آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

خیبرپختونخوا کے نئے نگراں وزیراعلیٰ جسٹس ریٹائرڈ ارشد حسین کون ہیں؟

خیبرپختونخوا کے نگران وزیراعلیٰ جسٹس (ر) سید ارشد حسین شاہ نے اپنے عہدے کاحلف اٹھا لیا ہے۔ گذشتہ روز صوبے کے نگراں وزیر اعلیٰ محمد اعظم خان وفات پا گئے تھے، جن کے بعد ارشد حسین کو اس عہدے کے لیے چنا گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. سپریم کورٹ نےپرویز مشرف کی سزا کے خلاف اپیل مقرر کرنے کی متفرق درخواست منظور کرلی

    پاکستان کی سپریم کورٹ میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو سنگین غداری مقدمے میں خصوصی عدالت کی طرف سے ملنے والی سزائے موت کے خلافاور دیگر مختلفمعاملات پر دائر درخواستوں کی سماعت ہوئی۔

    سلمان صفدر پر ویز مشرف کے وکیل ہیں جبکہ سائفر سمیت مختلف مقدمات میں وہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے وکیل کے طور پر پیش ہو رہے ہیں۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں چار رکنی لارجر بینچ سماعت کر رہا ہے۔بینچ میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس امین الدین،جسٹس اطہر من اللہ شامل ہیں۔

    خصوصی عدالت کالعدم قرار دینے کے فیصلے کیخلاف اپیل میں حامد خان پیش ہوئے۔پاکستان بار کونسل کی جانب سے عابد ساقی عدالت میں پیش ہوئے ہیں۔ سندھ ہائی کورٹ بار کی نمائندگی رشید رضوی کر رہے ہیں۔

    سماعت کے آغاز میں چیف جسٹس نے کہا ’وضاحت کرنا چاہتا ہوں میں بنیچز تبدیل کرنے کے حق میں نہیں، جسٹس منصور علی شاہ کو بنچ میں اس لیے شامل کیا گیا کہ وہ ماضی میں یہ مقدمہ سن چکے ہیں۔ سمجھ نہیں آ رہا کہ 2019 کے مقدمات آج تک مقرر کیوں نہیں ہوئے۔ کیا کسی کی جانب سے جلد سماعت کی درخواست نہیں دی گئی؟

    پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر کے دلائل دیتے ہوئے کہا پرویز مشرف بیماری کے باعث ٹرائل سے غیر حاضر رہے۔ اپیل کے لیے سرینڈر کرنا ضروری ہوتا ہے۔ آرڈر 23 رولز 3 کے تحت سرینڈر ضروری تھا۔

    ان کا مزید کہنا تھا ’جنرل ر پرویز مشرف کی عدم موجودگی میں سنائی گئی سزا کے خلاف براہ راست اپیل سپریم کورٹ میں دائر کیا۔‘

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’کس قانون کے تحت خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف براہ راست اپیل سپریم کورٹ میں آ سکتی ہے؟

    وکیل سلمان صفدر کا کہنا تھا ’فوجداری قانون میں ترمیم کے بعد خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی، خصوصی عدالت کا پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ متفقہ نہیں تھا، جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی عدم موجودگی میں سزا سنائی گئی،

    چیف جسٹس کا پرویز مشرف کے وکیل سے استفسار کیاکہسپریم کورٹ میں آپ کی درخواست کو نمبر کیوں نہیں لگا؟

    وکیل سلمان صفدر نے جواب دیا کہ ’سپریم کورٹ رجسٹرار آفس نے اعتراض عائد کیا کہ سزا یافتہ کے سرنڈر کیے بغیر اپیل دائر نہیں ہو سکتی، سپریم کورٹ نے ان چیمبر سماعت میں پرویز مشرف کے خلاف اپیل اعتراضات کے ساتھ کھلی عدالت میں مقرر کرنے کا حکم دیا۔ پرویز مشرف کی سزا کا فیصلہ اس لیے چیلنج کرنا چاہتا ہوں کہ ان کی غیر موجودگی میں سزا سنائی گی۔ اپیل پر رجسٹرار کے اعتراضات تھے۔ اعتراضات کے خلاف چیمبر اپیل کی کوشش کرتا رہا۔ میرا موقف تھا کہ ایک شخص کا ٹرائل اور سزا عدم موجودگی میں ہوسکتی ہے تو اپیل کیوں نہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ میں کہتا رہا کہ پرویز مشرف کی غیر حاضری بدنیتی نہیں،مشرف سزا کے بعد ملک سے نہیں بھاگے تھے۔

    اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ چیمبر اپیل میں جج اپیل مسترد کرتا ہے یا منظور،تیسرا آپشن یہ ہے کہ جج اپیل کو اوپن کورٹ میں مقرر کرد۔اپیل اوپن کورٹ میں کیوں مقرر نہ ہوئی؟

    پرویز مشرف کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’میں اس سوال کا جواب شاید نہ دے سکوں ، میں مشرف کے ساتھ اس طرح رابطہ میں نہیں تھا ۔‘

    چیف جسٹس نے ریماکس درے کہ ’ہم جب اپنا احتساب نہیں کریں گے تو باقیوں کا کیسے کریں گے ، یمبر اپیل میں جب آرڈر ہوگیا تھا تو اس اپیل کو مقرر ہونا چاہیے تھا۔‘

    سپریم کورٹ نےپرویز مشرف کی سزا کے خلاف اپیل مقرر کرنے کی متفرق درخواست منظور کرلی۔

