آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ہماری لڑائی بلوچ لواحقین سے نہیں بلکہ ہمیں مسئلہ ان سے ہے جو خواہ مخواہ ان کے ساتھ کھڑے ہیں: انوار الحق کاکڑ

پاکستان کے نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے مبینہ جبری گمشدگیوں کے خلاف اسلام آباد میں آئے احتجاجیوں کے حوالے سے کیے گئے ایک سوال پر جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ میرا ان لواحقین سے جھگڑا نہیں ہے میرا پورا پاکستان سے گلہ ہے جنھیں بات ہی ابھی تک سمجھ نہیں آئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. سابق وزیر اعظم عمران خان کے کاغذات نامزدگی قومی اسمبلی کے حلقہ 122 سے مسترد

    عام انتخابات کے لیے ریٹنگ افسران کی جانب سے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے عمل میں لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 122 سے سابق وزیر اعظم عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہو گئے ہیں۔

    عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر مسلم لیگ ن کے رہنما اور ممبر صوبائی اسمبلی میاں نصیر نے اعتراضات دائر کیے تھے۔

    اعتراضات کے مطابق ’عمران خان کے تجویز اور تائید کنندہ کا تعلق این اے 122 سے نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن نے سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو پانچ برس کے لیے نااہل کر رکھا ہے۔‘

    دوسری جانب اسی حلقے سے مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سردار لطیف کھوسہ کے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے گئے ہیں۔

    ریٹرنگ افسر کی جانب سے آویزاں فہرست کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ایڈوکیٹ اظہر صدیق کے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے گئے۔

  2. ’حکومت نہ لیتے تو پاکستان پر جو اثرات مرتب ہوتے اس کا کوئی اندازہ بھی نہیں کر سکتا‘

    سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان بہت مشکل حالات سے دوچار تھا، اگر حکومت نہ لیتے تو نا قابل اندازہ نقصان کا سامنا ہوتا۔

    پاکستان مسلم لیگ ن کے پالیمانی بورڈ کے اجلاس سے خطاب میں نواز شریف نے کہا کہ ’بہت سارے لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں 16 ماہ کی حکومت نہیں لینا چاہئے تھی۔ حکومت نہ لیتے تو پاکستان پر جو اثرات مرتب ہو جانے تھے اس کا کوئی اندازہ بھی نہیں کر سکتا تھا۔‘

    نواز شریف نے اس موقع پر شہباز شریف کی حکومت میں ان کے فیصلوں اور کارگزاری کی تعریف کی اور ساتھ بیٹھے شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر آپ نے تعاون نہ کیا ہوتا تو لوڈ شیڈنگ پر ہم قابو نہیں پا سکتے تھے۔‘

    اس سے قبل اپنے خطاب میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’میں سیاست میں آنا نہیں چاہتا تھا مگر نواز شریف کے باعث سیاست میں آیا۔ اب انہی کی قیادت میں سیاست کا سفر جاری ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ نوجوان نسل پاکستان کا اثاثہ ہیں۔ مریم نواز نے چیف آرگنائزر بننے کے بعد دن رات ایک کر کے محنت کی۔

  3. فواد چوہدری مزید چھ روز کے جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

    اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیر فواد چوہدری کا کرپشن کیس میں مزید چھ روز کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا ہے۔

    اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے فواد چوہدری کے خلاف جہلم میں تعمیری منصوبوں میں خوردبرد کیس کی سماعت کی جس سلسلے میں نیب نے 10 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر سابق وزیر کو عدالت میں پیش کیا گیا۔

    دوران سماعت نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ پہلے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ مانگا تھا تو 10 روزہ جسمانی ریمانڈ ملا تھا، بینکنگ ریکارڈ منگوایا ہے جس پر خوردبرد کا شک ہوا ہے، کنٹریکٹر کو بھی دو جنوری کو طلب کیا گیا ہے۔

    فواد چوہدری نے روسٹرم پر آ کر کہا کہ ’عدالت سب سے پہلے دائرہ اختیار دیکھتی ہے۔ وارنٹ میرے دیکھ لیں، چار الزامات مجھ پر لگائے گئے ہیں، الزام لگایا گیا کہ بطور وزیر کنٹریکٹرز پر اثر و اسوخ استعمال کیا، پروجیکٹ پی ایس ڈی پی کا ہے، جس کی منظوری ملی ہوئی تھی۔‘

