آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

’کہتے ہیں بات ہو گئی ہے، دو تہائی اکثریت ہماری ہے مگر ہم عوام کے علاوہ کسی اور کا فیصلہ ماننے کے لیے تیار نہیں‘: بلاول بھٹو

نوشہرہ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ تمام مسائل سے نکلنے کے لیے صاف اور شفاف انتخابات کرانے ہوں گے ورنہ اربوں روپے خرچ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ دو تہائی اکثریت کے دعوے کیے جار ہے ہیں۔ ان کے مطابق ہم کسی کا فیصلہ ماننے کو تیار نہیں ہیں، ہم صرف پاکستان کے عوام کا فیصلہ مانیں گے۔

لائیو کوریج

  1. فواد چوہدری کو بطور سابق وزیر جیل مینوئل کے تحت سہولیات فراہم کی جائیں: اسلام آباد ہائی کورٹ

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کی جیل میں سہولیات فراہمی، وکلا اور فیملی سے ملاقات کی اجازت کی درخواست پر سماعت میں بطور سابق وزیر انھیں جیل مینوئل کے تحت سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہونے والی سماعت میں ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل نے عدالت کے روبرو بتایا کہ فواد چوہدری کو سکیورٹی وارڈ میں رکھا گیا ہے۔

    جسٹس ارباب محمد طاہر کے استفسار پر انھوں نے کہا کہ چیف کمشنر اور پنجاب حکومت کو درخواست بھیج دی ہے۔

    فواد چوہدری کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ بچوں سے بات قانون میں لکھا ہے قانون کے مطابق ہی عمل درآمد کروادیں۔

    جسٹس ارباب محمد طاہر نے فواد چوہدری سے کہا کہ آپ کی درخواست پر تفصیلی آرڈر بھی کردیں گے۔ جسٹس ارباب محمد طاہر کی ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ کو ہدایت کی کہ آپ قانون کے مطابق عمل درآمد یقینی بنائیں۔

    عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ فواد چوہدری نے کیا دھمکیاں دی ہیں؟ ان کے خلاف کس چیز کی ایف آئی آر ہے؟

    جس پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ فواد چوہدری کے خلاف 502 کی ایف آئی آر ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے درخواست کی سماعت کے دوران فواد چوہدری سے ان کے وکلا اور فیملی کو ملاقات کی بھی اجازت دے دی۔

  2. آمنہ مسعود جنجوعہ کا چیف جسٹس سے جبری طور پر گمشدہ کیے جانے والے افراد کے معاملے پر نوٹس لینے کا مطالبہ

    چیئرمین ڈیفنس آف ہیومن رائٹس آمنہ مسعود جنجوعہ نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی سے جبری گمشدہ افراد کے معاملے پر نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا۔

    آمنہ مسعود جنجوعہ نے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد کی بازیابی کے لیے وزیراعظم، آرمی چیف، چیف جسٹس، اور صدر پاکستان کے نام خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ جبری گمشدگیوں کے معاملے کا نوٹس لے کر اس کا مستقل حل کرے۔

    آمنہ مسعود جنجوعہ نے خط میں لاپتہ افراد کے لیے قائم کمیشن بند کر کے نیا کمیشن بنانے کا مطالبہ بھی کیا ہے اور کہا ہے کہ ’ارباب اختیار سے امید ہے کہ وہ ہمیں مایوس نہیں کریں گے۔‘

  3. جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی سپریم کورٹ میں چیلنج کر دی

    جسٹس مظاہر نقوی نے اپنے خلاف ہونے والی سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے اور سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی ختم کرنے کی درخواست میں کہا ہے کہ ’میرے خلاف شروع کی گئی مہم عدلیہ پر حملہ ہے۔

    جسٹس مظاہرنقوی نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ ’ظاہرکیے گئے اثاثے کارروائی کی بنیاد نہیں بن سکتے،ٹیکس حکام سے مجھے کبھی نوٹس نہیں آیا،میرے خلاف شروع کی گئی مہم عدلیہ پرحملہ ہے۔‘

    یاد رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے خلاف جمع کروائی گئی شکایات میں ان جائیدادوں کی تفصیلات بتائی گئی ہیں جو انھوں نے مبینہ طور پر اپنی سروس کے دوران بنائی ہیں۔

    میاں داؤد ایڈووکیٹ کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل میں جمع کروائی گئی درخواست کے ساتھ جسٹس مظاہر اکبر نقوی، ان کے بیٹوں کے نام ’مشکوک انداز میں‘ خریدی گئی جائیدادوں کی دستاویزات منسلک ہیں جبکہ مظاہر اکبر نقوی کی جانب سے اپی بیٹی کو برطانوی بینک اکاؤنٹ میں بھیجے گئے پاؤنڈز کی رسید بھی منسلک ہے۔

