یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!
پاکستان کی سیاسی، معاشی اور سیکورٹی صورتحال اور دیگر اہم خبروں سے متعلق بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
منگل 10 اکتوبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر گمشدگی کیس میں خصوصی عدالت نے 17 اکتوبر کو فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔ دوسری جانب سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کے اختیارات سے متعلق ’پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ‘ کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ آج اس معاملے میں سماعت مکمل کر لے گی۔
پاکستان کی سیاسی، معاشی اور سیکورٹی صورتحال اور دیگر اہم خبروں سے متعلق بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
منگل 10 اکتوبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کے اختیارات سے متعلق ایکٹ کے خلاف درخواستوں کی سماعت میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے منگل کے روز ایم کیو ایم کے کو دلائل دینے کی ہدایات کر دی ہیں۔
چیف جسٹس قاضی فائز عسیی نے دوران سماعت پیپلز پارٹی کی جانب سے نمائندگی نہ ہونے پر حیرت کا اظہار بھی کیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ ’اہم سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کی نمائندگی ہی موجود نہیں؟ تاہم کسی کو فورس نہیں کر سکتے۔‘
مسلم لیگ ن کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین نے اپنے دلائل میں کہا کہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس ایکٹ کو ماننے سے غلط قانون سازی کا راستہ کھلے گا۔ کل اگر کوئی خلاف آئین قانون بنا تو عدالت کالعدم کر سکتی ہے۔ پارلیمنٹ کا اختیار ہونا نہ ہونا اور قانون سازی کی آئین سے مطابقت الگ چیزیں ہیں۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہائیکورٹ فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کا حق موجود ہے۔ اس کے باوجود ہائیکورٹ کے اندر ہی انٹرا کورٹ اپیل کا حق بھی دیا گیا ہے۔
مزید سماعت 10 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی۔
پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ ژوب میں سکیورٹی فورسز اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں پانچ دہشتگرد اور دو سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے صوبہ بلوچستان میں ضلع ژوب کے علاقے سمبزا میں دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلیجنس آپریشن کیا تھا۔
ادھر نگران وفاقی وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی نے ژوب میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے دوران میجر علی رضا اور حوالدار نثار احمد کی ہلاکت پر ’گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار‘ کیا ہے۔
ایک بیان میں ان کا کہنا ہے کہ ’شہدا کے اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ میجر علی رضا اور حوالدار نثار احمد نے دہشت گردوں کے خلاف بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔
’وطن کی خاطر جانیں قربان کرنے والے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ پاکستانی قوم شہدا کی قربانیوں کی مقروض ہے۔‘
وزیر داخلہ نے کہا کہ ’دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ کر کے دم لیں گے۔‘
آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمہ میں گرفتار چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی ضمانت پر رہائی کی درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ میں جاری ہے۔
چیف جسٹس عامر فاروق درخواست ضمانت بعد از گرفتاری پر اوپن کورٹ میں سماعت کر رہے ہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی اور ان کی ہمشیرہ علیمہ خان بھی کمرہ عدالت میں موجود ہیں۔
