پاکستان کی سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کے آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لیے قائم کیے گئے کمیشن کو مزید کام سے روک دیا ہے۔ چیف جسٹس کے سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے انکوائری کمیشن کی تشکیل کا نوٹیفیکیشن بھی معطل کر دیا ہے۔
مبینہ آڈیو لیکس کے معاملے پر وفاقی حکومت نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے مشاورت کیے بغیر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی جوڈیشل کمیشن تشکیل دے تھا۔
عدالت نے آج کے حکمنامے کے ذریعے کمیشن کی اب تک ہونے والی کارروائی پر بھی حکم امتناع جاری کردیا۔ خیال رہے کہ اس کمیشن نے سنیچر کو چار افراد کو پیش ہونے کا حکم دیا تھا، جس میں سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا بیٹے بھی شامل تھے۔
آج کی عدالتی سماعت کا حکمنامہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے تحریر کیا ہے اور اس میں کہا گیا ہے کہ اس کمیشن کی تشکیل آئین میں دیے گئے اختیارات کے حصول کے منافی ہے۔
اس حکمنامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کمیشن میں ججز کو شامل کرکے ججز کے بارے میں شکوک وشہبات پیدا ہوئے۔ اس حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ حکومت عدلیہ کے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتی۔ اس عدالتی حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کی تشکیل میں ججز کی سمولیت کے لیے چیف جسٹس کے ساتھ مشاورت ضروری ہے لیکن اس معاملے میں ایسا نہیں کیا گیا۔
حکومت کے مطابق ان آڈیو لیکس کی وجہ سے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی خودمختاری، غیر جانب داری اور کردار پر سنجیدہ خدشات نے جنم لیا اور عوامی اعتماد متزلزل ہوا۔
بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نعیم اختر افغان اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اس کمیشن کے دیگر دو اراکین تھے جبکہ اٹارنی جنرل، وفاقی اور صوبائی انتظامیہ کمیشن کی معاونت کا کہا گیا تھا۔ کمیشن نے سپریم کورٹ میں ہی سیکریٹریٹ قائم کر دیا تھا۔
اس کمیشن نے 30 روز کے اندر ان آڈیوز کی تحقیقات کر کے رپورٹ جمع کرانی تھی۔
جمعے کو کمیشن نے ان آڈیوز کی تفصیلات بھی جاری کر دی تھیں۔