آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

عمران خان نے سائفر کیس میں تمام عدالتی کارروائی کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا

پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی چئیرمین عمران خان نے سائفر کیس میں فرد جرم عائد کرنے سمیت اب تک ہونے والی تمام عدالتی کارروائی کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ 20 دسمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  2. ایک دوسرے کو جیل بھیجنا کامیابی نہیں سیاسی شکست ہے: بلاول بھٹو زرداری

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ’ایک دوسرے کو جیل بھیجنا کامیابی نہیں سیاسی شکست ہے۔‘

    لاہور ہائیکورٹ بار سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ’ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل ہوا، قاتل سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے جج تھے۔ ہم عدالتوں سے امید رکھتے ہیں کہ اتنے سال گزرنے کے بعد نا صرف قانون کے مطابق غلطی کو درست کریں گے بلکہ تاریخ کو بھی درست کی جائے گی۔‘

    بلاول بھٹو نے سابقہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’پی ٹی آئی دور کے بعد آنے والی معاشی ٹیم بیروزگاری اور مہنگائی کے چیلنجز کا مقابلہ نہ کرسکی، نوجوان بے وقوف بنانے کی کوشش کرنے والوں سے دور رہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت سیاست میں پولورائزیشن چل رہی ہے، ہم نے سیاست کو ذاتی دشمنی بنا لیا ہے اورخان صاحب کا اس میں سب سے زیادہ کردار ہے۔‘

  3. سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا چیف الیکشن کمشنر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ، اسلام آباد

    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے زیر نگرانی انتخابات پر تحفظات کا اظہار کر دیا ہے اور چیف الیکشن کمشنر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

    سپریم کورٹ بار کے اعلامیے کے مطابق ’موجودہ حالات میں چیف الیکشن کمشنر کو گھر جانا چاہیے کیونکہ ان کے زیر نگرانی شفاف انتخابات ممکن نہیں۔‘

    اعلامیے کے مطابق ’موجودہ چیف الیکشن کمشنر کی زیر نگرانی انتخابات کی شفافیت پر بہت سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ عام انتخابات مقررہ وقت پر آٹھ فروری کو ہی ہوں لیکن تمام سٹیک ہولڈرز کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔‘

    سپریم کورٹ بار کا کہنا ہے کہ شکایات کو دور کیے بغیر محض انتخابی ٹائم لائن پر عمل کرنا استحکام کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق ’اس سے پہلے بھی شکوک و شہبات دور کیے بغیر انتخابات کے انعقاد سے قیمتی وسائل اور ملک کا نقصان ہوا تھا۔‘

    یاد رہے کہ منگل کے روز ہی پاکستان بار کونسل کی جانب سے الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

    پاکستان بار کونسل نے الیکشن کمیشن کے انتخابی طریقہ کار، حلقہ بندیوں اور نشستوں کی تقسیم کے پر سوال اٹھا تے ہوئے کہا ہے کہ ’انتخابی عمل میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے برابر کے مواقع فراہم کرنے چاہیں۔ یہ تاثر بڑھ رہا ہے کہ موجودہ الیکشن کی موجودگی میں شفاف انتخابات نہیں کرائے جا سکتے۔‘

    پاکستان بار کونسل نے الزام عائد کیا کہ ’جہلم، گجرانوالہ اور ضلع راولپنڈی میں نشستوں کی تقسیم میں عدم توازن دیکھا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کو الیکشن کمیشن کے ہر عمل کی توثیق کرنے کے بجائے ان تضادات کا نوٹس لینا چاہیے۔‘

    پاکستان بار کونسل نے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’شفاف انتخابات موجودہ چیف الیکشن کمشنر آف پاکستان کی موجودگی میں ممکن نہیں۔ سپریم کورٹ نوٹس لے۔‘

  4. بریکنگ, عمران خان نے سائفر کیس میں تمام عدالتی کارروائی کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا

    پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی چئیرمین عمران خان نے سائفر کیس میں فرد جرم عائد کرنے سمیت اب تک ہونے والی تمام عدالتی کارروائی کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

    درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ سائفر کیس کی کارروائی کالعدم قرار دے کر بانی چیئرمین پی ٹی آئی کو کیس سے ڈسچارج کیا جائے بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر کیس کی عدالتی کارروائی کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے سٹیٹ اور کیس کے کمپلیننٹ سابق سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر کو فریق بنایا ہے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ سائفر کیس کی ٹرائل کورٹ میں 23 نومبر سے لے کر اب تک کی عدالتی کارروائی غیر قانونی اور انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔

    درخوات میں کہا گیا ہے کہ ’12 دسمبر کو ٹرائل کورٹ نے سائفر کیس کیخلاف ہماری درخواست مسترد کی۔ قانون میں لفظ شکایت کی تشریح واضح ہے، پولیس افسر کی رپورٹ کا ذکر نہیں۔ قانون کے مطابق شکایت کا مطلب کسی الزام پر مجسٹریٹ کے روبرو زبانی یا تحریری استدعا ہے۔ عمران خان کیخلاف زیر سماعت سائفر کیس ایف آئی آر اور پولیس رپورٹ کی بنیاد پر چلایا جارہا ہے۔‘

    درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ ’آفیشل سیکرٹ ایکٹ ایک سپیشل قانون ہے جو عام قانون سے مختلف ہے۔ سپیشل لا ہونے کی وجہ سے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا اطلاق کرتے ہوئے قانونی طریقہ کار کو اپنایا جانا ضروری ہے۔‘

