یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ پاکستان سے متعلق تمام تازہ ترین خبروں کو جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز کی دو گاڑیاں پسنی سے اورماڑہ جا رہی تھیں جب عسکریت پسندوں کی جانب سے ان پر حملہ کیا گیا
یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ پاکستان سے متعلق تمام تازہ ترین خبروں کو جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر میں سکیورٹی فورسز کی گاڑیوں پر والے حملے میں 14 فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی دو گاڑیاں پسنی سے اورماڑہ جا رہی تھیں جب عسکریت پسندوں کی جانب سے ان پر حملہ کیا گیا۔
اس سے قبل کمشنر مکران ڈویژن سعید عمرانی نے اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ یہ حملہ پسنی کے علاقے میں کوسٹل ہائی وے پر پیش آیا ہے۔
وزیر اطلاعات بلوچستان جان اچکزئی نے اس حملے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات ’بلوچستان کا امن تباہ کرنے کی سازش ہیں۔‘

سپریم کورٹ نے 90 روز میں انتخابات سے متعلق درخواستوں کی سماعت کو نمٹاتے ہوئے حکم نامہ جاری کر دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آٹھ فروری کو عام انتخابات کی تاریخ پر اتفاق ہوا ہے اورانتخابات کا معاملہ تمام فریقین کی رضامندی سے حل ہو چکا ہے
سپریم کورٹ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس امین الدین اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل تین رکنی بینچ نے 90 روز میں انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت کی۔
سپریم کورٹ کی ہدایت پر اٹارنی جنرل نےصدر عارف علوی کی طرف سے انتخابات کے لیے آٹھ فروری کی حتمی تاریخ سے متعلق خط کی دستخط شدہ کاپی عدالت میں پیش کردی جس کے بعد عدالت نے تمام درخواستیں نمٹا دیں اور حکم نامہ جاری کر دیا جس میں عدالت نے الیکشن کمیشن کو ہدایت دی ہے کہ تمام ضروریات پوری ہونے کے بعد اب آٹھ فروری کے انتخابات کا شیڈول جاری کیا جائے۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر الیکشن کی تاریخ سے متعلق صدر عارف علوی اور الیکشن کمیشن کے درمیان مشاورت سے ملک میں عام انتخابات آٹھ فروری کو کروانے پر جمعرات کے روز اتفاق ہوگیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’اگر صدر کو مشورہ درکار تھا تو وہ سپریم کورٹ آ سکتے تھے‘
سپریم کورٹ نے حکم نامے میں کہا کہ الیکشن کمیشن اور ایوان صدر کے درمیان یہ معاملہ غیر ضروری طوالت احتیار کر گیا۔
عدالت نے حکم نامے میں کہا ہے کہ اگر صدر کو مشورہ درکار تھا تو آئین کے آرٹیکل 187 کے تحت وہ سپریم کورٹ آ سکتے تھے۔ عجیب بات ہے صدر مملکت نے وہ اختیار استعمال کیا جو ان کا نہیں تھا۔
حکم نامے کے مطابق الیکشن کے انعقاد سے متعلق درخواستیں بہت ذیادہ آئیں اس لیے ان درخواستوں کو سننا پڑا۔
عدالت نے حکم نامے میں کہا کہ انتخابات کا اعلان نہ ہونے کی وجہ سے پورے ملک میں تشویش تھی۔
حکم نامے کے مطابق سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن اور ایوان صدر کے معاملات میں مداخلت نہیں کی اور اس میں صرف سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے۔
عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا کہ ’ اسمبلی تحلیل کیس میں ایک جج نے کہا کہ صدر مملکت پر پارلیمنٹ آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کرے۔
حکم نامے کے مطابق اداروں پر آئین کی پابندی لازمی ہے اور آئین کی خلاف ورزی کی آپشن کسی اداے کے پاس موجود نہیں۔
