آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

نو مئی کے واقعات میں ملوث عام شہریوں کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل شروع ہو چکا ہے: وفاقی حکومت

وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے ایک تحریری جواب میں انکشاف کیا ہے کہ ملک میں نو مئی کے دن پرتشدد واقعات اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے میں ملوث افراد کے خلاف فوجی عدالتوں میں ٹرائل شروع ہو چکا ہے۔ سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ پیر سے فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر دوبارہ سماعت شروع کرے گا۔

لائیو کوریج

  1. پاکستان تحریک انصاف کی کارکُن صنم جاوید کی عدالتی حکم پر رہائی کے بعد دوسری مرتبہ گرفتاری کا معاملہ

    پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے صنم جاوید کو جیل کے باہر سے دوسری مرتبہ گرفتار کیے جانے پر شدید مذمت کی ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان کے مطابق ’عدالت سے ضمانت پر رہا ہونے والے کارکنان کو دوبارہ گرفتار کرنے کا سلسلہ عدالتی نظام کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’صنم جاوید کو دونوں بے بنیاد مقدمات میں عدالت سے ضمانت ملنے کے باوجود بغیر کسی جواز کے دوبارہ گرفتار کیا گیا۔‘

    ترجمان پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ’جیلوں میں گزشتہ پانچ ماہ سے قید ڈاکٹر یاسمین راشد، سینیٹر اعجاز چودھری، میاں محمود الرشید، عمر سرفراز چیمہ اور عالیہ حمزہ سمیت جھوٹے مقدمات میں قید دیگر زیرِ حراست قائدین و کارکنان مسلسل ریاستی عتاب کی زد میں ہیں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’چیف جسٹس ملک میں تحریک انصاف کارکنان خصوصاً خواتین کے خلاف جاری سلسلہ انتقام کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ان کے بنیادی آئینی حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں۔‘

  2. نواز شریف کی اسلام آباد ایئر پورٹ پر قانونی ٹیم سے ملاقات ختم

    ایئرپورٹ پر سٹیٹ لاؤنج میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی مسلم لیگ (ن) کی قانونی ٹیم سے مشاورت ہوئی جس کے بعد انھوں نے قانونی دستاویزات پر دستخط کیے۔

    اب تک سامنے آنے والی تفصیلات میں بتایا جا رہا ہے کہ نواز شریف کی قانونی ٹیم نے ایون فیلڈ اور العزیزیہ دونوں ریفرنسز میں سزا کیخلاف اپیلیں بحال کرنے کی درخواست تیار کی گئیں تھیں، جن پر نواز شریف نے سزا کیخلاف اپیلیں بحال کرنے کی ان درخواستوں پر دستخط کر دیے ہیں۔

    بتایا جا رہا ہے کہ نواز شریف کی اپنی قانونی ٹیم سے ملاقات ختم ہو گئی ہے۔

  3. مینارِ پاکستان لاہور میں نواز شریف کی آمد سے قبل جلسہ گاہ میں تیاریوں کے مناظر

    سابق وزیر اعظم اور ن لیگ کے سربراہ نواز شریف چار سالہ خود ساختہ جلا وطنی کے بعد خصوصی طیارے میں پاکستان واپس پہنچے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے مطابق نواز شریف لاہور میں شام کو مینار پاکستان پر جلسے سے خطاب کریں گے۔

    لاہور میں جلسے سے قبل تیاریوں کے چند مناظر

  4. اپنے ہر دور حکومت میں معیشت کو دیوالیہ پن کے دہانے پرچھوڑ جانے والے سے معاشی بحالی کی امیدیں لگانا مضحکہ خیز ہے: تحریک انصاف‘

    پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان نے نواز شریف کی پاکستان واپسی کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’نواز شریف کے دورِ حکومت میں ہونے والی معاشی ترقی کا پول کھول دیا ہے اور اپنے ہر دور حکومت میں معیشت کو دیوالیہ پن کے دہانے پرچھوڑ کر جانے والے شخص سے معاشی بحالی کی امیدیں لگانا مضحکہ خیز ہے۔‘

    ترجمان تحریک انصاف کے بیان کے مطابق ’ن لیگ وہ جماعت ہے جس نے پاکستانی تاریخ کے تمام بدترین معاشی ریکارڈز اپنے نام کیے ہیں۔ پاکستان کے کل 23 آئی ایم ایف پروگرامز میں سے دو تہائی معاہدے نواز شریف اور پیپلز پارٹی کے ادوار میں کیے گئے۔‘

