آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار: الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو بلے کے انتخابی نشان کے لیے نااہل قرار دے دیا

الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے بلے کا انتخابی نشان واپس لے لیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق تحریک انصاف پارٹی آئین اور الیکشن ایکٹ 2017 کے مطابق انٹرا پارٹی انتخابات کروانے میں ناکام رہی ہے۔

لائیو کوریج

  1. عدالت کی پولیس کو حراست میں موجود خواتین کو بلوچ یکجہتی مارچ کے منتظمین کے حوالے کرنے کی ہدایت

    اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے آئی جی اسلام آباد اکبر ناصر کو یہ ہدایت کی گئی کے ’تھانہ آئی ٹین میں موجود خواتین کو بلوچ یکجہتی مارچ کے منتظمین کے حوالے کیا جائے۔‘

    جس پر آئی جی اسلام آباد کا کہنا تھا کہ ’تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہے یہ ان سے مل بھی چکے ہیں۔‘

    جس پر چیف جسٹس اور آئی جی اسلام آباد کے درمیان مکالمہ ہوا، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’یہ سارے کہہ رہے ہیں گھسیٹ کر لے جایا گیا آپ کہہ رہے جہاں چاہیں جائیں۔‘ اس پر آئی جی نے کہا کہ ’یہ سب لوگ خود پولیس سٹیشن گئے۔ اس پر آئی عدالت نے حیرانگی کا اطہار کیا اور کہا کہ ’کوئی بھی تھانے نہیں جانا چاہے گا کیا وہاں چائنیز کھانا ملتا ہے؟‘، ایک عام آدمی اگر زیادتی بھی کر لے تو پبلک آفس ہولڈر کو دل بڑا کرنا ہے،‘ چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم یہاں روزانہ فیصلے کر رہے ہیں جس کے خلاف فیصلہ ہوتا ہے کوئی باہر جا کر ہمارے خلاف بات کرتا ہے۔ پبلک آفس ہولڈر کو تدبر کے ساتھ کام کرنا ہوتا ہے لیکن وہ نہیں کر پا رہے۔‘

    چیف جسٹس عامر فاروق نے آئی جی اسلام آباد کو ہدایت کی کہ ’میں اس حوالے سے تفصیلی آرڈر پاس کروں گا، آئندہ ہفتے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کیس کی سماعت کریں گے، آپ یقینی بنائیں پھر بھی کوئی ایشو ہو تو میرے آفس کو مطلع کریں۔‘

  2. اسلام آباد ہائی کورٹ میں بلوچ یکجہتی مارچ کے مظاہرین پر تشدد کے خلاف سماعت کا دوبارہ آغاز

    اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے آئی جی اسلام آباد کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا جس پر اب آئی جی اسلام آباد اکبر ناصر عدالت میں پیش ہو گئے ہیں۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے انھیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس مظاہرے کے منتظمین کو لے جائیں اورجو لوگ پولیس کے پاس ہیں اُن کو ان کے حوالے کر دیں۔

    اس پر درخواست گزار کی وکیل ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ ’کل ان کا بیان تھا کہ خواتین ان کی حراست میں نہیں ہیں۔

    اس درخواست پر سماعت کرنے والے چیف جسٹس عامر فاروق نے کا آئی جی اسلام آباد سے کہا کہ ’کیا خواتین کے پولیس سٹیشن میں خود ہی بند کر لیا تھا؟ کل آپ نے کہا کوئی بچہ کوئی خاتون نہیں تھی، کون اپنی مرضی سے تھانے میں بیٹھتا ہے۔‘

    اس پر عدالت جی جانب سے آئی جی اسلام آباد اکبر ناصر کو یہ ہدایت کی گئی کہ ’وہ تحریری طور پر بتائیں کہ کتنی خواتین اور بچوں کو گرفتار کیا گیا؟ ویمن پولیس سٹیشن میں کتنی تھیں کتنی گئیں وہ رپورٹ دیں، مناسب یہی ہے آپ پٹشنر ان کے وکلا کو مطمئن کریں، جتنے آپ کی حراست میں تھے جتنے آپ نے رہا کئے، سب کے بارے میں تفصیلی طور پر آگاہ کریں۔‘

    سماعت کے دوران صحافی حامد میر کا عدالت میں کہنا تھا ’کل عدالت کو بتایا گیا کہ تمام خواتین کو رہا کر دیا گیا، تین وفاقی وزرا نے پریس کانفرنس کی کہ تمام خواتین کو رہا کر دیا گیا، مجھے بتایا گیا کہ کسی بھی خاتون کو رہا نہیں کیا گیا، میں بھی ویمن پولیس سٹیشن چلا گیا، خواتین بچیوں کو گھسیٹ کر لا رہے تھے میرا موبائل چھین لیا گیا۔‘