عمران خان کی جانب سے سے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ہدایت جاری کی کہ روسٹرم پر زیادہ وکلا جمع نہ ہوں، صرف دو وکلا موجود رہیں۔ اس درخواست پر اوپن کورٹ میں سماعت کا آرڈر دیا ہے۔ اگر کوئی ایسی چیز آتی ہے جو حساس ہو تو پھر دونوں وکلا کی مشاورت سے ان کیمرا دلائل سنیں گے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل عدالت نے ایف آئی اے کی جانب سے درخواست ضمانت پر ان کیمرا سماعت کی درخواست نمٹا دی تھی۔ اس حوالے سے عدالت نے ہدایات جاری کی تھیں کہ وکلا کی جانب سے حساس دستاویزات کی نشاندہی پر صرف اس حد تک عدالتی کارروائی ان کیمرا ہو گی۔
عدالت کے احکامات پر ایڈوکیٹ شاہ خاور نے کہا کہ ہم کورٹ کی معاونت کرتے ہوئے بتا دیا کریں گے کہ فلاں بیان کا یہ حصہ کورٹ صرف خود پڑھ لے۔
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اس ایف آئی آر کا ہر کالم اہم ہے، سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر کمپلیننٹ ہیں۔ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت یہ مقدمہ درج کیا گیا۔
بیریسٹر سلمان صفدر نے ایف آئی آر کا متن بیان کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو اس ایف آئی آر میں ملزم نامزد کیا گیا اور ان پر الزام ہے کہ ذاتی مقاصد کے حصول کے لیے ’کلاسیفائیڈ ڈاکومنٹ‘ کے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیاگ
عمران خان کے وکیل کے مطابق سائفر کو غیر قانونی طور پر پاس رکھنے اور غلط استعمال کرنے کا الزام عائد کیا گیا اور کہا گیا کہ اسد عمر اور محمد اعظم خان کے کردار کو تفتیش کے دوران دیکھا جائے گا۔ ایف آئی اے نے سیکرٹری داخلہ کے ذریعے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا۔
چیف جسٹس قاضی فائز عسیی نے ریمارکس میں کہا ہے کہ اس عدالت سے یہ پیغام نہیں جانا چاہئے کہ قوانین کا انحصار چیف جسٹس کی خواہشات پر ہے،ایسا تاثر اور پیغام جانا تباہ کن ہو گا۔‘
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے یہ ریمارکس سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کے اختیارات سے متعلق ایکٹ کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے دوران دیے۔
سپریم کورٹ میں جب ایک وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہو ئی تو پاکستان مسلم لیگ ق کے وکیل زاہد ابراہیم نے دلائل میں کہا کہ آرٹیکل 142 قانون سازی کے اختیارات دیتا ہے، ایکٹ کے ذریعے سپریم کورٹ کے اختیار کو بڑھایا گیا اور بڑھایا اسی چیز کو جاتا ہے جو پہلے سے موجود ہو۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ اپیل کا حق 184/3میں تو موجود ہی نہیں تھا، قانون سازی کے ذریعے سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں کچھ شامل کیسے کیا جا سکتا ہے؟
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یا تو یہ کہیں کہ پارلیمنٹ سرے سے ایسا کر ہی نہیں سکتی، پارلیمنٹ آئینی ترمیم سے 184/3 کو ختم ہی کر دے تو نئی بحث چھڑ جائے گی۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے مسلم لیگ ق کے وکیل سے استفسار کیا کہ آئین کے مطابق پارلیمان سپریم کورٹ ہے اختیارات بڑھا سکتی ہے۔ سپریم کورٹ کے کام کے طریقہ کار کو ریگولیٹ کیا جائے عدلیہ کی مائیکرو مینجمنٹ مداخلت نہیں تو پھر کیا مداخلت ہو گی۔
چیف جسٹس نے دوران سماعت کہا کہ ’ قانون اور آئین چیف جسٹس کی خواہشات پر نہیں۔ میں ماسٹر نہیں آئین کے ماتحت ہوں ۔‘
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف توشہ خانہ مقدمے میں دیے جانے والے فیصلے کو کالعدم قرار دینے سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ اس درخواست کی سماعت کرُرہا ہے عدالت اس مقدمے میں عمران خان کی سزا پہلے ہی معطل کر چکی ہے عمران خان کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے دلائل کا آغاز کر دیا ہے۔
عمران خان کے وکیل کی جانب سے درخواست میں مرکزی اپیل میں ریاست کو فریق بنانے کی اجازت دینے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔
سماعت کے آغاز پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے وکیل پی ٹی آئی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس پر تو اعتراضات لگے ہیں۔ جس پر لطیف کھوسہ کا کہنا تھا جی بالکل، اعتراض لگا ہوا ہے، ہم چاہتے ہیں ریاست کو فریق بنائے جائے۔
وکیل لطیف کھوسہ کی جانب سے درخواست میں استدعا کی گی ہے فیصلے کی بنیاد پر ہونیوالی کارروائیوں کو بھی معطل کرنے کا حکم فیصلے کا حصہ بنایا جائے۔
