آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اب اہم الیکشن کی طرف بڑھ رہے ہیں، ملک میں سیاسی مفاہمت کی ضرورت ہے: بلاول بھٹو کا موجودہ قومی اسمبلی سے آخری خطاب
پاکستان کے وزیرخارجہ بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی میں اپنے آخری خطاب میں کہا ہے کہ وہ اپنی اتحادی حکومت کے 16 ماہ میں اداروں کو ان کی حدود تک محدود رکھنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بچپن سے دیکھ رہا ہوں کہ سیاستدان حکومت میں ہوتا ہے یا جیل میں۔ ان کے مطابق اب ہم الیکشن کی طرف بڑھ رہے ہیں اور اب اپنے بڑوں سے بھی کہتا ہوں کہ سیاسی جماعتوں کو سیاست اس طریقے سے کرنی چاہیے کہ صورتحال کو مفاہمت کی طرف کیسے لے کر جائیں۔
لائیو کوریج
پاکستان میں عام انتخابات کے لیے آٹھ فروری 2024 کی تاریخ کا اعلان
یہ صفحہ مزید ایپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!
بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے، تاہم یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
آٹھ اگست کی خبریں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
بریکنگ, بلوچستان کے ضلع پنجگورمیں بم دھماکہ، سات افراد ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو
پاکستان کے صوبے بلوچستان کے ضلع پنجگورمیں ایک دھماکے میں سات افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
مکران ڈویژن کے ایک سینیئرسرکاری اہلکارنے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہلاک ہونے والے افراد میں یونین کونسل کا ایک چیئرمین بھی شامل ہے۔
یونین کونسل کے چیئرمین کی شناخت اسحاق یعقوب کے نام سے ہوئی ہے۔ اہلکار نے بتایا کہ یہ تمام افراد ایک گاڑی میں سفرکررہے تھے۔ دھماکے سے گاڑی کو شدید نقصان پہنچا۔
بلوچستان کے وزیرداخلہ نے فون پر بی بی سی کوبتایا کہ یونین کونسل کے چیئرمین دیگر افراد کے ہمراہ شادی کی ایک تقریب میں شرکت کے بعد واپس جارہے تھے کہ نامعلوم افراد نے ان کی گاڑی کو بارودی سرنگ کا نشانہ بنایا۔ تاحال اس واقعے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے۔
بلوچستان کے وزیرداخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ نے آج مارے جانے والے یونین کونسل کے چیئرمین کے والد سمیت 11افراد کوہلاک کیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام وسائل کو بروئے کارلایا جائے گا۔
ایران سے متصل ضلع پنجگوربلوچستان کے مکران ڈویژن کا حصہ ہے۔ مکران ڈویژن کے دیگرحصوں کی طرح پنجگوربھی طویل عرصے سے شورش سے متاثر ہے تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ امن و امان کی بہتری کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کے نتیجے پنجگورسمیت مکران ڈویژن کے دیگرعلاقوں میں بہتری آئی ہے۔
اب اہم الیکشن کی طرف بڑھ رہے ہیں، ملک میں سیاسی مفاہمت کی ضرورت ہے: بلاول بھٹو
پاکستان کے وزیرخارجہ بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب ہم الیکشن کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ سیاسی جماعت کو سیاست اس طریقے سے کرنی چاہیے کہ صورتحال کو مفاہمت کی طرف کیسے لے کر جائیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ بچپن سے دیکھ رہے ہیں کہ کبھی سیاستدان حکومت میں تو کبھی جیل میں ہوتا ہے۔ ان کے مطابق وہ اپنی حکومت کے 16 ماہ میں اداروں کو اپنے دائرہ کار میں کام کرنے پر آمادہ کرنے پر کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ’سابق صدر آصف زرداری اور نواز شریف ایسے فیصلے کریں کہ آئندہ میرے اور مریم کے لیے سیاست آسان ہو۔‘ ان کے مطابق آج اگر عمران خان جیل میں ہیں تو کل وہ آزاد ہوں گے اور پھر اگر وہی دھرنے اور احتجاج اور پرانا سلسلہ چل پڑے گا تو پھر نظام آگے کیسے بڑھے گا۔