    تحریک انصاف نے دعویٰ کیا کہ ’نواز شریف اپنے گزشتہ دور میں پاکستانی معیشت کا بدترین کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ چھوڑ کر گئے اور ان کے بھائی کی گزشتہ 16 ماہ کی حکومت میں مہنگائی تاریخ کی بدترین سطح یعنی 36 فیصد تک پہنچی۔‘

    ترجمان تحریک انصاف کے مطابق ’نوازشریف کی معاشی ترقی کا دائرہ کار صرف اشتہاروں تک محدود ہے جن سے اب قوم کو مزید گمراہ کرنا ناممکن ہے۔‘

  5. بریکنگ, نواز شریف کا طیارہ اسلام آباد لینڈ کر گیا

    مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کا طیارہ اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر لینڈ کر گیا ہے۔

    نواز شریف چار سال بعد خود ساختہ جلا وطنی گزار کے پاکستان واپس آئے ہیں۔

  6. نواز شریف ایئرپورٹ سے سیدھا لاہور جلسہ گاہ تشریف لائیں گے: مریم اورنگزیب

    سابق وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ نواز شریف ایئرپورٹ سے سیدھا لاہور جلسہ گاہ تشریف لائیں گے اور اپنی عوام سے مل کر تقریر کریں گے اور اپنے گھر وہ جلسہ ختم ہونے کے بعد جائیں گے۔

    مریم اورنگزیب نے دعویٰ کیا کہ دو روز سے پورا پاکستان جلسہ گاہ بنا ہوا ہے اور ملک بھر سے لوگ نواز شریف کے استقبال کےلیے لاہور آ رہے ہیں۔ نواز شریف مینار پاکستان میں جلسہ کرنے کے بعد ہی اپنے گھر جائیں گے ۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’تمام مخالفین کو بھی جشن میں شامل ہونے کی دعوت دیتی ہوں۔‘

  7. کیا پاکستانی فوج نواز شریف پر اس بار اعتماد کر سکتی ہے؟, ترہب اصغر اور سائمن فریزر، بی بی سی نیوز

    پاکستان کی سیاست میں فوج ایک نمایاں کردار ادا کرتی ہے اور اس پر متعدد بار اقتدار پر قبضہ کرنے کا الزام موجود ہے جس کا نشانہ نواز شریف بھی بن چکے ہیں۔

    تاہم وجاہت مسعود جیسے مبصرین کا خیال ہے کہ اس کے باوجود اور دیگر واضح آپشنز کی کمی کے باوجود، فوج انھیں ایک اور موقع دینے پر آمادہ نظر آتی ہے۔

    وجاہت مسعود کہتے ہیں، ’پہلے فوج نے عمران خان کو یہ سوچ کر لانچ کیا کہ وہ ان کے لیے ایک بہتر انتخاب ہوں گے تاہم جب انھیں لگا کہ ان کے اختیارات کو چیلنج کیا جا رہا ہے، تو انھوں نےعمران خان کو ہٹانے کا فیصلہ کیا اور اب لگتا ہے نواز شریف کی باری ہے۔‘

    سابق وزیر اعظم کی لندن سے بیٹھ کر لندن سے فوج پر کڑی تنقید کے باوجود وجاہت مسعود اور دیگر تجزیہ کار بھی نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ڈیل کے آثار دیکھ رہے ہیں۔

    انھیں یاد ہے کہ شروع میں نواز شریف کو فوج کا حمایت یافتہ ہونے کے طور پر دیکھا جاتا تھا اور وہ عمران خان کی طرح ہی ان تنقیدوں سے اپنا دفاع کرتے تھے۔

    یہ دیکھتے ہوئے کہ نوازشریف اپنے کیریئر کا بیشتر حصہ فوج کے ساتھ اختلافات کا شکار رہے ہیں، اب وہ اپنے پتے کیسے کھیل سکتے ہیں؟ اس سوال پر پر سابق ممبر قومی اسمبلی ندیم افضل چن کہتے ہیں ’وہ یس سر مین ‘ انسان نہیں ہیں۔

    ندیم افضل چن نواز شریف کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ محاذ آرائی کی تاریخ کو تسلیم کرتے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ نواز شریف کو اپنی حدود کا علم ہے۔ ’ نواز شریف اپنی حدود جانتے ہیں اور انھیں علم ہے کہ ان حدود کو کب عبور کرنا ہے اور کب چھوڑنا ہے،‘

