پاکستان کی سپریم کورٹ نے ایک مرتبہ پھر پانامہ پیپرز مقدمے پر سماعت کی۔ یہ مقدمہ عدالت کے سامنے سات سال سے زیرالتوا ہے اور اس میں صرف اس وقت سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر اعوان کی نااہلی ہوئی۔
پانامہ پیپرز میں عمران خان کے علاوہ جماعت اسلامی نے بھی درخواست دے رکھی تھی۔ جماعت اسلامی نے متعدد بار سپریم کورٹ سے یہ استدعا کی کہ پانامہ مقدمے میں شامل تمام 436 افراد کے خلاف تحقیقات کو یقینی بنایا جائے۔
جمعے کو ایک بار پھر پانامہ پیپرز میں 436 پاکستانیوں کے خلاف تحقیقات کے لیے دائر درخواست پر سماعت کے دوران جماعت اسلامی کے وکیل نے پانامہ کیس کے لیے جوڈیشل کمیشن کی استدعا کی۔ تاہم اس سماعت پر جسٹس طارق مسعود نے سماعت مزید ایک ماہ تک ملتوی کرے سے قبل جماعت اسلامی کے وکیل سے متعدد ریمارکس دیے اور سوالات بھی اٹھائے۔
سپریم کورٹ جج نے کہا کہ آف شور کمپنی بنانا کوئی جرم نہیں ہے، دیکھنا یہ ہوتا ہے وہ کمپنی بنائی کیسے گئی۔ 436 بندوں کے خلاف ایسے آرڈر جاری کر دینا انصاف کے خلاف ہوگا۔
جسٹس سردار طارق نے ریمارکس دیے کہ آپ کو سات سال بعد یاد آیا کہ عوامی مفاد کا معاملہ ہے، اس وقت کیا مقصد صرف ایک ہی فیملی کے خلاف پانامہ کیس چلانا تھا، وہ بھی پانامہ کا معاملہ تھا یہ بھی پانامہ کا معاملہ ہے؟ اُس وقت عدالت کے سامنے کیوں نہ کہا یہ سب لوگوں کا معاملہ ہے ساتھ سنا جائے؟ وکیل جماعت اسلامی بتائیں اب اس معاملہ کا کیا کرنا ہے؟
سات سال سے معاملہ سپریم کورٹ میں پڑا رہا، کیا صرف ایک خاندان کے خلاف کیس چلوانا تھا؟
سات سال سے آپ کو اس کیس میں کوئی دلچسپی نہیں تھی؟
پہلے وکیل جماعت اسلامی بتائیں کہ اپنا درخواست کو ڈی لنک کیوں کروایا، جماعت نے سات سال میں کسی ادارے کے سامنے شکایت نہیں کی؟سارے کام اب یہاں سپریم کورٹ ہی کرے؟ 436 بندوں کو نوٹس دیے بغیر ان کے خلاف کارروائی کا حکم کیسے دیں؟
ایف بی آر، سٹیٹ بنک، نیب سمیت تحقیقاتی اداروں کی موجودگی میں سپریم کورٹ تحقیقات کیسے کرا سکتی ہے؟
سپریم کورٹ نے تحقیقاتی اداروں کی موجودگی میں جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا تو یہ کام کیسے کریں گے؟
سپریم کورٹ کے پانچ ججز کی جانب سے 3 نومبر 2016 کو پانامہ کیس قابل سماعت قرار دیا گیا تھا، سپریم کورٹ بتایا جائے کہ پانامہ پیپرز میں نامزد افراد کے خلاف نیب، ایف آئی اے، اینٹی کرپشن سمیت اداروں سے رجوع کیوں نہیں کیا؟
جسٹس سردار طارق ان 436 بندوں میں کاروباری لوگ بھی ہوں گے، کیا انہیں بھگانا چاہتے ہیں؟
اس معاملے پر عدالت کا کندھا استعمال نہ کریں۔ اس وقت یہ معاملہ آپ کی استدعا پر ڈی لیسٹ کیا گیا؟ وہ بھی پانامہ کا معاملہ ہے یہ بھی پانامہ کا معاملہ ہے۔ اس وقت آپ کے اس عدالت کے سامنے کیوں نہ کہا یہ سب لوگوں کا معاملہ ہے ساتھ سنا جائے؟