آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

اب اہم الیکشن کی طرف بڑھ رہے ہیں، ملک میں سیاسی مفاہمت کی ضرورت ہے: بلاول بھٹو کا موجودہ قومی اسمبلی سے آخری خطاب

پاکستان کے وزیرخارجہ بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی میں اپنے آخری خطاب میں کہا ہے کہ وہ اپنی اتحادی حکومت کے 16 ماہ میں اداروں کو ان کی حدود تک محدود رکھنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بچپن سے دیکھ رہا ہوں کہ سیاستدان حکومت میں ہوتا ہے یا جیل میں۔ ان کے مطابق اب ہم الیکشن کی طرف بڑھ رہے ہیں اور اب اپنے بڑوں سے بھی کہتا ہوں کہ سیاسی جماعتوں کو سیاست اس طریقے سے کرنی چاہیے کہ صورتحال کو مفاہمت کی طرف کیسے لے کر جائیں۔

لائیو کوریج

  1. ’عمران خان کو جیل کی سی کلاس میں رکھا گیا ہے اور ان کی زندگی کو خطرہ ہے، اعلی عدلیہ نوٹس لے‘

    تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کو جیل میں سی کلاس میں رکھا گیا ہے اور ان کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔

    شاہ محمود قریشی نے تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’ہمارے علم میں آیا ہے کہ ملک کے سابق وزیر اعظم عمران خان کو نو بائی گیارہ کے سیل میں سی کلاس میں رکھا گیا ہے۔عمران خان کو کھانا بھجوایا جاتا ہے ان تک نہیں پہنچایا جاتا۔وکلا کو ملنے سے روک دیا دیا جاتا ہے۔ ہماری تشویش بجا ہے۔ ان کی جان کو خطرہ لاحق ہیں۔ اعلی عدلیہ کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔‘

    واضح رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کو پانچ اگست کو توشہ خانہ کیس میں تین سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی جس کے بعد انھیں لاہور میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کر کے صوبہ پنجاب کے سرحدی ضلعے اٹک کی جیل میں منتقل کر دیا گیا تھا۔

    شاہ محمود قریشی کے مطابق ’میں اٹک جیل میں رہ چکا ہوں وہاں سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں وہاں بی کلاس تک میسر نہیں۔ سنیچر اور اتوار کو وکلا نے ملنے کی کوشش کی مگر رسائی نہیں دی جا رہی ہمیں پیر کو عمران خان کی اپیل فائل کرنا ہے ان کی رہائی کے لیے قانونی چارہ جوئی کرنی ہے لیکن ہمیں رسائی نہیں دی جا رہی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اگر وکلا وکالت نامے پر دستخط نہیں کروا پائیں گے تو اپیل کیسے دائر کر سکیں گے۔‘

    شاہ محمود نے مزید کہا کہ ’عمران خان کے لیے عدالت کا حکم نامہ اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا آتا ہے جبکہ انھیں بھجوایا اٹک جیل جاتا ہے۔ کور کمیٹی کے تمام ممبران نے عمران خان کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کور کمیٹی کی پہلی ترجیح عمران خان کی سیفٹی اور رہائی ہے۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’عمران خان کے لیے پمز اور پولی کلینک ہسپتال میں جو میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا تھا وہ موجود تھا اور عمران خان کا منتظر تھا لیکن عمران خان کو میری اطلاعات کے مطابق ان کو وہاں لے جایا نہیں گیا۔‘

    یاد رہے کہ جیل قوانین کے مطابق ’ سی کیٹیگری جیل میں عام قیدیوں کے لیے ہوتی ہے جنھیں نہ تو گھر سے کھانا منگوانے کی اجازت ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی ایسی سہولیات میسر ہوتی ہیں جن کا تعلق ان کی تعلیم یا عہدے کی مناسبت سے ہو۔‘

  2. نگران وزیراعظم کے لیے شارٹ لسٹ کیے گئے ناموں میں حفیظ شیخ کا نام بھی شامل ہے: وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ

    وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے نگران وزیراعظم کے عہدے کے لیے شارٹ لسٹ کیے گئے ناموں کی فہرست میں سابق وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کا نام شامل ہونے کی تصدیق کی ہے۔

    وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے یہ بات جیو نیوز کے پروگرام ’نیا پاکستان‘ میں اینکر شہزاد اقبال کے سوال کے جواب میں کہی۔