    حامد میر کی بات سُننے کے بعد چیف جسٹس عامر فاروق نے آئی جی اسلام آباد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ نہیں ہونا چاہیے تھا یہ طریقہ نہیں ہے، احتجاج میں یہ ہوتا ہے لیکن ان کے ساتھ اس طرح کرنا مارنا پیٹنا درست نہیں، حامد میر سینئر صحافی ہیں ان کے ساتھ ایسا رویہ، آخر ہم کس زمانے میں رہ رہے ہیں۔‘

    چیف جسٹس عامر فاروق کا آئی جی اسلام آباد سے مزید کہنا تھا کہ ’سٹریٹ کرائمز اتنے بڑھ گئے ہیں جو کام آپ کے کرنے والے ہیں وہ نہیں کرتے۔‘

    اس عدالتی استفسار کے بعد آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ ’میں حامد میر صاحب سے معذرت کرتا ہوں، تہذیب کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے ہمارے افسران کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔‘

  3. سائفر کیس میں سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر سماعت کا آغاز۔

    قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں تین رکنی بنچ سماعت کر رہا ہے۔

    سماعت کے آغاز پر ایف آئی اے پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر نوٹس نہیں ہوا۔ جس پر قائم مقام چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’ابھی نوٹس کر دیتے ہیں آپ کو کیا جلدی ہے۔‘

    اس پر عمران خان کے وکیل سلمان صفدر کا کہنا تھا ٹرائل کورٹ نے جلد بازی میں 13 گواہان کے بیانات ریکارڈ کر لئے ہیں، جس پر قائم مقام چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’سپیڈی ٹرائل ہر ملزم کا حق ہوتا ہے، آپ کیوں چاہتے ہیں ٹرائل جلدی مکمل نہ ہو؟‘

    اس موقع پر عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’ان کیمرا ٹرائل کیخلاف آج ہائی کورٹ میں بھی سماعت ہے۔

    ساتھ ہی وکیل حامد خان کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ ’وہ دوسری درخواست فرد جرم کیخلاف ہے۔‘

    جس پر قائم مقام چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’جو فرد جرم چیلنج کی تھی وہ ہائی کورٹ ختم کرچکی ہے، نئی فرد جرم پر پُرانی کارروائی کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔‘

    وکیل حامد خان کا کہنا تھا کہ ’ٹرائل تو اب بھی اسی چارج شیٹ پر ہو رہا ہے جو پہلے تھی۔‘

    جس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’پرانی چارج شیٹ کے خلاف درخواست غیر موثر ہوچکی ہے، نئی فرد جرم پر اعتراض ہے تو ہائی کورٹ میں چیلنج کریں۔‘

    عمران خان کے وکیل حامد خان نے استدعا کی کہ ’مناسب ہوگا کہ اگر آج ہائی کورٹ کے فیصلے کا انتظار کیا جائے۔‘

  4. الیکشن کمشن کی جانب سے کاغزاتِ نامزدگی جمع کروانے کی تاریخ میں دو دن کی توسیع کا اعلان

    الیکشن کمشن آف پاکستان کی جانب سے جاری ہونے والے ایک اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ’الیکشن کمشن نے سیاسی جماعتوں کے مطالبے اور اُمیدواروں کی سہولت کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کی تاریخ میں دو دن کی توسیع کر دی ہے۔

    اعلامیے کے مطابق اب کاغذاتِ نامزدگی متعلقہ ریٹرنگ افسران کو دفتری اوقات کار میں 24 دسمبر 2023 بروز اتوار تک جمع کروائے جا سکتے ہیں۔

    تاہم ریٹرنگ افسران کاغزاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال 25 تا 30 دسمبر 2023 تک کریں گے۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے الیکشن کمشن کی طرف سے جاری کردہ پروگرام 15 دسمبر 2023 میں موجود باقی تمام سرگرمیاں شیڈیول کے مطابق ہوں گی اور پولنگ کا عمل 8 فروری 2024 کو ہوگا۔

  5. سائفر کیس کی ان کیمرہ ٹرائل کے خلاف سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر سماعت کا آغاز

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے آج کی سماعت کا آغاز کیا جس کے بعد عدالت نے سماعت میں 11 بجے تک وقفہ کر دیا۔