    فواد چوہدری نے اپنے کیس کے دلائل خود روسٹرم پر دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ ’اپنے علاقے کے لوگوں کی ڈیمانڈ حکومت تک پہنچانا مجھ پر فرض ہے، اگر اپنے علاقے کے لوگوں کے لیے کام نہیں کروں گا تو سیاست کا کیا فائدہ۔‘

    احتساب عدالت نے فواد چوہدری کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کرلیا اور کچھ دیر بعد فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے فواد چوہدری کا چھ روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے تفتیشی افسر کو ہدایت دی کہ تفتیش مکمل کرلیں اور وکلا سے ملاقات بھی کرا دیں۔

    عدالت نے حکم دیا کہ فواد چوہدری کو پانچ جنوری کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے۔

  4. عمران خان کے خلاف توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈز ریفرنسز میں سماعت بغیر کارروائی کے چار جنوری تک ملتوی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈز ریفرنسز میں آج ہونے والی سماعت بغیر کسی کارروائی کے چار جنوری تک ملتوی کردی ہے۔

    احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی کی طبیعت ناسازی کے باعث عدم دستیابی پر سماعت ملتوی کی۔

    واضح رہے کہ آج کی سماعت میں نیب کی جانب سے عمران خان کی ضمانت کے لیے دائر درخواستوں پر دلائل دیے جانے تھے۔

    اس سے قبل ہونے والی سماعت میں وکیل صفائی لطیف کھوسہ نے اپنے دلائل مکمل کر لیے تھے۔

    یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان نے دونوں ریفرنسز میں ضمانت بعد ازگرفتاری کی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔

  5. منظورپشتین کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد، جیل بھیجنے کا حکم

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما منظور پشتین کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انھیں جیل بھیجنے کا حکم دے دیا ہے۔

    جوڈیشل مجسٹریٹ یاسر چوہدری کی عدالت میں دو روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر منظورپشتین کو پیش کیا گیا.

    پولیس نے منظورپشتین کو تھانہ ترنول میں درج مقدمے میں پیش کرکے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔

    عدالت نے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے منظورپشتین کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ منظور پشتین کے وکیل کی جانب سے درخواستِ ضمانت دائر کردی گئی۔عدالت نے درخواستِ ضمانت پر فریقین کو دو جنوری کے لیے نوٹس جاری کردیا۔

    یاد رہے منظور پشتین کے خلاف تھانہ ترنول میں درج مقدمے میں دو روز قبل جوڈیشل مجسٹریٹ احمد شہزاد گوندل کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں تفتیشی افسر کی جانب سے منظور پشتین کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو عدالت نے منظور کر لیا تھا۔

  6. انڈیا کی تیز رفتار ترقی میں ’بھیانک غربت‘: ’گٹر کی صفائی کرتے وقت مرنے والا ہمیشہ دلت ہی کیوں ہوتا ہے؟‘

  7. ملک میں ہفتہ وار مہنگائی میں سالانہ بنیادوں پر 43 فیصد اضافہ، اشیا خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے سے عام آدمی متاثر, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں ہفتہ وار مہنگائی میں سالانہ بنیادوں پر 43.3 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق ملک میں موجودہ ہفتے کے اختتام پر گذشتہ ہفتے کے مقابلے میں بھی 0.37 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جب کہ موجودہ سال کے دسمبر کے موجودہ ہفتے میں گذشتہ سال دسمبر کے موجودہ ہفتے کے مقابلے میں 43.3 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    ہفتے کے دوران گندم، ٹماٹر، گڑ اور چاول کی قیمتوں میں بڑا اضافہ دیکھا گیا۔ ہفتہ وار مہنگائی کے عام آدمی پر اثرات پر بات کرتے ہوئے ماہر معیشت ڈاکٹر عالیہ ہاشمی نے کہا ہے کہ ہفتہ وار مہنگائی کا اشاریہ ’سینسٹو پرائس انڈیکس‘ ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حساس اشاریہ ہے یعنی جو عام آدمی کو سب سے زیادہ متاثر کرتا ہے۔

    انھوں نے کہا اس انڈیکس میں ایسی اشیا شامل ہیں، جو نچلے طبقے سے متعلق ہوتی ہیں جیسے گندم، دودھ، چینی، چاول، آلو، پیاز اور پٹرول وغیرہ ہیں۔