    واضح رہے کہ ایک خصوصی عدالت سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر مقدمے کی سماعت راولپنڈی اڈیالہ جیل میں کر رہی ہے۔

  5. الیکشن سے بھاگنا نہیں ہے، میں الیکشن میں اپنی ماں کے ساتھ کھڑا ہوں: عثمان ڈار

    پاکستان تحریکِ انصاف کے سابق رہنما عثمان ڈار نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’ہمیں ہراساں کیا جا رہا ہے۔ ہمیں کہا جا رہا ہے کہ آپ لوگوں کے لیے زمین تنگ کر دیں گے اور بچے اٹھا لیں گے۔ ‘

    نو مئی کو جو کچھ ہوا میں سیالکوٹ میں نہیں تھی۔ انھوں نے میری والدہ کو مارا پیٹا۔ آج میں سیالکوٹ میں۔ میں نے ڈی پی اور سے کہا آؤ مجھے گرفتار کرو، آدھی رات کو نہ آیا کرو۔ ‘

    یاد رہے کہ عثمان ڈار کی والدہ نے الزام عائد کیا تھا کہ ان کے حلقے میں پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نہ اس وقت ان کے گھر پر حملہ اروایا جو وپ انتخابات میں ان کے خلاف کاغذاتِ نامزدگی جمع کروانے لگی تھیں۔

    عمثان ڈار کی والدہ نے کہا کہ کہ وہ جیل سے بھی خواجہ آصف کے خلاف الیکشن لڑیں گی۔

    دوسری جانب عثمان ڈار کی والدہ کے الزامات پر خواجہ آصف نے رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ ایسی انتقامی سیاست سے ان کا کوئی تعلق نہیں بلکہ انھوں نے ہمیشہ اپنے سیاسی مخالفین اور ان کے خاندان کا احترام کیا ہے۔

  6. سٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس 2300 پوائنٹس کی بڑی کمی, تنویر ملک ، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز مندی کا رجحان غالب ہے اور سٹاک مارکیٹ کے انڈیکس میں 2300 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    مارکیٹ میں کاروبار کے اختتام پر انڈیکس 62833 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوئی۔ سٹاک مارکیٹ میں گزشتہ کئی دنوں سے مندی کا رجحان غالب ہے ۔

    سٹاک مارکیٹ انڈیکس نے گزشتہ ہفتے 67000 پوائنٹس کی سطح عبور کی تھی تاہم اس کے بعد انڈیکس میں مسلسل کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔

    سٹاک مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق مارکیٹ میں مندی کی وجہ ایک تو فروخت کا دباو ہے کیونکہ مارکیٹ کافی اوپر جا چکی تھی۔ دوسرا سرمایہ کاروں کی جانب سے پاکستان کے صنعتی شعبے کی خراب کارکردگی پر منفی رد عمل دیا گیا۔

    ان کے مطابق مارکیٹ میں سرمایہ دار آئی ایم ایف کی اگلے ماہ قسط جاری ہونے سے پہلے اپنے منافع حاصل کرنا چاہتے ہیں اس لیے وہ حصص کی فروخت کر رہے ہیں۔

  7. الیکشن کمیشن کا نگراں وزیراعظم کے مشیر احد چیمہ کو عہدے سے ہٹانے کا حکم

    الیکشن کمیشن نے نگراں وزیر اعظم کے مشیر احد چیمہ کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ آٹھ فروری کے عام انتخابات پر ’اثر انداز ہوسکتے ہیں۔‘

    ایک فیصلے میں الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ احد چیمہ کو فل الفور نگران حکومت میں ان کے عہدے سے الگ کر دیا جائے اور اس حوالے سے سیکریٹری کابینہ ڈویژن کو حکم جاری کیا گیا ہے۔

    فیصلے کے مطابق احد چیمہ شہباز شریف کی کابینہ کا حصہ رہے تھے، اس لیے وہ الیکشن پر ’اثر انداز ہوسکتے ہیں۔‘

    دریں اثنا نگراں وفاقی وزیر برائے نجکاری فواد حسن فواد کے متعلق الیکشن کمیشن 21 دسمبر کو مزید سماعت کرے گا۔

    احد چیمہ کون ہیں؟

    ضلع حافظ آباد سے تعلق رکھنے والے احد چیمہ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروسز کے گریڈ 20 کے افسر تھے جو سابق وزیر اعظم پنجاب شہباز شریف کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔

    گذشتہ سال جون میں شہباز شریف نے بطور وزیر اعظم انھیں مشیر تعینات کیا تھا اور اس سے قبل وہ بطور وزیر اعلیٰ پنجاب میں ان کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔

    وہ ماضی میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے سربراہ رہ چکے ہیں جبکہ ان کے پاس میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، لینڈ ریکارڈ کمپوٹرائزیشن، نندی پور پاور پراجیکٹ، سولر انرجی کے منصوبے اور آشیانہ ہاؤسنگ سکیموں کی ذمہ داری بھی سونپی گئی تھی۔

    نیب نے انھیں آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں گرفتار کیا تھا تاہم رواں ماہ لاہور کی احتساب عدالت نے انھیں اس کیس میں بری کیا۔