    سماعت کے آغاز پر آج ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ جس پر اُن کا کہنا تھا کہ ’سائفر کیس میں سپریم کورٹ میں آج ملزمان عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت کی درخواست لگی ہوئی ہے۔‘ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ایف آئی اے کے اہلکار سپریم کورٹ سے فری ہوتے ہیں تو حاضر ہو جاتے ہیں۔‘ ساتھ ہی انھوں نے سماعت کے لیے آج ہی دن گیارہ بجے مقرر کیے جانے کی درخواست کی۔‘

    جس پر اس کیس کی سماعت کرنے والے جسٹس میاں گُل حسن نے کہا کہ ’میں چیمبر میں ہی ہوں پھر مجھے بتا دیجیے گا۔‘

  6. بلوچ یکجہتی مارچ میں گرفتار افراد کی تفصیل کے ساتھ آئی جی اور سیکریٹری داخلہ کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں بلوچ یکجہتی مارچ کے دوران گرفتار ہونے والے مظاہرین کی رہائی کے لیے گزشتہ روز دائر ہونے والی درخواست پر سماعت کا آغاز۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں یہ درخواست لانگ مارچ کے منتظمین میں سے سمی بلوچ اور عبدالسلام نے وکیل ایمان مزاری کے ذریعے دائر کی تھی اور ساتھ اس پر فوری سماعت کی استدعا بھی کی تھی۔

    آج اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت کے آغاز پر ہی عدالت نے جونیئر پولیس اہلکاروں کی جانب سے پیش ہونے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا گیا اور آدھے گھنٹے میں آئی جی اسلام آباد کو طلب کر لیا ہے۔

    بلوچ یکجہتی مارچ کے گرفتار مظاہرین کی جانب سے عدالت میں پیش ہونے والے وکیل عطا اللہ کُنڈی نے کہا کہ ’ایس ایس پی نے ہمیں کہا ہمیں وزیراعظم کی ہدایت ہے انکو واپس بلوچستان بھیجیں، پولیس نے زبردستی تمام خواتین کو بسوں میں سوار کروا دیا، اسی دوران اسلام آباد میں زیرِ تعلیم کچھ طلبہ کو بھی زبردستی بسوں میں سوار کر دیا گیا۔‘

    وکیل درخواست گُزار کا عدالت میں کہنا تھا کہ ’اس دوران آئی جی اسلام آباد تھانے پہنچے اور انھوں نے بھی کہا کسی طرح ان کو یہاں سے بھیجیں، اس کے بعد پولیس نے تھانے کے دروازے بند کر دیے، جس کے بعد صبح پانچ بجے پولیس نے بیان جاری کیا ہم نے ان کو بحفاظت ان کے مقام پر پہنچا دیا ہے۔‘

    اس پرعدالت کی جانب سے استفسار کیا گیا کہ ’پولیس کی طرف سے کون پیش ہوا ہے؟

    اس پر ایک پولیس انسپکٹر عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ جس پر عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ اس معاملے میں آئی جی کو یا سیکرٹری داخلہ کو کہیں کہ وہ پیش ہوں؟

    عدالت کی جانب سے دیے جانے والے ریمارکس میں کہا گیا کہ ’تمام لوگ کہاں ہیں ان کے بارے میں عدالت کو آگاہ کیا جائے، عدالت کی جانب سے پولیس کو حکم دیا گیا کہ آدھے گھنٹے میں عدالت میں رپورٹ جمع کروائیں۔

  7. سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی درخواستِ ضمانت پر سماعت آج ہوگی, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی اردو

    سائفر کیس میں سابق چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان اور سابق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر سماعت آج سپریم کورٹ میں ہوگی۔

    قائم مقام چیف جسٹس جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ اس کیس کی سماعت کرے گا۔

    تین رُکنی بینچ میں جسٹس سردار طارق مسعود کے علاوہ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ شامل ہیں۔

    واضح رہیں کہ سابق چئیرمین پی ٹی آئی نے تین نومبر کو سائفر کیس میں ضمانت کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، تاہم وائس چئیرمین پی ٹی آئی اور سابق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے 20 نومبر کو ضمانت کیلئے درخواست دائر کی تھی۔

    ان دونوں کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ’ماتحت عدالتوں نے حقائق کا درست جائرہ نہیں لیا، سائفر کیس سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا ہے۔‘

    سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت ٹرائل کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے مسترد کردی تھیں۔

  8. عام انتخابات 2024 کے لیے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا آج آخری دن

    پاکستان کے عام انتخابات 2024 کے لیے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا آج آخری دن ہے۔

    قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے لیے امیدوار آج شام تک متعلقہ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر اور ریٹرننگ افسر کے پاس کاغذات نامزدگی جمع کرا سکتے ہیں۔

    الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق امیدواروں کی ابتدائی فہرست سنیچر کو جاری کی جائے گی۔

    کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال رواں ماہ کی 24 سے 30 تاریخ تک کی جائے گی۔ کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد ہونے کے خلاف اپیلیں 3 جنوری تک دائر کی جاسکتی ہیں جس کا فیصلہ 10 جنوری تک کیا جائے گا۔

    الیکشن کمیشن 11 جنوری کو امیدواروں کی نظر ثانی شدہ فہرست جاری کرے گا جبکہ امیدوار 12 جنوری تک اپنے کاغذات واپس لے سکتے ہیں۔

    انتخابی نشانات 13 جنوری کو الاٹ کیے جائیں گے اور عام انتخابات کے لیے پولنگ 8 فروری کو ہوگی۔

  9. کوئٹہ یکجہتی مارچ کے شرکا کو بلوچستان واپس بھیجنے کی اطلاعات

    سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز سامنے آئی ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کوئٹہ یکجہتی مارچ کی رہا کی جانے والی خواتین کو اہلکار زبردستی بسوں میں دھکیل کر واپس کوئٹہ کی طرف لے جا رہے ہیں۔

    حکام نے ابھی تک اس متعلق کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ضلعی انتظامیہ اور پولیس اہلکار ان خواتین مظاہرین کو کوئٹہ بھجوانے سے متعلق کوئی واضح موقف تو نہیں دے رہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ چونکہ ان خواتین کی ضمانتیں ہو چکی ہیں اور پولیس اور انتظامیہ کے پاس انھیں ٹھہرانے کی جگہ بھی نہیں ہے، اس لیے انھیں کسی دوسری جگہ، جو بلوچستان میں بھی ہو سکتی ہے، میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

  10. بلوچ یکجہتی مارچ میں شامل جن افراد کی شناخت ہوئی انھیں رہا کر دیا گیا: نگران حکومت

    نگران حکومت کا کہنا ہے کہ بلوچ یکجہتی مارچ میں شامل تمام گرفتار خواتین اور جن افراد کی شناخت ہو چکی ہے، انھیں رہا کر دیا گیا ہے تاہم جن کی شناخت نہیں ہوئی وہ تحویل میں ہیں، ان کے حوالے سے جمعے کو عدالت میں رپورٹ پیش کی جائے گی۔

    ان خیالات کا اظہار نگران وفاقی وزرا مرتضیٰ سولنگی، فواد حسن فواد اور جمال شاہ نے جمعرات کو اسلام آباد انتظامیہ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

    نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ ’وزیراعظم نے مظاہرین سے مذاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے مظاہرین سے ملاقات کی، حکومت کی طرف سے فواد حسن فواد نے مظاہرین سے مذاکرات کیے۔‘

    انھوں نے کہا کہ خواتین اور بچوں کی فوری رہائی کے لیے کمیٹی نے اقدامات اٹھائے جبکہ مظاہرین کے دیرینہ مسائل کے حوالے سے کمیٹی اپنی سفارشات وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کرے گی۔

    پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نگران وفاقی وزیر اور کمیٹی کے رکن فواد حسن فواد نے کہا کہ بلوچستان سے آئے مظاہرین کو ایچ نائن اور پھر ایف نائن پارک میں جگہ دینے کی پیشکش کی گئی تھی۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’جو لوگ بلوچستان سے آئے، ان کی طرف سے کوئی شر انگیزی نہیں کی گئی، وہ پرامن تھے لیکن کچھ مقامی نقاب پوش افراد نے صورتحال خراب کرنے کی کوشش کی اور پتھراؤ کیا۔‘

    اسی دوران وزیراعظم سے سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بھی رابطہ کیا اور اس مسئلہ کو فوری حل کرنے کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ کمیٹی نے مظاہرین سے مذاکرات کیے، گرفتار تمام خواتین اور جن افراد کی شناخت ہو گئی تھی، انھیں فوری طور پر رہا کر دیا گیا، صرف وہ لوگ تحویل میں ہیں جن کی شناخت نہیں ہوئی۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم نے آئی جی پولیس اسلام آباد سے کہا ہے کہ وہ گرفتار افراد کی شناخت کا عمل مکمل کریں۔ ان افراد کی تعداد بہت کم ہے، 90 فیصد سے زیادہ گرفتار مرد رہا ہو چکے ہیں۔‘