    واضح رہے کہ ندیم افضل چن عمران خان کے دور حکومت میں ان کے ترجمان بھی رہ چکے ہیں۔

    تاہم ندیم افضل چن اور دیگر ماہرین کسی بھی موقع پر تصادم کو خارج از امکان قرار نہیں دیتے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق سب سے پہلے انتخابات کے لیے ایک تاریخ کا اعلان اور معیشت کو تباہی سے بچانے کے لیے روز میپ کو بنیادی اہمیت دینا ہو گی۔

  8. کیا عام انتخابات منصفانہ ہو پائیں گے؟, ترہب اصغر اور سائمن فریزر، بی بی سی نیوز

    رواں سال مئی میں پاکستان میں پرتشدد مظاہروں کے بعد کریک ڈاؤن کا آغاز ہوا۔

    سابق وزیر اعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو گرفتار کر کے جیل بھیجا گیا جس کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی کو ممکنہ طور پر کمزور ہکر دیا گیا ہے جور بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ انتخابات منصفانہ نہیں ہوں گے۔

    پی ٹی آئی اپنے چیئرمین کی گرفتاری سے پہلے انتخابات کی روڑ میں کہیں آگے تھی لیکن رہنما تحریک انصاف زلفی بخاری کا کہنا ہے کہ اب کوئی ’لیول پلیئنگ فیلڈ‘ نہیں ہے۔

    زلفی بخاری کے مطابق ان کی اس بات سے زیادہ تر دیگر جماعتیں بھی متفق ہیں۔

    ’آپ ملک کے مقبول ترین سیاسی رہنما کو انتخابات سے پہلے کیسے سلاخوں کے پیچھے ڈال سکتے ہیں؟ اگر آپ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کراتے ہیں تو آپ دیکھیں گے کہ عمران خان کا ووٹ بینک کتنا مضبوط ہے۔‘

    واضح رہے کہ نواز شریف کی جماعت نے بھی 2018 کے انتخابات سے قبل ایسے ہی دعوے کئے تھے جس وقت نواز شریف جیل میں تھے۔

    اس لیے سیاسی تجزیہ کار تاریخ کو اپنے آپ کو دہراتے ہوئے دیکھ رہے جس کا فائدہ اس بار پی ٹی آئی کے بجائے ن لیگ کو ہوگا۔

    دوسری جانب پاکستان میں اس وقت اصل میدانِ جنگ معیشت ہے جس کا مورد الزام دونوں جماعتیں ایک دوسرے کو ٹھرا رہی ہیں۔

    مسلم لیگ ن نے گو کہ اس کا دعویٰ کیا ہے کہ نواز شریف پہلے بھی اقتدار میں رہے ہیں اور وہ ’سب کچھ دوبارہ ٹھیک کرنا‘ جانتے ہیںتاہم یہ واضح نہیں ہے کہ وہ یہ کیسے کریں گے اس کا روّ میپ کیا ہو گا۔

    زیادہ تر پاکستانی اس بات سے شدید مایوسی کا شکار ہیں اور اسے وہ اپنے ملک کے بوسیدہ نظام جمہوریت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ خاص طور پر نوجوان اب سیاست دانوں اور فوج کی سیاست میں شمولیت کے خلاف کھل کر بات کرتے ہیں۔

  9. کیا نواز شریف دوبارہ وزیر اعظم کا منصب سنبھال سکیں گے؟, ترہب اصغر اور سائمن فریزر، بی بی سی نیوز

    پاکستان مسلم لیگ ن بارہا واضح کر چکی ہے کہ 2024 میں ہونے والے عام انتخابات میں نواز شریف ہی وزیر اعظم کے لیے امیدوار ہوں گے تاہم 73 سالہ نواز شریف کے سامنے ایک دو نہیں بلکہ کئی بڑی چیلینجز ہیں۔

    نواز شریف کے سامنے ایک بڑا چیلینج صرف پاکستان کا معاشی بحران ہی نہیں ہے جس کے لیے ان کی پارٹی کو بڑی حد تک مورد الزام بھی ٹھہرایا جاتا ہے بلکہ بڑے پیمانے پر یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ ووٹ منصفانہ نہیں ہوگا کیونکہ ان کے بڑے سیاسی حریف سابق وزیر اعظم عمران خان جیل میں قید ہیں۔

