جنرل باجوہ، فیض حمید،ثاقب نثار، جسٹس کھوسہ پاکستان کے مجرم ہیں: نواز شریف

پاکستان مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف نے نواز شریف کی واپسی کی تاریخ کے بارے میں واضح کیا ہے کہ اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ نون لیگ کی جانب سے جاری بیان میں نواز شریف نے ایک بار پھر دہرایا ہے کہ جنرل باجوہ، فیض حمید، ثاقب نثار، جسٹس کھوسہ، عظمت سعید اور اعجاز الاحسن پاکستان اور 22 کروڑ عوام کے مجرم ہیں۔

لائیو کوریج

  1. عمران خان کی اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست سماعت کے مقرر

    اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقلی کی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست 25 ستمبر کو سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہے۔

    چیف جسٹس عامر فاروق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر سماعت کریں گے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے جیل میں سہولیات کی فراہمی اور اڈیالہ جیل منتقلی کی استدعا کر رکھی ہے۔

    عدالت نے کچھ روز قبل درخواست پر دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا تاہم قانونی نکات کی مزید وضاحت کے لیے عدالت کیس دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔

  2. بریکنگ, جنرل باجوہ، فیض حمید،ثاقب نثار، جسٹس کھوسہ، عظمت سعید،اعجازالاحسن پاکستان کے مجرم ہیں: نواز شریف

    مسلم لیگ ن کے قائد اور رہنما

    ،تصویر کا ذریعہPMLN

    مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ جنرل باجوہ، فیض حمید، ثاقب نثار، جسٹس کھوسہ، عظمت سعید، اعجازالاحسن پاکستان اور 22 کروڑ عوام کے مجرم ہیں۔

    یہ بات نواز شریف نے لندن میں پاکستان سے آئے مسلم لیگ ن کے رہنماؤں سے ملاقات کے دوران کہی۔ اس موقع پر سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے صدراہ شہباز شریف بھی موجود تھے۔

    نواز شریف کے مطابق ’جب تک اس سازش میں شامل تمام کرداروں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جائے گا، پاکستان آگے نہیں بڑھ سکے گا۔‘

    واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم شہباز شریف نے اس ماہ کے اوائل میں اعلان کیا تھا کہ 21 اکتوبر کو پورا پاکستان لاہور میں نواز شریف کا استقبال کرے گا۔

    نواز شریف نے دعویٰ کیا کہ 2017 کے ہنستے بستے پاکستان کو ایک سازش کے تحت بربادی کے دھانے پر لا کھڑا کیا گیا اور کھلنڈروں کے ٹولے کو پاکستان پر مسلط کیا گیا۔‘

    بیان کے مطابق سابق وزیر اعظم شہباز شریف نے اس موقع پر واضح کیا کہ ‏نوازشریف کی وطن واپسی کی تاریخ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔

    یاد رہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف علاج کی غرض سے سنہ 2019 میں برطانیہ چلے گئے تھے اور پانامہ ریفرنسز میں عدالت کی طرف سے دی گئی چار ہفتے کی مدت میں وہ واپس نہیں آئے۔

    جس کے بعد ان کے ناقابل ضمانت گرفتاری وارنٹ جاری کر دیے گئے تھے۔ اور اب انھوں نے تقریباً چار برس کی خود ساختہ جلا وطنی کے بعد وطن واپس آنے کا اعلان کیا ہے۔

  3. آنے والے دنوں میں بجلی کے بل کم آئیں گے لیکن ہمیں توانائی کے شعبے میں اصلاحات کرنی ہوں گی: انوار الحق کاکڑ

    anwaar

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    پاکستان کے نگران وزیرِاعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ بجلی کے بلوں کے حوالے سے آئی ایم ایف سے بات ہوئی ہے، آنے والے دنوں میں بجلی کے بل کم آئیں گے لیکن ہمیں توانائی کے شعبے میں اصلاحات کرنی ہوں گی۔

    انھوں نے سرکاری ٹی وی چینل پی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف سے ملاقات میں ڈالر کی سمگلنگک کی روک تھام کے بارے میں پالیسیوں پر تذکرہ مثبت انداز میں ہوا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’آئی ایم ایف کو اس بات پر حیرت ہوئی کہ اس سے پہلے کسی بھی حکومت نے یہ اقدامات نہیں اٹھائے۔ آئی ایم محض یہ چاہتا ہے کہ ہماری معیشت کی صحت بہتر ہو جائے۔

