پاکستان مسلم لیگ ن بارہا واضح کر چکی ہے کہ 2024 میں ہونے والے عام انتخابات میں نواز شریف ہی وزیر اعظم کے لیے امیدوار ہوں گے تاہم 73 سالہ نواز شریف کے سامنے ایک دو نہیں بلکہ کئی بڑی چیلینجز ہیں۔
نواز شریف کے سامنے ایک بڑا چیلینج صرف پاکستان کا معاشی بحران ہی نہیں ہے جس کے لیے ان کی پارٹی کو بڑی حد تک مورد الزام بھی ٹھہرایا جاتا ہے بلکہ بڑے پیمانے پر یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ ووٹ منصفانہ نہیں ہوگا کیونکہ ان کے بڑے سیاسی حریف سابق وزیر اعظم عمران خان جیل میں قید ہیں۔
یہی نہیں نواز شریف کے سامنے ایک چیلینج فوج ہے جس کو پاکستان کا نظام چلانے کے طریقہ کار میں اہم سمجھا جاتا ہے۔
اپنے بیرون ملک قیام کے دوران سابق وزیر اعظم نواز شریف نے پاکستان کی مسلح افواج کے خلاف متعدد مواقع پر بہت آواز اٹھائی ہے خاص طور پر انھوں نے آئی ایس آئی کے ایک سابق سربراہ اور سابق آرمی چیف آف سٹاف کو سیاسی عدم استحکام کا ذمہ دار ٹھہرانے کا الزام حائد کیا تھا۔
نواز شریف نے اپنے الزامات میں کہا تھا کہ وہ ’بوگس مقدمات‘ کا شکار ہوئے جس میں انھوں نے اپنے بیانات میں ملک کے ججوں پر ملی بھگت کا الزام بھی لگایا۔
انھوں نے کہا تھا کہ ان مداخلت کا نتیجہ جمہوریت کی کمزوری کی صورت میں نکلا جس نے پاکستان کے کسی بھی وزیر اعظم کو اپنی آئینی مدت پوری نہیں کرنے دی۔
نواز شریف کے مخالفین کا کہنا ہے کہ ان کی واپسی کسی ڈیل کے تحت ہوئی ہے جس میں فوج نے ان کو واپسی کی اجازت دی اور ابھی تک یہ یقینی نہیں ہے کہ نواز شریف انتخابات جیت جائیں گے۔
عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پارٹی سے تعلق رکھنے والے زلفی بخاری نے بی بی سی کو بتایا: ’میں انھیں دوبارہ وزیر اعظم بنتے نہیں دیکھ رہا کیونکہ ان کے خلاف مقدمات ہیں اور عدالتی احکامات کے مطابق انھیں سیاست سے تاحیات نااہل قرار دیا گیا ہے۔
تاہم بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ معاملات نواز شریف کے حق میں مختلف طریقے سے سامنے آئیں گے۔
سیاسی تجزیہ کار وجاہت مسعود نے بی بی سی کو بتایا ہماری سیاست کا منظرنامہ اور سکرپٹ نہیں بدلا ہے، صرف سیاسی کردار بدلے ہیں۔
’2018 کے انتخابات میں عمران خان کو الیکشن کے دوران اسٹیبلشمنٹ نے سہولت فراہم کی تھی۔ اس بار فوج نواز شریف کے لیے الیکشن کرانے میں مصروف ہے۔‘
تاہم فوج کی جانب سے نواز شریف کو ترجیح دینے کے حوالے کوئی بیان سامنے نہیں آیا اور ادارے نے عمران خان کے ان الزامات اور دعووں کی ہمیشہ تردید کی ہے کہ عمران خان کی حکومت ختم ہونے سے پہلے اتحاد کیا گیا تھا۔