وکیل پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ سزا معطلی کی درخواست پر سماعت کے دوران ہم نے اس بارے میں زبانی گزارش کی تھی۔
اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے پاس اس حوالے سے کوئی عدالتی حوالہ موجود ہے تو پیش کریں۔ چیئرمین پی ٹی آئیعمران خان کے وکیل کی جانب سے اپنے دلائل کی حمایت میں عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم سزا معطلی کے فیصلے پر نظر ثانی کا نہیں کہہ رہے ،یہ کوئی اپیل نہیں ہے۔
اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ جن فیصلوں کا حوالہ دے رہے ہیں وہ کاپی دے دیں۔ اس درخواست پر عدالتی حوالے دیکھنے کے بعد مناسب حکمنامہ جاری کریں گے
عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کی جان کو خطرہ ہے اور ان کی صحت کے حوالے سے شدید تحفظات ہیں۔
سوموار کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے الزام عائد کیا کہ عمران خان کو سلو پوائزن دیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی جان کو خطرہ ہے اور ان کی صحت کے حوالے سے شدید تحفظات ہیں۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس حوالے سے سب سے رکارڈ طلب کر رکھا ہے۔
لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ سے کہا کہ ہمیں چیئرمین پی ٹی آئی کی جان کی ضمانت آپ کے سامنے دی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ سائفر گمشدگی کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی پر فرد جرم عائد کرنے پر شرم آنی چاہیے۔ یہ 25 کروڑ عوام کی ناموس کا مسئلہ ہے، ڈونلڈ لو کی ایک دھمکی پر ملک کے وزیراعظم کو چلتا کیا گیا۔
لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ کس چیز پر فرد جرم لگائیں گے؟ چیئرمین پی ٹی آئی نے کیا جرم کیا ہے؟ کیا یہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ یہ ایکٹ تاج برطانیہ نے غلام رکھنے کے لیے بنائے، کیا ہم نے برطانیہ کی غلامی سے نکل کر امریکہ کی گود میں چلے جانا ہے؟
دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف توشہ خانہ مقدمے میں دیے جانے والے فیصلے کو کالعدم قرار دینے سے متعلق درخواست کی سماعت شروع ہو گئی ہے
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ اس درخواست کی سماعت کر رہا ہے۔
عدالت اس مقدمے میں عمران خان کی سزا پہلے ہی معطل کر چکی ہے عمران خان کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے دلائل کا آغاز کر دیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریٹائرمنٹ کے بعد قانونی رکاوٹ توڑنے اور مختلف واقعات کو غلط بیان کرنے پر سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید اور دیگر کے خلاف ایف آئی اے میں مقدمہ اندراج کی درخواست پر نوٹسز جاری کر دیے ہیں جبکہ دو صحافیوں جاوید چودھری، شاہد میتلااور پیمرا کو بھی نوٹس جاری کیے گئے۔
سوموار کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے شہری عاطف علی کی درخواست پر سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔
درخواست گزار کے مطابقصحافی جاوید چودھری اور شاہد میتلا نے صرف ویورشپ کے لیے دو آرٹیکل لکھے جس کا معاشرے پر منفی اثر ہوا۔ آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کرمنل رویہ سامنے آیا جس پر مقدمہ اندراج کی درخواست دی مگر کارروائی ناہوئی۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ مقدمہ درج کرنے کے احکامات جاری کرے۔
درخواست گزار کے مطابق کرمنل ایکٹ جنرل ریٹائرڈ باجوہ اور جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کی ملی بھگت سے ہوا جو قانونی رکاوٹ عبور کر کے سنگین جرم کے مرتکب ٹھہرے ہیں غلط اور من گھڑت طریقہ سے مختلف واقعات کو ظاہر کر کے داغدار کیا۔
درخواست میں کہا گیا کہ توجہ حاصل کرنے کے لیے صحافت کی آڑ میں آرٹیکلز سے ریاستی ادارے کی منفی تصویر پیش کی گئی۔ان واقعات کے تناظر میں جاری مہم عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان عدم اعتماد پیدا کرنے کی کوشش ہے۔
چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کے اختیارات سے متعلق ایکٹ کے خلاف درخواستوں کی سماعت جاری ہے۔