    یہی نہیں نواز شریف کے سامنے ایک چیلینج فوج ہے جس کو پاکستان کا نظام چلانے کے طریقہ کار میں اہم سمجھا جاتا ہے۔

    اپنے بیرون ملک قیام کے دوران سابق وزیر اعظم نواز شریف نے پاکستان کی مسلح افواج کے خلاف متعدد مواقع پر بہت آواز اٹھائی ہے خاص طور پر انھوں نے آئی ایس آئی کے ایک سابق سربراہ اور سابق آرمی چیف آف سٹاف کو سیاسی عدم استحکام کا ذمہ دار ٹھہرانے کا الزام حائد کیا تھا۔

    نواز شریف نے اپنے الزامات میں کہا تھا کہ وہ ’بوگس مقدمات‘ کا شکار ہوئے جس میں انھوں نے اپنے بیانات میں ملک کے ججوں پر ملی بھگت کا الزام بھی لگایا۔

    انھوں نے کہا تھا کہ ان مداخلت کا نتیجہ جمہوریت کی کمزوری کی صورت میں نکلا جس نے پاکستان کے کسی بھی وزیر اعظم کو اپنی آئینی مدت پوری نہیں کرنے دی۔

    نواز شریف کے مخالفین کا کہنا ہے کہ ان کی واپسی کسی ڈیل کے تحت ہوئی ہے جس میں فوج نے ان کو واپسی کی اجازت دی اور ابھی تک یہ یقینی نہیں ہے کہ نواز شریف انتخابات جیت جائیں گے۔

    عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پارٹی سے تعلق رکھنے والے زلفی بخاری نے بی بی سی کو بتایا: ’میں انھیں دوبارہ وزیر اعظم بنتے نہیں دیکھ رہا کیونکہ ان کے خلاف مقدمات ہیں اور عدالتی احکامات کے مطابق انھیں سیاست سے تاحیات نااہل قرار دیا گیا ہے۔

    تاہم بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ معاملات نواز شریف کے حق میں مختلف طریقے سے سامنے آئیں گے۔

    سیاسی تجزیہ کار وجاہت مسعود نے بی بی سی کو بتایا ہماری سیاست کا منظرنامہ اور سکرپٹ نہیں بدلا ہے، صرف سیاسی کردار بدلے ہیں۔

    ’2018 کے انتخابات میں عمران خان کو الیکشن کے دوران اسٹیبلشمنٹ نے سہولت فراہم کی تھی۔ اس بار فوج نواز شریف کے لیے الیکشن کرانے میں مصروف ہے۔‘

    تاہم فوج کی جانب سے نواز شریف کو ترجیح دینے کے حوالے کوئی بیان سامنے نہیں آیا اور ادارے نے عمران خان کے ان الزامات اور دعووں کی ہمیشہ تردید کی ہے کہ عمران خان کی حکومت ختم ہونے سے پہلے اتحاد کیا گیا تھا۔

  10. نواز شریف اسلام آباد میں مختصر قیام کے بعد لاہور روانہ ہوں گے، شام سات بجے جلسہ گاہ پہنچیں گے: مسلم لیگ ن

    مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کچھ دیر قبل دبئی سے پاکستان کے لیے خصوصی پرواز سے روانہ ہو گئے ہیں اور توقع ہے کہ تین گھنٹے پانچ منٹ کے ہوائی سفر کے بعد ان کا طیارہ اسلام آباد لینڈ کرے گا۔

    مسلم لیگ ن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق نواز شریف کا طیارہ اپنے مقررہ وقت پر اسلام آباد پہنچے گا جس کے ایک گھنٹے بعد وہ خصوصی پرواز سے لاہور کے لیے روانہ ہو جائیں گے۔

    مسلم لیگ ن کی جانب سے شیئر کردہ اطلاعات کے مطابق نواز شریف لاہور ائیر پورٹ سے جاتی عمرہ جانے کا امکان ہے اورآج شام مینار پاکستان جانے سے قبل جاتی عمرہ پر وہ اپنے والدین اور اہلیہ کی قبر پر فاتحہ کریں گے۔

    مسلم لیگ ن کے ژرائع کے مطابق نوازشریف شام سات بجے جلسہ گاہ بذریعہ ہیلی کاپٹر پہنچیں گے۔

