آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ملیکہ بخاری کے بعد مسرت جمشید چیمہ اور ان کے شوہر بھی تحریکِ انصاف چھوڑ گئے

پاکستان تحریکِ انصاف کی رہنما مسرت چیمہ اور ان کے شوہر جمشید چیمہ نے سیاست اور پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس سے قبل رہنما پی ٹی آئی ملیکہ بخاری نے اڈیالہ جیل سے رہا ہونے کے بعد ایک پریس کانفرنس میں تحریک انصاف چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔

لائیو کوریج

  1. سابق آرمی چیف کی نواسی خدیجہ شاہ کو لاہور سے گرفتار کر لیا گیا ہے, ترہب اصغر بی بی سی اردو

    سابق مشیر خزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ کی بیٹی خدیجہ شاہ نے گرفتار کر لی ہے۔ خدیجہ شاہ نے ڈی ایس پی محمد علی بٹ سی آئی اے لاہور کو گرفتاری دی ہے۔

    خدیجہ شاہ پر الزام ہے کہ وہ نو مئی کے پرتشدد احتجاج میں شریک تھیں اور انھوں نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز بھی شیئر کی ہیں۔

    خدیجہ شاہ سابق آرمی چیف آصف نواز جنجوعہ کی نواسی ہیں۔ خدیجہ شاہ کی گرفتاری کے لیے پولیس نے چند روز قبل ان کے گھر پر چھاپہ مارا تھا۔

  2. بریکنگ, شاہ محمود قریشی اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد پھر گرفتار, شہزاد ملک بی بی سی اردو

    پنجاب پولیس نے پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو دوبارہ گرفتار کرلیا ہے۔ تحریک انصاف کے ایک اور رہنما مسرت جمشید اور جمشید چیمہ کو بھی رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار کر لیے گئے ہیں۔

    مقامی پولیس کے مطابق انھیں خدشہ تقض امن کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ شاہ محمود قریشی کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر سے گرفتار کیا گیا ہے۔

    گرفتاری سے قبل صحافی کے پارٹی چھوڑنے سے متعلق دباؤ کے بارے میں سوال پر شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ وہ پارٹی میں تھے اور انشااللہ رہیں گے۔

    خیال رہے کہ منگل کی صبح اسلام آباد ہائیکورٹ نے شاہ محمود قریشی کی رہائی کا حکم دیا تھا اور عدالت نے انھیں حکم دیا تھا کہ وہ بیان حلفی جمع کروائیں کہ وہ آئندہ ایسی کسی سرگرمی میں ملوث نہیں ہوں گے۔

    شاہ محمود قریشی کی بیان حلفی جمع کرانے پر رہائی ممکن ہو سکی مگر جیسے ہی وہ جیل کے گیٹ سے باہر نکلے تو انھیں پنجاب پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔

  3. ترکی: طیب اردوغان ایک اور فتح کے بعد کیا کریں گے؟

  4. جبری شادیوں کا تو سن رکھا ہے مگر تحریک انصاف کے لیے جبری علیحدگیوں کا ایک نیا عجوبہ متعارف کرایا گیا ہے: عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پارٹی چھوڑ کر جانے والے رہنماؤں کی پریس کانفرنسز پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم نے پاکستان میں ”جبری شادیوں“ کے بارے میں تو سُن رکھا تھا مگر تحریک انصاف کے لیے ”جبری علیحدگیوں“ کا ایک نیا عجوبہ متعارف کروایا گیا ہے۔‘

    ان کے مطابق ’میں تو اس پر بھی حیران ہوں کہ اس ملک سے انسانی حقوق کی تنظیمیں کہاں غائب ہو گئی ہیں۔‘

  5. لاطینی امریکہ میں یوآن ڈالر کی جگہ لے رہی ہے

  6. بریکنگ, شیریں مزاری کے بعد فیاض الحسن چوہان کا بھی تحریک انصاف چھوڑنے کا اعلان