سماعت میں درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ آئین کا آرٹیکل ایک سو اکانوے سپریم کورٹ کو مکمل اختیار دیتا ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آئین کا ایک ارٹیکل چیف جسٹس کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ جو مرضی چاہے کر لے۔
انھوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل ایک سو چوراسی تین کے تحت اگر چیف جسٹس نے از خود نوٹس کا غلط استعمال کرتا ہے تو کیا وہی کام پارلیمنٹ بھی کرے؟
انھوں نے مزید کہا کہ ہزاروں معاملات ایسے ہیں جن میں غلط طور پر نوٹس لیے گئے۔
چیف جسٹس نے عابد زبیری سے استفسار کیا کہ انھیں ایک سو چوراسی تین کے تحت اپیل کا حق دیا گیا ہے اس سے انھیں کیا مسئلہ ہے؟
چیف جسٹس نے رخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ کہیں وہ پی ٹی آئی کی وکالت تو نہیں کر رہے جس پر عابد زبیری کا کہنا تھا کہ وہ سپریم کورٹ بار کی طرف سے پیش ہوئے ہیں۔
چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل سے کہا کہ وہ یہ ابھی تک نہیں بتا سکے کہ ازخود نوٹس کا استعمال غلط ہو رہا ہے یا درست جس پر درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ کچھ معاملات میں یہ اختیارات درست استعمال ہوئے اور بعض اوقات غلط ثابت ہوئے ہیں۔
اس موقع پر جسٹس اطہر من اللہ نے سوال کیا کہ اس قانون سازی سے کون سا بنیادی حق متاثر ہوا ہے جس پر درخواست گزار کے وکیل عدالت کو مطمعئن نہ کر سکے۔
عدالت کی طرف سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں عابد زبیری کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل ایک سو چوراسی تین کے تحت دیے گئے فیصلوں پر نظر ثانی کا اختیار ہونا چاہیے اور یہ اختیار آئین میں پہلے ہی دیا گیا ہے۔
بینچ میں موجود جسٹس اعجاز الااحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہاگر پارلیمنٹ کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ سپریم کورٹ کے معاملات میں مداخلت کا اختیار رکھے تو وہ اس بارے میں قانون سازی کرے گی جو غلط بھی ہوسکتی ہے اور درست بھی۔
چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگر کوئی غلطی ہوتی ہے تو درست کرنے کی پہلی ذمہ داری سپریم کورٹ اور پھر پارلیمنٹ کی ہو گی۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین و سابق وزیر اعظم عمران خان اور وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر گمشدگی کیس میں خصوصی عدالت نے 17 اکتوبر کو فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔
اسلام آباد کی آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات نے پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود کے خلاف اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت کی جس سلسلے میں سپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقارنقوی، وکیل صفائی سلمان صفدر، ایف آئی اے کی ٹیم اور تفتیشی افسر چالان کی نقول کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔
اس دوران شاہ محمود قریشی کی بیٹی اور بیٹا زین قریشی بھی اڈیالہ جیل پہنچے۔ سماعت کے دوران سائفر گمشدگی کیس میں چالان کی کاپیاں تقسیم کر دی گئیں۔
عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی پر فردجرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر کردی جو 17 اکتوبر کو عائد کی جائے گی۔
سماعت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سرکار چاہتی تھی کہ اجلت میں ٹرائل کا آغاز کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے عدالت میں احتجاج کرے ہوئے کہا کہ انھیں کن حالات میں رکھا ہوا ہے، وہ کوئی رعایت نہیں مانگ رہے اور باقی قیدیوں جیسا سلوک ہونا چاہیے۔
جج صاحب نے یقین دہانی کرائی کہ وہ سماعت کے بعد جا کر حالات کو دیکھیں گے۔
وکیل سلمان صفدر نے بتایا کہ عمران خان نے عدالت سے کہا کہ ان کو ٹہلنے کی بھی جگہ نہیں دی گئی۔
پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ ’گزشتہ سماعت پر ہم نے کہا تھا کہ مقدمے کی سماعت کھلی عدالت میں ہونی چاہیے، حکومت اور جیل انتظامیہ اپنی ذمہ داری سے بھاگ رہے ہیں، کسی بھی ملزم کی حفاظت ان کی ذمہ داری ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ جیل کے اندر بن کمرے میں فیئر ٹرائل نہیں ہو سکتا، مقدمے میں سنگین الزامات ہیں مناسب یہ ہے کہ اوپن کورٹ میں سماعت ہو۔