    پاکستان دہشتگردی کے خطرے سے نمٹنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ ’پاکستان نے دہشتگردی کا کامیابی سے مقابلہ کیا ہے اور ہم اس ضمن میں افغانستان کے آس پاس کے ممالک سے بات چیت کر رہے ہیں اور اس بارے میں تعاون کرنے کے حوالے سے ایک پیج پر ہیں۔

    ان کا چین امریکہ تعلقات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ ’آہستہ آہستہ چین سے متعلق امریکہ کی نفرت میں کمی آ رہی ہے۔ اس حوالے سے امریکہ میں رائے میں تبدیلی آ رہی ہے کہ چین کو اس وقت ایک دشمن کے طور پر دیکھنا ٹھیک نہیں ہو گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کے امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے لیکن ہم کبھی بھی ایسا چین سے تعلقات میں خرابی کے عوض نہیں کریں گے۔‘

  4. پیپلز پارٹی نے وکیل رہنما سردار لطیف کھوسہ کی بنیادی رکنیت معطل کر دی

    لطیف کھوسہ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    پاکستان پیپلز پارٹی نے سینیئر وکیل رہنما سردار لطیف کھوسہ کی پارٹی کی بنیادی رکنیت معطل کر دی ہے۔

    سیکریٹری جنرل پیپلز پارٹی نیئر حسین بخاری کے مطابق لطیف کھوسہ کی سینٹرل ایگزیکیٹو کمیٹی کی رکنیت بھی معطل کر دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ لطیف کھوسہ سائفر گمشدگی کیس اور توشہ خانہ کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے وکیل کے طور پر عدالت میں پیش ہوئے تھے۔

    اس معاملے پر انھیں پارٹی کی طرف سے شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ نیئر بخاری کے مطابق ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود لطیف کھوسہ نے اس شوکاز نوٹس کا جواب نہیں دیا۔

  5. سائبر کرائم ایکٹ کے تحت گرفتار صحافی خالد جمیل دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

    خالد جمیل

    ،تصویر کا ذریعہTWITTER

    اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے متنازع پیکا قانون کی وفعات کے تحت گرفتار ہونے والے نجی ٹی وی چینل کے صحافی خالد جمیل کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے حوالے کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

    خالد جمیل کو گذشتہ روز میڈیا ٹاؤن اسلام آباد میں واقع ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا تھا۔

    جمعہ کی صبح انھیں مقامی عدالت کے جج شبیر بھٹی کی عدالت میں پیش کرتے ہوئے ایف آئی اے نے اُن کے دس روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی اور مؤقف اختیار کیا کہ انھیں ملزم سے الیکٹرانک آلات برآمد کرنے ہیں جبکہ تفتیش کی غرض سے ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک رسائی بھی درکار ہے۔

    خالد جمیل کی جانب سے پیش ہونے والے وکلا نے ریمانڈ کی استدعا کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں آزادی اظہار رائے کا حق ہر شہری کو حاصل ہے اور یہ کہ صحافی کے خلاف مقدمہ کو خارج کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔

    فریقین کے دلائل سننے کے بعد جج نے فیصلہ محفوظ کیا جو کچھ ہی دیر بعد سنا دیا گیا۔

    یاد رہے کہ صحافی خالد جمیل پر ہونے والی ایف آئی آر میں سوشل میڈیا سے متعلق بنائے جانے والے قانون، پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ یعنی ’پیکا 2016‘ کی ترمیم شدہ دفعہ 20 بھی شامل ہے جو سوشل میڈیا پر غلط اور فیک خبروں کو پھیلانے سے متعلق ہے۔ یہ ناقابل ضمانت جرم قرار دیا گیا ہے جس پر زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید اور دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔

    ایف آئی آر میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 505 بھی شامل ہے جو ’عوام میں اضطراب یا فساد بھڑکانے‘ سے متعلق ہے۔

    اسلام آباد میں مختلف صحافتی تنظیموں کی جانب سے صحافی خالد جمیل کی گرفتاری پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے جمعہ کے روز احتجاجی مظاہروں کی کال دی گئی ہے۔

    ایف آر میں کیا الزامات عائد کیے گئے ہے؟

    ایف آئی آر میں ایف آئی اے سائبر کرائم کا کہنا ہے کہ محمد خالد جمیل کےسوشل میڈیا اکاؤنٹ ’ایکس‘ سے انتہائی دھمکی آمیز مواد اور ٹویٹس شیئر اور مشتہر کی گئیں۔

    ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ’ملزم نے جان بوجھ کر غلط اور بےبنیاد معلومات شیئر کرکے ریاست مخالف بیانیے کی غلط تشریح کی اور اسے پھیلایا، جس سے عوام میں خوف و ہراس پھیلنے کا بھی امکان ہے اور کسی کو بھی ریاست یا ریاستی ادارے یا عوامی امن کےخلاف جرم کرنے کے لیے اکسایا جا سکتا ہے۔‘

    ایف آئی آر کے مطابق ’سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے الزام تراشی کر کے عام لوگوں اور ریاستی اداروں کے درمیان دراڑ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔‘

    ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملزم نے دھمکی آمیز مواد جس میں ٹویٹس اور ویڈیوز شامل ہیں کے ذریعے عوام کو عدلیہ سمیت ریاستی اداروں کے خلاف مشتعل کرنے کی کوشش کی اور اس مواد کو ریاست کے ستونوں کے درمیان بغض کا احساس پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا۔

  6. کیا عام انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کا اعلان پاکستان میں سیاسی بےچینی اور بےیقینی میں کمی لا سکے گا؟

  7. نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی امریکہ کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت

    وزیراعظم انوار الحق کاکڑ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کے لیے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، امریکی سرمایہ کاروں کو اس سے استفادہ کرنا چاہیے۔

    امریکی تھنک سے گفتگو میں انوار الحق کاکڑکا کہنا تھا کہ کشمیر میں 2019 میں انڈیا کے یکطرفہ اقدامات سے خطے کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔

    سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق کونسل آف فارن ریلیشنز سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ نگراں حکومت کی کوشش ہے کہ پاکستان کے عوام کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کا بھرپور موقع دیا جائے اور مستحکم اور جمہوری پاکستان سے امریکہ جیسے ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات مزید فروغ پائیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی اور داعش جیسی کالعدم تنظیمیں پاکستان اور پوری دنیا کے امن کیلئے خطرہ ہیں، ہمیں اس ابھرتے ہوئے نئے خطرے سے نمٹنے کیلئے متحد ہونے کی ضرورت ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں پائیدار امن چاہتا ہے کیونکہ افغانستان میں استحکام نہیں ہوتا تو یہ ہمسایہ ملکوں کے علاوہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ ہے۔

    پاکستان کے نگراں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان انڈیا کے ساتھ پرامن تعلقات چاہتا ہے۔

    پاکستانی عوام کو کشمیر میں بی جے پی حکومت کے اقدامات کے باعث انسانی حقوق کی سنگین صورتحال اور مقبوضہ وادی میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے اقدامات پر گہری تشویش ہے۔

    انھوں نہ کہا کہ انڈیا میں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں سے غیر انسانی سلوک افسوسناک ہے۔

  8. فیض آباد دھرنا: سپریم کورٹ کے فیصلے میں کیا تھا؟, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    احتجاج

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اس عدالتی فیصلے میں حکومت کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ ایسے فوجی اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرے جنھوں نے اپنے حلف کی خلاف وزری کرتے ہوئے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔

    واضح رہے کہ تحریک لبیک کی قیادت نے رکن پارلیمنٹ کے حلف میں مبینہ تبدیلی کے خلاف اسلام آباد اور راولپنڈی کو ملانے والے علاقے فیض آباد پر دھرنا دیا تھا جس کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا اور تقریباً تین ہفتے تک اسلام آباد اور راولپنڈی میں نظام زندگی مفلوج ہو گیا تھا۔

    عدالت نے آئی ایس آئی، ملٹری انٹیلیجنس اور انٹیلیجنس بیورو کے علاوہ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کو بھی ہدایت کی تھی کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے کام کریں۔

    عدالت نے آرمی چیف، اور بحری اور فضائی افواج کے سربراہان کو وزارتِ دفاع کے توسط سے حکم دیا تھا کہ وہ فوج کے ان اہلکاروں کے خلاف کارروائی کریں جنھوں نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کسی سیاسی جماعت یا گروہ کی حمایت کی۔

