آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

عمران خان نے سائفر کیس میں تمام عدالتی کارروائی کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا

پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی چئیرمین عمران خان نے سائفر کیس میں فرد جرم عائد کرنے سمیت اب تک ہونے والی تمام عدالتی کارروائی کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. ’اگر تحریک انصاف کو بلے کا نشان نہ ملا تو امید ہے عدلیہ مداخلت کرے گی‘

    چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ ’اگر ہمیں بلے کا انتخابی نشان نہ دیا گیا تو امید ہے عدلیہ اس معاملے میں مداخلت کرے گی۔‘

    صحافیوں سے گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’الیکشن کمیشن سے مطالبہ ہے کہ ہم نے انٹرا پارٹی الیکشن میں تمام قانونی کارروائی پوری کی ہے، ہمارا سرٹیفیکیٹ جاری کریں۔ آپ آئینی ادارہ ہیں، آپ کا فرض ہے صاف و شفاف الیکشن کرانا۔ الیکشن پراسس سے کسی کو باہر کرنا جمہوریت کے خلاف سازش ہوگی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم نے پہلی بار ورچوئل جلسہ کیا۔ چار ملین لوگوں نے اسے دیکھا۔ اتنی مقبولیت کسی اور پارٹی کے پاس نہیں۔۔۔ یہ مقبولیت سے گھبرائے ہوئے ہیں۔ اگر انٹرنیٹ سلو ڈاؤن کیا گیا تو بڑی غلط بات ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ امیدواروں میں ٹکٹوں کی تقسیم پارٹی کا فیصلہ ہوگا۔

    ِخیال رہے کہ الیکشن کمیشن میں تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن کا معاملہ زیر التوا ہے جس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی ہے۔ تاحال پی ٹی آئی کو بلے کے انتخابی نشان کے لیے سرٹیفیکیٹ جاری نہیں کیا گیا جبکہ چند دن بعد سے امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرائیں گے۔

  2. حلقہ بندیوں پر اعتراض مسترد: ’کسی کو ریلیف دینے کے لیے انتخابی عمل کو متاثر نہیں کیا جا سکتا‘ سپریم کورٹ

    پاکستان کی عدالت عظمیٰ کے ایک تین رکنی بینچ نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ انتخابی شیڈول جاری ہونے کے بعد الیکشن کمیشن کی طرف سے طے کی گئیں حلقہ بندیوں پر اعتراض نہیں اٹھایا جاسکتا۔

    قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا یہ بینچ کوئٹہ کی دو صوبائی نشستوں پر حلقہ بندیوں کے خلاف اپیل پر فیصلہ سنا رہا تھا۔

    بلوچستان ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کی حلقہ بندی تبدیل کی تھی تاہم اب سپریم کورٹ نے بلوچستان ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا ہے اور الیکشن کمیشن کی اپیل منظور کی ہے۔

    بینچ میں شامل جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا ہے کہ ’جو اختیار قانون نے الیکشن کمیشن کو دیا، اسے ہائیکورٹ کیسے استعمال کر سکتی ہے؟‘

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ الیکشن پروگرام جاری ہونے کے بعد حلقہ بندیوں سے متعلق تمام مقدمہ بازی غیر موثر ہو چکی۔ ’کسی انفرادی فرد کو ریلیف دینے کے لیے پورے انتخابی عمل کو متاثر نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں اس حوالے سے لکیر کھینچ کر حد مقرر کرنی ہے۔‘

    قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے سوال کیا ’مجھے سمجھ نہیں آتی سارے کیوں چاہتے ہیں الیکشن لمبا ہو، الیکشن ہونے دیں۔‘

    جسٹس اطہر من اللہ نے یہ خدشہ ظاہر کیا کہ ’اگر اس درخواست پر فیصلہ دیا تو سپریم کورٹ میں درخواستوں کا سیلاب امڈ آئے گا۔‘

