آج سپریم
کورٹ میں عمران خان کی توشہ خانہ سے متعلق ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن اسلام آباد اور
اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کے خلاف دائر اپیل سے متعلق سماعت
ہو رہی ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس
مظاہر علی نقوی کے استفسار پر ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ نے ضابطہ فوجداری کا سیکشن 137
اور سب سیکشن 4 پڑھ کر سنایا۔
جسٹس
جمال خان مندوخیل نے استفار کیا ’اگر آپکی اپیل منظور ہوجاتی ہے تو ٹرائل کورٹ تو
فیصلہ سنا چکی ہے، پھر یہ کیس کہاں جائے گا؟ ‘
اس پر لطیف
کھوسہ کا کہنا تھا ’ہم نے قانونی حیثیت کو بھی چیلنج کیا ہوا ہے۔‘
جسٹس
مظاہر نقوی نے ریماکس دیے کہ ’آپ نے شکایت کی قانونی حیثت کو چینلج ہی نہیں کیا تو
پھر کیا کہہ رہے ہیں؟
اس پر لطیف
کھوسہ نے کہا ’ہم نے شکایت کی قانونی حیشت کو ہی چیلنج کیا ہے۔‘
جسٹس
جمال مندوخیل نے استفسار کیا ’آپ کا کیس اب ٹرائل کورٹ میں زیر التوا نہیں، آپ کا
کیس سن کر اب ہم کہان بھیجیں گے۔‘
اس پر
لطیف کھوسہ نے کہا ’اس ساری مشق کو سپریم کورٹکالعدم قرار دے سکتی ہے۔ فیصلے کے دن وکیل خواجہ حارث کے منشی کو بھی اغوا
کرلیا تھا۔ انصاف تک رسائی کو روکا جاتا رہا۔‘
چیف
جسٹس نے کہا ’ آپ نے درخواست کے ساتھ حقائق کی سمری لگائی ہے اس میں بتائیں، کیا
آپ کہتے ہیں کہ شکایت ایڈیشنل سیشن کے بجائے مجسٹریٹ کے پاس جانی چاہیے تھی؟‘
اس
موقعے پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ’موجودہ کیس یہ نہیں ہے کہ چئیرمین پی ٹی آئی
کیخلاف ریفرنس بھیجا جا سکتا تھا یا نہیں، آپ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف
آئے ہیں، توشہ خانہ مرکزی کیس کا فیصلہ ہو چکا ہے کیا اس کو چیلنج کیا گیا؟‘
چیف
جسٹس نے پوچھا ’دائرہ اختیار کا معاملہ آپ نے چیلنج کیا تھا، اور آپ خود ہی کہہ
رہے ہیں کہ دوسری عدالت میں کیس زیر التوا ہے۔‘
جسٹس
جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا ’کیا سپریم کورٹ کے یہ کیس سننے سے مرکزی کیس کا
فیصلہ متاثر نہیں ہوگا، اگر آپ کی اپیل منظور ہو جاتی ہے تو ٹرائل کورٹ تو فیصلہ
سنا چکی ہے، پھر یہ کیس کہاں جائے گا۔‘
چیف
جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ ’ہر مرتبہ غلط بنیاد پر بنائی گئی عمارت نہیں گر سکتی۔‘
وکیل
لطیف کھوسہ کا کہنا تھا ’الیکشن کمیشن نے
21 اکتوبر کو چیئرمین پی ٹی آئی کو نااہل کرکے شکایت درج کرانے کا فیصلہ کیا، الیکشن
کمیشن کے فیصلے کیخلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا، لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا
کوئی فوجداری کارروائی تاحکم ثانی نہیں ہوگی۔‘
چیف
جسٹس پاکستان نے پوچھا ’کیا لاہور ہائیکورٹ
میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی؟ ‘
وکیل
لطیف کھوسہ نے جواب دیا کہ ’توہین عدالت کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کریں گے۔‘
اس پر
چیف جسٹس نے وضاحت کی کہ ’درخواست وہاں ہی دائر ہوسکتی جس عدالت کی توہین ہوئی۔‘
وکیل
لطیف کھوسہ نے دلائل دیتے ہوئے مزید کہا کہ ’الیکشن کمیشن کے فیصلے کی روشنی میں
ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر نے فوجداری شکایت درج کرائی، ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کو الیکشن
کمیشن نے مقدمہ درج کرانے کی اتھارٹی نہیں دی تھی۔‘
چیف
جسٹس عمر عطابندیال نے پوچھا سیشن عدالت میں آپ کا موقف کیا ہے کہ شکایت قابل
سماعت نہیں تھی؟
اس
پروکیل لطیف کھوسہ نے کہا ’ہمارا موقف ہے کہ توشہ خانہ کی شکایت
پہلے مجسٹریٹ کے پاس جانی چاہیے تھی۔‘
چیف
جسٹس نے کہا ’آپ کے مطابق اس معاملے پر ابتدائی کاروائی مجسٹریٹ کرکے ٹرائل سیشن
عدالت ہی کرسکتی ہے‘۔
جسٹس
جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ ’قانون میں لکھا ہے کہ مجسٹریٹ شکایت کا جائزہ لے کر
اسے سیشن عدالت بھیجے گا، قانون میں مجسٹریٹ کے جائزہ لینے کا مطلب کیا ہے؟‘
وکیل
لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ ’اس کا مطلب ہے کہ مجسٹریٹ جائزہ لے گا کہ شکایت بنتی
بھی ہے یا نہیں ؟ قتل ہوا ہی نہ ہو تو دفعہ 302 کی ایف آئی آر درج نہیں ہوسکتی۔‘