    اس انڈیکس میں اضافے کا مطلب ہے کہ ان چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا ایک عام فرد خاص کو کم آمدنی والے افراد ان اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے بعد مجبور ہو جاتے ہیں کہ وہ اپنی غذائی ضروریات پر ’کمپرومائز‘ کریں گے جو ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔

  8. اگر صاف و شفاف انتخابات نہ ہوئے تو ملک ڈی ریل ہو جائے گا: چیئرمین تحریک انصاف

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ اگر صاف و شفاف انتخابات نہ ہوئے تو ملک ڈی ریل ہو جائے گا۔

    اسلام آباد میں پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس ملک میں سخت انتخابات ہونے جارہے ہیں۔ ان کے مطابق ’ملک کا دیوالیہ نکل جائے گا اگر شفاف انتخابات نا کروائے گئے۔‘

    واضح رہے کہ جمعرات کو بھی بیرسٹر گوہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’الیکشن شفاف نہ ہوئے تو معیشت تباہ ہوجائے گی۔‘

    آج کی جانے والی پریس کانفرنس میں ان کا مؤقف تھا کہ بلے کا نشان لینے کا مقصد ہے کہ پی ٹی آئی شفاف انتخابات میں سامنے نہ آسکے، بلا صرف سیاسی نشان نہیں بلکہ 70 فیصد عوام کے امنگوں کا ترجمان ہے۔

    بیرسٹر گوہر کے مطابق ’کیمرے کے سامنے انٹرا پارٹی الیکشن کا مکمل ’پراسس‘ ہوا، مخالفین کی کوشش ہے پی ٹی آئی کے پاس بلا ہی نہ رہے، جس طرح ہم نے شفاف الیکشن کرائے کسی نے نہیں کرائے۔

    بیرسٹر گوہر خان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی سے بلے کا نشان لیا گیا تو 227 نشستیں کس کے پاس جائیں گی؟ انتخابات کے بعد ہارس ٹریڈنگ ہوئی تو ذمہ دار کون ہوگا؟ یہ اپنی پارٹی میں پوزیشن صرف اپنے رشتہ داروں کو دیتے ہیں۔

    ان کی رائے میں ’مخالفین جانتے ہیں شفاف الیکشن ہوئے تو وہ ہار جائیں گے۔‘

    بیرسٹر گوہر نے دیگر جماعتوں کے سیاسی رہنماؤں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب کوئی فیصلہ آتا ہے تو قانونی راستہ اپنانے کے بجائے یہ تنقید کرتے ہیں، یہ عدالتوں پر حملہ آور ہو رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ یہ سپریم کورٹ پر بھی حملہ آور ہوئے اور ہائیکورٹ پر بھی اور ہم سیاسی رہنماؤں کے ہائی کورٹ پر حملے کی مذمت کرتے ہیں۔

    ان کے مطابق پشاور ہائی کورٹ کے جج نے چار گھنٹے تک کیس سنا اور میرٹ پر فیصلہ سنایا۔

    بیرسٹر گوہر علی کے مطابق الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرے، بانی پی ٹی آئی ہی ہمارے لیڈر ہیں، پی ٹی آئی کے انٹراپارٹی الیکشن شفاف تھے، کل سے یکے بعد دیگر پریس کانفرنس کروا رہے ہیں، باپ بیٹی سب مل کے پریس کانفرنس کرنے میں مصروف ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو ہارس ٹریڈنگ کو پسند کرتے ہیں۔

    فیصلہ کرلیا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم کو چوتھی بار وزیراعظم بنایا جائے گا: لطیف کھوسہ

    تحریک انصاف میں حال ہی میں شمولیت اختیار کرنے والے وکیل لطیف کھوسہ نے اس پریس کانفرنس میں کہا کہ ’فیصلہ کرلیا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم کو چوتھی بار وزیراعظم بنایا جائے گا۔‘

    سردار لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا بائیو میٹرک ایئرپورٹ پر ہوتا ہے، میرے داماد کے تجویز اور تائید کنندہ کو گرفتار کیا گیا، ہمارے سفیر نے لندن میں مفرور کو رخصت کیا۔ ان کے مطابق ’دنیا دیکھ رہی ہے ہیتھرو ایئرپورٹ سے سزا یافتہ کو سفیر نے رخصت کیا، نوازشریف کو 62 ون ایف کے تحت نااہل کیا گیا تھا۔‘

    انھوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم کو ہائی کورٹ سے تشدد کرکے گرفتار کیا جاتا ہے، فیصلہ کرلیا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم کو چوتھی بار وزیراعظم بنایا جائے گا، پی ٹی آئی کے امیدواروں کو اٹھایا جارہا ہے، بلا لینے والے خوش نہ ہوں، کل شیر اور تیر کا نشان بھی لیا جاسکتا ہے۔