    رانا ثنا اللہ نے تصدیق کی کہ ’نگران وزیراعظم کے لیے جو نام شارٹ لسٹ کیے گئے ہیں ان میں حفیظ شیخ کا نام بھی شامل ہے اور یقیناً وہ یہ منصب سنبھالنے پر رضامند ہیں۔‘

    یاد رہے کہ حفیظ شیخ 18 اپریل 2019 سے 11 دسمبر 2020 تک عمران خان کا کیبینہ میں ان کے مشیر برائے خزانہ رہے اور پھر سینیٹر منتخب ہونے کے بعد 11 دسمبر 2020 سے وہ وفاقی وزیر برائے خزانہ کے عہدے پر فائز ہو گئے تاہم تین ماہ بعد ہی مارچ 2021 میں ان کواس عہدے سے برطرف کر دیا گیا تھا۔

    تحریک انصاف سے قبل حفیظ شیخ پرویز مشرف کی کابینہ میں اور پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بھی بطور وزیر خزانہ زمہ داریاں ادا کرتے رہے ہیں۔

    وزیر داخلہ سے اینکر شہزاد اقبال نے سوال کیا کہ کیا ان ناموں میں کوئی سابق ریٹائرڈ جج کا نام بھی شامل ہے؟ جس پر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’جی ان ناموں میں تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں اور کسی نے کسی نام پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔‘

    وزیر داخلہ نے کہا کہ ’نگران وزیر اعظم کے نام کے حوالے سے کئی نام زیر گردش ہیں لیکن اس سلسلے میں فیصلہ منگل یا بدھ تک ہو جائے گا۔‘

    شاہد خاقان عباسی کا نام نگران وزیر اعظم کی فہرست میں شامل ہونے کے حوالے سے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’شاہد خاقان ہماری جماعت کے سینئر رکن ہیں میرے خیال میں ان کا نام اس میں شامل نہیں۔

    ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ تاہم اگر کسی سیاسی شخصیت کو نگران وزیراعظم بنانے کا فیصلہ کیا گیا تو شاہد خاقان عباسی ،اسحاق ڈار اور دیگر لوگ بھی بن سکتے ہیں۔ تاہم اگر نگران وزیراعظم کوئی سیاسی رہنما نہیں ہو گا تو پھر کوئی ٹیکنیکل فرد ہی یہ منصب سنبھالے گا جو قانون دان یا معاشیات کا ماہر بھی ہو سکتا ہے۔‘

    نئی مردم شماری اور انتخابات کے حوالے سے پوچھے گیے سوال کے جواب میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’مردم شماری کے حوالے سے کافی تحفظات تھے، خاص طور پر کراچی کے ہمارے دوستوں کو بڑے اعتراضات تھے، صوبہ سندھ اور خیبر پختونخوا میں بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔‘

    ان کے مطابق ’بعد میں تصدیق کے بعد معاملات کو بہتر کیا گیا تو قومی اتفاق رائے سے مردم شماری کو منظور کیا گیا۔‘

    رانا ثنا اللہ کے مطابق ’اگر پوری قوم کا ایک بڑے مسئلے پر اتفاق رائے ہو جائے تو 120 دن میں الیکشن پر کیا فرق پڑ جائے گا، الیکشن اب 90 دن کی جگہ 120 دن میں ہوں گے تو اس سے کیا فرق پڑے گا۔‘

  3. خیبر پختونخوا میں بلدیاتی الیکشن: پشاور میں پی ٹی آئی جبکہ ایبٹ آباد میں آزاد امیدوار کامیاب, عزیز اللہ خان/بی بی سی اردو، پشاور

    صوبہ خیبر پختونخوا میں پشاور کی تحصیل کونسل متھرا کے بلدیاتی الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار انعام اللہ 20 ہزار سے زیادہ ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں۔ جبکہ ایبٹ آباد کی تحصیل کونسل حویلیاں میں آزاد امیدوار عزیر شیر خان نے کامیابی حاصل کی ہے۔

    متھرا کی نشست جے یو آئی کے فرید اللہ خان کی وفات کے باعث خالی ہوئی تھی۔ اس پر بلدیاتی الیکشن کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق پی ٹی آئی کے امیدوار انعام اللہ 20 ہزار 333 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ جے یو آئی کے رفیع اللہ 13 ہزار 564 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