    سپریم کورٹ میں جسٹس مظاہر کی جانب سے وکیل مخدوم علی خان نے آرٹیکل 184/3کے تحت درخواست دائرکی ہے۔

    درخواست میں جسٹس مظاہر نقوی کی جانب سے کہا گیا کہ ’کونسل نے میرے اعترضات طے کئے بغیر آئندہ کارروائی کا نوٹس بھیجا اور 27 اکتوبر کو پریس ریلیز جاری کر کے میرے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی۔‘

    درخواست کے مطابق ’16 فروری 2023ء سے میرے خلاف جھوٹی اور بے بنیاد مہم چلائی جارہی ہے اور میڈیا ٹرائل کیا جارہا ہے۔‘

    دوسری جانب چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ اجلاس کی صدارت میں سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس آج ہوگا۔

    اجلاس میں جسٹس سردار طارق مسعود ، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف درخواستوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کو شوکاز نوٹس جاری کیا تھا اور جسٹس سردار طارق کے خلاف شکایت کنندگان کو شواہد کے ہمراہ طلب کیا تھا۔

  4. نواز شریف کی توشہ خانہ ریفرنس میں اپنے دفاع میں جواب داخل کروانے کی درخواست منظور, شہزاد ملک/ بی بی سی اردو، اسلام آباد

    اسلام آباد کی احتساب عدالت میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی توشہ خانہ سے حاصل کی گئی گاڑیوں کے خلاف ریفرنس میں اپنے دفاع سے متعلق جواب داخل کروانے کی درخواست عدالت نے منظور کر لی۔

    احتساب عدالت کے جج نے دوران سماعت نیب کے پراسیکیوٹر سے کہا کہ ملزم کا اپنے دفاع سے متعلق بیان ریکارڈ کریں جس میں ان کا کہنا تھا کہ یہ کام ان کا نہیں بلکہ تفتیشی افسر کا ہے۔

    عدالت نے نیب پراسیکیوٹر کے دفتر سے تفتیشی افسر کو سابق وزیر اعظم نواز شریف کا بیان ریکارڈ کرنے کا حکم دیا ہے۔

    واضح رہے کہ یہ ریفرنس توشہ خانہ میں سابق صدر آصف ذرداری، سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف کے خلاف تھا۔

    یہ بھی یاد رہے احتساب عدالت نے اس مقدمہ میں نواز کو اشتہاری بھی قرار دیا تھا اور ان کی جائیداد قرق کرنے سے متعلق احکامات دیے تھے۔

    تاہم 21 اکتوبر کو وطن واپسی کے بعد عدالت میں پیشی کے موقع پر نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی ختم کر دی گئی تھی۔

    عدالت کی مزید کاروائی اب 30 نومبر کو ہو گی۔

  5. پاکستان کی سب سے زیادہ معاوضہ لینے والی ماڈل جن کے کھانوں کی ترکیبیں کینیڈا کے ریستورانوں میں استعمال ہوتی ہیں

  6. گوادر میں حق دو تحریک کے زیراہتمام خواتین کا احتجاجی مظاہرہ

    بلوچستان کے ضلع گوادر میں حق دو تحریک کے زیراہتمام خواتین نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔

    احتجاجی مظاہرہ بلوچستان کے سمندری حدود میں ٹرالروں کے ذریعے غیرقانونی ماہی گیری،لوگوں کی جبری گمشدگی، منشیات اور غیرضروری چیک پوسٹوں کے خلاف کیا گیا۔

    مظاہرے سے حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان ، واجہ حسین واڈیلہ ، زرگل بلوچ اور دیگر نے خطاب کیا ۔ مقررین کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی سمندری حدود میں ایک مرتبہ پھر ٹرالروں کے زریعے غیر قانونی ماہی گیری میں اضافہ ہوا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ٹرالرمافیا کے خلاف موثر کاروائی نہ کرکے گوادر سمیت بلوچستان کے ماہی گیروں کا معاشی استحصال کیا جارہا ہے۔

    مقررین کا کہنا تھا کہ پہلے سے لاپتہ افراد کو بازیاب کرنے کی بجائے لوگوں کے جبری گمشدگی میں تیزی لائی گئی ہے جبکہ منشیات کے خلاف مئوثر کاروائی نہیں کی جارہی ہے۔

    مقررین نے مطالبہ کیا کہ جبری گمشدگی کا سلسلہ بند کرنے کے علاوہ تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے ،غیرقانونی ماہی گیری، منشیات اور غیر قانونی چیک پوسٹوں کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

