عام انتخابات برف باری کے بعد کرائے جائیں: الیکشن کمیشن میں دو درخواستیں دائر
پاکستان میں عام انتخابات کی تاریخ 8 اکتوبر 2024 ہے۔ سپریم کورٹ کے واضح فیصلے اور الیکشن کمیشن کے اعلان کے باوجود یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ واقعی عام انتخابات وقت پر ہوں گے۔ تاہم الیکشن کمیشن نے ایسی تمام خبروں کی تردید کی ہے جن میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ عام انتخابات تاخیر سے کرائے جائیں گے۔
شاید ان خبروں سے بے خبر کم از کم دو ایسے درخواست گزار ہیں جنھوں نے الیکشن کمیشن کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے اور عام انتخابات کی تاریخ میں تاخیر کی درخواست کی ہے۔
یہ دونوں درخواستیں پاکستان کے صوبے بلوچستان کے رہائشیوں نے دائر کی ہیں۔ انھوں نے اپنی درخواست میں صوبے میں سکیورٹی صوتحال اور فروری میں برف باری کا ذکر کرتے ہوئے یہ استدعا کی ہے کہ انتخابات برف باری کے بعد کرائے جائیں۔
الیکشن کمیشن کے ایک ترجمان پہلے ہی اس کی وضاحت کر چکے ہیں کہ نئی انتخابی فہرستیں پہلے ہی نادرہ کے پاس ہیں اور ان فہرستوں کو ملک کے مختلف اضلاع میں بھیجا جا رہا ہے۔
ایک درخواست گزار مینا مجید نے اپنی درخواست ایڈووکیٹ فاطمہ نذر کے ذریعے دائر کی ہے۔ مینا مجید بلوچستان کی ایک علاقے ماند سے جنرل کونسلر ہیں اور انھوں نے الیکشن کمیشن سے سکیورٹی وجوہات پر عام انتخابات میں تاخیر کرنے کی درخواست کی ہے۔
ضلع قلعہ سیف اللہ خان سے طور گل خان جوگیزئی نے ایڈووکیٹ عزیزاللہ کاکاخیل کے ذریعے اپنی درخواست دائر کی ہے۔ انھوں نے اپنی درخواست میں یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ صوبے کے متعدد اضلاع میں شدید برفباری کی وجہ سے معمولات زندگی ٹھپ ہو کر رہ جاتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ان علاقوں میں ایسے موسم میں انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہے۔ درخواست گزار کے مطابق ان علاقوں میں مئی کے مہینے میں حالات سازگار ہوتے ہیں۔