    جبکہ حویلیاں میں 21 ہزار 464 ووٹوں کے ساتھ کامیابی پانے والے آزاد امیدوار عزیر شیر خان سے قبل یہ سیٹ عاطف منصف کے پاس تھی جنھوں نے بطور آزاد امیدوار جیتنے کے بعد پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔

  4. کیچ میں پکنک کے لیے جانے والی سات لڑکیوں کی ندی میں ڈوبنے سے ہلاکت, محمد کاظم/بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے ایران سے متصل ضلع کیچ میں پکنک کے لیے جانے والی سات لڑکیاں ایک دوسرے کو بچانے کی کوشش میں ندی میں ڈوب کر ہلاک ہوگئی ہیں۔

    تربت پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او حکیم بلوچ نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ہلاک ہونے والی لڑکیاں آپس میں سہلیاں تھیں جبکہ بعض آپس میں رشتہ دار بھی تھیں۔

    ہلاک ہونے والی لڑکیوں کی عمریں دس سے سترہ سال کے درمیان تھیں جن کی شناخت فضا، فائزہ، مہتاب، دردانہ، بشریٰ، شیرین اور ماہزیب کے ناموں سے ہوئی ہے۔

    ایس ایچ او نے بتایا کہ ان لڑکیوں کا تعلق تربت شہر کے شمال میں واقع کلگ سے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ویسے تو یہ مخلتف سکولوں کی طالبات تھیں تاہم شام کو یہ سب ایک ہی ٹیوشن سینٹرمیں پڑھتی تھیں۔

    حکیم بلوچ کا کہنا تھا کہ چونکہ آج اتوار تھا اس لیے وہ پکنک منانے کے لیے دریائے کیچ گئیں جو کہ ان کے گاؤں کے قریب واقع ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ جس مقام پر یہ لڑکیاں گئی تھیں وہاں اکثر لڑکے مچھلیاں پکڑنے جاتے ہیں لیکن آج اس مقام پر کوئی مرد نہیں تھا۔ ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ یہ بتایا جا رہا ہے کہ جائے وقوعہ سے کچھ فاصلے پر ایک مرد مچھلیاں پکڑ رہا تھا لیکن جب انھوں نے دیکھا کہ لڑکیاں آئی ہیں تو وہ بھی وہاں سے چلا گیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان لڑکیوں میں سے دو، تین ندی میں اتر گئی تھیں جن میں سے ایک ڈوب گئی اور اسے بچانے کے لیے مزید لڑکیاں پانی میں اتر گئی تھیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہاں سے گزرتے ہوئے ایک شخص نے جب یہ صورتحال دیکھی تو انھوں نے ان میں سے تین کو نکال لیا جن میں سے ایک نے بعد میں دم توڑ دیا تھا۔

    ایس ایچ او نے کہا کہ تمام لاشوں کو نکال کر ہسپتال پہنچا دیا گیا جہاں سے انھیں ورثا کے حوالے کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس المناک واقعے کے باعث تربت کی فضا سوگوار ہے۔

  5. پاکستان نے ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے اپنی کرکٹ ٹیم کو انڈیا جانے کی اجازت دے دی

    پاکستانی حکومت نے ورلڈ کپ کے لیے کرکٹ ٹیم کو انڈیا جانے کی اجازت دے دی ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ’پاکستان کا ہمیشہ یہی مؤقف رہا ہے کہ کھیل اور سیاست کو الگ رکھنا چاہیے۔ پاکستان اور انڈیا کے درمیان تعلقات بین الاقوامی کھیلوں کی راہ میں حائل نہیں ہونے چاہییں۔‘

    ’پاکستان کا فیصلہ تعمیری اور ذمہ دارانہ رویے کا عکاس ہے۔ انڈیا نے ایشیا کپ کے لیے اپنی کرکٹ ٹیم کو پاکستان بھیجنے سے انکار کر دیا تھا۔‘

    تاہم پاکستان کے انڈیا میں ’سکیورٹی پر تحفظات برقرار ہیں۔ آئی سی سی اور انڈیا حکام کو تحفظات سے آگاہ کریں گے۔‘

    پاکستانی حکومت نے یہ امید ظاہر کی ہے کہ انڈیا میں ’پاکستانی ٹیم کو بھرپور سکیورٹی حاصل ہوگی۔‘