حکمنامے کے تحت ’پاکستان کے عوام حقدارہیں کہ ملک میں عام انتخابات کروائے جائیں، آئین پر شب خون مارنے کی تاریخ سے سیکھنا ہوگا کہ اِس کے عوام اور ملکی جغرافیائی حدود پر منفی اثرات پڑے۔
حکم نامے کےمطابق انتخابات کے سازگار ماحول پر بہتری ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ یہ ذمہ داری اُن پر عائد ہوتی ہے جنھوں نے یہ حلف اُٹھا رکھا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر، ممبران اور صدرمملکت اس زمہ داری کا حلف لیتے ہیں عوام کو صدر مملکت یا الیکشن کمیشن آئین کی عملداری سے دور نہیں رکھ سکتے،۔
’اس وقت کے وزیراعظم نے اسمبلی تحلیل کر کے آئینی بحران پیدا کر دیا‘

،تصویر کا ذریعہNational Assembly
عدالت نے انتخابات کے حوالے سے کیس کو نمٹاتے ہوئے اپنے حکم نامے میں کیس کے پس منظر پر بھی روشنی ڈالی۔
حکم نامے میں کہا گیا کہ ’قومی اسمبلی اس وقت تحلیل ہوئی جب وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد آئی۔ وزیراعظم کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار نہیں تھا۔ اس وقت کے وزیراعظم نے اسمبلی تحلیل کر کے آئینی بحران پیدا کر دیا۔‘
حکم نامے میں کہا گیا کہ ’ہم نے صدر کی ایڈوائس کے بغیر پی ٹی آئی حکومت میں قومی اسمبلی تحلیل کرنے پر از خود نوٹس لیا اور سپریم کورٹ نے متفقہ فیصلہ کیا کہ پی ٹی آئی دور میں قومی اسمبلی کی تحلیل کا فیصلہ غیر آئینی تھا۔ اس وقت کے وزیر اغظم اور صدر مملکت نے جو کیا وہ ان کے اختیار میں نہیں تھا۔‘
’اس فیصلے میں دو ججز نے صدر مملکت کے نتائج پر بات کی۔ اس فیصلہ میں کہا گیا کہ عوامی منتخب نمائندوں کو عدم اعتماد پر ووٹ ڈالنے سے روکا گیا۔
حکم نامے میں کہا گیا کہ ’حادثاتی طور پر پاکستان کی تاریخ میں پندرہ سال آئینی عملداری کا سوال آیا،اب وقت آ گیا ہے کہ ہم نہ صرف آئین پر عمل کریں بلکہ ملکی آئینی تاریخ کو دیکھیں آئینی خلاف ورزی کا خمیازہ ملکی اداروں اور عوام کو بھگتنا پڑتا ہے، عدالتوں کو ایسے معاملات کا جلد فیصلہ کرنا پڑے گا ۔
سپریم کورٹ میں عام انتخابات سے متعلق درخواستوں پر سماعت میں اٹارنی جنرل نے صدر عارف علوی کا دستخط شدہ خط پیش کر دیا۔
ایک وقفے کے بعد سپریم کورٹ میں جب دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل نے کمرہ عدالت میں صدر مملکت کا خط پڑھ کر سنایا۔
اٹارنی جنرل نے عدالت میں عام انتخابات سے متعلق 8 فروری کا نوٹیفکیشن بھی پڑھ کر سنایا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’اگر سب خوش ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ الیکشن کمیشن اور تمام فریقین کی رضامندی سامنے آ گئی ہے۔تمام ممبران نے متفقہ طور پر تاریخ پر رضامندی دی لیکن کسی آئینی شق کا حوالہ نہیں دیا۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے سائفر کیس میں ضمانت کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔
سابق وزیر اعظم عمران خان نے اس کیس میں درخواست ضمانت آئین کے آرٹیکل 185 کے تحت دائر کی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سائفر مقدمہ سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا ہے اور اسلام آباد ہائیکورٹ اس مقدمے سے متعلق میرٹ کو زیر غور نہیں لا سکی ہے۔
واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست ضمانت اس سے قبل ٹرائل کورٹ اورپھر اسلام آباد ہائی کورٹ نے مسترد کر دی تھی جس کے بعد عمران خان نے اب سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی درخواست یہ کہہ کر مسترد کردی تھی کہ بہت سے ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جس میں عمران خان نے سائفر کی کاپی اپنے پاس رکھ لی اور پھر یہ دعویٰ کردیا کہ سائفر کی کاپی ان سے کہیں گم ہو گئی ہے۔