    تحریک انصاف کے سابق صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان نے منگل کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں عمران خان صاحب کا میڈیا ایڈوائزر تھا۔‘ ان کے مطابق تحریک انصاف جو نو مئی تک پہنچی تو اس میں قیادت کا بھی ہاتھ ہے۔ ان کے مطابق پارٹی کی کبھی کسی رہنما نے بھی عمران خان کو نہیں سمجھایا کہ سیاست عدم تشدد کے ساتھ کرنی چاہیے۔

    ان کے مطابق یہ لیڈرشپ نے نہیں سمجھایا کہ اداروں کے ساتھ ٹکرانا سیاستدانوں کا کام نہیں ہوتا۔

    فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ ’یہ کام صرف فیاض الحسن چوہان تھا جو یہ کر رہا تھا۔ ان کے مطابق حکومت ختم ہونے کے بعد بڑی مشکل سے میں نے میڈیا ایڈوائزر کا عہدہ حاصل کیا۔‘

    ان کے مطابق پانچ دن بعد میرا زمان پارک اور بنی گالہ میں میرا داخلہ بند کر دیا گیا۔

    ان کے مطابق میں نے عمران خان کو گذشتہ مئی میں عمران خان کو تقریباً سات منٹ کا ایک میسج بھیجا۔ وہی میسج میں نے ایک کالم نگار کو بھی امانتاً بھیجا۔

    ان کے مطابق انھوں نے اس پیغام میں عمران خان کو عدم تشدد کی سیاست پر قائل کرنے کی کوشش کی کیونکہ میں انھیں دوبارہ وزیراعظم دیکھنا چاہتا تھا۔ اب اسی وجہ سے پارٹی میں کھڈے لائن تھا۔ ان کے مطابق اس کا نقصان یہ ہوا کہ ہمارا پارٹی میں ’کاٹا‘ لگ گیا۔ ان کے مطابق اس میسج کے بعد مجھے کور کمیٹی سے بھی نکال دیا گیا۔

    ان کے مطابق فواد چوہدری، شہباز گل، عالیہ حمزہ، مراد سعید، شیریں مزاری جیسے لوگوں نے الٹے پُلٹے مشورے دیے۔

    ان کے مطابق جب وہ جیل میں تھے تو عمران خان نے کوئی ٹویٹ نہیں کیا۔ ان کے مطابق میرے گھر کے چار لوگ گرفتار ہوئے مگر عمران خان کو شیریں مزاری یاد آئیں، سینیٹر ناز فلک یاد آئیں مگر فیاض الحسن چوہان یاد نہیں آیا۔ ان کے مطابق رہائی کے بعد جب انھوں نے پوچھا تو معلوم ہوا کہ عمران خان نے میرے حوالے سے ایک سطر کا بھی کوئی بیان نہیں دیا۔

    ان کے مطابق ٹکٹ تقسیم سے متعلق انٹرویو میں عمران خان نے انھیں کہا کہ ’چوہان تم فوج، فوج بڑا کرتے ہو‘۔

    عمران خان نے چوہدری سرور اور عون چوہدری کے خلاف پریس کانفرنس کے لیے مجھے کہا۔ ان کے مطابق چوہدری سرور سے اچھے تعلقات کے باوجود ان کے خلاف پریس کانفرنس کی اور عون چوہدری رشتے دار ہوتے ہوئے بھی ان کے خلاف پریس کانفرنس کی۔

    17 جولائی کو الیکشن جیتے تو فیاض الحسن چوہان آؤٹ ہو گیا۔ مگر میری کچھ عزت پرویز الٰہی نے رکھی، جن کی میں بڑی عزت رکھی اور مجھے اپنا ترجمان بنا دیا۔ مجھے عمران خان کی طرف سے جواب ملا کہ زیادہ انا پرست نہ ہوں۔

  7. پنجاب میں انتخابات کی نظرثانی کو اپیل میں تبدیل مت کریں، آرٹیکل 184(3) میں اپیل کا حق نہیں دیا گیا: چیف جسٹس, شہزاد ملک بی بی سی اردو