    ’جب الیکشن شیڈول جاری ہو جائے تو سب کچھ رُک جاتا ہے، الیکشن کمیشن کا سب سے بڑا امتحان ہے کہ آٹھ فروری کے انتخابات شفاف ہوں۔‘

    خیال رہے کہ الیکشن کمیشن کی حلقہ بندیوں پر اعتراض کے بعد بلوچستان ہائیکورٹ نے بلوچستان کی دو صوبائی نشستوں شیرانی اور ژوب میں الیکشن کمیشن کی حلقہ بندی تبدیل کر دی تھی۔ مگر پھر الیکشن کمیشن نے ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

    اس سے قبل سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کا وہ فیصلہ بھی کالعدم قرار دیا تھا جس میں الیکشن کمیشن کی جانب سے بیوروکریسی سے ڈی آر اوز اور آر اوز کی تعیناتی کا نوٹیفیکیشن معطل کیا گیا تھا۔

  3. عمران خان جیل میں یہ نہیں پوچھتے کہ وہ کب جیل سے باہر آئیں گے، میں ان کی جمہوری سوچ کی زندہ مثال ہوں: چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان

    تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے اپنی جماعت کے آن لائن جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کل بھی عمران تحریک انصاف کے چیئرمین تھے وہ آج بھی چیئرمین ہیں اور وہ ہمیشہ چیئرمین ہیں۔

    بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت الیکشن کمیشن کے پاس 175 سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ ہیں۔ ان کے مطابق الیکشن کمیشن نے صرف تحریک انصاف کے پارٹی کے اندر انتخابات پر اعتراض کیا ہے۔

    ان کے مطابق عمران خان نے آخری وقت پر بلے کا انتخابی نشان بچانے کے لیے چیئرمین شپ سے استعفیٰ دیا اور عارضی طورپر مجھے یہ یہ فریضہ سونپا۔

    بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ اس وقت عمران خان پر 180 مقدمات ہیں جو سب بوگس ہیں۔ انھوں نے کہا کہ نواز شریف کی واپسی پر چند دنوں میں تمام مقدمات ختم کردیے گئے۔ ان کے مطابق نواز شریف کے خلاف نیب نے کہہ دیا کہ ہمارے پاس کوئی ثبوت نہیں ہیں۔

    بیرسٹر گوہر علی خان نے کا کہا کہ نواز شریف کے لہجے میں اب بھی انتقام ہے۔ وہ اب بھی کہتے ہیں کہ انھیں کیوں نکالا گیا۔ ان کے مطابق جب وہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کرنے جاتا ہوں تو وہ یہ بات نہیں کرتے کہ انھیں کب جیل سے نکالا جائے گا بلکہ وہ عوام کی بات کرتے ہیں۔

    تحریک انصاف کے چئیرمین نے کہا کہ نواز شریف کی بیٹی مریم نواز بھی جلد بھی بات کرتی ہیں تو صرف اپنے والد کی بات کرتی ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’بیرون ملک پاکستانی خاص طور پر یہ دیکھیں کہ عمران خان کی جگہ اس وقت میں ایک زندہ مثال ہوں کہ یہ پارٹی جمہوری ہے۔‘

    بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ جس طرح امریکہ میں کہا جاتا ہے کہ کوئی کچھ بھی بن سکتا ہے۔ یہی کچھ تحریک انصاف کا بھی معاملہ ہے۔ ان کے مطابق دیگر جماعتوں میں یہ روایات نہیں ہیں وہاں موروثی سیاست ہے۔

    بیرسٹر گوہر کے مطابق ہم کسی سے انتقام نہیں لیتے مگر انصاف ہمارا بھی حق ہے۔ انھوں نے کہا کہ آر اوز کے حوالے سے ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ یہ عدلیہ سے ہوں ورنہ عدالتیں صاف اور شفاف انتخابات یقینی بنائیں۔

  4. ’یہ جلسہ پاک فوج کے شہدا کے نام کرتا ہوں‘: تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل عمر ایوب خان

    پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل عمر ایوب خاب نے تحریک انصاف کے آن لائن جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ یہ آن لائن جلسہ پاک فوج کے شہدا کے نام کرتے ہیں۔ یہ جلسہ پولیس کے شہید ہونے والے اہلکاروں کے نام کرتے ہیں۔‘

    عمر ایوب خان کے مطابق اس جلسے کو صرف ایک پلیٹ فارم پر دس لاکھ لوگوں نے دیکھا ہے۔ انھوں نے 8 فروری کے انتخابات کے لیے فنڈنگ کی بھی اپیل کی ہے اور کہا کہ عمران خان کے جیل کی کنجی آپ کے ہاتھ میں ہے اور وہ آٹھ فروری کو ووٹ کی صورت میں آپ نے عمران خان کو باہر نکالنا ہے۔

    عمر ایوب خان نے کہا کہ عمران خان کو نہ صرف باہر نکالنا ہے بلکہ انھیں وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بھی بٹھانا ہے۔

  5. ’عشق بھلے نوں نچاوے یار تے نچنا پیندا اے‘ تحریک انصاف کے آن لائن جلسے میں مراد سعید کا تحریری پیغام پڑھ کر سنایا گیا

    تحریک انصاف کے آن لائن جلسے میں روپوش رہنما اور سابق وفاقی وزیر مراد سعید کا تحریری پیغام پڑھ کر سنایا گیا۔

    انھوں نے لاہور سے اسلام آباد تک عمران خان کے ساتھ سفر کی روداد سنائی۔ مراد سعید نے کہا کہ ’میرے پاکستانیوں کوئی بھی آپ کو یہ باور نہ کرا پائے کہ آپ کچھ نہیں کر سکتے اور کہ فیصلے کرنے والے کوئی اور لوگ ہیں۔‘

    پیغام کے مطابق ’آپ اس ملک کے فیصلے کریں گے اور اللہ کے بعد آپ کا اختیار ہے۔‘ انھوں نے اپنے تحریری پیغام میں کہا کہ آپ نے 8 فروری کو باہر نکلنا ہے اور ووٹ کی طاقت سے یہ سب کرنا ہے۔

    ’عشق بھلے نوں نچاوے یار تے نچنا پیندا اے‘

    اس تحریری پیغام میں آخر میں یہ پڑھا گیا ’عمران خان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔‘

  6. گذشتہ سات مہینوں میں روپوش ہوں، کبھی کہیں سردی میں جنگلوں میں اور کبھی کہاں ہوتا ہوں: اعظم سواتی

    پاکستان تحریک انصاف کے آن لائن جلسے سے تحریک انصاف کے متعدد روپوش رہنماؤں نے بھی خطاب کیا ہے۔

    سینیٹر اعظم خان سواتی نے اپنے خطاب میں کہا کہ عمران خان کی ہدایت پر وہ گذشتہ سات ماہ سے روپوشی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق وہ اپنے گھر اور پیاروں سے اس عمر اور اس سرد موسم میں کہیں جنگلوں میں اور کبھی کہیں ہوتے ہیں۔

    اعظم سواتی نے کہا کہ عمران خان نے مجھ پر اور میری بیوی بچوں پر ہونے والے ظلم و ستم پر ہر جلسے اور ہر موقعے پر آواز اٹھائی۔

    انھوں نے کہا کہ جب جیل کی سلاخوں کے پیچھے میں تحریک انصاف کی خواتین اور اپنی ان بچیوں کی طرف دیکھتا ہوں تو میں اپنی اور اپنے خاندان کی تکلیف ایک طرف رکھتا ہوں اور کہتا ہوں کہ ہمیں دی جانے والی تکیلف کچھ بھی نہیں ہے۔

    انھوں نے خدیجہ شاہ کا خصوصی ذکر کیا اور کہا کہ اس سرد مہینے میں انھیں کوئٹہ لے جانے کا مطلب مزید تکلیف پہنچانا ہے۔