سپریم کورٹ میں دائر کردہ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مقدمے میں وزارت داخلہ کے ماتحت ادارے ایف آئی اے کی بدنیتی صاف ظاہر ہے۔
درخواست میں عمران خان کو مقدمے میں ضمانت پر رہا کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
پاکستان اور آئی ایم ایف مشن کے درمیان تکنیکی مذاکرات کا پہلا اجلاس آج ہو گا جس میں ریونیو ٹارگٹ اور ادائیگیوں سے متعلق بات چیت ہو گی۔
پاکستان کی جانب سے نگران وزیر خزانہ شمشاد اختر آئی ایم ایف کے مشن کے ساتھ ملاقات کریں گی۔
خیال رہے کہ آئی ایم ایف کا مشن رواں برس جولائی میں طے پانے والے 3 ارب ڈالر قرض پروگرام کے تحت تعین کیے گئے اہداف کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان کے دورے پر ہے۔
آئی ایم ایف کا وفد جمعرات کے روز پاکستان پہنچا تھا اور نگران وزیر خزانہ شمشاد اختر کی جانب سے وفد کو معاشی صورت حال بہتر کرنے کے لیے حکومت کے اٹھائے گئے مالی اقدامات سے آگاہ کیا گیا تھا۔
وفاقی وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’ نگران وزیرخزانہ نے آئی ایم ایف کے وفد کا استقبال کیا اور سٹینڈ بائی انتظامات پر پیش رفت کے حوالے سے آگاہ کیا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
بیان میں کہا گیا کہ وزیر نے وفد کو بتایا کہ حکومت معاشی صورت حال بہتر کرنے کے لیے مالی اقدامات کر رہی ہے۔
وزارت خزانہ نے کہا کہ اجلاس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے کیے گئے جامع اقدامات اور گردشی قرضے سے نمٹنے کے لیے حکومت کی حکمت عملی پر بھی بات کی گئی۔
بیان میں بتایا گیا کہ آئی ایم ایف مشن کے سربراہ ناتھن پورٹر نے پہلی سہ ماہی کے اہداف پورے کرنے کے لیے کیے گئے حکومتی عزم کو سراہا اور بعض شعبوں کی اصلاحات پر سراہا۔
انتخابات 90 روز میں کروانے سے متعلق سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس معاملے میں کوئی ’گرے ایریا‘ نہیں چھوڑیں گے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ جب صدر مملکت الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرتے ہیں تو کیا وہ ان دستاویز پر دستخط نہیں کرتے ؟
چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ ملک میں ایک ہی وقت میں انتخابات ہونے جارہے ہیں اس لیے مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر انتخابات کی حتمی تاریخ کی مشاورت کے لیے جمعرات کے روز چیف الیکشن کمشننر سکندر سلطان راجہ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان اور چاروں ممبران کے ہمراہ ایوان صدر میں صدر ڈاکٹر عارف علوی سے ملاقات کی تھی۔
اس ملاقات کے بعد ایوان صدر کی جانب سے اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ چیف الیکشن کمیشن کے ساتھ صدر عارف علوی کی ملاقات میں ملک میں آئندہ عام انتخابات کے انعقاد کی تاریخ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق ’صدرمملکت نے الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقہ بندیوں اور انتخابات کے حوالے سے کی گئی پیش رفت کوسنا اور تفصیلی بحث کے بعد اجلاس میں متفقہ طور پر ملک میں عام انتخابات آٹھ فروری 2024 کو کروانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
انتخابات سے متعلق آج کی سماعت میں اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ صدر مملکت جب انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرتے ہیں تو وہ قومی اسمبلی سے متعلق ہے۔