  11. نواز شریف کے پاکستان پہنچنے پر کیا متوقع ہے؟, ترہب اصغر اور سائمن فریزر، بی بی سی نیوز

    سابق وزیر اعظم نواز شریف عام انتخابات سے قبل خود ساختہ جلاوطنی ختم کر کے آج (21 اکتوبر) کو پاکستان واپس آ رہے ہیں۔

    جب نواز شریف کا طیارہ پاکستان کی سرزمین پر اترے گا تو متوقع طور پر کیا صورت حال درپیش ہو گی؟

    تین بار وزیر اعظم کے عہدے پر رہنے والے میاں نواز شریف نے گزشتہ چار سال لندن میں گزارے ہیں۔ 2019 میں طبی بنیادوں پر ضمانت حاصل کرنے کے بعد وہ لندن چلے گئے تھے اور 2022 میں جب اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کو تحریک عدم اعتماد کے تحت ان کے عہدے سے ہٹایا گیا ، اسوقت کے بعد سے میاں نواز شریفبھی اپنی سیاسی مصروفیات میں مصروف عمل ہیں۔

    نواز شریف کی جماعت مسلم لیگ ننے اس وقت ملکی بھاگ دوڑ شہباز شریف کی قیادت میں سنبھالی اور اب جبکہ نواز شریف واپس پاکستان آ رہے ہیں تو ان کے اوپر عدالتی مقدمات ابھی باقی ہیں لیکن انھیں فوری گرفتاری کا خوف نہیں ہوگا کیونکہ انھوں نے اگلے ہفتے ہونے والی سماعت تک عدالت سے ضمانت حاصل کر لی ہے۔

    یہ پہلی بار نہیں ہو رہا کہ نواز شریف جلاوطنی کے بعد پاکستان واپس آ رہے ہوں

    2007 میں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو نے 1999 میں سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلی بار انتخابات میں حصہ لینے کے لیے فوج کے ساتھ ایک تاریخی معاہدہ کیا تھ۔

    اس وقت تمام بڑی اپوزیشن جماعتیں آج کے برعکس ایک صفحے پر تھیں۔ 2007 میں ایک انتخابی جلسہ میں قتل کیے جانے کے کچھ عرصے بعد عام انتخابات کے نتیجے میں پاکستان پیپلز پارٹی برسر اقتدار آ گئی تھی۔

  12. کیا نواز شریف کی واپسی پنجاب میں ن لیگ کی سیاسی ساکھ کو بحال کر پائے گی؟, احمد اعجاز، صحافی

    سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف کی پاکستان واپسی لگ بھگ چار برس بعد ہونے والی ہے تاہم اِن چار برسوں میں ملکی سیاست نے کئی کروٹیں لی ہیں۔

    اُن کی جماعت ن لیگ، جسے جی ٹی روڈ یا شمالی پنجاب میں دہائیوں تک سب سے مقبول جماعت سمجھا جاتا رہا، کی مقبولیت کو ملکی سیاست کے بدلتے حالات نے ٹھیس پہنچائی۔ تحریک انصاف کی ضمنی انتخابات میں فتح نے ن لیگ کے ووٹ بینک میں کمی کا نشاندہی کی تھی۔

    ایسے میں یہ سوال اُٹھ رہا ہے کہ کیا نواز شریف کی 21 اکتوبر کو واپسی پنجاب میں ن لیگ کو لگنے والی سیاسی ضرب کی تلافی کر پائے گی؟ جانیے اس لنک پر

  13. بریکنگ, ’ہم 28 مئی والے ہیں، نومئی والے نہیں‘, ترہب اصغر، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دبئی

    مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ’آج سرخرو ہوکر وطن جارہا ہوں، ہم 28 مئی والے ہیں، نومئی والے نہیں۔‘

    میڈیا سے گفتگو میں نواز شریف نے مزید کہا کہ ’ہم انصاف چاہتے ہیں اور پہلے بھی کہا کہ سب اللہ پر چھوڑا ہے اب بھی اللہ پر چھوڑتا ہوں۔‘

    سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’میں وہ شخص ہوں جس نے جیلیں دیکھی ہیں، میری بیٹی نہ وزیر نہ مشیر تھی پھر بھی پکڑ لیا مگر بلآخر انھیں کلین چٹ ملی جو ملنی ہی چاہیے تھی۔‘

  14. بریکنگ, ’میں سمجھتا ہوں پاکستان کا الیکشن کمیشن ایک ’فیئر الیکشن کمیشن‘ ہے‘, ترہب اصغر، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دبئی

    سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن جب بھی انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے گا ،جب ہی انتخابات ہوں گے۔

    نواز شریف کے مطابق ’میں سمجھتا ہوں پاکستان کا الیکشن کمیشن ایک فیئرایکشن کمیشن ہے۔‘

    سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ’ہم الیکشن کے لیے بالکل تیار ہیں ابھی حلقہ بندیوں کا کام ہونا ہے اور پراسیس ہو رہا ہے یہ سب چیزیں الیکشن کمیشن کی نظر میں ہیں اور وہ بہترین فیصلہ کرے گا۔‘

  15. بریکنگ, پاکستان واپس جانےکی بہت خوشی ہو رہی ہے تاہم بہت اچھا ہوتا کہ آج 2017 کے مقابلے میں حالات بہتر ہوتے

    مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان 2017 کے لحاظ سے بہت پحچھے چلا گیا ہے یہ حالات دیکھ کر بہت پریشانی ہوتی ہے۔

    دبئی ایئرپورٹ پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت میں نواز شریف نے کہا کہ الیکشن کی تاریخ الیکشن کمیشن کرے گا اور میری ترجیح بھی وہی ہے جو الیکشن کمیشن کہے گا وہی مجاز ادارہ ہے۔

    دبئی ایئرپورٹ پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت میں نواز شریف نے کہا کہ جو پاکستان آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہہ چکا تھا جہاں روپیہ مستحکم تھا مگر وہ پاکستان آج کہیں نظر نہیں اتا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہمیں آج بلند ترین قوموں میں ہونا چاہیے تھا۔

  16. نواز شریف کی پاکستان آمد سے قبل دبئی ایئرپورٹ کے مناظر, ترہب اصغر، بی بی سی اردوڈاٹ کام، دبئی

    مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف اس وقت دبئی ایئرپورٹ پر موجود ہیں جہاں سے کچھ دیر بعد وہ پاکستان کے لیے روانہ ہو جائیں گے۔

    نواز شریف کو دیکھ کر وہاں موجود ورکرز نے ان کے حق میں نعرے بازی بھی کی۔

    واضح رہے کہ نواز شریف چار سال بعد وطن واپس آ رہے ہیں۔

  17. ’نواز شریف چاہتے ہیں ملک کا جو بھی چیف ایگزیکٹو چنا جائے اس کو اپنا کام کرنے دینا چاہیے‘

    مسلم لیگ ن کے سینیٹر عرفان صدیقی نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا ہے کہ نواز شریف کو کچھ سیکھ کر جانے کی ضرورت نہیں وہ کبھی بھی محاز آرائی، لڑائی اور کشمکش سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ایک چیز جس کو وہ ہمیشہ مقدم رکھتے ہیں وہ ہے پارلیمنٹ اور عوام کی بالا دستی اور ووٹ کی عزت۔‘

    سینیٹرعرفان صدیقی نے یہ بات دبئی ایئرپورٹ پر بی بی سی کی نامہ نگار ترہب اصغر سے بات چیت میں کہی جو اس وقت دبئی ایئرپورٹ پر موجود ہیں جہاں سے وہ مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی چار سال بعد پاکستان آمد کے حوالے سے رپورٹ کر رہی ہیں۔

    عرفان صدیقی نے ترہب اضغر کے سوال کے جواب میں کہا کہ ’پاکستان میں موجود تمام ایشوز میاں نواز شریف کے ذہن میں موجود ہیں جن کو مد نظر رکھ کر وہ اس وقت وطن واپس جا رہے ہیں۔‘

    عرفان صدیقی کے مطابق ’وہ چاہتے ہیں کہ ملک کا جو بھی چیف ایگزیکٹو چنا جائے اس کو اپنا کام کرنے دینا چاہیے۔ ملک کے منتخب چیف ایگزیکٹو کو ملک کی پالیسیاں بنانے کا حق و استحقاق حاصل ہوتا ہے اس کو آپ تصادم نہیں کہہ سکتے یہ تو آئینی تقاضہ ہے۔‘

    عرفان صدیقی نے دعویِٰ کیا کہ ملک نواز شریف کی قیادت میں آگے بڑھے گا۔ ملک میں جو ترقی کے آثار نظر آتے ہیں اس پر نواز شریف کے نام کی مہر لگی ہے اور وہی ان کا بیانیہ ہے۔