  8. پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کے خلاف اعتراضات پر فیصلہ محفوظ: ’کسی جماعت کے ساتھ رعایت اور کسی جماعت کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا‘: الیکشن کمیشن, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    پاکستان تحریک انصاف کے انٹر پارٹی انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کے اعتراضات پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کہا ہے کہ ’انٹرا پارٹی انتخابات میں کسی جماعت کے ساتھ رعایت اور کسی جماعت کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔‘

    منگل کے روز سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے الیکشن کمیشن کے پانچ رکنی بینچ کے سامنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’ابتدا میں تین یا چار سوالات پوچھے گئے۔ کل میں دلائل دے رہا تھا تو سوالات چار سے 40 ہوگئے جس پر مجھے ان سوالات سے بڑی مایوسی ہوئی۔‘

    بیرسٹر علی ظفر کے استدلال پر چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ’پہلے آپ سے تین سوالات پوچھے گئے اس کے آپ نے جوابات دیے اور کمیشن نے مناسب سمجھا کہ مزید سوالات سے متعلق آپ کو سنا جائے۔‘

    چیف الیکشن کمشنر نے بیرسٹر علی ظفر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کے فائدے اور وقت بچانے کے لیے آپ کو بلایا۔‘

    پی ٹی آئی کے وکیل نے استدعا کی کہ وہ الیکشن کمیشن کے 40 سوالات کا ایک ایک کرکے جواب دیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ’ہم سے پوچھا گیا فارم 65 پر چیئرمین نے کیوں دستخط کیے جبکہ رولز کہتے ہیں کہ پارٹی ہیڈ کو دستخط کرنا ہوں گے۔ مسلم لیگ ن کے شہباز شریف جبکہ اے این پی کے اسفندیار ولی خان نے دستخط کیے تو پھر ہمارے ساتھ امتیازی سلوک کیوں ہورہا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن نے مرکزی سطح پر انتخابات کروائے صوبائی سطح پر نہیں کروائے تو کیا الیکشن کمیشن نے ان کو نوٹس جاری کیا ؟

    انھوں نے کمیشن سے استفسار کیا کہ ’ہمیں بتا دیں کہ مجاز شخص نے دستخط کرنے ہیں یا پارٹی ہیڈ نے کرنے ہیں۔ یہ ایسا معاملہ نہیں ہے کہ آپ انتخابی نشان روک دیں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم سح پوچھا گیا انٹرا پارٹی انتخابات کا شیڈیول پبلک کیوں نہیں کیا گیا۔‘

    بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ یہ سوال الیکشن کمیشن کیوں پوچھ رہا ہے یہ سوال تو پاکستان تحریک انصاف کے لوگوں کا بنتا تھا ۔

    انھوں نے سوال کیا کہ کس رول کے تحت شیڈول پبلک کرنے کی بات کی گئی۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ نو سوالات فیڈرل الیکشن کمشنر سے متعلق ہیں جبکہ اس میں یہ بھی پوچھا گیا کہ دو حصوں میں الیکشن کیوں نہیں کرایا گیا ۔

    انھوں نے کہا کہ پارٹی آئین میں صرف چیئرمین اور پینلز کا ذکر ہے ۔ کمیشن کی طرف سے سوال پوچھا گیا کہ آپ سے شیڈول کا پوچھا گیا ہے اور آپ نے تو ایک ہی سیشن بلایا ہے۔

    پاکستان تحریک ا نصاف کے وکیل کا موقف تھا کہ ووٹنگ نہیں ہوئی بلا مقابلہ انتخاب ہوا جس کی وجہ سے پینلز ہی نہیں تو کیسے الگ الگ الیکشن ہوتے۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن نے صوبائی انتخابات نہیں کرائے ان کے انتخابات منظور ہوئے جس پر کمیشن کی طرف سے پوچھا گیا کہ کیا آپ نے مسلم لیگ ن کے انتخابات کو چیلنج کیا ؟ جس پر علی ظفر کا کہنا تھا کہ ہم نے تو چینلج نہیں کیا لیکن ہمارا انتخاب الیکشن کمیشن نے چیلنج کیا ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کمیشن نے دوسرے جماعتوں کے انتخابات پر اعتراضات کیے گئے۔ انھوں نے کہا کہ ابھی وقت نہیں ہے ورنہ آپ کو تفصیلات دکھاتے۔

    پبیرسٹرعلی ظفر کا کہنا تھا کہ انٹرا پارٹی انتخابات کے لیے رولز ویب سائٹ پر ڈالنے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے کیونکہ صرف بیس پارٹیوں کی ویب سائٹ ہے۔

    اس پر چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی پارٹی خاص پارٹی ہے۔ بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ عمر ایوب کی تعیناتی کے بارے میں پوچھا گیا لیکن انٹرا پارٹی انتحابات کسی نے تو کرانے تھے۔

    انھوں نے کہا کہ چار دسمبر کو الیکشن کمیشن میں رزلٹ جمع کرایا۔ انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے کہا کہ تین تاریخ کے دستخط کردو ہم نے کردیے تو کیا اب یہ وجہ بنے گی۔

    دلائل مکمل ہونے کے بعد الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔

  9. آئین توڑنے والوں کو ججز ہار پھول پہناتے ہیں: نواز شریف

    سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف نے کہا ہے کہ 2017 میں پاکستان سیاسی اور معاشی طور پر مضبوط تھا اور اس کی عزت و وقار بڑھ رہا تھا تاہم پھر دہشت گردی بھی واپس آ گئی اور روپیہ مٹی میں مل گیا۔