    حماد اظہر نے بھی اس جلسے سے خطاب کیا اور کہا کہ عمران خان کے دور میں معیشت ترقی کر رہی تھی مگر حکومت کی تبدیلی سے پاکستان کے معاشی حالات زیادہ بگڑے۔

    علی محمد خان نے اپنے خطاب میں کہا نو مئی کو غلط کرنے والوں کو پھانسی دے دی جائے۔ انھوں نے کہا کہ مگر یہ سب قانون کے تحت ہونا چاہیے۔ علی محمد خان نے کہا کہ ایسے غلط کام کرنے والوں کی تعداد کتنی ہو گی یہیں سو یا دو سو بس۔

    علی امین گنڈا پور نے کہا کہ عمران خان نے ہمیشہ ہمیں یہ سکھایا کہ ہمارے ادارے اور ہماری فوج مضبوط ہو گی تو ملک مضبوط ہوگا۔

    تحریک انصاف کے تقریباً تمام ہی رہنماؤں نے آن لائن جلسے سے خطاب میں نو مئی کے واقعات کی مذمت کی ہے۔

  7. تحریک انصاف کا آن لائن جلسہ، انٹرنیٹ ڈاؤن لیکن شرکا کی تعداد پھر بھی ہزاروں میں

    پاکستان تحریک انصاف نے آن لائن جلسے کا انعقاد کیا ہے، جس میں ’ایکس‘ پر آغاز سے ہی شرکا کی تعداد 40 ہزار سے تجاوز کر گئی۔

    تحریک انصاف کے روپوش رہنماؤں کا بھی اس جلسے سے خطاب کا امکان ہے۔ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم اس جلسے کا انتظام سبنھالے ہوئے ہے۔

    ملک میں اگرچہ انٹرنیٹ سروسز جزوی طور پر معطل ہیں مگر تحریک انصاف کے اس آن لائن جلسے میں صرف ایکس پر آغاز سے ہی شرکا کی تعداد 40 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

    جلسے سے مونس الٰہی، علی محمد خان، عاطف خان، زرتاج گل اور بیرون ملک مقیم شہباز گل اور زلفی بخاری نے بھی خطاب کیا ہے۔

    زلفی بخاری نے کہا کہ نو مئی کی ہر تحریک انصاف کے رہنما اور کارکن نے مذمت کی ہے۔ ان کے مطابق اس دن کا نام لے کر تحریک انصاف پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔

  8. لطیف کھوسہ کا تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان

    سابق گورنر پنجاب سردار لطیف خان کھوسہ نے پاکستان تحریک انصاف میں باضابطہ شمولیت کا اعلان کردیا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل لطیف کھوسہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے سابق رکن رہے ہیں۔

    لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ’پرامید ہوں کہ نفرتوں کی سیاست ختم ہوگی، نفرتوں کو دفن کرکے نئی سفرکی دعوت دیتا ہوں۔

  9. الیکشن 2024 کے لیے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ اور ریٹرننگ افسران کی تربیت دوبارہ شروع: الیکشن کمیشن

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سپریم کورٹ کے حکم کے بعد عام انتخابات 2024 کے لیے ملک بھر میں ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر (ڈی آر اوز) اور ریٹرننگ افسروں (آر اوز) کی تربیت دوبارہ شروع کر دی ہے۔

    الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ آر اوز کی تربیت 18 جبکہ ڈی آر اوز کی تربیت 19 دسمبر کو مکمل ہو جائے گی۔ ’مجموعی طور پر 859 ریٹرننگ آفیسرز اور 144 ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسرز کو ٹریننگ دی جا رہی ہے۔‘

    ترجمان کے مطابق الیکشن کمیشن کے سینیئر افسران آر اوز اور ڈی آر اوز کو ٹریننگ دے رہے ہیں۔