  9. ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے پاس تھری ایم پی او جاری کرنے کا اختیار نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے تھری ایم پی او کے تحت ڈپٹی کمشنر کی جانب سے گرفتاری کے اختیارات کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہریار آفریدی اور شاندانہ گلزار کی تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے پاس تھری ایم پی او جاری کرنے کا اختیار نہیں اور یہ اختیار صرف وفاقی کابینہ کے پاس ہونا چاہیے۔

  10. عدالت کا ایف آئی اے حکام کو منظور پشتین سے جیل میں تفتیش کا حکم

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایف آئی اے حکام کو منظور پشتین کے خلاف کیسز میں ان سے جیل میں تفتیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

    دوران سماعت منظور پشتین کے وکیل عطا اللہ کنڈی نے عدالت کو بتایا کہ منظور پشتین 7 دسمبر سے گرفتار ہیں اور ضمانت ان کا حق ہے لیکن ایف آئی اے انتظار کر رہی ہے کہ وہ رہا ہوں تو ان کو دوبارہ گرفتار کر لیا جائے۔

    اس موقع پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ یہ نہیں ہوتا کہ ملزم ایک مقدمے میں چھوٹ جائے تو اس کے باہر آنے کا انتظار کریں اور پھر گرفتار کریں۔ ’ایک کیس میں گرفتار شخص پر دوسرے کیس میں گرفتاری ڈال کر جیل میں تفتیش مکمل ہو سکتی ہے۔‘

    جسٹس میاں گل حسن نے مزید کہا کہ ہائیکورٹ ایک کیس میں گرفتار شخص کے دوسرے مقدمے میں گرفتاری سے متعلق فیصلہ دے چکی ہے اور اگر ہائیکورٹ کا فیصلہ چیلنج نہیں ہوا تو وہ حتمی ہو گیا ہے۔

    جسٹس میاں گل حسن نے یہ بھی کہا کہ ایف آئی اے جیل میں تفتیش کرے ورنہ مقدمہ ختم کرنے کا آرڈر دیں گے۔

  11. اسلام آباد ہائی کورٹ نے گوہر خان اور وکلا کو عمران خان سے ملاقات و مشاورت کی اجازت دے دی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی گوہر خان کو بانی پی ٹی آئی عمران خان سے مشاورت کی اجازت دے دی ہے۔

    جمعے کو چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر و دیگر وکلا کی عمران خان سے ملاقات اور مشاورت کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے حکم دیا ہے کہ سپریڈنٹ اڈیالہ جیل کی نگرانی میں بانی پی ٹی آئی اور چیئرمین پی ٹی آئی کی ملاقات کروائی جائے۔

    عدالت نے کہا ہے کہ انتخابات کے لیے مشاورت کی اجازت بنیادی حق ہے، انتخابات میں نگران حکومت کوغیر جانبدار ہونا چاہیے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ سابق اور موجودہ چیئرمین پی ٹی آئی کی مشاورت میں مخالفت سے نگران حکومت کی غیر جانبداری پر سوال اٹھتا ہے۔

    سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور اڈیالہ جیل سپریٹنڈنٹ عدالت میں پیش ہوئے جبکہ پی ٹی آئی کے وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ پی ٹی آئی کے 700 ٹکٹوں کی تقسیم کے لیے مشاورت درکار ہے۔

    جس پر جسٹس گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ نئے اور پرانے چیئرمین پی ٹی آئی کے درمیان ٹکٹوں کے معاملے پر مشاورت بنیادی حق ہے۔

    جبکہ اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل نے درخواست کے قابل سماعت ہونے کی مخالفت کی۔ جس پر عدالت نے اظہار برہمی کیا۔

    جسٹس گل حسن نے ریمارکس دیے کہ کیا سپریم کورٹ سے آنے والا اضافی نوٹ آپ کے لیے کافی نہیں تھا؟ سپریم کورٹ کے بعد کیا مجھ سے بھی اپنے خلاف نوٹ لکھوانا چاہتے ہیں؟

    انھوں نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل آفس نگران حکومت کی نمائندگی کر رہے ہیں اور ان کو غیر جانبدار ہونا چاہیے۔