انھوں نے بتایا کہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی نے نقول لینے سے انکار کیا ہے لہذا نقول لینے کا عمل مکمل نہیں ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیئرمین کی ضمانت کی سماعت ہے امید ہے درست فیصلہ آئے گا۔
انھوں نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ سماعت میں ہمیں عمران خان سے بات کرنے کا کوئی موقع نہیں ملتا، بس ٹرائل ہوتا ہے اور انھیں واپس لے جاتے ہیں۔
سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ آج کے آرڈر کو یقیناً چیلنج کریں گے۔
اس موقع پر پی ٹی آئی کے وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ آج کی کارروائی میں جج صاحب نے چیئرمین پی ٹی آئیعمران خان سے تلخ باتیں کرنے کی کوشش کی،جو ان کا حق نہیں تھا۔
آج فاضل جج کو اپنے آرڈر پر عملدرآمد کرانے کے لیے بہت دلائل دیئے اور ہم نے فرد جرم پر دستخط نہیں کیے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ عمران خان نے عدالت سے کہا کہ دہشتگردوں سے برا سلوک کرکے انھیں چھوٹے سے پنجرے میں بند کر رکھا ہے، چہل قدمی کی جگہ بھی نہیں ہے۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت بھی 17 اکتوبر تک ملتوی کردی۔
چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کے اختیارات سے متعلق ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر سماعت کا آغاز ہو گیا ہے۔
سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر سماعت فل کورٹ کر رہا ہے۔
صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عابد زبیری کی جانب سے دلائل دیے جا رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے رولز بنانے کا اختیار عدالت عظمیٰ کے پاس ہے پارلیمنٹ کے پاس نہیں۔ انھوں نے کہا کہ آئین میں سبجیکٹ ٹو کا مطلب یہ ہے کہ پارلیمان قانون سازی کر سکتی ہے لیکن اس معاملے پر قانون سازی نہیں کرسکتی جس سے متعلق رولز پہلے ہی سے آئین میں درج ہوں۔
بینچ میں موجود جسٹس اعجاز الااحسن نے استفسار کیا کہ چونکہ سپریم کورٹ کے رولز پہلے سے موجود ہیں اس لئے ان پر قانون سازی نہیں ہو سکتی؟
درخواست گزار کے وکیل کی طرف سے کاغذات کا پلندہ چیف جسٹس کو پیش کیا گیا تو چیف جسٹس اس پر برہم ہو گئے اور کہا کہ وکلا اپنے دلائل میں امریکہ اور یورپی ممالک کی عدالتوں کا حوالہ دیتے ہیں لیکن اگر وہاں پر سماعت کے دوران دستاویزات پیش کی جائیں تو عدالتیں وہاں پر جرمانے کرتی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ آج ان درخواستوں پر سماعت مکمل ہونا ہے اس لیے عدالت صرف کونسل کو سنے گی جبکہ ججز کی رائے ان درخواستوں پر دیے جانے والے فیصلے میں سامنے آجائے گی۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا آئین کہتا ہے سپریم کورٹ اپنے پریکٹس اینڈ پروسیجر کے رولز بنانےکے لیے بااختیار ہے، سپریم کورٹ آئین سے بالارولز بناتا ہے تو کوئی تویاد دلائےگاکہ آئین کے دائرے میں رہیں۔
وکلا کے دلائل مکمل ہونےکی صورت میں سماعت آج مکمل ہونے کا امکان ہے جبکہ چیف جسٹس نے بھی آج کیس مکمل کرنے کا عندیہ دے رکھا ہے۔
سائفر گمشدگی کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کریں گے۔ سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئیعمران خان کی درخواست ضمانت پر سماعت دن دو بجے ہو گی۔
عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پر سماعت اوپن کورٹ میں ہو گی۔ اور جن دستاویزات کو ان کیمرا رکھنا ہوگا وہ وکلا کی مشاورت سے ان کیمرا ہو گی۔
اس کے علاوہ سائفر مقدمے کی سماعت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہوگی جس میں سائفر کے مقدمے کی سماعت کرنے والے خصوصی عدالت کے جج ملزمان عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو مقدمے کے چالان کی نقول فراہم کریں گے۔
چیئرمین پی ٹی آئی و سابق وزیر اعظم عمران خان کی توشہ خانہ فوجداری کارروائی کا فیصلہ معطل قرار دینے کی درخواست پرسماعت آج اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہو گی
چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل ڈویژن بنچ کیس کی سماعت کرے گا۔
درخواست میں ٹرائل کورٹ کا فیصلہ مکمل طور پر کلعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔
اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ چیئرمین پی ٹی آئی کی توشہ خانہ فوجداری کارروائی کیس میں صرف سزا معطل کی تھی اور عمران خان کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔
سابق وزیر اعظم کی طرف سے دائر کی گئی درخواستمیں ترمیم کرکے ریاست کو بطور فریق شامل کرنے کی اجازت کی استدعا بھی کی گئی ہے۔
مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر و سینیئر نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ شیر کو ہرانے والے، مٹانے والے کئی آئے اور کئی گئے، شیر وہیں کھڑا ہے، نواز شریف اس دھرتی کا بیٹا ہے، اسے کسی نے فارن فنڈنگ کے ذریعے لانچ نہیں کیا۔
اتوار کو لاہور میں ٹھوکر نیاز بیگ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مریم نے کہا کہ نواز شریف کو اقتدار سے نہیں بلکہ آپ کی زندگیوں سے خوشیوں کو نکالا گیا، نواز شریف نے عوام کی خاطر اقتدار کے دن کم دیکھے اور مشکلات کے دن زیادہ دیکھے، ان کی زندگی میں 11 سال جلاوطنی کے ہیں۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ قوم نواز شریف کا راستہ اس لیے دیکھ رہی ہے کہ وہ ہمیشہ ملک کو ٹھیک کر کے دکھاتا ہے، چار سال ایسے جوکروں کی حکومت تھی جو جتنی بڑی گالی دیتا تھا اسے اتنی بڑی وزارت ملتی تھی۔
انھوں نے کہا کہ ہیلتھ کارڈ جس کا ٹھیکیدار آج کوئی اور بنا ہے وہ پروگرام نواز شریف نے بنایا۔
مریم نواز نے جلسے میں عوام کو نواز شریف کے منصوبے بھی گنوائے، انھوں نے کہا کہ نواز دور میں چار سال چینی 50 روپے کلو، آٹا 35 روپے کلورہا، ڈالر 105 روپے کا رکھ کر دکھایا، مہنگائی دو فیصد تھی۔سی پیک، اورنج لائن، میٹرو بس کس نے بنائی، کراچی میں گرین لائن کس نے بنائی، جس نے چار سال میں قوم کی اتنی خدمت کی، کیوں اسے چار سال بعد نکال دیا؟
انھوں نے کہا کہ اقامہ جیسے مذاق پر نواز شریف کو نہ نکالا جاتا تو کیا مہنگائی کا یہ حال ہوتا؟ شیر کو ہرانے والے، مٹانے والے کئی آئے اور کئی چلے گئے، شیر وہیں کھڑا ہے، کل ہم پر برا وقت تھا ،مخالفین نے دن رات گالم گلوچ کی،ہم پر الزام لگائے، ہم ایسے نہیں کریں گے۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ میرا اور نواز شریف کا جینا مرنا آپ کے ساتھ ہے، اس ملک کے اچھے دن واپس آرہے ہیں، آپ کا ساتھ رہا تو نواز شریف کے ساتھ مل کر اس ملک کی تقدیر بدل دیں گے۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینئر رہنما نیئر بخاری نے ملک میں عام انتخابات کے بروقت انعقاد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوری میں انتخابات نہ ہوئے تو پیپلزپارٹی سڑکوں پر نکلے گی اور دھرنا دے گی۔
پاکستان کے نجی ٹی وی چینل ڈان نیوز کے پروگرام ’دوسرا رخ‘ میں اینکر پرسن نادر گرامانی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے نیئر بخاری نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے صدر اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے الیکشن کے انعقاد کے حوالے سے تحفظات پر کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن سے سوال ہے کہ ملک کون سنبھالے گا؟
انھوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے پاس ملک کو چلانے کا کون سا فارمولا ہے؟ ہمارے پاس تو آئین کے مطابق الیکشن کا ہی فارمولا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ الیکشن وقت پر ہونے چاہئیں، اگر جنوری میں انتخابات نہ ہوئے تو پیپلزپارٹی سڑکوں پر نکلے گی اور دھرنا دے گی، دھرنا ڈی چوک پر ہوگا یا کہیں اور اس کا فیصلہ بعد میں پارٹی کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے، ہم وقت پر انتخابات کے لیے اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔‘
پاکستان کی سیاسی، معاشی اور سیکورٹی صورتحال اور دیگر اہم خبروں سے متعلق بی بی سی کی لائیو پیج کوریج میں خوش آمدید۔
گذشتہ روز کی خبروں کو جاننے کے لیے یہاں کلک کریں