ان کے مطابق جب سیاست کو آگے دشمنی اور وہ بھی ذاتی دشمنی تک لے کر جایا جائے تو تو اس کا نقصان ریاست کو اور سب کو ہوتا ہے۔ بلاول بھٹو کے مطابق لگتا ہے کہ ہمارے بڑوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جیسے انھوں نے 30 سال تک سیاست بھگتی ہے اب مریم اور میں بھی ایسے ہی سیاست کریں۔
ان کے مطابق یہ سیاست دیکھتے دیکھتے اب نوجوان تنگ آ چکے ہیں اور وہ اب نہ ہم پر بھروسہ کرتے ہیں اور نہ کسی اور پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ہمیں اپنا رویہ ایسا کرنا ہوگا کہ جس سے 65 فیصد سے زیادہ نوجوان بھروسہ کر سکیں۔
اپنے خطاب کے اختتام پر بلاول بھٹو نے کہا کہ ’جناب سپیکر اب الیکشن میں ملیں گے۔‘
پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں افغآن شہریوں کا ملوث ہونا دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے: آرمی چیف
پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں افغان شریوں کا ملوث ہونا جہاں نگران افغان حکومت کی طرف سے دستخط کردہ دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے وہیں یہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے بھی خطرہ ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پیر کو آرمی چیف نے خیبرپختونخوا کے دورے میں عمائدین سے ملاقات کی اور ان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سرزمین پر دہشتگردی کی کارروائیوں کا ہر صورت میں خاتمہ کیا جائے گا۔
آرمی چیف نے کہا کہ افغان سرزمین پر کالعدم تنظیموں کو حاصل پناہ گاہوں اور کارروائیاں کرنے کی کھلی چھٹی حاصل ہونے پر پاکستان کو تحفظات ہیں۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے نیٹ ورک کے ہر قیمت پر خاتمے کے لیے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑے گا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق قبائلی عمائدین نے آرمی چیف کو یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ٹی ٹی پی اور اس کا نظریہ کسی بھی قبیلے کے لیے قابل قبول نہیں ہے اور وہ ہر طرح کے حالات میں ریاست کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
’عمران خان جیل میں نہایت ناگفتہ بہ اور اذیت ناک ماحول میں ہیں‘: تحریک انصاف کی کور کمیٹی کا تشویش کا اظہار
پاکستان تحریک انصاف نے کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد ایک اعلامیے میں کہا ہے کہ کور کمیٹی کے اجلاس میں عمران خان کو اٹک جیل میں نہایت ناگفتہ بہ اور غیرانسانی ماحول میں قید کیے جانے کی شدید مذمت کی ہے۔
کور کمیٹی تحریک انصاف قوم کے معتبر ترین قائد، پاکستان کی سب سے بڑی جماعت کے سربراہ اور سابق وزیراعظم کو جس اذیت ناک، غیرانسانی اور صحت و سلامتی کے حوالے سے خطرناک ماحول میں قید کیا گیا ہے وہ شرمناک ہے۔
کور کمیٹی نے کہا ہے کہ ’نفرت و انتقام کی آگ میں قانون و اقدار کا خون کرنے والے فسطائی، قوم کو اپنی وحشت کا جواب دیں گے۔‘
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’صوبہ خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات میں تحریکِ انصاف کی فقیدالمثال کامیابی عمران خان پر قوم کے اعتماد کی مظہر ہے۔‘
کور کمیٹی اجلاس میں اس تشویش کا اظہار بھی کیا گیا کہ ’مشترکہ مفادات کونسل کے ذریعے ملک میں آئینی و جمہوری بحران پیدا کرنے کی حکومتی کوششوں کی شدید مذمت کرتے ہیں اور پاکستان کا مستقبل آئین کی روح کے مطابق صاف شفاف انتخابات میں پوشیدہ ہے۔‘