    جسٹس گل حسن کا کہنا تھا کہ نگران حکومت کے زیر نگرانی خوفناک نظام چل رہا ہے کہ انتخابی مشاورت کی اجازت بھی نہیں، نگران حکومت کیا انتخابات کو ڈی ریل کرنا چاہتی ہے؟

    عدالت نے مشاورت کی اجازت دے کر درخواست نمٹا دی۔

  12. کور کمانڈرز کانفرنس کا اعلامیہ: فوج آئندہ عام انتخابات میں الیکشن کمیشن کو مطلوبہ اور ضروری تعاون فراہم کرے گی

    پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کی زیر صدارت ہونے والے دو روزہ کور کمانڈر اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ’فوج آئندہ عام انتخابات میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کو مطلوبہ اور ضروری تعاون فراہم کرے گی۔‘

    پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق کور کمانڈرز کانفرنس میں سکیورٹی کی صورتحال اور سماجی اور اقتصادی ترقی کے امور پر تبادلہ خیال ہوا ساتھ ہی یہ فیصلہ کیا گیا کہ فوج عام انتخابات میں الیکشن کمیشن کو تعاون فراہم کرے گی۔

    کور کمانڈر اجلاس میں میں سرمایہ کاری سہولت کونسل کے تحت حکومتی کوششوں کی حمایت کی گئی، سمگلنگ، منی لانڈرنگ اور بجلی چوری کے خلاف کارروائیوں کا جائزہ بھی لیا گیا۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان فوج جرائم کی روک تھام کے لیے سرکاری اداروں سے تعاون کا اعادہ کرتی ہے۔

    اعلامیے میں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے والے دہشت گردوں، سہولت کاروں سے مکمل قوت سے نمٹنے کے عزم کا اعادہ کرنے کے ساتھ ساتھ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے پاس جدید ترین ہتھیاروں کی دستیابی کو پاکستان کے لیے خطرناک اور باعث تشویش قرار دیا گیا۔

  13. پشاور ہائی کورٹ کا ’بلے کے حق میں‘ فیصلہ الیکشن کمیشن کے اختیارات پر حملہ ہے: شہباز شریف

    صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف نے کراچی میں گفتگو کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر کڑی تنقید کی جس میں تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا ہے۔

    خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیا تھا، جس کے تحت تحریک انصاف سے بلے کا انتخابی نشان واپس لے لیا گیا تھا۔

    اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ ’پہلی بات تو یہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن میں بے ضابطگیوں اور دھاندلیوں کے خلاف ایک ’فیکٹ بیس‘ فیصلہ دیا تھا اور اب پشاور ہائی کورٹ کا جو فیصلہ آیا ہے وہ الیکشن کمیشن کے اختیار پر حملے کے مترادف ہے۔‘

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ ’پشاور ہائی کورٹ کے پی کے ایک صوبے کی ہائی کورٹ ہے۔ وہ کس طریقے سے پاکستان بھر کے معاملے پر فیصلہ دے سکتی ہے۔‘

    شہباز شریف نے کہا کہ ’یہ بات ہمارِے ذہن میں رہنی چاہیے کہ وہاں کے پی میں ایسے امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں کہ جن کی کسی نہ کسی طرح سے محترم جج صاحب کے ساتھ رشتہ داری ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ یہ بہتر ہوتا کہ ’جج صاحب اپنی عزیزداری کی وجہ سے اس بینچ سے علیحدہ ہوتے اور ایسے جج کو بینچ میں شامل کیا جاتا، جن کی کسی سے تعلق داری اور رشتہ داری نہ ہوتی۔‘

    شہباز شریف نے کہا کہ ’یہ ایک انتہائی حساس معاملہ ہے۔ ایک صوبے کی ہائی کورٹ پاکستان سے متعلق فیصلہ کیسے دے سکتی ہے یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ پوری قوم عدلیہ سے انصاف پر مبنی فیصلوں کی توقع کرتی ہے۔ ایسے فیصلوں سے طرفداری کی بو آتی ہے۔ ترازو کو ایک لاڈلے کی طرف جھکایا جا رہا ہے۔

  14. لاہور سے الیکشن میں حصہ لے رہا ہوں تا کہ لاہور کو متبادل قیادت مل سکے: بلاول بھٹو

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ’میں لاہور سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں تا کہ لاہور کے پاس کوئی متبادل آپشن بھی ہونا چاہیے۔‘ انھوں نے کہا کہ انھیں امید ہے کہ لاہور سے ان کے کاغذات نامزدگی منظور کیے جائیں گے۔‘