    پنجاب میں انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کی نظر ثانی کی درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ماضی میں حکومت بینچ پر اعتراض کرتی رہی ہے کبھی فل کورٹ کبھی چار تین کا نکتہ اٹھایا گیا لیکن جو باتیں اس نظرثانی کی اپیل میں لکھ کر دی ہیں وہ پہلے کیوں نہیں کی گئیں اور کیا کسی اور ادارے نے اب الیکشن کمیشن کو یہ مؤقف اپنانے پر مجبور کیا ہے؟

    الیکشن کمیشن کے وکیل شرجیل سواتی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نظرثانی درخواست کا دائرہ اختیار آئینی مقدمات میں محدود نہیں ہوتا، سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار بڑھایا جاسکتا ہے لیکن کم نہیں کیا جاسکتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ نظرثانی کیس میں سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار دیوانی اور فوجداری مقدمات میں محدود ہوتا ہے۔ بینچ میں شامل جسٹس اعجاز الااحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا بنیادی حقوق کے لیے عدالت سے رجوع کرنا سول نوعیت کا کیس ہوتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ آرٹیکل 184(3) کا ایک حصہ عوامی مفاد دوسرا بنیادی حقوق کا ہے۔

    بینچ میں موجود جسٹس منیب اختر نے نے کہا اگر انتخابات کا مقدمہ ہائیکورٹ سے ہو کر آتا تو کیا سول کیس نہ ہوتا، جس پر الیکشن کمیشن کے وکیل کا کہنا تھا کہ ہائیکورٹ کا آئینی اختیار سپریم کورٹ سے زیادہ ہے۔

    جسٹس منیب اختر نے کہا نظر ثانی کیس میں آپ کا مؤقف ہے کہ دائرہ محدود نہیں۔ کیا یہ بنیادی حقوق کے مقدمہ کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں۔ انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کیوں اپنے دائرہ اختیار میں ابہام پیدا کرے؟

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ آرٹیکل 184 میں اپیل کا حق نہیں دیا گیا، جس کی کی وجہ سے نظر ثانی کا دائرہ محدود نہیں کیا جا سکتا ہے۔

    عدالت کو نظرثانی میں انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھنا ہےاور آئینی مقدمات میں نیا نکتہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کیا آپ کی دلیل ہے 184(3) میں نظرثانی کو اپیل کی طرح سماعت کی جائے؟

    جس پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا 184(3) کے مقدمے میں نظرثانی کا دائرہ اختیار محدود نہیں ہونا چاہیے۔

    جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا آپ کی دلیل مان لیں تو نظر ثانی میں ازسرنو سماعت کرنا ہوگی۔ آئین میں نہیں لکھا کہ نظرثانی اور اپیل کا دائرہ کار یکساں ہو گا۔

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آئین میں دائرہ کار محدود بھی نہیں کیا گیا۔

    چیف جسٹس نے کہا نظرثانی کو اپیل میں تبدیل مت کریں۔ آئین نے آرٹیکل 184(3) میں اپیل کا حق نہیں دیا۔ دائرہ اختیار بڑھانے کے لیے آئین میں واضح ہونا چاہیے۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کی نظرثانی کی اپیل کی سماعت بدھ کے روز سوا بارہ بجے تک ملتوی کردی۔

  8. بریکنگ, ڈاکٹر شیریں مزاری کا تحریک انصاف چھوڑنے کا اعلان

    ڈاکٹر شیریں مزاری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نو مئی اور دس مئی کو ہونے والے تشدد کی مذمت کرتی ہوں۔ انھوں نے کہا کہ ریاست کی علامات جیسے جی ایچ کیو اور سپریم کورٹ ہیں ان پر حملوں کی مذمت کرتی ہوں۔ شیریں مزاری نے عملی سیاست سے بھی دوری اختیار کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    شیریں مزاری نے کہا ہے کہ ’میرے بچے، والدہ اور صحت میری ترجیح ہیں۔‘ ان کے مطابق جس وقت تک ان کے خاوند ڈاکٹر تابش حاضر زندہ تھے تو ان کے لیے یہ سب ممکن تھا مگر اب وہ عملی سیاست میں حصہ نہیں لے سکتی ہیں۔