کور کمیٹی کے مطابق ’مردم شماری اور حلقہ بندیوں میں ردوبدل کی آڑ میں انتخابات کے غیرمعیّنہ مدت تک التوا کی ناپاک سازش کی جارہی ہے اور تحریک انصاف عوامی منشا کی روشنی میں آئین، جمہوریت اور انتخاب کے خلاف کی جانے والی ہر سازش کا ہر سطح پر ہر ممکنہ آئینی، قانونی اور جمہوری طریقے سے مقابلہ کرے گی۔
عام انتخابات کے انعقاد سے متعلق الیکشن کمیشن کا اجلاس کل تک ملتوی
پیر کو الیکشن کمیشن کا عام انتخـابات سے متعلق اجلاس چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت ہوا۔ اس اجلاس میں الیکشن کمیشن کے ممبران کے علاوہ سیکریٹری الیکشن کمیشن، سپیشل سیکریٹری الیکشن کمیشن اور لیگل ٹیم نے شرکت کی۔
اجلاس میں ڈیجیٹل مردم شماری کے نتائج پر متعلقہ حکام نے بریفنگ دی ہے۔ جاری مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندیاں ہوں گی یا نہیں اور مردم شماری کے بعد آئینی و قانونی آپشنز پر اجلاس میں غور کیا گیا۔
اس اجلاس میں الیکشن کمیشن نے ڈیجیٹل مردم شماری کے اعداد وشمار کی سرکاری اشاعت اور الیکشن کمیشن کے آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کرنے کے لیے لیگل ٹیم کو ہدایت کی کہ وہ کل الیکشن کمیشن کو آئین اور قانون کی روشنی میں ضروری رہنمائی مہیا کرے۔
الیکشن کمیشن کی میٹنگ کل یعنی منگل کو صبح ساڑھے بجے دوبارہ ہوگی۔
مزید الیکشن کمیشن نے سکروٹنی کمیٹی کو دس دن کی مہلت دیتے ہوئے حکم دیا کہ وہ دیگر سیاسی جماعتوں کی فارن فنڈنگ سے متعلق اپنی سکروٹنی رپورٹ ہر صورت میں الیکشن کے روبرو پیش کرے اور اس کو آخری مہلت سمجھا جائے۔
اس کے علاوہ الیکشن کمیشن نے لا ونگ کو حکم دیا کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے دائر کردہ تمام پرائیوٹ شکایات جوکہ مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں ان کی فوری سماعت اور فیصلہ جات کے لیے متعلقہ معزز عدالتوں سے رجوع کرے تا کہ ان شکایات پر بروقت فیصلے اور ان پر عملد رآمد کو یقینی بنایا جاسکے۔
عمران خان کی اٹک سے اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست سماعت کے لیے مقرر
اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقلی سے متعلق چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کل اعتراضات کے ساتھ سماعت کریں گے۔
رجسٹرار آفس کی جانب سے کازلسٹ جاری کردی گئی۔ چیئرمین تحریک انصاف کے وکلا کی طرف سے دائر کردہ درخواست میں کہا گیا ہےکہ عمران خان کی اٹک جیل میں حراست غیر قانونی قرار دی جائے اور سابق وزیراعظم کو جیل میں اے کلاس کی سہولیات فراہمی کا حکم دیا جائے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر فیصل سلطان کو عمران خان کا میڈیکل چیک اپ کرنے کی اجازت دی جائے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کو کو اپنی فیملی اور وکلا سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے عمران خان کی اس درخواست پر دائرہ اختیار نا ہونے کا اعتراض عائد کر رکھا ہے۔ وکالت نامہ پر چیئرمین پی ٹی آئی کے دستخط نا ہونے کا بھی اعتراض ہے۔
مجھے بشری بیگم سے ملنے کی اجازت دی جائے: عمران خان
سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنے وکیل کے ذریعے حکام سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ انھیں ان کی اہلیہ بشری بیگم سے ملنے کی اجازت دی جائے۔
ان کے مطابق عمران خان نے بتایا کہ ’یہ میرے گھر پر تیسرا حملہ کیا گیا ہے اور اس دوران بشریٰ بی بی کے کمرے کا دروازہ توڑنے کی کوشش کی گئی۔ مجھے پولیس نے وارنٹ گرفتاری نہیں دکھائے۔‘