  6. نو اگست کو قومی اسمبلی تحلیل کر دی جائے گی: وزیر اعظم شہباز شریف

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ان کی اتحادی حکومت کی مدت نو اگست بروز بدھ کو ختم ہو جائے گی۔

    قصور میں مسلم لیگ ن کے جلسے سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ’میں نو اگست کو قومی اسمبلی تحلیل کر کے گھر چلے جاؤں گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف وطن واپس آئیں گے اور آئندہ عام انتخابات میں ان کی جماعت کے امیدوار ہوں گے۔

    شہباز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’سپہ سالار جنرل عاصم منیر تمام تر حکومت میں شامل ہیں۔‘

  7. اٹک میں احتجاجی مظاہروں پر پابندی، دفعہ 144 نافذ

    اٹک کے ڈپٹی کمشنر راؤ عاطف رضا نے ضلع بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے جس کے تحت احتجاجی مظاہروں اور عوامی اجتماعات پر پابندی رہے گی۔

    اپنے نوٹیفیکشین میں ڈی سی اٹک کا کہنا ہے کہ پابندی کا یہ حکم فوری طور پر نافذ العمل ہو کر 12 اگست تک مؤثر رہے گا جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  8. اٹک جیل کی صورتحال جہاں عمران خان کو قید کر کے رکھا گیا ہے

  9. نواب شاہ کے قریب ٹرین حادثہ: ’میں ٹرین کی کھڑکی سے باہر گِر کر زندہ بچ گیا‘

  10. بریکنگ, سانگھڑ میں ہزارہ ایکسپریس کو حادثہ، کم از کم 30 افراد ہلاک

    پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع سانگڑھ میں کراچی سے حویلیاں جانے والے ہزارہ ایکسپریس کو حادثہ پیش آیا جس کے باعث اب تک 30 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    وفاقی وزیرِ ریلوے خواجہ سعد رفیق نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ اس جگہ پر ٹریک بالکل فٹ تھا تاہم اس کی تحقیقات کے بعد ہی حتمی طور پر بتایا جا سکتا ہے کہ اس کی وجہ کیا بنی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ جلد ریلوے کی جانب سے ہلاک ہونے والے کے فہرست جاری کر دی جائے گی۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ٹرین میں ایک ہزار کے قریب مسافر سوار تھے۔

    دوسری جانب ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر سانگھڑ کے مطابق لاشیں پی ایم سی ہسپتال نوابشاہ منتقل کی جا رہی ہیں۔

  11. عمران خان گرفتاری: اٹک جیل میں کیا سہولیات میسر ہوں گی؟

    توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا ملنے کے بعد سابق وزیر اعظم عمران خان کو پنجاب کے شہر اٹک کی ڈسٹرکٹ جیل میں رکھا گیا ہے۔ اس وقت جیل کے اطراف کی صورت حال کیا ہے اور اس مقدمے کے فیصلے کا مستقبل کیا ہو سکتا ہے؟ اس بارے میں شہزاد ملک اور نیر عباس کی رپورٹ دیکھیے۔

  12. عمران وغیرہ کے پرزے دھونے میں ٹائم لگے گا: وسعت اللہ خان کا کالم

  13. عمران خان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے پر پی ٹی آئی رہنما رحیم کاکڑ دو بیٹوں سمیت گرفتار, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    تحریک انصاف کے رہنما اور کوئٹہ شہر کے سابق میئر محمد رحیم کاکڑ کو دو بیٹوں سمیت گرفتار کرلیا گیا ہے۔

    سول لائنز پولیس اسٹیشن کے ایک اہلکار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی گرفتاری گزشتہ روز ہونے والے احتجاج کے حوالے سے عمل میں لائی گئی ہے۔

    رحیم کاکڑ تحریک انصاف کوئٹہ کے صدر بھی ہیں ۔انھوں نے گزشتہ روز چیئرمین تحریک انصاف کی گرفتاری کے خلاف کوئٹہ میں احتجاج کی قیادت کی تھی ۔

    رحیم کاکڑ کوئٹہ کوئٹہ شہر متحرک سماجی رہنما بھی ہیں ۔ وہ کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کے سابق میئر بھی رہے ۔ رحیم کاکڑ نے چند ماہ قبل نواز لیگ کو چھوڑ کر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی ۔

