توشہ خانہ فوجداری کیس کی سماعت: ’مجھ سے تحائف کا کیا صرف اس لیے پوچھا جا رہا ہے تاکہ مجھے نااہل کر سکیں؟‘
اسلام آباد کی مقامی عدالت میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کیس کی سماعت کے دوران عمران خان نے اپنا بیان ریکارڈ کروانا شروع کر دیا ہے۔
دوران سماعت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج ہمایوں دلاور نے چیئرمین تحریک انصاف سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے شکایت کنندہ (الیکشن کمیشن) کے الزامات پڑھے ہیں؟ اس پر عمران خان نے عدالت کو آگاہ کیا کہ انھوں نے الزامات نہیں سنے کیونکہ ان کی موجودگی میں یہ بیانات ریکارڈ نہیں ہوئے تھے۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ اس کیس میں فرد جرم بھی اُن کی موجودگی میں عائد نہیں کی گئی اور نہ ہی انھیں فردِ جرم پڑھ کر سنائی گئی۔ سابق وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ سیشنز عدالت نے ان کا نمائندہ مقرر کر کے گواہان کے بیانات ریکارڈ کروائے، اس بات سے قطع نظر کہ انھوں نے اپنا نمائندہ مقرر کرنے کی کوئی درخواست عدالت جمع نہیں کروائی تھی جبکہ ان کے وکلا نے سیشنز عدالت کی جانب سے نمائندہ مقرر کرنے کی مخالفت بھی کی تھی۔
انھوں نے کہا کہ عدالت خود سے اُن کا نمائندہ مقرر نہیں کر سکتی تھی۔ یاد رہے کہ اس کیس میں الیکشن کمیشن کے دو گواہان، کابینہ ڈویژن کے جوائنٹ سیکریٹری اور اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر، کے بیانات ریکارڈ ہو چکے ہیں۔
تاہم اس کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی نے عدالت کی ہدایت پر اپنا 342 کا بیان قلمبند کروانا شروع کیا۔ عدالت میں دیے گئے اپنے بیان میں عمران خان کا کہنا تھا کہ انھیں گواہان کے بیانات قلمبند کرتے وقت ہر سماعت پر استثنیٰ دیا گیا اور سیشنز عدالت کے فیصلے کے مطابق اُن کے مقرر کردہ نمائندہ کا موقف بھی ٹھیک طرح نہیں لکھا گیا۔
انھوں نے کہا کہ ملزم کی غیرموجودگی میں گواہان کا بیان ریکارڈ کرنے کی قانون اجازت نہیں دیتا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کی غیر موجودگی میں قلمبند کیے گئے گواہان کے بیانات ان کے سامنے نہیں پڑھے جا سکتے۔
انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ عاشورہ کی چھٹیوں کے دوران انھیں گواہان کے بیانات مہیا کیے گئے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے شکایت دائر کرنے کے لیے کسی کو نامزد نہیں کیا اور الیکشن کمیشن کی جانب سے دائر شکایت 120 دنوں کے بعد دائر کی گئی۔
انھوں نے مزید کہا کہ انھوں نے 2017 کے بعد سے اپنے اثاثہ جات ہر سال الیکشن کمیشن میں جمع کروائے تھے۔ عمران خان نے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی نے ان کے خلاف جو ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجا وہ بدنیتی پر مبنی تھا۔ انھوں نے کہا کہ ریفرنس میں 2017-18 اور 2018-19 کے اثاثہ جات کا ذکر کیا گیا جبکہ الیکشن کمیشن نے اس کے بعد کے اگلے برسوں کے بھی اثاثہ جات تک رسائی حاصل کی جو پی ڈی ایم حکومت کی بدنیتی ظاہر کرتی ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ سنہ 2018-19 میں دائر جواب میں نہیں کہا گیا کہ 58 ملین روپے نجی بینک میں جمع کروائے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ قانون میں نہیں لکھا کہ تحائف کے نام جمع کروائیں جائیں اور الیکشن کمیشن کے فارم بی میں تحائف کے نام لکھنے کا کالم موجود ہی نہیں۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ گواہان نے تحائف کی مالیت کا چالان بھی عدالت میں جمع نہیں کروایا جبکہ ان سے تحائف کے حوالے سے دستاویزات بناتے وقت رابطہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ’میں صرف اتنا کہوں گا کہ تحائف کے حوالے سے دستاویزات کو سوالنامے میں نہیں لکھا جا سکتا۔‘