ان کے مطابق عمران خان نے بتایا کہ ’مجھے 9 مئی کی طرح دوبارہ اغوا کیا گیا ہے۔ جج صاحب عجلت میں کارروائی کی۔‘
وکیل نے بتایا کہ عمران خان کے مطابق ’میں ان کو سلام پیش کرتا ہوں جو ڈٹے ہوئے ہیں مگر غلامی قبول نہیں کی۔ آئندہ کا لائحہ عمل کور کمیٹی کرے گی اور میری مشاورت سے کرے گی۔‘
ان کے مطابق عمران خان نے بتایا کہ انھیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج عامر فاروق پر اعتماد نہیں ہے، وہ ان کے کیس کی سماعت نہ کریں۔ ’جسٹس عامر فاروق نے پہلے بھی میری گرفتاری کو قانونی قرار دیا تھا۔‘
’مجھے اندھیرے والے کمرے میں رکھا ہوا ہے، ٹی وی اور اخبار کی سہولت ہے نہ کسی سے رابطہ کرایا جا رہا ہے‘
عمران خان کے وکلا کی ٹیم میں شامل نعیم حیدر نے بتایا ہے کہ انھوں نے اٹک میں جیل میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کی موجودگی میں پونے دو گھنٹے ملاقات کی ہے۔
ان کے مطابق اس ملاقات میں عمران خـان ان نے انھیں بتایا کہ ’مجھے انھوں کلاس سی میں رکھا ہوا ہے۔ چھوٹا ساچکی والا کمرہ مجھے دیا گیا ہے۔ اوپن واش روم دیا گیا ہے۔ کمرے میں دن کو مکھیاں اور رات کو کیڑے ہوتے ہیں۔ مجھے کھانے کوجو مل رہا ہے اس پراللہ کا شکرادا کرتا ہوں۔ اگر مجھے ڈی کلاس میں رکھتے ہیں تو میں اس کےلیے بھی تیار ہوں۔ میڈیا پر جاکر بتاؤ کہ مرجاؤں گا لیکن غلامی قبول نہیں کروں گا۔ ساری زندگی بھی جیل میں گزارنی پڑی گزار لوں گا۔‘
نعیم حیدر کے مطابق عمران خان نے بتایا کہ ’مجھے اندھیرے کمرے میں رکھا ہوا، یہاں نہ ٹی وی کی سہولت موجود ہے، نہ مجھے اخبار دیا جا رہا ہے، نہ کسی سے میرا کوئی رابطہ کرایا جا رہا ہے، جیسے میں کوئی بہت بڑا دہشتگرد ہوں۔‘
وکیل کے مطابق اس کے باوجود کہ عمران خان کو تکلیف میں رکھا ہوا ہے مگر ان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔
نعیم حیدر کے مطابق اس ملاقات میں انھوں نے عمران خان سے پاور آف اٹارنی اور وکالت نامہ پر دستخط بھی کرا دیے ہیں۔
وکیل کے مطابق ’ہم استدعا کرتے رہے کہ ہماری ملاقات صبح نو بجے کرائی جائے کیونکہ توشہ خانہ کیس کو ہم نے چیلنج کرنا تھا۔ مگر انھیں ساڑھے بارہ بجے جیل میں جانے کی اجازت دی گئی۔
بریکنگ, اٹک جیل میں عمران خان کی وکیل سے ملاقات
لاہور سے سنیچر کو گرفتار ہونے والے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے وکیل کو بالآخر ان تک رسائی دے دی گئی ہے۔ عمران خان کے وکیل نے ٹوئٹر پر تصدیق کی کہ انھوں نے پیر کو عمران خان سے پونے دو گھنٹے طویل ملاقات کی ہے۔
توشہ خانہ کیس کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر
توشہ خانہ کیس کے فیصلے کے خلاف ایڈوکیٹ لاہور ہائیکورٹ صائمہ صفدر نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے جس میں کیس کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ توشہ خانہ کیس کا ٹرائل دوبارہ شروع کیا جائے کیونکہ عمران خان کو فئیر ٹرائل کا حق نہیں دیا گیا اور فیصلہ جلد بازی میں کیا گیا ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ توشہ خانہ کیس کے سپریم کورٹ کے فیصلے تک سزا معطل کی جائے۔
اس درخواست میں ریاست، حکومت اور جج ہمایوں دلاور کو فریق بنایا گیا ہے۔
بریکنگ, عمران خان سے ملاقات کے لیے وکیل نعیم حیدر پنجوتھہ اٹک جیل میں پہنچ گئے: تحریک انصاف
سابق وزیر اعظم عمران خان کے وکیل نعیم حیدر پنجوتھہ ان سے ملاقات کے لیے اٹک جیل پہنچ گئے ہیں۔
تحریک انصاف کےمطابق عمران خان کے وکیل نعیم پنجوتھہ کو عمران خان سے ملاقات کروانے کے لیے جیل کی عمارت کے اندر لے جایا گیا ہے۔
