیر سماعت ہے اور اس شکایت میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مزکورہ جج نے اپنے اختیارات کاغلط استعمال کرتے ہوئے آمدن سے زیادہ اثاثے بنائے ہیں۔

  10. بریکنگ, بلے کا انتخابی نشان: چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بنچ پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت آج کرے گا

    چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بنچ پی ٹی آئی کے انتخابی نشان کی بحالی کی درخواست پر سماعت آج کرے گا۔

    منگل کی شب جاری کردہ کاز لسٹ کے مطابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل تین رکنی بینچ پی ٹی آئی کی انتخابی نشان ’بلے‘ کی بحالی سے متعلق الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف سماعت کرے گا۔

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انٹرا پارٹی انتخابات کے انعقاد میں تضادات پر پارٹی کے انتخابی نشان بلے کو منسوخ کرنے کا حکم دیا تھا۔

    جبکہ پشاور ہائیکورٹ نے بھی اس حوالے سے پہلے حکم امتناع جاری کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کر دیا تھا بعدازاں حکم امتناع کو خارج کر دیا تھا۔

    سابق حکمراں جماعت نے پشاور ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پارٹی کو 2024 کے انتخابات اپنے روایتی نشان کے تحت لڑنے کی اجازت دی جائے۔

    الیکشن کمیشن کے خلاف توہین عدالت کے الزامات کے آغاز کے لیے پی ٹی آئی کی درخواست پر پیر کو ہونے والی سماعت میں، پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ نے افسوس کا اظہار کیا کہ ان کی پارٹی کی ’بلے‘ کے نشان کی بحالی کی درخواست ابھی تک سماعت کے لیے طے نہیں ہوئی، جس پر چیف جسٹس نے انھیں یقین دلایا کہ یہ جلد سماعت کے کیے مقرر کیا جائے گا۔

    پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر اور پارٹی چیئرمین گوہر علی خان کی طرف سے تیار کردہ درخواست میں عدالت عظمیٰ سے پشاور ہائیکورٹ کے حکم کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی۔

    پی ٹی آئی نے 26 دسمبر کو الیکشن کمیشن کے 22 دسمبر کے حکم کے خلاف پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا اور سنگل رکنی بنچ نے پارٹی کا انتخابی نشان بحال کر دیا تھا۔

    اس کے بعد الیکشن کمیشن کی آٹھ جنوری کو انٹرا کورٹ اپیل کے ذریعے پشاور ہائیکورٹ نے سنگل بینج کے فیصلے کو کالعدم کر دیا۔ یہ معاملہ اب سپریم کورٹ میں جا چکا ہے۔

    پی ٹی آئی کا استدلال ہے کہ ہائی کورٹ کی طرف سے الیکشن کمیشن کو عبوری ریلیف دینے سے ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے کیونکہ یہ حکم پی ٹی آئی کو انتخابات کے لیے امیدوار کھڑا کرنے میں غیر فعال کر دے گا، خاص طور پر جب کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کی آخری تاریخ 31 دسمبر تھی۔

  11. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    گذشتہ روز کی چند اہم خبریں:

    • اسلام اباد کی احتساب عدالت نے اڈیالہ جیل میں سماعت کے دوران سابق وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر توشہ خانہ ریفرنس میں فرد جرم عائد کی ہے۔ جبکہ جج محمد بشیر نے توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈ ریفرنسز میں عمران خان کی درخواستِ ضمانت مسترد کر دی ہے۔ اس دوران ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا جبکہ استغاثہ کی جانب سے 12 گواہان کو طلب کیا گیا۔ توشہ خانہ ریفرنس میں عمران خان پر الزام ہے کہ سابق وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ کو مختلف سربراہان مملکت کی جانب سے 108 تحائف ملے جن میں سے انھوں نے 58 تحائف اپنے پاس رکھ لیے اور ان تحائف کی ’کم مالیت ظاہر کی گئی۔
    • سابق وزیر اعظم عمران خان نے توشہ خانہ ریفرنس میں فرد جرم عائد ہونے پر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں دعویٰ کیا کہ انھیں اس چیز کی سزا دی جا رہی ہے کہ انھوں نے ’طاقتور کو قانون کے تابع کرنے کی کوشش کی۔ اڈیالہ جیل میں سماعت کے موقع پر موجود صحافیوں اور جیل حکام کے مطابق عمران خان نے کہا کہ ’توشہ خانہ میں کہا گیا ہے کہ میں نے اپنے آفس بوائے کے ذریعے اربوں روپے کی کرپشن کی۔ بطور وزیر اعظم میں نے کسی اور کا نہیں بلکہ آفس بوائے کا استعمال کیا، کیا ایسا ممکن ہے؟انھوں نے کہا کہ ’میرے خلاف چپڑاسی سمیت دو افراد کو وعدہ معاف گواہ بنایا گیا ہے۔ کیا یہ معاشرہ امر بالمعروف پر چل رہا ہے؟ جبکہ یہ ایک اسلامی معاشرہ ہے۔معاشرہ اچھائی، برائی پر ہوتا ہے۔ اچھائی ختم تو معاشرہ ختم۔ مجھے سزا دی جا رہی ہے کہ میں نے طاقتور کو قانون کے تابع کرنے کی کوشش کی۔‘
    • سپریم کورٹ نے جسٹس مظاہر نقوی کی سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی روکنے کی درخواست مسترد کر دی ہے اور اس کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کی گئی ہے۔ عدالت نے میاں داؤد سمیت جسٹس مظاہر کے خلاف شکایت گزاروں کو کیس میں فریق بنانے کا حکم دیا ہے۔ 11 جنوری کو جسٹس مظاہر کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی اوپن ہو گی۔ عدالت نے ہدایت دی کہ درخواست گزار جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف شکایات کنندگان کو فریق بنا کر ترمیمی آئینی درخواست دائر کریں۔ اس کی جانب سے کہا گیا کہ شکایت کنندگان کو فریق بنائے بغیر کارروائی آگے نہیں بڑھائی جا سکتی۔ جسٹس مظاہر نقوی کے وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کی یکطرفہ کونسل کی کارروائی روکنے کی مثال موجود ہے۔ جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ میرٹ پر کیس سنے بغیر حکم امتناع نہیں دے سکتے۔
    • راولپنڈی پولیس نے انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت کو آگاہ کیا ہے کہ انھوں نے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو جی ایچ کیو حملہ کیس میں گرفتار کر لیا ہے۔ یاد رہے کہ عمران خان پہلے ہی توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈ کے مبینہ کرپشن کیسوں میں اڈیالہ جیل میں مقید ہیں اور اب ان کی جی ایچ کیو حملہ کیس میں باضابطہ گرفتاری ڈالی گئی ہے۔ منگل کے روز انسدادِ دہشت گردی عدالت راولپنڈی کے جج ملک اعجاز آصف نے 9 مئی واقعات سے متعلق 12 کیسوں کی سماعت کی۔ عمران خان کو اڈیالہ جیل سے وڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کیا گیا۔ تمام 12 مقدمات کے ایس ایچ اوز ریکارڈ سمیت عدالت میں پیش ہوئے اور کیسوں میں پیش رفت سے متعلق عدالت کو آگاہ کیا۔ یاد رہے کہ جی ایچ کیو پر حملے کا مقدمہ راولپنڈی کے تھانہ آر اے بازار میں درج کیا گیا ہے جس میں عمران خان کو بھی بطور مرکزی ملزم نامزد کیا گیا ہے۔
    • سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ کے مقدمے سے متعلق اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اڈیالہ جیل میں اس مقدمے کی سماعت کے بعد شریک ملزمان کو اشتہاری قرار دینے کے ساتھ ساتھ ان کے اثاثے ضبط کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ملک ریاض اور ان کے بیٹے احمد علی ریاض کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادیں منجمد کرنے کا حکم جاری کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے حکم میں احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے شہزاد اکبر، زلفی بخاری، فرح گوگی، وکیل ضیا المصطفیٰ نسیم کے اثاثے اور بنک اکاونٹس بھی منجمد کرنے کا حکم دیا۔ اثاثوں اور بینک اکاؤنٹس کے منجمد ہونے کے ساتھ ساتھ عدالت کی جانب سے ملزمان کے نام رجسٹرڈ گاڑیاں بھی ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
    • ایپلٹ ٹربیونل نے ریٹرنگ آفیسر کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے، عثمان ڈار کی والدہ ریحانہ امتیاز کے قومی اسمبلی کہ حلقہ این اے 71 سے کاغذاتِ نامزدگی منظور کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ اس سے قبل 30 دسمبر 2023 کو سیالکوٹ کے حلقہ این اے 71 سے عثمان ڈار کی والدہ ریحانہ امتیاز کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے تھے۔ کاغذاتِ نامزدگی مسترد ہونے کی وجہ سے متعلق کہا جا رہا تھا کہ رٹرنگ آفسر یعنی آر او نے کاغذات میں سوشل سکیورٹی واجبات کی عدم ادائیگی اور اثاثے ظاہر نہ کرنے پر مسترد کیے تھے۔
  12. بی بی سی اُردو کی خصوصی لائیو کوریج میں خوش آمدید!

    بی بی سی اُردو کی خصوصی لائیو کوریج میں خوش آمدید!

    گذشتہ روز کی خبروں کی تفصیلات جاننے کے کے لیے یہاں کلک کریں