آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ڈالر کی قیمت میں کمی کا سلسلہ جاری، انٹر بینک میں 280.65 روپے کی سطح پر آ گیا

پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں منگل کے روز کاروبار کے آغاز پر 75 پیسے کی کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت 280.90 روپے کی سطح تک آ گئی ہے۔ دوسری جانب چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کے اختیارات سے متعلق ’پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر سماعت فل کورٹ کر رہا ہے۔

لائیو کوریج

  1. روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری، ڈالر 278 روپے کی سطح سے نیچے آ گیا

  2. آمدن سے زیادہ اثاثہ جات کا کیس: اسحاق ڈار سمیت دیگر ملزمان کے خلاف مقدمے میں عدالتی دائرہ کار پر سماعت 17 اکتوبر تک ملتوی

    اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور ان کے شریک ملزمان کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس میں عدالتی دائرہ اختیار پر 17 اکتوبر کو دلائل طلب کر لیے ہیں۔

    منگل کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی سماعت کی۔

    نیب پراسیکیوٹر افضل قریشی، وکلاء صفائی اور اسحاق ڈار کے وکیل محمد عرفان عدالت پیش ہوئے، عدالت نے سابق صدر نیشنل بنک سعید احمد سمیت دیگر شریک ملزمان کی حاضری لگائی۔

    سماعت شروع ہونے پرملزمان کے وکلاء کی جانب سے کیس کی سماعت دو ماہ کے لیے ملتوی کرنے کی استدعا کی گئی۔

    نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہ کیس لاہور ریجن کا ہے، وکیل صفائی قاضی مصباح نے کہا کہ یہ کیس بند ہو گیا تھا، عدالت نے آئندہ سماعت پر عدالتی دائرہ اختیار پر دلائل طلب کرتے ہوئے سماعت17 اکتوبر تک کے لیے سماعت ملتوی کر دی۔

    واضح رہے کہ سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نےنیب ترامیم سے متعلق سابق وزیر اعظم عمران خان کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے نیب ترامیم کو کالعدم قرار دیا تھا جس کے بعد وہ مقدمات دوبارہ کھل گئے تھے جو نیب ترامیم کے بعد ختم کر دیے گئے تھے۔

  3. عمران خان کی بیٹوں سے بات کروانے کا معاملہ: خصوصی عدالت نے 18 اکتوبر تک جیل قواعد و ضوابط طلب کر لیے

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی ان کے بیٹوں کی ٹیلی فون پر بات کروانے سے متعلق درخواست پر سماعت کرتے ہوئے قیدیوں سے فون پر بات کروانے سے متعلق جیل ایس او پی طلب کر لیے ہیں۔

    خصوصی عدالت کے جج ابولحسنات ذوالقرنین نے 18 اکتوبر تک ایس او پی جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

    منگل کو سماعت کے دوران سپرٹینڈنٹ اڈیالہ جیل نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی بیٹوں سے فون پر بات کروانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت گرفتار ملزمان کی بیرون ملک بات نہیں کروانے کی اجازت نہیں۔

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت کے جج سماعت کی۔ کیس کی سماعت 18 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی۔

  4. اگر پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے بنائے گئے رولز میں ترمیم کر سکتی ہیں تو آزاد عدلیہ کا تصور ختم ہو جائے گا: جسٹس اعجاز الاحسن

    سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کے اختیارات سے متعلق ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر سماعت جاری ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا فل کورٹ ’پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ‘ کے خلاف درخواستوں کی سماعت کر رہا ہے۔

    سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بینچ کی کوشش ہو گی کہ ان درخواستوں کی سماعت آج ہی مکمل کر لی جائے۔

    انھوں نے کہا کہ یہاں پر ججز وکلا کو سننے کے لیے بیٹھے ہیں جبکہ ججز اپنی رائے فیصلے میں دیں گے۔

    بینچ میں موجود جسٹس اعجاز الااحسن نے ریمارکس میں کہا کہ کیا آئین کے آرٹیکل ایک سو اکانوے میں کہیں لکھا ہے کہ سپریم کورٹ کے بنائے گئے رولز میں پارلیمنٹ ترمیم کر سکتی ہے کیونکہ اگر ایسا ہوا تو پھر آزاد عدلیہ کا تصور ختم ہو جائے گا۔

    چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل سے کہا کہ پہلے وہ اپنے دلائل دیں پھر سوالوں کا جواب دیں کیونکہ ان درخواستوں کی وجہ سے دیگر مقدمات متاثر ہو رہے ہیں۔

    بینچ میں موجود مسرت ہلالی نے سوال کیا کہ آئین کے آرٹیکل ایک سو اکانوے میں سپریم کورٹ کو لامحدود اختیارات دیے گئے ہیں جس پر ایم کیو ایم کے وکیل کا کہنا تھا کہ آئین کے تحت سپریم کورٹ کو اختیارات کی ایک حد مقرر ہے جس سے وہ آگے نہیں جاسکتی۔

  5. ’پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ‘ کیس: جسٹس منیب اختر سوال پر مداخلت کرنے پر برہم

    سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کے اختیارات سے متعلق ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر سماعت جاری ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا فل کورٹ ’پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ‘ کے خلاف درخواستوں کی سماعت کر رہا ہے۔

    ایم کیو ایم کے وکیل فیصل صدیقی دلائل دے رہے ہیں۔

    بینچ میں موجود جسٹس منیب اختر نے درخواست گزار کے وکیل سے اسفسار کیا کہ کیا آئین کے آرٹیکل ایک سو اکانوے جو کہ سپریم کورٹ کے اختیارات سے متعلق ہے اور سپریم کورٹ رولز انیس سو اسی میں جو زبان استعمال کی گئی ہے وہ ایک جیسی ہے جس پر درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ ملکی آئین رائج قوانین کی بات کرتا ہے۔

    جسٹس منیب اختر نے جب دوسرا سوال کرنا چاہا تو چیف جسٹس نے فیصل صدیقی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی مرضی سے دلائل دیں۔ اس پر جسٹس منیب اختر غصے میں آگئے اور کہا کہ وہ اس بینچ کا حصہ ہیں اور اس طرح ان کے سوالوں میں مداخلت نہ کی جائے۔

  6. ڈالر کی قیمت میں کمی کا سلسلہ جاری، انٹر بینک میں 280.65 روپے کی سطح پر آ گیا, تنویر ملک، صحافی

    پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں منگل کے روز کاروبار کے آغاز پر ایک روپے سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت 280.65 روپے کی سطح تک آ گئی ہے۔

    پاکستانی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں گذشتہ ایک ماہ سے اپنی قدر میں اضافہ کر رہی ہے۔ گذشتہ ماہ پانچ ستمبر کو ڈالر کی انٹربینک قیمت 307.10 روپے کی سطح تک پہنچ گئی تھی جو ملکی تاریخ میں ڈالر کی بلند ترین سطح تھی۔

    تاہم اس کے بعد ڈالر کی قیمت میں کمی کا سلسلہ شروع ہوا جس کی وجہ ڈالر کی سمگلنگ ، ذخیرہ اندوزی کے خلاف کریک ڈاؤن اور ایکسچینج کمپنیوں کے ضوابط میں متعارف کی گئی ترامیم ہیں۔

    گذشتہ ایک ماہ میں ڈالر کی قیمت میں 26 روپے سے زائد کی کمی ریکارڈ کی جا چکی ہے۔

  7. سندھ کو لاکھوں ڈالر کی آمدن دلوانے والی کاربن ٹریڈنگ: ’جب سے یہ کام شروع کیا ہمارے مالی حالات بہتر ہوئے ہیں‘

  8. چیف جسٹس کے اختیارات سے متعلق کیس کی سماعت آج، ایم کیو ایم کو دلائل دینے کی ہدایات

    چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کے اختیارات سے متعلق ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر سماعت آج دن ساڑھے گیارہ بجے ہو گی۔

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کے اختیارات سے متعلق ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر سماعت فل کورٹ کر رہا ہے۔

    گذشتہ روز سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آج (منگل) ایم کیو ایم کے کو دلائل دینے کی ہدایات کی ہے۔

    گذشتہ روز سماعت میں چیف جسٹس قاضی فائز عسیی نے دوران سماعت پیپلز پارٹی کی جانب سے نمائندگی نہ ہونے پر حیرت کا اظہار بھی کیا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ ’اہم سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کی نمائندگی ہی موجود نہیں؟ تاہم کسی کو فورس نہیں کر سکتے۔