نعیم پنجوتھہ نے آج صبح اپنے ایک بیا ن میں بتایا تھا کہ وہ عمران خان سے اٹک جیل میں ملاقات کے لیے جا رہے ہیں تاکہ ان سے پاور آف آٹارنی پر دستخط کروائے جا سکیں۔
واضح رہے کہ آج صبح چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقل کرنے، وکلا اور اہلخانہ کو اُن تک رسائی دینے کے لیے تحریک انصاف نے اسلام آباد ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں دو علیحدہ علیحدہ درخواستیں دائر کی تھیں۔
ان درخواستوں میں استدعا کی گئی ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اٹک جیل میں حراست غیر قانونی قرار دی جائے اور انھیں اڈیالہ جیل منتقل کر کے جیل میں اے کلاس کی سہولیات فراہمی کا حکم دیا جائے۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر فیصل سلطان کو چیئرمین پی ٹی آئی کا میڈیکل چیک اپ کرنے کی اجازت دی جائے، اور انھیں اپنی فیملی اور وکلاء سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔
اس سے قبل پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی نے تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد اپنے ویڈیو پیغام میں دعویٰ کیا تھا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کو جیل میں سی کلاس میں رکھا گیا ہے اور ان کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔ اعلی عدلیہ کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔
نگران وزیر اعظم کے نام کا فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا: نیر بخاری
پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما اور سابق چیئرمین سینٹ نیر حسین بخاری نے کہا ہے کہ ’نگران وزیر اعظم کے نام کا فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔ پیپلز پارٹی کی ترجیح ہے کہ جو بھی نگران حکومت آئے وہ غیر جانبدار رہتے ہوئے صاف و شفاف انتخابات کا انعقاد کروائے۔‘
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نیر بخاری نے کہا کہ ’نگران وزیر اعظم کے لیے پیپلز پارٹی نے اپنے تین نام دے دیے ہیں تاہم لیڈر شپ کے علاوہ کسی کا یہ اختیار نہیں ہوتا کہ وہ ان مجوزہ ناموں کے حوالے سے بات کرے۔‘
ان کے مطابق ’توقع ہے کہ بدھ تک نگران وزیر اعظم کا نام سامنے آ جائے گا۔‘
گھریلو ملازمہ تشدد کیس: ’بھول جائیں کہ ملزمہ جج کی اہلیہ ہیں،عدالت انصاف کرے گی‘
بریکنگ, عمران خان کو اڈیالہ جیل منتقل کرنے، وکلا اور اہلخانہ کو اُن تک رسائی دینے کی درخواستیں دائر
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقل کرنے، وکلا اور اہلخانہ کو اُن تک رسائی دینے کے لیے تحریک انصاف نے اسلام آباد ہائی کورٹ اور لاہور ہائئ کورٹ راولپنڈی بینچ میں دو علیحدہ علیحدہ درخواستیں دائر کر دیں۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اٹک جیل میں حراست غیر قانونی قرار دی جائے اور انھیں اڈیالہ جیل منتقل کر کے جیل میں اے کلاس کی سہولیات فراہمی کا حکم دیا جائے۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر فیصل سلطان کو چیئرمین پی ٹی آئی کا میڈیکل چیک اپ کرنے کی اجازت دی جائے، اور انھیں اپنی فیملی اور وکلاء سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔
دوسری جانب عمران خان سے اٹک جیل میں ان کے اہل خانہ اور پارٹی رہنماوں کی ملاقات اور وکلا کی ان تک رسائی کے لیے لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ میں بھی ایک درخواست دائر کی گئی ہے ۔
