آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

فواد چوہدری دو روزہ ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں

اسلام آباد میں ڈیوٹی مجسٹریٹ عباس شاہ نے فواد چوہدری کا دو روزہ ریمانڈ منظور کرنے کا تحریری آرڈر جاری کردیا ہے۔ فواد چوہدری پر شہری سے نوکری دلاونے کی غرض سے پچاس لاکھ روپے لینے کا الزام ہے۔

لائیو کوریج

  1. ’اس وقت کے وزیراعظم نے اسمبلی تحلیل کر کے آئینی بحران پیدا کر دیا‘, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سپریم کورٹ نے جمعے کے روز نے انتخابات کے حوالے سے کیس کو نمٹاتے ہوئے اپنے حکم نامے میں کیس کے پس منظر پر بھی روشنی ڈالی۔

    حکم نامے میں کہا گیا کہ ’قومی اسمبلی اس وقت تحلیل ہوئی جب وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد آئی۔ وزیراعظم کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار نہیں تھا۔ اس وقت کے وزیراعظم نے اسمبلی تحلیل کر کے آئینی بحران پیدا کر دیا۔‘

    حکم نامے میں کہا گیا کہ ’ہم نے صدر کی ایڈوائس کے بغیر پی ٹی آئی حکومت میں قومی اسمبلی تحلیل کرنے پر از خود نوٹس لیا اور سپریم کورٹ نے متفقہ فیصلہ کیا کہ پی ٹی آئی دور میں قومی اسمبلی کی تحلیل کا فیصلہ غیر آئینی تھا۔ اس وقت کے وزیر اغظم اور صدر مملکت نے جو کیا وہ ان کے اختیار میں نہیں تھا۔‘

    ’اس فیصلے میں دو ججز نے صدر مملکت کے نتائج پر بات کی۔ اس فیصلہ میں کہا گیا کہ عوامی منتخب نمائندوں کو عدم اعتماد پر ووٹ ڈالنے سے روکا گیا۔

    حکم نامے میں کہا گیا کہ ’حادثاتی طور پر پاکستان کی تاریخ میں پندرہ سال آئینی عملداری کا سوال آیا،اب وقت آ گیا ہے کہ ہم نہ صرف آئین پر عمل کریں بلکہ ملکی آئینی تاریخ کو دیکھیں آئینی خلاف ورزی کا خمیازہ ملکی اداروں اور عوام کو بھگتنا پڑتا ہے، عدالتوں کو ایسے معاملات کا جلد فیصلہ کرنا پڑے گا ۔

  2. صدر اور الیکشن کمیشن کی دی گئی تاریخ پر بلا تاخیر انتخابات ہوں: سپریم کورٹ کا حکم, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سپریم کورٹ نے 90 روز میں انتخابات سے متعلق درخواستوں کی سماعت کو نمٹاتے ہوئے حکم نامہ جاری کر دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آٹھ فروری کو عام انتخابات کی تاریخ پر اتفاق ہوا ہے اورانتخابات کا معاملہ تمام فریقین کی رضامندی سے حل ہو چکا ہے

    سپریم کورٹ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس امین الدین اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل تین رکنی بینچ نے 90 روز میں انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

    سپریم کورٹ کی ہدایت پر اٹارنی جنرل نےصدر عارف علوی کی طرف سے انتخابات کے لیے آٹھ فروری کی حتمی تاریخ سے متعلق خط کی دستخط شدہ کاپی عدالت میں پیش کردی جس کے بعد عدالت نے تمام درخواستیں نمٹا دیں اور حکم نامہ جاری کر دیا جس میں عدالت نے الیکشن کمیشن کو ہدایت دی ہے کہ تمام ضروریات پوری ہونے کے بعد اب آٹھ فروری کے انتخابات کا شیڈول جاری کیا جائے۔

    یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر الیکشن کی تاریخ سے متعلق صدر عارف علوی اور الیکشن کمیشن کے درمیان مشاورت سے ملک میں عام انتخابات آٹھ فروری کو کروانے پر جمعرات کے روز اتفاق ہوگیا تھا۔

    ’اگر صدر کو مشورہ درکار تھا تو وہ سپریم کورٹ آ سکتے تھے‘

    سپریم کورٹ نے حکم نامے میں کہا کہ الیکشن کمیشن اور ایوان صدر کے درمیان یہ معاملہ غیر ضروری طوالت احتیار کر گیا۔

    عدالت نے حکم نامے میں کہا ہے کہ اگر صدر کو مشورہ درکار تھا تو آئین کے آرٹیکل 187 کے تحت وہ سپریم کورٹ آ سکتے تھے۔ عجیب بات ہے صدر مملکت نے وہ اختیار استعمال کیا جو ان کا نہیں تھا۔

    حکم نامے کے مطابق الیکشن کے انعقاد سے متعلق درخواستیں بہت ذیادہ آئیں اس لیے ان درخواستوں کو سننا پڑا۔

    عدالت نے حکم نامے میں کہا کہ انتخابات کا اعلان نہ ہونے کی وجہ سے پورے ملک میں تشویش تھی۔

    حکم نامے کے مطابق سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن اور ایوان صدر کے معاملات میں مداخلت نہیں کی اور اس میں صرف سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے۔

    عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا کہ ’ اسمبلی تحلیل کیس میں ایک جج نے کہا کہ صدر مملکت پر پارلیمنٹ آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کرے۔

    حکم نامے کے مطابق اداروں پر آئین کی پابندی لازمی ہے اور آئین کی خلاف ورزی کی آپشن کسی اداے کے پاس موجود نہیں۔

    حکمنامے کے تحت ’پاکستان کے عوام حقدارہیں کہ ملک میں عام انتخابات کروائے جائیں، ‏آئین پر شب خون مارنے کی تاریخ سے سیکھنا ہوگا کہ اِس کے عوام اور ملکی جغرافیائی حدود پر منفی اثرات پڑے۔

    حکم نامے کےمطابق انتخابات کے سازگار ماحول پر بہتری ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ یہ ذمہ داری اُن پر عائد ہوتی ہے جنھوں نے یہ حلف اُٹھا رکھا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر، ممبران اور صدرمملکت اس زمہ داری کا حلف لیتے ہیں عوام کو صدر مملکت یا الیکشن کمیشن آئین کی عملداری سے دور نہیں رکھ سکتے۔‘