جس پر بینچ میں موجود جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ عدالت آئین کی تشریح کی طرف نہیں جا رہی اور اس معاملے میں نہ ہی جانا چاہے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعہ کی صبح کے ایس ای 100 انڈیکس 600 پوائنٹس اضافے کے بعد 53250 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گیا جو ملکی تاریخ میں انڈیکس کی بلند ترین سطح ہے۔
اس سے پہلے مئی 2017 میں سٹاک مارکیٹ 53127 پوائنٹس پر پہنچی تھی۔ سٹاک مارکیٹ میں اس وقت خریداری کا رجحان غالب ہے۔
سٹاک مارکیٹ تجزیہ کار اس تیزی کی وجہ ملک میں اگلے عام انتخابات کی تاریخ کے اعلان کے ساتھ آئی ایم ایف اور پاکستان میں جاری مذاکرات کو قرار دے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ آئی ایم ایف کی ٹیم اس وقت اسلام آباد میں موجود ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عام انتخابات کی تاریخ سامنے آنے سے سیاسی بے یقینی کا خاتمہ ہو گا جب کہ آئی ایم ایف پاکستان مذاکرات بھی اس وقت صحیح سمت میں جاری ہیں جس نے سٹاک مارکیٹ مین مثبت رجحان کو جنم دیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سپریم کورٹ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 90 روز میں انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت جاری ہے۔
سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل نے چیف الیکشن کمشنر کا انتخابات کی تاریخ سے متعلق خط عدالت میں پیش کر دیا۔
یاد رہے کہ جمعرات کو ہونے والی سماعت میں چیف جسٹس نے حکم دیا تھا کہ ’امید ہے کہ آج الیکشن کی تاریخ کے حوالے سے حتمی فیصلہ کر لیا جائے گا اور اس عدالت کو جمعہ کے روز(آج) اس بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔‘
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ دستاویزات پر صدر پاکستان کے دستخط کہاں ہیں؟ پہلے ان دستاویز پر صدر مملکت کے دستخط کرواٸیں۔
اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ صدر عارف علوی نے اپنی رضامندی کا خط الگ سے دیا ہے وہ بھی آ جائے گا۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ ایوان صدر یہاں سے کتنا دور ہے؟ صدر مملکت کی جانب سے آفیشلی تصدیق لازمی ہے۔
سماعت میں ایک مرتبہ پھر وقفہ کردیا گیا۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر الیکشن کی تاریخ سے متعلق صدر عارف علوی اور الیکشن کمیشن کے درمیان مشاورت سے ملک میں عام انتخابات آٹھ فروری کو کروانے پر اتفاق ہوگیا ہے۔
الیکشن کمیشن اور صدر کے دفتر کی جانب سے جاری اعلامیوں میں آٹھ فروری کی تاریخ پر اتفاق ہونے کی تصدیق کی جا چکی ہے۔
سپریم کورٹ میں عام انتخابات 90 روز میں کروانے سے متعلق کیس کی سماعت آج ہو گی۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کیس کی سماعت کرے گا جس میں الیکشن کمیشن عدالت کو انتخابات کے حوالے سے حتمی تاریخ سے آگاہ کرے گا۔
جمعرات کو ہونے والی سماعت میں چیف جسٹس نے حکم دیا تھا کہ ’امید ہے کہ آج الیکشن کی تاریخ کے حوالے سے حتمی فیصلہ کر لیا جائے گا اور اس عدالت کو کل اس بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔‘
الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ سے متعلق صدر مملکت سے ہونے والی ملاقات اور مشاورت کے بعد آٹھ فروری کو الیکشن کی تاریخ سے متفق ہونے سے متعلق آگاہ کرے گا۔

،تصویر کا ذریعہ@PresOfPakistan
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کہا ہے کہ ہماری کوشش تھی کہ اتوار کا روز پولنگ کے لیے اچھا رہے گا تاہم جب چار لوگ مل کر بیٹھتے ہیں تو گنجائش نکل آتی ہے۔
چیف الیکشن کمشنر نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ ہر کوئی کہتا ہے کہ الیکشن شفاف ہوں لیکن دوسری جانب مداخلت بھی کی جاتی ہے۔
چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی فروری میں الیکشن ہوتے رہے ہیں۔ ہمارے لیے سارے ادارے محترم ہیں لیکن الیکشن کمیشن اپنے موقف پر کھڑا ہے۔
خیبر پختونخوا اور پنجاب اسمبلی تحلیل ہوئی تو الیکشن کمیشن نے کہا کہ پورے ملک میں انتخابات ایک ساتھ ہوں۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 90 روز میں انتخابات منعقد کروانے سے متعلق سماعت کے بعد تحریر حکمنامے میں لکھا ہے کہ الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا ہے کہ حلقہ بندیوں کا عمل ابھی جاری ہے اور یہ 30 نومبر تک مکمل ہو جائے گا جس کے بعد پانچ دسمبر کو حتمی حلقہ بندیوں کی تفصیلات شائع کر دی جائیں گی۔
حکمنامے کے بعد الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا ہے کہ اس کے بعد الیکشن ایکٹ کے سیکشن 57 (2) کے تحت الیکشن پروگرام کا اعلان کیا جائے گا۔
الیکشن کمیشن کے وکیل کا مزید کہنا ہے کہ ’ووٹرز کی شمولیت میں اضافہ کرنے کے لیے الیکشن اتوار کے روز رکھنا چاہیے اور 29 جنوری کے بعد اصولاً یہ تاریخ چار فروری بنتی ہے لیکن سیاسی جماعتوں کو اپنا منشور پیش کرنے کے لیے مزید وقت دینے کے لیے 11 فروری، 2024 کو الیکشن کروانا مناسب ہو گا۔‘
چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ ’الیکشن کمیشن کی آج صدر سے ملاقات کے بعد الیکشن کی تاریخ کے حتمی اعلان کے حوالے سے فیصلہ کیے جانے کا انتظار کرنا چاہیے۔ اس ملاقات میں اٹارنی جرنل سہولت کار کا کردار ادا کریں گے اور صدر کو اس عدالت کے 23 اکتوبر 2023 اور آج کے حکمناموں کی کاپی فراہم کریں گے۔‘
چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ مجھے امید ہے کہ آج الیکشن کی تاریخ کے حوالے سے حتمی فیصلہ کر لیا جائے گا اور اس عدالت کو کل اس بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ اب سے کچھ دیر قبل صدر کی الیکشن کمیشن کے وفد اور اٹارنی جنرل سے ملاقات ہوئی ہے جس میں الیکشن کے شیڈول سے متعلق مشاورت اب بھی جاری ہے۔

،تصویر کا ذریعہAPP
الیکشن کی تاریخ سے متعلق صدر عارف علوی اور الیکشن کمیشن کے درمیان اتفاق ہو گیا اور ملک میں عام انتخابات آٹھ فروری کو کروانے پر اتفاق ہوا ہے۔
الیکشن کمیشن اور صدر کے دفتر کی جانب سے جاری اعلامیوں میں آٹھ فروری کی تاریخ پر اتفاق ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
خیال رہےکہ آج ملک میں 90 روز میں انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے وکیل سپریم کورٹ میں پیش ہوئے تھے اور انھوں نے عدالت کو بتایا تھا کہ الیکشن کمیشن 11 فروری 2024 کو ملک میں الیکشن کروانے کے لیے تیار ہے۔
اس کے بعد عدالت نے ایک حکمنامے میں الیکشن کمیشن کو ہدایت کی تھی کہ صدر مملکت سے آج ہی مشاورت کر کے کل عدالت میں الیکشن کی تاریخ سے متعلق آگاہ کیا جائے۔
آٹھ فروری کو جمعرات کا دن ہو گا۔ یہ تاریخ 11 فروری سے آٹھ فروری کیوں کی گئی ہے اس بارے میں تاحال وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔
یاد رہے کہ الیکشن کمیشن کے وکیل نے آج عدالت کو بتایا تھا کہ ’ووٹرز کی شمولیت میں اضافہ کرنے کے لیے الیکشن اتوار کے روز رکھنا چاہیے اور 29 جنوری کے بعد اصولاً یہ تاریخ چار فروری بنتی ہے لیکن سیاسی جماعتوں کو اپنا منشور پیش کرنے کے لیے مزید وقت دینے کے لیے 11 فروری، 2024 کو الیکشن کروانا مناسب ہو گا۔‘
تاہم پاکستان میں ماضی کے الیکشنز کا جائزہ لیا جائے تو تمام انتخابات ہی اتوار کے علاوہ کسی تاریخ کو منعقد ہوئے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
گذشتہ روز کی خبروں کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