عمران خان کے وکیل نعیم پنجوتھہ نے استدعا سے متعلق بتایا کہ ہم نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ عمران خان کو سے کلاس میں منتقل کیا جائے اور ساتھ ہی لسٹ میں ان افراد کے نام دیئے ہیں جن سے عمران خان کو ملاقات کی اجازت دینے کی اپیل کی ہے۔
نعیم پنجوتھہ کے مطابق رات گئے بارہ بجے ان کو عمران خان سے ملاقات کے لیے اتھارٹی کی طرف سے آنے والی کال میں کہا گیا کہ ہم دن 12 بجے آ جائیں۔
’ ہم نے درخواست کی کہ ہم صبح جلدی ملنے کی اجازت دے دیں کیونکہ دیر کی صورت میں ہمارا ایک دن ضائع ہو جائے گا تاہم انھوں نے 12 بجے ہی ہمیں بلایا ہے۔‘
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ ابھی توشہ خانہ کیس کہ فیصلے کے خلاف اپیل نہیں دائر کی گئی
بریکنگ, عام انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس آج دو بجے طلب
الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے حوالے سے اہم اجلاس آج طلب کر لیا ہے۔
الیکشن کمیشن سے جاری اعلامیے کے مطابق ’ چیف الیکشن کمشنر سلطان سکندر راجا کی زیر صدارت الیکشن کمیشن کا اجلاس آج دوپہر دو بجے الیکشن کمیشن سیکریٹریٹ اسلام آباد میں منعقد ہو گا۔
اعلامیے کے مطابق ’ اجلاس میں انتخابات کے انعقاد اور اس سے متعلق دیگر مسائل زیر غور لائے جائیں گے۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے اتوار کے روز بھی اعلان کیا ہے کہ ان کی اتحادی حکومت کی مدت نو اگست بروز بدھ کو ختم ہو جائے گی۔
قصور میں مسلم لیگ ن کے جلسے سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ’میں نو اگست کو قومی اسمبلی تحلیل کر کے گھر چلے جاؤں گا۔‘
دوسری جانب مشترکہ مفادات کونسل نے دو روز قبل نئی مردم شماری کے تحت انتخابات کروانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد اب عام انتخابات حکومت ختم ہونے کے 90 روز کے بجائے دو سے تین ماہ تک مزید تاخیر کا شکار ہونے کا خدشہ سر اٹھا رہا ہے۔
کیا جیل جانے کے بعد عمران خان کا سیاسی مستقبل تاریک ہو گیا ہے؟
کم عمر ملازمہ تشدد کیس کی ملزمہ اسلام آباد کی ضلعی عدالت میں پیش، سماعت میں 10 بجے تک وقفہ, شہزاد ملک/ بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے کم عمر ملازمہ تشدد کیس میں ملوث ملزمہ کی درخواست ضمانت پر سماعت میں 10 بجے تک وقفہ کر دیا ہے۔
اسلام آباد کی ضلعی عدالت کے ایڈیشنل سیشن جج فرخ فرید بلوچ نے سوموار کی صبح کیس کی سماعت کی جس میں ملزمہ ، جو سول جج کی اہلیہ بھی ہیں، عدالت کے سامنے پیش ہوئیں جبکہ متاثرہ بچی کی جانب سے بھی وکلا عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔
سماعت کے آغاز پر پولیس نے ریکارڈ عدالت کے روبرو پیش کر دیا۔
ملزمہ کے وکیل نے کیس کی سماعت میں 10 بجے تک کا وقفہ کرنے کی استدعا کی جس کو منظور کرتے ہوئے ایڈیشنل سیشن جج فرخ فرید بلوچ نے کہا کہ 10 بجے دلائل سن کر فیصلہ کریں گے۔
یاد رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس نے 14 سالہ گھریلو ملازمہ پر مبینہ تشدد کی ایف آئی آر 25 جولائئ 2023 کو درج کی تھی۔
بچی کے والد کی مدعیت میں درج ایف آئی آر میں بتایا گیا تھا کہ متاثرہ بچی اسلام آباد میں تعینات ایک سول جج کے گھر میں گذشتہ 6 ماہ سے بطور گھریلو ملازمہ کام کر رہی تھیں۔
درج مقدمے کے متن کے مطابق بچی کا دعویٰ ہے کہ اس پر سول جج کی اہلیہ کی جانب بدترین تشدد کیا جاتا رہا ہے۔
تاہم مقدمے میں نامزد سول جج کی اہلیہ نے اسلام آباد کی مقامی عدالت میں ضمانت قبل از گرفتاری میں توسیع کی درخواست دائر کی تھی اور ان کی عبوری ضمانت میں توسیع دیتے ہوئے عدالت نے ملزمہ کو سات اگست کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