    ان کے مطابق آج کے بعد وہ کسی بھی سیاسی جماعت کا حصہ نہیں رہیں گی۔

    شیریں مزاری کی اس مختصر پریس کانفرنس کے دوران کی بیٹی ایمان زینب مزاری بھی ان کے ساتھ کھڑی تھیں۔ شیریں مزاری نے کہا کہ جب وہ جیل میں تھیں تو ان کی بیٹی اور گھر والے بھی سخت پریشان ہوئے کیونکہ ان کی صحت کے بھی مسائل ان کے لیے پریشانی کا سبب بنے۔

  9. عدالت کا شاہ محمود قریشی کو رہا کرنے کا حکم, شہزاد ملک بی بی سی اردو

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شاہ محمود قریشی کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ شاہ محمود قریشی کے وکلا نے بیان حلفی جمع کروا دیا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے شاہ محمود قریشی کی رہائی بیان حلفی سے مشروط کی تھی۔

    شاہ محمود قریشی کے وکلا کی جانب سے بیان حلفی جمع کرانے کے بعد ان کو آج رہا کیے جانے کا امکان ہے۔

  10. اوپن اور انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت میں مزید اضافہ, تنویر ملک ، صحافی

    پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں منگل کے روز ڈالر کی قیمت میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں تین روپے اضافے کے بعد ڈالر کی قیمت 308 روپے پر بند ہوئی جو گذشتہ روز 305 روپے پر بند ہوئی تھی۔

    انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت میں 59 پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور کاروبار کے اختتام پر اس کی قیمت 287.15 پر بند ہوئی ۔

  11. ہنگو میں گیس فیلڈ پر نامعلوم افراد کے حملے میں چھ سکیورٹی اہلکار ہلاک

    خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں گیس فیلڈ پر نامعلوم افراد کے حملے میں چھ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

    حکام کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں نے حملہ آوروں کا دو سے ڈھائی گھنٹوں تک مقابلہ کیا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ’یہ واقعہ نیم شب کے وقت مول کمپنی کی گیس فیلڈ نمبر 8 اور نمبر 10 کے قریب پیش آیا ہے۔

    پولیس اہلکاروں نے بی بی سی کو بتایا کہ حملہ آور اسلحہ سے لیس تھے اور انھوں نے وہاں تعینات اہلکاروں پر حملہ کیا ہے۔ جس میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کے چار اہلکار اور پرائیویٹ کمپنی کے دو سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

    اس علاقے میں مول پاکستان آئل اینڈ گیس کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ ان گیس فیلڈ میں کام کر رہی ہے۔

    ہنگو کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس عرفان خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’حملہ نیم شب کو کیا گیا ہے اور گیس کے یہ کنویں پہاڑی علاقے میں واقع ہیں۔ حملہ آوروں کے تعداد لگ بھگ 20 کے قریب تھی۔

    ’ان کنوؤں کی حفاظت کے لیے مامور فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پرائیویٹ سکیورٹی اہلکاروں نے مقابلہ کیا جو دو سے ڈھائی گھنٹوں تک جاری رہا۔‘

    اس گیس کمپنی کے حکام نے بتایا ہے کہ حملہ آووروں نے پہلے ایم 8 یعنی گیس فیلڈ نمبر آٹھ پر حملہ کیا جہاں اہلکار مقابلہ کر رہے تھے کہ اتنے میں حملہ آوروں کے دوسرے گروہ نے ایم 10 یعنی کنواں نمبر 10 پر حملہ کر دیا تھا۔