    کمیشن نے حکومتی و سرکاری اداروں میں ہر قسم کی ٹرانسفر اور پوسٹنگ پر مکمل پابندی عائد کی ہے۔ الیکشن کمیشن نے ہدایت کی ہے کہ کسی بھی ایمرجنسی ٹرانسفر یا پوسٹنگ کے لیے معاملہ الیکشن کمیشن کو بھیجا جائے گا جس کے لیے پوسٹنگ اور ٹرانسفر کی وجوہات بھی بتانا ہوں گی۔

    دوسری جانب ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر اسلام آباد نے الیکشن کمیشن کی ہدایت پر سرکاری افسران اور آفیشلز کی چھٹیوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ڈی آر او اسلام آباد کا کہنا ہے کہ محکمہ تعلیم کے افسران اور ملازمین اسلام آباد چھوڑ کر نہ جائیں۔

  10. پاکستان کی ایران میں راسک پولیس ہیڈ کوارٹر پر حملے کی مذمت

    پاکستان نے ایران کے جنوب مشرقی علاقے میں راسک پولیس ہیڈ کوارٹر پر ’دہشت گرد حملے‘ کی مذمت کی ہے جس میں 11 ایرانی اہلکار ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

    اتوار کو ترجمان دفتر خارجہ نے بیان میں کہا کہ ’پاکستان دکھ کی اس گھڑی میں ایران کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔

    انھوں نے متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ دہشت گردی علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ ’دہشت گردی کا دوطرفہ اور علاقائی تعاون سمیت ہر طرح سے مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔‘

  11. اسلام آباد کیپیٹل پولیس کے ہیڈ کانسٹیبل محمد اشرف کی ہلاکت پر بیان جاری

    وفاقی دارالحکومت کی پولیس کا کہنا ہے کہ ’اسلام آباد کیپیٹل پولیس کے ہیڈ کانسٹیبل محمد اشرف راہزنی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے شہادت کے رتبے پر فائز ہو گئے۔ اللہ تعالٰی شہید اور ان کے بیٹے کی مغفرت اور درجات بلند فرمائے۔آمین۔‘

  12. اسلام آباد پولیس کے ہیڈ کانسٹیبل اور بیٹے کی ہلاکت: ’راہزنوں کو پکڑنے کی کوشش کی تو ملزمان نے فائرنگ کر دی‘

    اسلام آباد پولیس کے مطابق تھانہ رمنا کے علاقے میں ڈاکوؤں کی فائرنگ کے نتیجے میں ہیڈ کنسٹیبل محمد اشرف اور ان کے بیٹے کی ہلاکت ہوئی ہے۔

    ایک بیان میں پولیس نے کہا کہ ’ہیڈ کنسٹیبل نے راہزنوں کو واردات کرتے دیکھا۔۔۔ (انھوں) نے راہزنوں کو پکڑنے کی کوشش کی تو ملزمان نے فائرنگ کر دی۔‘

    ’ان کا بیٹا ان کی مدد کو آیا تو وہ بھی راہزنوں کی فائرنگ کا نشانہ بن گیا۔‘

    پولیس کے سینیئر افسران ’بھاری نفری کے ہمراہ موقع پر موجود ہیں۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے علاقہ میں سرچ آپریشن جاری ہے۔‘

    آئی جی اسلام آباد ڈاکٹر اکبر ناصر خاں نے وقوعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

  13. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کسی صورت الیکشن میں تاخیر نہیں چاہتی اور ’ہمارا موقف ہے کہ ریٹرننگ افسران عدلیہ سے لیے جائیں‘

    پاکستان کی وزارت خزانہ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 14 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 13 روپے 50 پیسے کی کمی کر دی ہے

    ملک بھر کے ایئر پورٹس پر ججز اور ان کی بیگمات کو ہوائی اڈوں پر تلاشی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ سیکریٹری ایوی ایشن کی ہدایت پر ایئرپورٹ سکیورٹی فورس کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر کے ہوائی اڈوں پر چیف جسٹس اور ان کی اہلیہ کی تلاشی نہیں ہوگی