    لاہور میں مسلم لیگ ن کے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ’آئین توڑنے والوں کو ججز ہار پھول پہناتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ تم تین سال تک جو چاہے آئین کے ساتھ کرو۔ ہم نے خود یہ فیصلے ہوتے دیکھے ہیں۔ ہم خود آئین کو تڑواتے ہیں اور اس پر مہر لگاتے ہیں اور جب پارلیمنٹ ٹوٹتی ہے تو کہتے ہیں کہ بالکل ٹھیک ہوا ہے۔‘

    نواز شریف نے اپنے خطاب میں عمران خان پر بھی شدید تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ’2018 کے انتخابات میں انجینئرنگ کی گئی، ہم نے چار سال تک ڈالر کو باندھ کر رکھا تھا، عمران خان کے حکومت میں آتے ہی ڈالر کو پر لگ گئے، سلیکٹڈ کوچار ووٹ سے وزیراعظم بنایا گیا۔‘

    نواز شریف نے کہا کہ ’جن ممالک کی گروتھ ریٹ ہم سے کم تھی آج ہم ان سے اتنا ہی پیچھے ہیں۔ تاہم اگرہماری ترقی کی وہ رفتار جاری رہتی تو پاکستان اپنی منزل پر پہنچ چکا ہوتا۔‘

    نواز شریف نے کہا کہ ’ہم نے دہشت گردی کو ختم کیا۔ پھر بھی جھوٹے کیسز میں ہم جیل میں جاتے ہیں اور سب دیکھ کر بھی خاموش رہتے ہیں۔ 2017 میں پاکستان سیاسی اور معاشی طور پر مضبوط تھا، لیکن اب وہ ممالک جو ہم سے پیچھے تھے وہ آگے چلے گئے، اگر ہماری حکومت کو ختم نہ کیا جاتا تو ہم یقیناً ایشیئن ٹائیگر بن چکے ہوتے۔‘

  10. ’ہم ناکامی کا یہ داغ نہیں لے کر جانا چاہتے ہیں مُلک میں عام انتخابات نہیں کروا سکے‘ نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ

    پاکستان کے نگران وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ نے کوئٹہ میں کہا کہ ’ہمارے پاس نئے منصوبے شروع کرنے کا مینڈٹ نہیں ہے۔‘

    کوئٹہ میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران پاکستان کے نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ ’اگر ہم الیکشن نا کرواتے تو یہ ناکامی کا داغ ہم پر ہوتا، عام انتخابات فروری میں ہی ہوں گے اور آزادانہ اور اور شفاف ہونگے۔‘

    نگران وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’آئینی طور پر ہمارے پاس نئے منصوبے لگانے کا اختیار نہیں ہے، ہمارے پاس نئے پراجیکٹ شروع کرنے کے جب مینڈیٹ نہیں ہے تو ہم سے ایسا کرنے کی اُمید کیوں لگائی جاتی ہے، لیکن اس کے باوجود میں نے کوشش کی ہے کہ بلوچستان کو اقتصادی راہداری (سی پیک) سے متعلق تمام تر حقوق دلوا سکیں۔‘

    بلوچستان میں گیس کی کمی سے متعلق ہونے والے ایک سوال کے جواب میں نگران وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ہماری جانب سے متعلق ادارے کو یہ ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ بلوچستان کے علاوہ مُلک کے دیگر صوبوں میں مناسب لوڈشیڈنگ کی جا سکتا ہے مگر بلوچستان کو اس سے استثنیٰ حاصل رہے گی۔

    پاکستان میں غیر قانونی تارکینِ وطن سے متعلق ایک سوال کے جواب میں نگران وزیرِ اعظم کا کہنا کتھا کہ ’غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم غیر مُلکیوں سے متعلق ریاست کی پالیسی تبدیل نہیں ہوگی۔‘

  11. پاکستان بار کونسل کا الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر پر تحفظات کا اظہار

    پاکستان بار کونسل کی جانب سے منگل کے روز ایک اعلامیہ جاری کیا گیا ہے کہ جس میں مُلک میں ہونے والے آئندہ عام انتخابات میں مُلک میں موجود تمام تر سیاسی جماعتوں کیلئے یکساں مواقعوں کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    بار کونسل کی جانب سے جاری اعلامیے میں ’الیکشن کمیشن کے انتخابی طریقہ کار، حلقہ بندیوں اور نشستوں کی تقسیم کے پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔‘

    اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’انتخابی عمل میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو برابر کے مواقع فراہم کرنے چاہیں، یہ تاثر بڑھ رہا ہے کہ موجودہ الیکشن کمشن کی موجودگی میں شفاف انتخابات نہیں کرائے جا سکتے، آبادی کے تناسب سے موجودہ حلقہ بندیاں انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھا رہی ہیں۔‘

    بار کونسل کے اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ’یہ واضح ہے کہ الیکشن کمیشن کا طرز عمل عام انتخابات کی سالمیت کے بارے میں سنگین شکوک و شبہات کو جنم دے رہا ہے، ان حالات کی روشنی میں الیکشن کمیشن ان نازک معاملات کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔

    پاکستان بار کونسل جاری اعلامیے میں مطالبہ کیا ہے کہ ’سپریم کورٹ کو الیکشن کمیشن کے ہر عمل کی توثیق کرنے کے بجائے ان تضادات کا نوٹس لینا چاہیے، اس بارے بار کونسل کا پختہ یقین ہے کہ بنیادی مقصد محض انتخابات نہیں ہے بلکہ آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات ہیں۔‘

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’بار کونسل سپریم کورٹ بار کی مشاورت سے وکلاء تحریک کے لیے لائحہ عمل کا اعلان کرنے کے لیے جلد ہی ایک آل پاکستان نمائندہ کنونشن بلائے گی۔‘

    اعلامیے کے مطابق ’بار کونسل جمہوری اصولوں کو برقرار رکھنے کے لیے انتخابی عمل میں شفافیت کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے، تاہم شفاف انتخابات موجودہ چیف الیکشن کمشنر آف پاکستان کی موجودگی میں ممکن نہیں۔‘

  12. سٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان، انڈیکس 1400 پوائنٹس گر گیا, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز مندی کا رجحان غالب ہے اور سٹاک مارکیٹ کے انڈیکس میں 1400 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ انڈیکس 64000 پوائنٹس کی سطح سے نیچے اس وقت 63800 پوائنٹس کی سطح پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔

    سٹاک مارکیٹ میں گزشتہ کئی دنوں سے مندی کا رجحان دیکھنے میں آرہا ہے۔ سٹاک مارکیٹ انڈیکس نے گزشتہ ہفتے 67000 پوائنٹس کی سطح عبور کی تھی تاہم اس کے بعد انڈیکس میں مسلسل کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔

    سٹاک مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق مارکیٹ میں مندی کی وجہ ایک تو فروخت کا دباؤ ہے کیونکہ مارکیٹ کافی اوپر جا چکی تھی دوسرا سرمایہ کاروں کی جانب سے پاکستان کے صنعتی شعبے کی خراب کارکردگی پر منفی رد عمل سامنے آیا ہے۔

  13. بریکنگ, حلقہ بندی چیلنج کرنے کی درخواست خارج: کسی صورت انتخابات کو ڈی ریل ہونے نہیں دیں گے‘، سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے بلوچستان میں حلقہ بندی چیلنج کرنے کی درخواست خارج کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو الیکشن تاخیر کا شکار بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

    قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بلوچستان کے حلقہ پی بی 12 میں حلقہ بندی سے متعلق نظرثانی درخواست کی سماعت کی۔

    سماعت میں درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیے کہ انتخابی حلقہ بندی کے حوالے سے غلط فیصلہ کیا گیا۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ الیکشن پروگرام جاری ہو چکا اب کچھ نہیں ہو سکتا، انفرادی درخواستوں پر فیصلہ دینے لگ گئے تو الیکشن عمل متاثر ہو گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایسی درخواستوں پر عام انتخابات کے لیے آٹھ فروری کی تاریخ کو ڈسٹرب نہیں کریں گے۔ اگر آپ انتخابات وقت پر نہیں چاہتے تو عدالت میں بیان دیں۔

    قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ ملک میں استحکام نہیں چاہتے؟ عام انتخابات کی تاریخ آنا معمولی بات نہیں۔ تاریخ آنے سے ملک میں تھوڑا استحکام آیا ہے۔۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کسی صورت انتخابات کو ڈی ریل ہونے نہیں دیں گے۔

    جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ انتخابات میں کوئی تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ کسی کو الیکشن تاخیر کا شکار کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

    عدالت نے درخواست خارج کرتے ہوئے قرار دیا کہ الیکشن شیڈول جاری ہونے کے بعد انتخابی حلقہ بندیاں تبدیل نہیں ہو سکتی۔

  14. پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت آج

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کا پانچ رکنی بینچ پاکستان تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کرے گا۔

    گزشتہ سماعت کے دوران الیکشن کمیشن نے ان انتخابات سے متعلق پی ٹی آئی کے وکیل کو 25 سوالات دیے تھے جن کے جواب آج طلب کیے گئے ہیں۔

    پی ٹی آئی کے وکیل نے ان سوالوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس قسم کی سکروٹنی دیگر سیاسی جماعتوں کی کیوں نہیں کی گئی۔

    پاکستان تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات کو چیلنج کرنے والے اکبر ایس بابر اور دیگر درخواست گزاروں کے وکلا اپنے دلائل مکمل کر چکے ہیں۔

    پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے بھی جماعت کے انتخابات سے متعلق اپنے دلائل مکمل کر لیے تھے تاہم الیکشن کمیشن نے ان سے مذید 25 سوالوں کے جواب مانگے ہیں۔

  15. عمران خان اور فواد چوہدری کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کی سماعت آج ہو گی, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

    سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کی سماعت آج اڈیالہ جیل میں ہوگی۔

    نثار درانی کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے چار ممبراناڈیالہ جیل پہنچ چکے ہیں اور آج ملزمان پر فرد جرم عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

    الیکشن کمیشن کے ارکان نے گذشتہ سماعت پر فواد چوہدری کے وکیل فیصل چوہدری کی درخواست پر فرد جرم کی کارروائی مؤخرکر دی تھی۔