    ہنگو اور کرک میں گیس فیلڈ کے گیارہ کنویں ہیں جہاں سے گیس کی پیداوار جاری ہے۔ حملہ آوروں کی تعداد کے بارے میں متضاد اطلاعات موصول ہوئی ہیں ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں کنوں پر حملوں میں 40 سے 50 حملہ آور آئے تھے جو فائرنگ کے بعد وہاں سے فرار ہو گئے ہیں۔

    ایسی اطلاعات ہیں کہ کچھ عرصے میں ان گیس فیلڈز پر یہ تیسرا حملہ ہے۔ چند ماہ قبل ایک حملے میں ایک اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا تھا جبکہ اس کے بعد دوسرا حملہ پسپا کر دیا گیا تھا۔

  12. القادر ٹرسٹ کیس: عمران خان نیب کے سامنے پیش

    پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان القادر ٹرسٹ کیس میں آج نیب کے سامنے پیش ہو گئے ہیں۔

    نیب کی ٹیم نے عمران خان کو 18 مئی کو طلب کیا تھا تاہم وہ غیر حاضر رہے۔ نیب کی کمبائنڈ انوسٹی گیشن ٹیم عمران خان کو شامل تفتیش کرے گی۔

    خیال رہے کہ نیب عمران خان سے 19 کروڑ پاونڈز کی غیر قانونی منتقلی سے متعلق 20 سوالوں کے جواب طلب کیے ہیں۔

    نیب کے مطابق عمران خان کے 1992 کے بعد کے اثاثوں کا مکمل جائزہ لیا جائے گا۔

    نیب نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ عمران خان نے 2 مارچ کے کال اپ نوٹس میں نہ پیش ہوئے نہ ہی کوئی جواب دیا اور وہ جان بوجھ کر نیب انکوائری سے راہ فرار اختیار کر رہے ہیں۔

    نیب کی جانب سے عمران خان سے برطانوی کرائم ایجنسی کے ساتھ خط و کتابت سمیت دیگر ریکارڈ طلب کیے گئے ہیں۔

  13. سپریم کورٹ میں پنجاب اسمبلی انتخابات کے معاملے پر نظرِثانی درخواست کل دوبارہ ہو گی

    سپریم کورٹ میں پنجاب اسمبلی انتخابات کے معاملے پر سماعت آج دن 12 بجے ہو گی جس میں چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

    بنچ میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بھی شامل تھے۔ خیال رہے کہ الیکشن کمیشن، وفاق اور نگران حکومت پنجاب نے نظر ثانی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔

    خیال رہے کہ عدالت نے پنجاب میں 14 مئی کو اسمبلی انتخابات کروانے کا حکم جاری کر رکھا ہے۔

    سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواست کی سماعت اب کل دوبارہ ہو گی۔

  14. بریکنگ, انسداد دہشت گردی عدالت نے عمران خان کی سات مقدمات میں آٹھ جون تک عبوری ضمانت میں توسیع کر دی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد

    اسلا آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی سات مقدمات میں آٹھ جون تک عبوری ضمانت میں توسیع کر دی ہے۔

    انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج راجہ جواد عباس نے ان مقدمات کی تحقیقات کرنے والی ٹیم پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس ٹیم کے ارکان کی سنجیدگی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ آج کوئی بھی رکن عدالت میں پیش نہیں ہوا۔

    انسداد دہشت گردی کی عدالت میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف سات مقدمات میں عبوری ضمانتوں کی درخواست کی سماعت کے دوران ان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ان کے موکل کی تمام مقدمات میں ضمانت کو منظور کیا جائے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ان تمام مقدمات کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنائی گئی ہے اور عمران خان اس ٹیم کے سامنے پیش ہونے کو تیار ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اگر تفتیشی ٹیم نے ان کے موکل سے کوئی سوال کرنا ہے تو ان کی نظر میں بہتر یہی ہو گا کہ تفتیشی افسر کمرہ عدالت میں ہی ان کے موکل سے تفتیش کر لے۔‘