    فیصلے میں کہا گیا تھا کہ ’پاکستان کا آئین مسلح افواج کے ارکان کو کسی بھی قسم کی سیاسی سرگرمیوں بشمول کسی سیاسی جماعت، دھڑے یا فرد کی حمایت سے روکتا ہے۔ حکومتِ پاکستان وزارتِ دفاع اور افواج کے متعلقہ سربراہان کے ذریعے ان افراد کے خلاف کارروائی کریں جنھوں نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی ہے۔‘

    سپریم کورٹ کے فیصلے میں یہ بھی کہا کہا گیا تھا کہ’تمام خفیہ اداروں بشمول (آئی ایس آئی، آئی بی اور ایم آئی) اور پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کو اپنے مینڈیٹ سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی وہ اظہار رائے کی آزادی کو سلب کر سکتے ہیں اور نہ ہی انھیں (چینلز اور اخبارات) کی نشرواشاعت اور ترسیل میں مداخلت کا اختیار ہے۔‘

    فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ حکومت یا کوئی بھی خفیہ ادارہ اظہار رائے کی آزادی پر قدغن نہیں لگا سکتا۔

  9. فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس: چار سال سے زیرالتوا کیس سماعت کے لیے مقرر, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس سماعت کیلئے مقرر کرتے ہوئے تین رکنی بینچ تشکیل دیا ہے جو 28 ستمبر کو اس کیس کی سماعت کرے گا جو چار سال سے زیرالتوا ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں بنائے جانے والے اس بینچ میں جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس امین الدین خان شامل ہیں۔

    واضح رہےکہ 2019 میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے نومبر 2017 میں فیض آباد کے مقام پر انتہائی دائیں بازو کی مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے دیے گئے دھرنے کے خلاف سو موٹو کیس کا فیصلہ سنایا تھا اور حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ ایسے فوجی اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرے جنھوں نے اپنے حلف کی خلاف وزری کرتے ہوئے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔

    تاہم اس عدالتی فیصلے کے خلاف وزارت دفاع سمیت سابق حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف، ایم کیو ایم، شیخ رشید کے علاوہ انٹیلیجنس بیورو نے بھی نظرثانی کی اپیلیں دائر کر دی تھیں۔

    یہ اپیل چار سال سے التوا کا شکار تھی اور اس دوران سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ، سابق چیف جسٹس گلزار احمد اور سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اسے سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا۔

  10. نجکاری کا عمل نگران حکومت نے شروع نہیں کیا: فواد حسن فواد

    نگران وفاقی وزیر برائے نجکاری فواد حسن فواد نے کہا ہے کہ ’پروپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ نجکاری کا عمل موجودہ نگراں حکومت نے شروع کیا ہے جو درست نہیں۔‘

    جمعرات کو وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مرتضیٰ سولنگی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’کہا جارہا ہے کہ نجکاری کے حوالے سے یہ حکومت ایسا اختیار استعمال کرنے جارہی ہے جس کی قانون اجازت نہیں دیتا۔

    ’پچھلی حکومت نے ایک ترمیم کی سیکشن 230 کے سیکشن ون اور ٹو کے بعد جس میں نگران حکومت کے مینڈیٹ کو وسیع کیا گیا اور اس وقت یہ بات اتنی تفصیل سے ڈیبیٹ کی جاچکی تھی اس میں مزید کوئی غلط فہمی کی گنجائش نہیں تھی۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’جس دن میں نے چارج سنبھالا حالت یہ تھی کہ جون سے پی آئی اے کچھ لون لینے کی کوشش کر رہی تھی اور میرے آفس میں آنے کے پہلے دن کہا گیا کہ اگر یہ پیسے نہ ملے تو ہمارے جہاز کھڑے ہونے شروع ہو جائیں گے۔‘

    ’جو کام جون سے اب تک نہیں ہوسکا تھا وہ کام ہم نے 48 گھنٹوں کے اندر نگراں وزیر خزانہ کی مدد سے ان پیسوں کا انتظام کیا اور اس وقت پی آئی اے کے تمام جہاز فلائی کررہے ہیں۔‘

    فواد حسن فواد نے کہا کہ ’موجودہ حکومت اور اپنی وزارت کی جانب سے یقین دلاتا ہوں کہ ہم ہر طرح سے اوپن کام کر رہے ہیں اور نجکاری کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا۔‘