    اس مقدمے میں سابق وزیر اعظم ایک مرتبہ بھی الیکشن کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہوئےاور توشہ خانہ کیس میں گرفتاری کے بعد وزارت داخلہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ملزم عمران خان کو الیکشن کمیشن کے سامنے پیش نہیں کر سکی جس کی وجہ سے الیکشن کمیشن کے ارکان اس مقدمے کی کارروائی کو آگے بڑھانے کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے ہیں۔

  16. سابق نگراں وفاقی وزیرِ داخلہ میر سرفراز بُگٹی کا پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان

    میر سرفراز بُگٹی نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان تربت میں پی پی پی کے زیرِ اہتمام ورکرز کنوینشن میں کیا جہاں سابق صدر آصف علی زرداری نے بھی شرکت کی۔

    بلوچستان میں 2018 میں سامنے آنے والی سیاسی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کی جانب سے سرفراز بگٹی نے انتخابات میں حصہ لیامگر ناکامی کے بعد پارٹی کی جانب سے اُنھیں سینیٹر کے طور پر سامنے لایا گیا۔

    میر سرفراز بُگٹی نے گزشتہ ہفتے نگران وزیر داخلہ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا کیونکہ انھوں نے آئندہ عام انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    پیر کے روز پاکستان پیپلز پارٹی کے بلوچستان کے ایران سے متصل ضلع کیچ کے ہیڈکوارٹر تربت میں ہونے والے ورکرز کنوینشن کے دوران سرفراز بُگٹی نے پاکستان پیپلز پارٹی میں باقائدہ شمولیت کا اعلان کیا۔

    اس موقع پر سابق صدرآصف علی زرداری نے کہا کہ ’بلوچستان پاکستان کا دل ہے۔ مار دھاڑ سے خوشحالی نہیں آتی، بلوچستان کے پاس وسائل بہت ہیں، ہم بلوچستان کو سنواریں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اسلام آباد میں بیٹھے افراد بلوچستان کو نہیں سمجھتے، وہ پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کو نہیں سمجھتے ہیں۔‘

    آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ ’بلوچستان میں ترقی کے لئے چین کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا۔ چین ہمارا ساتھی ہوگا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’کوئی قوم کسی اور کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی۔ ہم نے 40 سال افغانوں کی مہمان نوازی کی، لیکن وہ آج ہمارا بھائی بننے سے گریزاں ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میں چاہتا ہوں کہ سب لوگ واپس اپنے وطن آئیں، اور اپنے اپنے گھروں میں رہیں۔ دوسرے ممالک ہمیں سنبھال نہیں سکتے۔‘

    سرفراز بگٹی کون ہیں؟

    سرفراز بگٹی نے انتخابی سیاست کا آغاز 2002 کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے کیا لیکن انھیں کامیابی نہیں ملی۔

    انھوں نے 2013 کے عام انتخابات میں آزاد حیثیت سے حصہ لیا تاہم کامیابی کے بعد انھوں نے پاکستان مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کی۔ وہ سابق مخلوط حکومت میں بلوچستان کے وزیرداخلہ رہے۔

    سرفراز بگٹی نے 2018 میں بلوچستان کی سطح پر بننے والی جماعت، بلوچستان عوامی پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور ان کا شمار پارٹی کے اہم رہنمائوں میں ہوتا رہا۔

    اگرچہ 2018 کے عام انتخابات میں بلوچستان عوامی پارٹی سے انھیں کامیابی نہیں ملی تاہم بعد میں وہ پارٹی کی ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہوگئے۔

  17. ایران کا پاکستان سے دہشت گردوں کا راستہ روکنے کا مطالبہ

    ایران میں پولیس سٹیشن پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد ایران کی جانب سے پاکستان کے خلاف سخت ردِ عمل سامنے آیا ہے، ایران میں دہشت گردوں کے ایک حملے میں 11 ایرانی سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

    تاہم پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایران کے ساتھ اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اسے مشترکہ چیلنج کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ پاکستان کے نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے اپنے ایرانی ہم منصب حسین امیر عبداللہیان سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے یقین دہانی کروائی کے ایسے واقعات دونوں مُمالک کے لیے خطرے کا باعث ہیں۔

    واضح رہے کہ ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان کے قصبے رسک میں ایک پولیس سٹیشن پر حالیہ حملے کے نتیجے میں 11 ایرانی سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

    دہشت گرد گروپ جیش العدل (آرمی آف جسٹس)، جو بنیادی طور پر جنوب مشرقی ایران میں کام کرتا ہے اور جسے تہران نے دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے، نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

    پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق نگران وزیر خارجہ جلیل عباس نے دہشت گردی کے خطرے کے خلاف ایران کے ساتھ تعاون کے لیے پاکستان کے عزم پر زور دیا جو علاقائی امن و استحکام کی راہ میں ایک اہم رکاوٹ ہے۔

    ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ کی رپورٹ کے مطابق اس واقعے کے بعد ایرانی وزیر داخلہ احمد وحیدی نے جائے وقوعہ کا دورہ کرتے ہوئے پاکستان پر زور دیا تھا کہ وہ دہشت گرد گروہوں کو اپنی سرحدوں کے اندر اڈے قائم کرنے سے روکے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ حملہ آور پاکستان سے ایران میں داخل ہوئے تھے۔

    وزیر خارجہ جیلانی نے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی اور اس سانحے کے دوران دفتر خارجہ کی جانب سے ایران کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔

    اس سے قبل دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ دہشت گردی نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن و سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہے اور اس سے دو طرفہ اور علاقائی تعاون سمیت تمام دستیاب ذرائع سے نمٹنا ہوگا۔

  18. پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن: ’بےضابطگی پائی گئی تو آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ دیں گے‘: الیکشن کمیشن, شہزاد ملک/ بی بی سی اردو، اسلام آباد

    الیکشن کمیشن نے سابق حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف میں انٹرا پارٹی انتخابات کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

    الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اگر ان انتخابات میں بےضابطگی پائی گئی تو آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ دیں گے۔ پیر کے روز ہونے والی سماعت کے دوران بیرسٹر علی ظفر نے پاکستان تحریک انصاف کے انٹر پارٹی انتخابات کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے 20 دن کے اندر انتخابات کا حکم دیا تھا اور آئین کے تحت انتخابات کا حکم دیا گیا جس پر چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن کا آرڈر یہاں زیر بحث نہیں۔

    بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ جب بلا مقابلہ انتخاب ہو تو ووٹنگ کی ضرورت نہیں ہوتی اور عام انتخابات میں لوگ بلا مقابلہ منتخب ہوتے ہیں اور بلا مقابلہ انتخابات کوئی غیر قانونی کام نہیں ہے۔

    انھوں نے کہا کہ الیکشن ایکٹ 2017 اور پاکستان تحریک انصاف کے آئین میں انٹرا پارٹی الیکشنز کو پروسیجر نہیں بتایا گیا اور اگر کوئی جماعت انٹرا پارٹی انتخابات کا انعقاد کرتی ہے تو اس میں کوئی ممانعت نہیں۔

    انھوں نے کہا کہ پارٹی آئین کے مطابق صرف سیکرٹ بیلٹ پیپرز کا زکر ہے اور نہ ہی الیکشن کمیشن انٹرا پارٹی انتخابات کو بطور الیکشن ٹریبونلز ریگیولیٹ نہیں کرتا۔

    انھوں نے کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کے آئین میں انٹرا پارٹی انتخابات کے رولز اور قوانین موجود ہی نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہر کوئی پارٹی ممبر نہیں ہے، ووٹر، سپورٹر اور ممبر میں فرق ہے۔

    بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے ایک فیصلے میں لکھا گیا ممبرشپ کے بغیر لوگ شکایت نہیں کرسکتے۔

    انھوں نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کا سیکشن 208 کے مطابق سیاسی جماعت کی باڈی اپنے آئین مطابق منتخب ہوگی اور تمام سیاسی جماعت کو الیکٹرول کالج پورا کرنا ہوگا۔

    بینچ کے ایک رکن نے استفسار کیا کہ پورے پاکستان کے انتخابات صرف پشاور میں ہی کیوں ہوئےجس پر بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ ہر جماعت کا یہی ہوتا ہے یہ عام انتخابات نہیں،انٹرا پارٹی ہیں جو ایک جگہ ہوتے ہیں۔

    درخواست گزار اکبر ایس بابر کے وکیل احمد حسن کا جواب الجواب میں کہا کہ اس پر کسی ممبر کا زکر نہیں بلکہ فرد کا زکر ہے۔ انھوں نے کہا کہ آپ نے آئین میں بتانا ہے کہ پروسیجر کیا ہونا چاہیے۔

    انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے انٹر پارٹی الیکشن میں کہیں بھی زکر نہیں ہے کہ کہاں پر انتخابات ہونے ہیں۔

    پی ٹی آئی کے نومنتخب چیئرمین بیرسٹر گوہر اپنی سیٹ سے کھڑے ہوئے اور کہا کہ میڈیا کو بھی پتہ تھا ہر جگہ بتایا کہ انتخابات پشاور میں ہوں گے جس پر چیف الیکشن کمشنر نے انھیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’گوہر صاحب آپ نے بڑی خوشی سے اس جگہ کا نام لیا تھا آپ تو اتنا سیریس ہورہے ہیں۔‘

    انھوں نے فریقین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ اس پہ اتفاق کرلیں کہ فوٹیج کا فورنزک ہونا چاہیے جس پر درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’مجھے تو فورنزک سے کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ سپریم کورٹ کہہ چکا کہ الیکشن کمیشن پارٹیز کیلئے ریگولیٹری باڈی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ان کے موکل کا موقف ہے کہ پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دے کر فوری انتخابات کا حکم دیا جائے اور الیکشن کمیشن ان انٹر پارٹی انتخابات کی نگرانی کرے۔

    الیکشن کمیشن کی طرف سے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق سوالات اٹھانے پر پی ٹی آئی کے وکیل برہم ہوئے اور کہا کہ کیا اتنی سخت سکروٹنی دیگر سیاسی جماعتوں کی بھی ہوئی ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر نے ان درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں تمام قانون پہلووں کا جائزہ لیا جائے گا۔

  19. بلوچستان سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کے شرکا کا ڈیرہ غازی خان میں دھرنا, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کے شرکا نے بطور احتجاج صوبہ پنجاب کے شہر ڈیرہ غازی خان میں دھرنا دیا ہے۔

    دھرنے کے شرکا کا کہنا ہے کہ جب تک گرفتار کیے جانے والے افراد کو چھوڑ نہیں دیا جاتا اس وقت تک ان کا دھرنا ڈیرہ غازی خان ہی میں جاری رہے گا-۔