    اس موقعے پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’اپ کے پاس تمام عدالتی نظریں موجود تھیں تو آپ کی چیمبر اپیل کیوں منظور ہوئیں۔‘

    وکیل سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ ’چیمبر میں جج کا موقف تھا کہ لارجر بینچاپیلوں پر سماعت کریں۔‘

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’مشرف کی وفات کب ہوئی،؟‘

    اس پر سلمان صفدر نے کہا کہ ’میرے پاس ان کا ڈیتھ سرٹیفیکیٹ نہیں، فروری 2023 میں مشرف کی وفات ہوئی۔ 2022 کے بعد سے مشرف بول چال کے قابل نہیں تھے، اس کے بعد سے میں ان سے ہدایت لینے کیلیے رابطہ میں نہیں رہ سکا۔ ‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’ ابھی ہم مشرف کی مرکزی اپیل نہیں متفرق درخواست کی بات کر رہے ہیں،‘

  2. سٹاک مارکیٹ میں تیزی ، انڈیکس پہلی بار 55000 پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان جاری ہے اور جمعے کو کاروبارِ کے آغاز پر سٹاک مارکیٹ کو انڈیکس 799 پوائنٹس اضافہ ہوا۔

    جس کے بعد انڈیکس 55000 پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا۔

    واضح رہے کہ ملکی تاریخ میں انڈیکس نے پہلی بار 55000 پوائنٹس کی سطح عبور کی۔

    سٹاک مارکیٹ مین گزشتہ کئی دنوں سے تیزی کا رجحان غالب ہے اور انڈیکس نے گذشتہ ایک ہفتے میں 53000 اور 54000 کی حدیں عبور کیں۔

  3. پرویز مشرف کو سنگین غداری مقدمے میں ملنے والی سزائے موت کے خلاف اپیل کی سماعت سپریم کورٹ میں

    پاکستان کی سپریم کورٹ میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو سنگین غداری مقدمے میں خصوصی عدالت کی طرف سے ملنے والی سزائے موت کے خلاف اور دیگر مختلف معاملات پر دائر درخواستوں کی سماعت آج ہوگی۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں چار رکنی لارجر بینچ ساڑھے گیارہ بجےسماعت کرے گا۔

    سابق صدر پرویز مشرف نے خصوصی عدالت کے قیام کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔

    سپریم کورٹ نے تمام فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ سپیشل کورٹ اور لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کےخلاف درخواستوں پر سماعت ہوگی۔

    بنچ میں جسٹس منصور علی شاہ ، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ شامل ہیں۔

    سنگین غداری کے مقدمے میں خصوصی عدالت نے پرویزمشرف کو موت کی سزا سنائی تھی اور بینچ کے سربراہ اور پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے اپنے اضافی نوٹ میں کہا تھا کہ مجرم پرویز مشرف کی لاش کو تین دن تک ہارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ڈی چوک میں لٹکایا جائے۔

    سلمان صفدر پر ویز مشرف کے وکیل ہیں جبکہ سائفر سمیت مختلف مقدمات میں وہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے وکیل کے طور پر پیش ہو رہے ہیں۔

  4. سیاسی وابستگیاں اور وفاداریاں بدل جانے پر پیش آنے والے واقعات باعثِ تشویش ہیں: صدر علوی کا نگراں وزیرِ اعظم کو خط

    صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے نگران وزیر اعظم کو خط لکھا ہے جس میں انھوں نے انوار الحق کاکڑ کو پی ٹی آئی کے خدشات کے حوالے سے بتایا ہے۔

    ایوان صدر سے بدھ کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق صدرِ مملکت نے پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل عمر ایوب خان کی جانب سے صدر کو لکھا گیا خط بھی نگران وزیر اعظم کو ارسال کیا ہے۔

    ایکس پر پوسٹ کیے گئے اعلامیے کے مطابق صدر پاکستان نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ ’نگران حکومت کا غیرجانبداری کا تقاضہ یہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو ہموار میدان فراہم کیا جائے۔‘

    ڈاکٹر عارف علوی نے نگران وزیر اعظم سے کہا ہے کہ ’آئندہ انتخابات میں تمام رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کو مساوی حقوق اور مواقع فراہم کرنے کی نگران حکومت کی پالیسی پر آپ کے حالیہ بیانات باعث اطمینان ہیں۔‘

    انہوں نے آئین کے آرٹیکل 41 کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ اس آرٹیکل کے تحت صدر مملکت، وزیر اعظم اور تمام ادارے شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنے کے پابند ہیں۔‘

    ’یہی وجہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے الزامات پر مشتمل خط آپ کو ارسال کر رہا ہوں۔‘

    صدر پاکستان نے اپنے خط میں مزید لکھا ہے کہ ’سیاسی وابستگیاں رکھنے والے افراد کی جبریوں گمشدگیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات پر میڈیا میں بھی بحث ہوئی۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ لوگوں کی سیاسی وابستگیاں اور وفاداریاں بدل جانے پر ایسے واقعات باعث تشویش بنتے ہیں، خواتین سیاسی ورکرز کی طویل نظر بندی، عدالت کے ریلیف کے بعد دوبارہ گرفتاریاں معاملات مزید حساس بنا دیتی ہیں۔

    تمام سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کو الیکشن میں حصہ لینے اور عوام کو انھیں منتخب کرنے کا حق ہے۔

    صدر عارف علوی کا مزید کہنا ہے کہ ’پختہ یقین ہے کہ جمہوریت ہی پاکستان کے عوام اور ریاست کے لیے آگے بڑھنے کا مناسب راستہ ہے۔‘