    مسلم لیگ ن کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین نے اپنے دلائل میں کہا کہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس ایکٹ کو ماننے سے غلط قانون سازی کا راستہ کھلے گا۔ کل اگر کوئی خلاف آئین قانون بنا تو عدالت کالعدم کر سکتی ہے۔ پارلیمنٹ کا اختیار ہونا نہ ہونا اور قانون سازی کی آئین سے مطابقت الگ چیزیں ہیں۔

    دوران سماعت چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہائیکورٹ فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کا حق موجود ہے۔ اس کے باوجود ہائیکورٹ کے اندر ہی انٹرا کورٹ اپیل کا حق بھی دیا گیا ہے۔

    مزید سماعت آج تک ملتوی کر دی گئی تھی۔

  9. بریکنگ, انڈیا میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی سکیورٹی کا جائزہ لیا جائے، پی سی بی

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے کرکٹ ورلڈ کپ میں شرکت کے خواہش مند پاکستانی شائقین اور صحافیوں کو انڈیا کی جانب سے ویزا فراہم نہ کیے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دفتر خارجہ سے کہا ہے کہ یہ معاملہ باضابطہ طور پر پاکستانی ہائی کمیشن کے ذریعے اٹھایا جائے۔

    پی سی بی مینیجمنٹ کمیٹی چیئرمین ذکا اشرف نے سیکرٹری خارجہ سائرس سجاد قاضی سے بات کرتے ہوئے درخواست کی ہے کہ اس معاملے کو انڈیا کی وزارت داخلہ کے ساتھ دلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ذریعے اٹھایا جائے۔

    پی سی بی نے انڈین میڈیا میں رپورٹ ہونے والی چند خبروں کا بھی نوٹس لیا اور حکومت سے پاکستانی کھلاڑیوں کی سکیورٹی کا جائزہ لینے کی درخواست کی۔ انھوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کی حفاظت نہایت اہم ہے۔

    پی سی بی کے مطابق پاکستانی صحافیوں اور شائقین کو اب تک ویزا کے بارے میں غیر یقینی کا سامنا ہے اور آئی سی سی اور بی سی سی آئی کو ان کی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کروائی جاتی ہے جس کے تحت میزبان ملک شرکت کرنے والی ٹیم کے ملک کے شائقین اور صحافیوں کو ویزا دینے کی ضمانت دینے کا پابند ہے۔

  10. ژوب میں فائرنگ کے تبادلے میں پانچ دہشتگرد، میجر سمیت دو سکیورٹی اہلکار ہلاک: پاکستانی فوج

    پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ ژوب میں سکیورٹی فورسز اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں پانچ دہشتگرد اور ایس ایس جی کے ایک میجر سمیت دو سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

    فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے صوبہ بلوچستان میں ضلع ژوب کے علاقے سمبزا میں دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلیجنس آپریشن کیا تھا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق اس آپریشن کی سربراہی کرنے والے اکتیس سالہ میجر سید علی رضا شاہ اور اڑتیس سالہ حوالدار نثار احمد اس حملے میں ہلاک ہو گئے۔ میجر علی رضا سرگودھا جبکہ حوالدار نثار وہاڑی ضلع کے رہائشی تھے۔

    ادھر نگران وفاقی وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی نے ژوب میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے دوران میجر علی رضا اور حوالدار نثار احمد کی ہلاکت پر 'گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار' کیا ہے۔

    ایک بیان میں ان کا کہنا ہے کہ 'شہدا کے اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ میجر علی رضا اور حوالدار نثار احمد نے دہشت گردوں کے خلاف بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔

    ’وطن کی خاطر جانیں قربان کرنے والے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ پاکستانی قوم شہدا کی قربانیوں کی مقروض ہے۔‘

    وزیر داخلہ نے کہا کہ ’دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ کر کے دم لیں گے۔‘

  11. بی بی سی کی لائیو پیج کوریج میں خوش آمدید!

    پاکستان کی سیاسی، معاشی اور سیکورٹی صورتحال اور دیگر اہم خبروں سے متعلق بی بی سی کی لائیو پیج کوریج میں خوش آمدید۔

    گذشتہ روز کی خبروں کو جاننے کے لیے یہاں کلک کریں