    مارچ کے منتظمین میں شامل ڈاکٹرماہ رنگ بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ لانگ مارچ کے شرکا گزشتہ شب 10 بجے کے لگ بھگ بلوچستان سے ڈیرہ غازی خان پہنچے تھے۔

    انھوں نے بتایا کہ اسلام آباد کی جانب بڑھنے کی بجائے لانگ مارچ کے شرکا نے ڈیرہ غازیخان میں کوئٹہ ڈیرہ غازیخان ہائی وے پر گدائی چوک پر دھرنا دے رکھا ہے۔

    ڈاکٹرماہ رنگ بلوچ کا کہنا تھا کہ یہ دھرنا گرفتارافراد کی رہائی کے لیے دیا جارہا ہے۔

    لانگ مارچ میں شریک زبیر آسکانی نے بتایا کہ گرفتار ہونے والے افراد کا تعلق لانگ مارچ کے شرکا سے نہیں ہے بلکہ یہ وہ لوگ تھے جو کہ لانگ مارچ کے استقبال کے لیے جمع ہوئے تھے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ مجموعی طورپر ڈیرہ غازیخان سے 22 افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں تاہم رابطے میں مشکلات کے باعث ڈیرہ غازیخان پولیس سے گرفتاریوں اور ان کی تعداد کے بارے میں تصدیق نہیں ہوسکی-

    ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے بتایا کہ لانگ مارچ کا منزل اسلام آباد ہے لیکن وہ اس وقت ڈیرہ غازی خان میں ہی اپنے دھرنے کو جاری رکھیں گے جب تک کہ ان افراد کو رہا نہیں کیا جاتا۔

    یہ لانگ مارچ تربت میں بالاچ بلوچ نامی نوجوان کے مبینہ ماورائے قتل کے واقعے کے بعد شروع کیا گیا تھا- بالاچ بلوچ کے قتل کا الزام سی ٹی ڈی پر عائد کرتے ہوئے یہ کہا گیا تھا کہ ان کو دوران حراست ہلاک کیا گیا-

    سی ٹی ڈی بلوچستان نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ وہ ایک مقابلے کے دوران مارے گئے۔

    بالاچ بلوچ کے قتل کے حوالے سے نہ صرف سی ٹی ڈی کے چار اہلکاروں پر سی ٹی ڈی کا مقدمہ درج کیا گیا بلکہ بلوچستان ہائیکورٹ نے چاروں اہلکاروں کو معطل کرنے کا بھی حکم دیا- اہم مطالبات تسلیم ہونے کے باوجود مارچ کو جاری رکھنے کے جواز پر گلزار دوست کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کے مطالبات میں صرف یہ دو مطالبات شامل نہیں ہیں۔

    انھوں نے دیگر مطالبات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کو مبینہ جعلی مقابلوں میں ہلاک کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے، بالاچ بلوچ پر سی ٹی ڈی نے جو الزامات لگائے تھے ان کو واپس لیا جائے، سی ٹی ڈی کو ختم کیا جائے ،اور اب تک جتنے بھی لوگ جبری طور پر لاپتہ کیے گئے ہیں ان کو عدالتوں میں پیش کیا جائے۔

    تاہم سرکاری حکام کی جانب سے دوران حراست لوگوں کے قتل کے الزام کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ بلوچستان کے وزیر اطلاعات جان محمد اچکزئی کا کہنا ہے کہ بالاچ بلوچ کا تعلق کالعدم عسکریت پسند تنظیم سےرہا ہے اور انھوں نے نقص امن کے 11 واقعات میں ملوث ہونے کا اعتراف بھی کیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی حکومت نے بالاچ بلوچ کے حوالے سے لانگ مارچ کے شرکا کو تسلیم کیا ہے جس کے بعد اس احتجاج کا کوئی جواز نہیں ہے۔

  20. لاہور ہائیکورٹ کا پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت کو رہا کرنے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت کو رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

    ‏‏لاہور ہائیکورٹ میں پیر کے روز جسٹس شہرام سرور چوہدری نے شیر افضل مروت کی نظر بندی کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔

    سماعت کے دوران نگران حکومت کی جانب سے خواجہ محسن عباس ایڈووکیٹ نے جواب جمع کروایا جس میں مؤقف اپنایا گیا کہ شیر افضل مروت کی نظر بندی کے خلاف درخواست گزار متعلقہ فورم پر رجوع کریں۔

    یاد رہے چند روز قبل لاہور پولیس نے شیر افضل مروت کو ’نقضِ امن کا باعث بننے پر‘ تھری ایم پی او کے تحت لاہور ہائی کورٹ کے باہر سے گرفتار کیا تھا۔

    یہ بھی یاد رہے کہ شیر افضل مروت پر سوشل میڈیا کے ذریعے ریاستی اداروں کے خلاف عوام کو اکسانے کے الزام میں رواں سال اکتوبر میں بھی مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

    عدالت نے سرکاری وکیل کے جواب اور فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنانے ہوئے پنجاب کی استدعا مسترد کر دی اور ڈپٹی کمشنر کے سامنے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کے بعد شیر افضل مروت کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

    تحریک انصاف کے سینیئر نائب صدر شیر افضل مروت سابق سول جج سے مشکل وقت میں پاکستان تحریکِ انصاف کا چہرہ کیسے بنے؟ جاننے کے لیے یہاں کلک کیجئے۔