انھوں نے یہ اعتراض بھی عائد کیا کہ تحائف کے حوالے سے دستاویزات مہیا کرنے والا شخص بھی بطور گواہ عدالت پیش نہیں ہوا، تحائف کے حوالے سے دستاویزات کی نا تو تصدیق کی گئی اور نہ شہادت لی گئی۔
عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ توشہ خانہ کیس میں بینک ریکارڈ قابل قبول شہادت نہیں۔ انھوں نے کہا کہ استغاثہ کے گواہ نے کہا کہ یہ ’کمپیوٹر جنریٹیڈ‘ دستاویزات ہے۔ سابق وزیر اعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ الیکشن کمیشن نے فیصلہ جاری کرنے سے قبل اُن سے کبھی نجی بینک کا ریکارڈ طلب کیا ہی نہیں۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ نجی بینک کے حوالے سے ریکارڈ بنانے والا فرد بطور گواہ عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ بینک سٹیٹمنٹ کا ریکارڈ اُن کی غیر موجودگی میں الیکشن کمیشن نے طلب کیا جبکہ بینک سٹیٹمنٹ کا ریکارڈ لینے اور جمع کروانے والا فرد بطور گواہ پیش نہیں ہوا۔
انھوں نے کہا کہ ان سے 2018-19 میں چار تحائف کے بارے میں پوچھنا درست نہیں کیونکہ اُن کے پاس اسی سال یہ تحائف موجود نہیں تھے۔ انھوں نے کہا کہ شکایت کنندہ نے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا کہ 2018-19 میں چار تحائف میرے پاس ہی تھے یا نہیں۔
عمران خان نے اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے کہا کہ استغاثہ کا پیش کیا گیا بنک ریکارڈ قانون کے مطابق تصدیق شدہ نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ بھی درست نہیں کہ میں جھوٹا بیان اور ڈیکلریشن جمع کروایا، استغاثہ نے ایسا کوئی گواہ پیش نہیں کیا جس نے بتایا ہو کہ تحائف میں نے رکھا۔
اس موقع پر سوال کیا گیا کہ الزام ہے آپ نے پانچ تحائف گوشواروں میں ظاہر نہیں کیے؟ جس پر عمران خان نے کہا کہ استغاثہ کا یہ الزام درست نہیں۔ ’میں نے یہ تحائف اپنے ٹیکس گوشواروں کے فارم بی میں لکھے تھے۔ میں نے 2018-19 میں غلط اثاثہ جات الیکشن کمیشن میں جمع نہیں کروائے۔ ‘ انھوں نے کہا کہ انھوں نے 2020-21 میں اپنے ظاہر اثاثہ جات میں قیمتی تحائف کا ذکر کیا جس کے لیے 11 ملین روپے ادا کیے گئے۔
نھوں نے کہا کہ ان کے ٹیکس کنسلٹنٹس نے قیمتی تحائف کا ذکر الیکشن کمیشن میں دائر اثاثہ جات میں کیا۔ انھوں نے کہا کہ 2020-21 میں جمع کروائے گئے چالان توشہ خانہ، کیبنٹ ڈویژن اور الیکشن کمیشن میں بھی جمع ہیں۔
’یہ سوچنا عجیب ہے کہ الیکشن کمیشن نے پانچ تحائف پر کیسے اخذ کر لیا کہ میں نے جمع نہیں کروائے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’مجھ سے تحائف کا کیا اس لیے صرف پوچھا جا رہا ہے تاکہ مجھے نااہل کر سکیں؟‘ چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف ضابطہ فوجداری کے تحت شکایت دائر کی گئی۔ شکایت کنندہ پر لازم تھا کہ وہ ثابت کرے کہ تحائف میرے پاس تھے جو اس نے ثابت نہیں کیا۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ انھوں نے تحائف ذاتی طور پر فروخت نہیں کیے۔ ’میں نے بریگیڈیئر وسیم چیمہ کے ذریعے تحائف بیچے جن کو عدالت بطور گواہ نوٹس جاری کر سکتی ہے اور طلب کر سکتی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے 2019-20 کے حوالے سے کبھی خریداروں کے نام نہیں پوچھے بلکہ الیکشن کمیشن نے آج تک کسی سے توشہ خانہ تحائف کے خریداروں کے نام نہیں پوچھے۔
انھوں نے مزید کہا کہ تحائف پاس ہونے کے باوجود ظاہر نہ کرنے کے الزام پر شکایت کنندہ کے پاس ثبوت نہیں ہیں۔ بیان ریکارڈ کروانے کا سلسلہ فی الحال جاری ہے۔