    ترہب اصغر کے مطابق اس وقت نواز شریف دبئی ایئرپورٹ پر موجود ہیں۔ نواز شریف کے ساتھ نہ صرف مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما اور ورکرز کی بڑی تعداد ان کے ساتھ پاکستان آ رہی ہے بلکہ پاکستانی میڈیا کے نمائندے بھی اس وقت دبئی ایئر پورٹ پر کوریج کے لیے موجود ہیں۔

  18. سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں محمد نواز شریف آج پاکستان واپس آ رہے ہیں, ترہب اصغر، بی بی سی اردو ڈاٹ کام،

    سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں محمد نواز شریف آج (21 اکتوبر) کو پاکستان واپس آ رہے ہیں۔

    میاں نواز شریف اس وقت پاکستان روانگی کے لیے دبئی کے ائیر پورٹ پر موجود ہیں۔

    سابق وزیراعظم کی پاکستان کے لیے پرواز دبئی سے اب سے کچھ دیر کے بعد روانہ ہو گی۔

    میاں نواز شریف کے ساتھ دبئی سے پاکستان آنے والے ورکرز بڑی تعداد میں موجود ہیں جبکہ میڈیا کے نمائندے بھی دبئی سے ان کے ساتھ پاکستان آئیں گے۔

    چار سال قبل سنہ 2019 میں علاج کی غرض سے لندن روانہ ہوئے تھے اور وہاں انھوں نے خود ساختہ جلا وطنی اختیار کر رکھی تھی۔

    امکان ہے کہ نواز شریف پاکستان آمد سے قبل دبئی ایئرپورٹ پر میڈیا کے نمائندوں سے مختصر بات چیت بھی کریں گے۔

  19. ’عمران خان کو ہمیشہ کہا کہ اسٹیبلشمنٹ سے ہماری لڑائی بنتی نہیں ہے‘ شیخ رشید

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد جو ایک عرصے سے منظرِ عام پر نہیں تھے اور ان کے بارے میں مختلف افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ انھیں گرفتار کیا گیا ہے نے آج گذشتہ کئی ماہ میں پہلی مرتبہ ایک انٹرویو دیا ہے۔

    انھوں نے نجی ٹی وی چینل سما کو ایک خصوصی انٹرویو دیتے کہا کہ وہ دراصل چِلا کاٹ رہے تھے اس لیے منظر عام سے غائب تھا اور اس دوران انھیں مذہب سے قریب ہونے اور متعدد چیزوں کے بارے میں سوچنے کا موقع ملا۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل عثمان ڈار اور صداقت عباسی کے انٹرویو بھی ایسے ہی اچانک ان کی روپوشی کے بعد نجی ٹی وی چینلز پر نشر کیے جا چکے ہیں۔

    شیخ رشید نے کہا کہ ’جب نو مئی ہوا تو اس سے اگلے ہی دن میں نے ان واقعات کی مذمت کی تھی۔‘ انھوں نے کہا کہ وہ عمران خان کو ہمیشہ کہتے تھے کہ ’اسٹیبلشمنٹ سے ہماری لڑائی بنتی نہیں ہے اور انھیں کہا تھا کہ فوج سے بنا کر رکھنی چاہیے۔‘

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ نے بتایا کہ ’میں نے دومرتبہ چیئرمین پی ٹی آئی کو کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کو مذاکراتی عمل میں شامل کرلیں مگر انہوں نے منع کیا۔‘

    شیخ رشید نے مزید کہا کہ ’سیاستدان کو کسی فوجی افسر کا نام نہیں لینا چاہیے، یہ ملک اداروں کے بغیر نہیں چل سکتا، سیاست دانوں اور اداروں کو مل کر چلنا چاہیے۔

    ’جب سیاست دانوں اور اداروں کی لڑائی ہوتی ہے تو ہمیشہ ادارے ہی جیتتے ہیں۔‘

    شیخ رشید کا مزید کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی ضدی سیاستدان ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی کی طرف سے تین افراد جو فوج سے مذاکرات کر رہے تھے تینوں نے اپنی جماعت بنا لی۔

  20. بی بی سی اردو کے لائیو پیج پر خوش آمدید

    بی بی سی اردو کے لائیو پیج پر خوش آمدید۔

    22 اکتوبر سے پہلے کی خبریں پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کیجئے۔