عدالت کی پولیس کو حراست میں موجود خواتین کو بلوچ یکجہتی مارچ کے منتظمین کے حوالے کرنے کی ہدایت
اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے آئی جی اسلام آباد اکبر ناصر کو یہ ہدایت کی گئی کے ’تھانہ آئی ٹین میں موجود خواتین کو بلوچ یکجہتی مارچ کے منتظمین کے حوالے کیا جائے۔‘
جس پر آئی جی اسلام آباد کا کہنا تھا کہ ’تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہے یہ ان سے مل بھی چکے ہیں۔‘
جس پر چیف جسٹس اور آئی جی اسلام آباد کے درمیان مکالمہ ہوا، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’یہ سارے کہہ رہے ہیں گھسیٹ کر لے جایا گیا آپ کہہ رہے جہاں چاہیں جائیں۔‘ اس پر آئی جی نے کہا کہ ’یہ سب لوگ خود پولیس سٹیشن گئے۔ اس پر آئی عدالت نے حیرانگی کا اطہار کیا اور کہا کہ ’کوئی بھی تھانے نہیں جانا چاہے گا کیا وہاں چائنیز کھانا ملتا ہے؟‘، ایک عام آدمی اگر زیادتی بھی کر لے تو پبلک آفس ہولڈر کو دل بڑا کرنا ہے،‘ چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم یہاں روزانہ فیصلے کر رہے ہیں جس کے خلاف فیصلہ ہوتا ہے کوئی باہر جا کر ہمارے خلاف بات کرتا ہے۔ پبلک آفس ہولڈر کو تدبر کے ساتھ کام کرنا ہوتا ہے لیکن وہ نہیں کر پا رہے۔‘
چیف جسٹس عامر فاروق نے آئی جی اسلام آباد کو ہدایت کی کہ ’میں اس حوالے سے تفصیلی آرڈر پاس کروں گا، آئندہ ہفتے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کیس کی سماعت کریں گے، آپ یقینی بنائیں پھر بھی کوئی ایشو ہو تو میرے آفس کو مطلع کریں۔‘