سندھ ہائی کورٹ نے بلدیہ فیکٹری کیس کے تفتیشی عمل میں ناقص انوسٹیگیشن کی نشاندہی کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اصل مجرموں کو ایک گمراہ کن ایف آئی آر کے ذریعے تحفظ فراہم کیا گیا، گواہ خوف کی وجہ سے سچ بتانے کے لیے سامنے نہیں آ سکے جبکہ پولیس بھی شہادتیں ریکارڈ کرنے کے لیے تیار نہیں تھی۔
یاد رہے کہ کراچی کے علاقے بلدیہ میں 11 ستمبر 2012 کو گارمنٹس فیکٹری میں آگ بھڑک اٹھی تھی جس میں 264 افراد جھلس کر اور دم گھنٹے کی وجہ سے ہلاک ہوئے تھے۔ 29 لاشیں اتنی جھلسی ہوئی تھیں کہ اُن کی شناخت ڈی این اے سے بھی نہیں ہو سکی تھی۔
اس واقعے کے 11 سال بعد پیر کے روز سندھ ہائی کورٹ نے بلدیہ فیکٹری کیس میں سزاؤں کے خلاف ملزمان کی اپیلوں پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے ملزمان رحمان بھولا اور زبیر چریا کی سزائے موت کے خلاف اپیلیں مسترد کر دیں جبکہ ایم کیو ایم کے رہنماؤں رؤف صدیقی، عبدالستار، اقبال ادیب خانم اور عمر حسن کی بریت کے خلاف سرکار کی اپیلیں مسترد کر دیں۔
ہائیکورٹ نے اس کیس میں عمر قید کی سزا پانے والے ملزمان شاہ رخ، فضل، ارشد محمود، علی محمد کی عمر قید کی سزاؤں کو بھی کالعدم قرار دیا ہے۔
ہائیکورٹ نے تفصیلی فیصلے میں کہا ہے کہ اس کیس میں اتنی تاخیر سے شہادتیں ریکارڈ کرنے کی وجہ واقعہ میں ملوث فریق تھا، جو الطاف حسین کی سربراہی والی ایم کیو ایم تھی۔
عدالت کے مطابق پارٹی ہائی کمان کے حکم پر تشدد اور فنڈز اکٹھا کرنے کا ایک طریقہ بھتہ خوری تھی، جس سے انکار کرنے والوں کے لیے سنگین نتائج نکل سکتے تھے۔ ٹارگٹ کلنگ بھی پارٹی کے ایجنڈے سے باہر نہیں تھی جیسا کہ صولت مرزا کے معاملے میں سامنے آیا جس میں ایم کیو ایم کی ٹارگٹ کلنگ ٹیم نے اس وقت کے کے ای ایس سی کے سربراہ کو قتل کیا تھا۔
اسی طرح ڈاکٹر عمران فاروق کے لندن میں قتل سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے عسکریت پسند عناصر کی رسائی کی داستان طویل ہے اور مذکورہ دونوں کیسز دستاویزی ثبوت ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ کراچی کے علاقے صدر میں ایم کیو ایم کے حامیوں کی جانب سے پھیلائی گئی بدامنی کے بارے میں مزید بحث یا تفصیل کی ضرورت نہیں ہے جب الطاف حسین نے اشتعال انگیز تقریر کی تھی۔
عدالت نے تحریری فیصلے میں لکھا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ ایک ہزار سے زائد مزدوروں کی فیکٹری کو جلانے کا اتنا سنگین فیصلہ پارٹی کی اعلیٰ ترین قیادت کی منظوری کے بغیر نہیں کیا جا سکتا تھا۔
ہائیکورٹ نے لکھا ہے کہ بنیادی طور پر ایم کیو ایم کے بعض عناصر کی طرف سے انتقامی کارروائیوں کے خوف کی وجہ سے گواہ ابتدائی طور پر سامنے آنے اور سچ بتانے سے گریزاں رہے اور اس وقت تک جب تک جے آئی ٹی رپورٹ میں جو انکشافات سندھ ہائی کورٹ کے سامنے نہیں لایا گیا، ان میں سے متعدد بیانات عینی شاہدین کے تھے جو براہ راست کچھ ملزمان کو ملوث کر رہے تھے، اس سے قبل ایف آئی آر میں واحد الزام فیکٹری مالکان اور دیگر محکموں پر عائد کیا گیا تھا نہ کہ اصل مجرموں پر۔
عدالت نے لکھا ہے کہ یہ بات لاتعداد مواقع پر ثابت ہو چکی ہے کہ رحمان بھولا ایم کیو ایم کے بلدیہ سیکٹر کے سیکٹر انچارج تھے جو فیکٹری میں آگ لگنے کے وقت موجود تھے اور اپیل کنندہ زبیر ایم کیو ایم کا سرگرم رکن تھا جواس وقت فیکٹری کے فنشنگ ڈیپارٹمنٹ میں موجود تھا۔
عدالت نے تحریر کیا ہے کہ تحقیقاتی کمیشن نے بھی آگ لگنے کی وجہ معلوم کرنے کے لیے ماہرین سے کیمیکل تجزیہ کروانے سے گریز کیا، بڑی تعداد میں انسانوں کی ہلاکت کا سوگ تو منایا گیا مگر آئندہ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے اقدامات نہیں کیے گئے، عدالت نے حکم جاری کیا کہ کراچی کے تمام فیکٹری مالکان کو آگ سے بچاؤ سے متعلق ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا جانا چاہیے اور سندھ حکومت 6 ہفتوں میں تمام فیکٹریوں میں حفاظتی اقدامات سے متعلق معائنہ کرکے رپورٹ تیار کرکے پیش کرے۔
ہائی کورٹ نے نشاندہی کی کہ حماد صدیقی اب بھی ایک اشتہاری مجرم کے طور پر پاکستان سے باہر موجود ہیں اور 10 سال گزر جانے کے باوجود انھیں انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا لہذا اس فیصلے کی ایک نقل آئی جی سندھ، سیکریٹری داخلہ سندھ اور حکومت پاکستان کو بھیجی جائے جو تمام ذاتی طور پر پیش ہو کر وضاحت کریں کہ حماد صدیق کو لانے کی کوششوں کی سے آگاہ کریں۔