’عمران خان کو جیل کی سی کلاس میں رکھا گیا ہے اور ان کی زندگی کو خطرہ ہے، اعلی عدلیہ نوٹس لے‘
تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کو جیل میں سی کلاس میں رکھا گیا ہے اور ان کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔
شاہ محمود قریشی نے تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’ہمارے علم میں آیا ہے کہ ملک کے سابق وزیر اعظم عمران خان کو نو بائی گیارہ کے سیل میں سی کلاس میں رکھا گیا ہے۔عمران خان کو کھانا بھجوایا جاتا ہے ان تک نہیں پہنچایا جاتا۔وکلا کو ملنے سے روک دیا دیا جاتا ہے۔ ہماری تشویش بجا ہے۔ ان کی جان کو خطرہ لاحق ہیں۔ اعلی عدلیہ کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔‘
واضح رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کو پانچ اگست کو توشہ خانہ کیس میں تین سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی جس کے بعد انھیں لاہور میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کر کے صوبہ پنجاب کے سرحدی ضلعے اٹک کی جیل میں منتقل کر دیا گیا تھا۔
شاہ محمود قریشی کے مطابق ’میں اٹک جیل میں رہ چکا ہوں وہاں سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں وہاں بی کلاس تک میسر نہیں۔ سنیچر اور اتوار کو وکلا نے ملنے کی کوشش کی مگر رسائی نہیں دی جا رہی ہمیں پیر کو عمران خان کی اپیل فائل کرنا ہے ان کی رہائی کے لیے قانونی چارہ جوئی کرنی ہے لیکن ہمیں رسائی نہیں دی جا رہی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اگر وکلا وکالت نامے پر دستخط نہیں کروا پائیں گے تو اپیل کیسے دائر کر سکیں گے۔‘
شاہ محمود نے مزید کہا کہ ’عمران خان کے لیے عدالت کا حکم نامہ اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا آتا ہے جبکہ انھیں بھجوایا اٹک جیل جاتا ہے۔ کور کمیٹی کے تمام ممبران نے عمران خان کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کور کمیٹی کی پہلی ترجیح عمران خان کی سیفٹی اور رہائی ہے۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’عمران خان کے لیے پمز اور پولی کلینک ہسپتال میں جو میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا تھا وہ موجود تھا اور عمران خان کا منتظر تھا لیکن عمران خان کو میری اطلاعات کے مطابق ان کو وہاں لے جایا نہیں گیا۔‘
یاد رہے کہ جیل قوانین کے مطابق ’ سی کیٹیگری جیل میں عام قیدیوں کے لیے ہوتی ہے جنھیں نہ تو گھر سے کھانا منگوانے کی اجازت ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی ایسی سہولیات میسر ہوتی ہیں جن کا تعلق ان کی تعلیم یا عہدے کی مناسبت سے ہو۔‘