    بلاول بھٹو کے مطابق لاہور پر کوئی چوتھی بار یا کوئی ایسا کھلاڑی نہ مسلط ہو جائے جو پھر کوئی عثمان بزدار لے کر آ جائے۔ انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی انتخابات میں جیت کر دکھائے گئی۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ مسلم لیگ ن تحریک انصاف کو بیچنا نہیں بلکہ خریدنا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق تحریک انصاف کے امیدواران سے ’کاغذات نامزدگی چھیننے پر متعلقہ لوگ جواب دیں۔ سندھ میں کسی سے کاغذات نہیں چھینے گئے۔‘

    انھوں نے شاہ محمود قریشی کی گرفتاری سے متعلق پوچھے گئے سوال پر کہا کہ ’ہم انتقامی سیاست پر یقین نہیں رکھتے، اس کی مذمت کل بھی کرتے تھے اور آج بھی کرتے ہیں۔

    تاہم انھوں نے کہا کہ فریال تالپور کو جب چاند رات کو گھسیٹ کر گرفتار کیا گیا تو یہی شاہ محمود قریشی تھے جنھوں نے کہا تھا کہ ادارے آزاد ہیں۔

  15. گزشتہ روز کی اہم خبریں

    • بلوچستان سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے لیے پیپلز پارٹی کی جانب سے الیکشن کمیشن کو دی جانے والی خواتین کی فہرست کے خلاف پیپلز پارٹی کی ناراض خواتین کارکنوں نے پارٹی کے دفتر کے سامنے بطور احتجاج دھرنا دیا ہے۔یہ دھرنا رات گئے تک جاری رہا۔ دھرنے میں شریک ثنا درانی نے بتایا کہ پیپلزپارٹی میں جو خواتین طویل عرصے سے جدوجہد کررہی ہیں انھیں قومی اور بلوچستان اسمبلی کی مخصوص نشستوں کے لیے نظر انداز کیا گیا ہے۔
    • معروف فیشن ڈیزائنر اور تحریک انصاف کی حامی کارکن خدیجہ شاہ کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں قائم مقدمے سے ڈسچارج کر دیا گیا۔ تحریک انصاف بلوچستان کے ایڈیشنل جنرل سیکریٹری عالم کاکڑ نے بتایا کہ مقدمے سے ڈسچارج کیے جانے کے بعد خدیجہ شاہ تھانے سے اپنے فیملی کے ساتھ چلی گئیں۔خدیجہ شاہ کے خلاف نو مئی کے واقعات کے حوالے سے کوئٹہ میں بجلی گھر پولیس سٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ان پر نو مئی کے واقعات کے حوالے سے لوگوں کو اکسانے کا الزام تھا۔ اس مقدمے میں خدیجہ شاہ کو کوئٹہ پولیس نے لاہور سے گرفتار کر کے کوئٹہ منتقل کیا تھا۔ انھیں انسداد دہشت گردی کی عدالت کوئٹہ ون نے ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا تھا۔
    • سٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں ایک ہفتے کے دوران 85 کروڑ بیس لاکھ ڈالر کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد اس کے ذخائر سات ارب 75 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئے۔ پاکستان کے مرکزی بینک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق سٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافے کی وجہ بیرون ملک سے حکومت کو ملنے والی رقوم ہیں ملک کے تجارتی بینکوں کے پاس پانچ ارب ڈالر کے زرمبادلہ ذخائر موجود ہیں اور ملک کے پاس مجموعی طور پر بارہ ارب 85 کروڑ پچاس لاکھ ڈالر کے زرمبادلہ ذخائر موجود ہیں۔
    • اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف اڈیالہ جیل میں جاری سائفر کیس کے ٹرائل پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے خصوصی عدالت کو اس کیس کی سماعت گیارہ جنوری تک کرنے سے روک دیا ہے۔ عدالت نے اس کیس کی اڈیالہ جیل میں اِن کیمرہ ہونے والے سماعتوں پر سوالات اٹھاتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ جس طرح اس کیس کی سماعت آگے بڑھ رہی ہے اس پر عدالت کو تشویش ہے۔
    • راولپنڈی کی ایک مقامی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا جی ایچ کیو حملہ کیس میں 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انھیں اڈیالہ جیل بھیجنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ جمعرات کی صبح پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو ڈیوٹی مجسٹریٹ راولپنڈی کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں استغاثہ نے ان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔ تاہم عدالت نے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انھیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا ہے۔
  16. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    28 دسمبر تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