  14. بریکنگ, سانگھڑ ٹرین حادثہ: ’آٹھ بوگیاں کلیئر کر دی گئیں، دو کو کرین کی مدد سے سیدھا کیا جائے گا‘, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام،اسلام آباد

    کراچی سے حویلیاں جانے والی ہزارہ ایکسپریس کی بوگیاں پٹڑی سے اترنے کے باعث اب تک کم از کم 15 مسافر ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔

    ایس ایس پی سانگھڑ عابد بلوچ کا کہنا ہے کہ ’اس وقت تک 15 ہلاکتیں اور 40 سے زائد مسافر زخمی ہیں جنھیں ہسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔‘

    ان کے مطابق ’ انجن ٹرین سے الگ ہوا جس کے بعد اس کے پیچھے کی 10 بوگیاں الگ ہوگئیں جن میں سے آٹھ بوگیاں کلیئر کی گئی ہیں جبکہ دو کو کرین کی مدد سے سیدھا کرنا پڑے گا جس کے لیے نوابشاہ اور سانگھڑ سے کرین منگوائی گئی ہیں۔‘

    اسٹنٹ کمشنر جاوید ڈاھری کا کہنا ہے کہ کئی لاشیں اور زخمی اب بھی پھنسے ہوئے ہیں جن کو نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

    دوسری جانب ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت ٹرینوں کی آمدرفت معطل ہے اور مسافروں کے لیے ریلیف ٹرین روانہ کی جارہی ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ریل گاڑی حادثے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کو زخمیوں کی فوری طبی امداد کی ہدایات کی ہیں۔

    مراد علی شاہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ٹرین حادثے میں جانی نقصان پر بہت دکھ ہوا ہے، زخمی مسافروں کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کی جائے۔‘

  15. بریکنگ, سانگھڑ ٹرین حادثے کے باعث اب تک 15 اموات ہو چکی ہیں: سعد رفیق

    وزیر ریلوے سعد رفیق نے سانگھڑ ٹرین حادثے میں اب تک کم از کم 15 ہلاکتوں اور متعدد مسافروں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

    سعد رفیق نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ’ٹرین مناسب رفتار پر تھی اور اس کی سپیڈ 45 کلو میٹر فی گھنٹہ پر تھی۔‘

    سعد رفیق کے مطابق ’ہمارا پورا سسٹم کام کر رہا ہے پہلے ریلیف کا کام ہو گا پھر تحقیقات ہوں گی یہ تخریب کاری بھی ہو سکتی ہے اور مکینیکل فالٹ بھی ہو سکتا ہے۔ بدقسمتی سے اب تک 15 اموات کی خبر آئی ہے۔‘

  16. بریکنگ, کراچی سے حویلیاں جانے والی ہزارہ ایکسپریس کی بوگیاں پٹڑی سے اتر نے کے باعث متعدد مسافر زخمی، ہلاکتوں کا بھی خدشہ, ریاض سہیل، بی بی سی اردوڈاٹ کام، کراچی

    پاکستان کے صوبہ سندھ میں ہزارہ ایکسپریس ٹرین کی بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں ہیں جس کے باعث متعدد مسافر زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    یہ حادثہ سندہ کے ضلع سانگھڑ کے قصبے سرہاڑی میں پیش آیا ہے۔

    ان کے مطابق آٹھ بوگیاں اتری ہوئی ہیں کئی لاشیں اور زخمی پھنسے ہوئے ہیں جن کو نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ٹرین منگوائی گئی ہے جس کی مدد سے بوگیوں کو سیدھا کرکے انھیں نکالا جائے گا۔

    اس سے قبل جائے حادثہ پر موجود محمد عثمان ملاح نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’حادثے کی وجہ سے بوگیاں پٹری سے اتری ہوئی ہیں۔

    عثمان ملاح کے مطابق ’کئی مسافر ڈبوں کے نیچے دبے ہوئے ہیں جن میں سے بعض کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔‘

    ان کے مطابق جائے حادثہ پر مقامی لوگوں کی ایک بڑی تعداد پہنچ گئی ہے جو مسافروں کو اپنی مدد آپ تحت نکال رہے ہیں۔

  17. بریکنگ, عمران خان کی گرفتاری کے خلاف پی ٹی آئی کا سینیٹ اجلاس سے واک آوٹ،ایوان میں عمران خان زندہ آباد کے نعرے

    چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کی زیر صدارت اتوار کے روز ہونے والے سینیٹ کے اجلاس میں تحریک انصاف کے سینیٹرز نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری پر احتجاجاً کالی پٹیاں باندھ کر شرکت کی۔

    پی ٹی آئی کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے اس پر اس ایوان کو خاموش نہیں بیٹھنا چاہئے۔ کل کے فیصلے کی مذمت کرتے ہیں۔‘

    عمران خان کی گرفتاری کے خلاف تحریک انصاف نے سینیٹ میں عمران خان زندہ باد کے نعرے بھی لگائے اور اس کے بعد سینیٹ اجلاس سے واک آوٹ کر دیا۔

    یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف کے پاس تو اپیل کا حق بھی نہیں تھا: وزیر قانون

    وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ نے ایوان سے خطاب میں کہا کہ ’چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو بڑے سادے سے کیس میں سزا ہوئی ہے، چیئرمین پی ٹی آئی نے توشہ خانہ سے تحائف کو الیکشن سے چھپایا اور جھوٹا حلف نامہ جمع کروایا کہ یہ تفصیلات درست ہیں۔

    وزیر قانون کے مطابق ’چیئرمین پی ٹی آئی 37مرتبہ غیر حاضر ہوئے۔ ان کے پاس ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیل کا حق ہے، یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف کو تو عدالت عظمی نے گھر بھیجا انکے پاس تو اپیل کا حق بھی نہیں تھا۔‘

    وزیر قانون نے حلقہ بندیوں کے حوالے سے ایوان کو بتایا کہ ’حکومت نے یہ فیصلہ الیکشن کمیشن پر چھوڑا کہ حلقہ بندیاں کروائی جائیں۔ مردم شماری کی منظوری کی دو وجوہات تھیں، 2017 کے انتخابات پر تحفظات تھے اور ایک معاہدہ ہوا تھا کہ آئندہ مردم شماری ڈیجیٹل ہوگی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’الیکشن کمیشن کو سرکاری طور پر ایک بیان دینا چاہیے کہ وہ کس طرح یہ اقدامات اٹھائیں گے، انتخابات آئین کے مطابق جلد از جلد ہونا چاہیئں۔‘

  18. اٹک جیل کے باہر سکیورٹی کے سخت انتظامات کے مناظر, نیرعباس/ بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سابق وزیر اعظم عمران خان سنیچر کو توشہ خانہ کیس میں تین برس قید کی سزا پانے کے بعد اٹک جیل میں موجود ہیں اور جیل کے باہر سخت سکیورٹی کے انظامات کیے گئے ہیں۔

    اٹک میں موجود ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جی ٹی روڈ پر کامرہ سے اٹک آنے والا راستہ بھی بند کر دیا گیا ہے اور بذریعہ جی ٹی روڈ اٹک پہنچنے کے لیے برہان کے راستے آنا پڑتا ہے۔

  19. بریکنگ, ’عمران خان سے ان کے وکلا کی ملاقات نہیں کروائی جا رہی‘: عمران خان کے ترجمان برائے قانونی امور کا دعویٰ

    سنیچر کو توشہ خانہ کیس میں تین برس قید کی سزا پانے کے بعد اٹک جیل منتقل ہونے والے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو تاحال ’ان کے وکلا سمیت کسی سے بھی ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔‘

    قانونی امور پر عمران خان کے ترجمان نعیم پنجوتھا نے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ جیل حکام نے انھیں عمران خان سے ملنے نہیں دیا اور اب انھیں پیر کو آنے کی ہدایت کی ہے۔

    اٹک میں موجود ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جی ٹی روڈ پر کامرہ سے اٹک آنے والا راستہ بھی بند کر دیا گیا ہے اور بذریعہ جی ٹی روڈ اٹک پہنچنے کے لیے برہان کے راستے آنا پڑتا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ تاحال عمران خان سے ان کی لیگل ٹیم سمیت کسی کو بھی ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے اور ان کے وکلا کے لیے عمران خان سے ملنا اس لیے ضروری ہے کیونکہ انھوں نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے سے پہلے پاور آف اٹارنی یعنی مختار نامے پر عمران خان سے دستخط لینے ہیں۔

    ہمارے نامہ نگار کے مطابق جیل کے گیٹ سے آدھا کلومیٹر تک باڑ لگا دی گئی ہے اور جیل کے ایڈمن بلاک میں بھی داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