  7. عمران خان جیل میں بالکل محفوظ ہیں، سنگین الزامات لگانے سے پہلے دس بار سوچنا چاہیے : نگران وزیراعظم

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ نو مئی کو فوج نے صبر و تحمل سے کام لیا، یہاں کوئی اذیت پسند لوگ نہیں کہ جنھیں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے سے ذاتی بدلہ لینا ہو،عمران خان جیل میں بالکل محفوظ ہیں، سنگین الزامات لگانے سے پہلے دس بار سوچنا چاہیے۔

    جیو نیوز کے پروگرام جرگہ میں میزبان سلیم صافی سے بات چیت کے دوران نگران وزیر اعظم نے کہا کہ یہ ہماری قانونی ذمے داری ہے کہ ہم ان (عمران خان) کی حفاظت کو یقینی بنائیں، اگر قانون انہیں کسی سزا کا مستحق ٹھہراتا ہے تو سزا بھی قوانین کے پیمانے میں رہتے ہوئے دی جائے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ الیکشن ہونے جا رہے ہیں ہم کوشش کر رہے ہیں کہ شفاف الیکشن ہوں۔

    پیپلز پارٹی کی جانب سے لیول پلیئنگ فیلڈ کے الزامات پر انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ اپنے ووٹر کے سامنے خود کو مظلوم بنا کر پیش کرنا اور ووٹرز کو اپنی جانب متوجہ کرنا کسی بھی سیاسی جماعت کے بیانیے کا حصہ ہو سکتا ہے۔

    ’ہو سکتا ہے کہ پیپلز پارٹی بھی اپنے ووٹرز کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اس طرح کی گفتگو کررہی ہو، میں اس بات کو اس سے زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیتا۔‘

    اس سے قبل غیر ملکیوں کے انخلا کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم افغان حکومت سے مختلف ذرائع رابطے میں ہیں اور وہ اچھے طریقے سے جانتے ہیں کہ تحریک طالبان پاکستان کہاں موجود ہے۔‘

    نگران وزیر اعظم کے مطابق ’اگر کوئی پاکستان کے عام عوام اور سکیورٹی فورسز پر حملہ آور ہوگا تو اس کا جواب دیا جائے گا اور اس کو خاموشی سے برداشت نہیں کریں گے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ہم مذاکرات سے قطعاً انکار نہیں کررہے لیکن اگر کوئی واقعتاً سنجیدہ انداز میں مذاکرات کرنا چاہتا ہے تو سب سے پہلے انہیں غیرمشروط ہتھیار پھینکنا ہوں گے۔

    ’آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ شرائط ہوں گی تو ہم ہتھیار اٹھائیں گے، ہتھیار اٹھانے کا جواز بھی سراسر ناجائز ہے، جب وہ پہلے ناجائز کام سے پیچھے ہٹیں گے تو اس کے بعد سوچا جائے گا کہ ان سے مذاکرات کیے جائیں یا نہ کیے جائیں، کس حد تک کیے جائیں، کن کن نکات پر کیے جائیں۔‘

  8. پی ٹی آئی کے سابق رکن قومی اسمبلی علی نواز اعوان استحکام پاکستان پارٹی میں شامل

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق رکن قومی اسمبلی علی نواز اعوان نے استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہے۔

    ایکس پر ایک پوسٹ میں استحکام پارٹی نے ’استحکام پاکستان پارٹی کو ایک اور بڑی کامیابی۔ سابق وفاقی وزیر علی نواز اعوان کی پیٹرن انچیف استحکام پاکستان پارٹی جہانگیر خان ترین اور صدر عبدالعلیم خان سے ملاقات اور استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت۔

    ’اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری جنرل عون چوہدری اور سینئر رہنما نعمان لنگڑیال بھی موجود تھے۔‘

    علی نواز اعوان 14 اکتوبر 2018 کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں حلقہ این اے 53 سے پی ٹی آئی کے امیدوار کے طور پر پاکستان کی قومی اسمبلی کے لیے منتخب ہوئے تھے۔ انھیں سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنی وفاقی کابینہ میں شامل کیا تھا اور کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے امور میں معاون خصوصی کے عہدے پر فائز کیا تھا۔

  9. بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید

    بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ یہاں آپ کے لیے پاکستان کی تازہ صورت حال سے متعلق تمام خبریں شامل کی جاتی ہیں۔ اگر آپ 19 نومبر یا اس سے پہلے کی خبریں پڑھنا چاہیں تو اس لنک پر کلک کریں

  10. ڈاکٹر عبدالسلام: نوبیل انعام یافتہ سائنسدان 30 برس تک نظرانداز کیوں کیے گئے؟