  11. ’جنوری میں عام انتخابات 90 روزہ دستوری مدت سے باہر‘ پی ٹی آئی کا ردعمل

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے الیکشن کمیشن کی جانب سے جنوری کے آخری ہفتے میں عام انتخابات کروانے کے بیان کو ’باعثِ حیرت‘ قرار دیا ہے۔

    ایک پیغام میں ترجمان پی ٹی آئی نے کہا کہ ’دستور الیکشن کمیشن کو اسمبلی کی تحلیل کے بعد 90 روز کی مدتِ مقررہ میں انتخابات کے انعقاد کا پابند بناتا ہے۔ الیکشن کمیشن جنوری کی کسی بھی تاریخ کا تعیّن کرے وہ 90 روزہ دستوری مدت سے باہر ہوگی۔‘

    ’نوّے روز میں انتخابات کے انعقاد کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیرِسماعت ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے معاملے کے حتمی فیصلے تک 90 روز سے باہر کسی بھی تاریخ کو قوم کیلئے قبول کرنا ممکن نہیں۔‘

    پی ٹی آئی کا مزید کہنا ہے کہ ’الیکشن کمیشن صاف، شفاف اور غیرجانبدارانہ انتخابات کے لیے آئین کے تحت مطلوب ماحول قائم کرنے میں بھی ناکام ہے۔‘

    ان کا دعویٰ ہے کہ ’پاکستان کے انتخابی عمل کی سب سے بڑی فریق سیاسی جماعت تحریک انصاف کو بدترین ریاستی جبر کا نشانہ بنا کر انتخاب کی دوڑ سے باہر کرنے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا جارہا ہے۔

    ’دستور کی منشا کے مطابق آزادانہ، منصفانہ اور غیرجانبدارانہ انتخاب ہی الیکشن کمیشن کے ذمے اور ملک و قوم کو بحرانوں سے نکالنے کی واحد سبیل ہے۔‘

  12. پاکستان میں عام انتخابات کب ہوں گے اور آئین کیا کہتا ہے؟

  13. عام انتخابات جنوری کے آخری ہفتے میں ہوں گے، الیکشن کمیشن

    الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ ملک میں عام انتخابات جنوری کے آخری ہفتے میں کروا دیے جائیں گے۔

    ایک اعلامیے میں الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ آج اس نے ’حلقہ بندیوں کے کام کا جائز ہ لیا اور فیصلہ کیا کہ حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست 27 ستمبر 2023 کو شائع کر دی جائے گی۔

    ’ابتدائی حلقہ بندیوں پر اعتراضات و تجاویز کی سماعت کے بعد حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست 30 نومبر کو شائع کی جائے گی۔‘

    الیکشن کمیشن نے مزید کہا کہ اس کے 54 دن کے الیکشن پروگرام کے بعد ’انتخابات جنوری 2024 کے آخری ہفتے میں کروا دیے جائیں گے۔‘

    الیکشن کمیشن کے اعلان پر مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے ردعمل سامنے آیا ہے۔

    نگراں وزیر اطلاعات مرتضی سولنگی نے کہا ہے کہ ’ہمیں بہت خوشی ہے کہ ملک کے آئین کے تحت انتخابات ہوں گے اور ملک میں اصلاحات، معاشی ترقی اور سیاسی استحکام میں اضافہ ہوگا۔‘

    پیپلزپارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے تاریخ دینے سے غیر یقینی صورتحال میں بہتری آئے گی۔

    تاہم تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے رہنما نیاز اللّٰہ نیازی نے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے مقامی میڈیا کو بتایا کہ انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار صدر مملکت کے پاس ہے۔

    سابق وفاقی وزیر اور رہنما مسلم لیگ ن نے کہا ہے کہ تمام جماعتوں کو اب الیکشن کی تیاری کرنی چاہیے چونکہ اس اعلان سے بے یقینی کا خاتمہ ہوا ہے۔

    ادھر استحکام پاکستان پارٹی کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ جنوری کے آخری ہفتے میں انتخابات کے اعلان سے غیر یقینی کے بادل چھٹ گئے ہیں۔ ’خوشی ہے کہ نگران سیٹ اپنے حقیقی فرائض کی جانب مستعدی سے بڑھ رہا ہے، یقینناََ نگران سیٹ اپ کا اصل مینڈیٹ انتخابات کا بر وقت انعقاد ہی ہے۔‘

  14. جنرل باجوہ، فیض حمید،ثاقب نثار، جسٹس کھوسہ پاکستان کے مجرم ہیں: نواز شریف