    ان کے مطابق آج صبح اٹک سے پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اور رکنِ پارلیمان میجر طاہر صادق نے عمران خان کے لیے ناشتہ بھجوایا تاہم یہ بھی واپس بھجوا دیا گیا۔

    ’پیر کو پاور آف اٹارنی لے کر آئیں تو ہم دیکھیں گے‘

    عمران خان کے وکیل نعیم پنجوتھا نے رات گئے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ وہ اٹک میں عمران خان سے ملاقات کے لیے گئے تاہم اس درخواست کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا گیا کہ نہ آج ملاقات کروائی جا سکتی ہے نہ اتوار کو، اور ہمیں انکار کرتے ہوئے کہا گیا کہ پیر کو پاور آف اٹارنی (مختار نامہ) لے کر آئیں تو ہم دیکھیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ’یہ نہیں کہا گیا کہ پیر کو ہماری ملاقات کروائیں گے یا اٹارنی کو ہی صرف اندر لے جانے دیتے ہیں۔

    نعیم پنجوتھا کے مطابق ’ہم صرف اٹارنی اور کاغذات پر دستخط کروانا چاہتے تھے اور یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ عمران خان کی طبیعت کیسی ہے اور ان کو کسی چیز کی ضرورت تو نہیں۔ وہ کیسے ہیں کس حال میں ہیں لیکن وہ استدعا مسترد کر دی گئی۔

    ’ اگر ہم پیر کو جاتے ہیں اور اس دن بھی ہماری استدعا منظور نہیں ہوئی تو جتنا ان سے پاور آف اٹارنی سائن کروانے میں دیر کروائی جائے گی تو ہمارا ایک دن ضائع ہو سکتا ہے۔‘

  20. ڈیجیٹل مردم شماری کے نام پر دھوکہ کیا جا رہا ہے: حافظ نعیم الرحمان

    امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل مردم شماری کے نام پر دھوکہ کیا جا رہا ہے۔ اگر مردم شماری کراچی کی اصل آبادی یعنی ساڑھے تین کروڑ کے مطابق کی جائے تو قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ممکن ہے۔

    کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مشترکہ مفادات کونسل نے ملک کی ساتویں مردم شماری کی کل منظوری دی ہے ۔ ڈیجیٹل مردم شماری کے نام پر دھوکہ کیا جا رہا ہے تاہم جان بوجھ کر کراچی کو حق نہیں دیا جاتا۔‘

    حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا کہ’ اس وقت قومی اسمبلی میں کراچی کی نشستیں 21 ہیں تاہم اگر ہماری ساڑھے تین کروڑ نفوس کی آبادی کو اگر درست گن لیا جائے تو اس کے نتیجے میں ہماری سیٹوں کی تعداد 35 تک چلی جائے گی۔‘

    ان کے مطابق ’اگر ہم جتنے ہیں اتنا گنا جائے اور اسی طرح صوبائی اسمبلی میں ہماری سیٹوں کی تعداد 44 سے بڑھ کر 65 ہو جائے گی اور سندھ اسمبلی وڈیرا شاہی سے نکل سکتی ہے۔‘

    حافظ نعیم نے مزید کہا کہ کراچی میں پاکستان بھر سے لوگ آ کر آباد ہوتے ہیں۔ کراچی میں بڑی تعداد میں ایسے لوگ بستے ہیں جن کا مسققل پتہ کراچی نہیں اور وہ آباد یہاں ہیں تاہم ان کو یہاں شمار ہی نہیں کیا جاتا جس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ کراچی کی اسمبلی میں نمائندگی درست نہیں ہو پاتی۔

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’پاکستان ادارہ شماریات نے کراچی کی مردم شماری پر اٹھائے گئے سوالات پر جو کمبیٹ آپریشن کیا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ 38 ہزار ہائی رائز بلڈنگ میں مردم شماری ہوئی ہی نہیں اور بہت سی جگہ پر خانہ شماری بھی نہیں ہوئی کئی جگہ آبادی کو ہی شمار نہیں کیا گیا۔ کراچی کی آبادی کو ایک کروڑ 45 لاکھ کم دکھایا گیا۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ یقین سے کہتا ہوں کہ یہ پہلے سے طے شدہ اعداد و شمار تھے۔‘