    اس مقدمے کے پراسیکوٹر راجہ رضوان عباسی نے عدالت کو بتایا کہ صرف چار مقدمات کی تحققیات کے لیے جے آئی ٹی بنائی گئی تھی اور اس میں بھی عمران خان پیش نہیں ہوئے جبکہ اس ضمن میں انھیں متعدد بار نوٹسز جاری کیے گئے تھے۔

    عدالت نے عمران خان کے خلاف مقدمات کی تفتیش کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو آج ہی عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

  15. بریکنگ, القادر ٹرسٹ کیس: بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت قبل از گرفتاری 31 مئی تک منظور

    اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی القادر ٹرسٹ کیس میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کر لی ہے۔

    اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کر لی ہے۔ عدالت نے انھیں 31مئی تک عبوری ضمانت دی ہے۔

    عدالت نے ملزمہ کے وکیل کو پانچ لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

    بشریٰ بی بی کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ ان کی مؤکلہ کو نیب کی طرف سے کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا تھا۔

    واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو نے بشریٰ بی بی کو القادر ٹرسٹ کیس میں شامل تفتیش ہونے کے لیے نوٹس جاری کر رکھا ہے۔

    لاہور ہائی کورٹ نے اس مقدمے میں بشریٰ بی بی کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کی تھی اور انھیں 23 مئی تک متعقلہ عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

  16. نیب کی القادر ٹرسٹ تحقیقات اور انسداد دہشتگردی عدالت میں پیشی کے سلسلے میں عمران خان بشریٰ بی بی کے ہمراہ اسلام آباد پہنچ گئے

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نیب کی القادر ٹرسٹ تحقیقات اور انسدادِ دہشتگردی عدالت میں سات مقدمات میں پیشی کے لیے اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی کے ہمراہ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔

    نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق عمران خان کے ہمراہ کوئی پارٹی رہنما یا کارکنان نہیں ہیں۔ گذشتہ روز عمران خان نے کارکنوں سے خطاب میں کہا تھا کہ انھیں خدشہ ہے کہ اسلام آباد میں انھیں اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر لیا جائے گا۔

    دوسری جانب اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں عمران خان کے خلاف سات مقدمات کی سماعت ہو گی۔ عدالت نے انھیں ان مقدمات میں 23 مئی تک ضمانت دے رکھی تھی۔

    اس کے علاوہ جج دھمکی کیس کی سماعت ضلع کچہری میں ہے۔ عمران خان کی وکلا ٹیم کے مطابق عمران خان پہلے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہوں گے۔

    القادر ٹرسٹ کیس کیا ہے؟

    القادر ٹرسٹ کیس اس ساڑھے چار سو کنال سے زیادہ زمین کے عطیے سے متعلق ہے جو بحریہ ٹاؤن کی جانب سے القادر یونیورسٹی کے لیے دی گئی تھی۔

    پی ڈی ایم کی حکومت نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ یہ معاملہ عطیے کا نہیں بلکہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض اور عمران خان کی حکومت کے درمیان طے پانے والے ایک خفیہ معاہدے کا نتیجہ ہے اور حکومت کا دعویٰ تھا کہ 'بحریہ ٹاؤن کی جو 190ملین پاؤنڈ یا 60 ارب روپے کی رقم برطانیہ میں منجمد ہونے کے بعد پاکستانی حکومت کے حوالے کی گئی وہ بحریہ ٹاؤن کراچی کے کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ملک ریاض کے ذمے واجب الادا 460 ارب روپے کی رقم میں ایڈجسٹ کر دی گئی تھی۔'

    حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس کے عوض بحریہ ٹاؤن نےمارچ 2021 میں القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کو ضلع جہلم کے علاقے سوہاوہ میں 458 کنال اراضی عطیہ کی اور یہ معاہدہ بحریہ ٹاؤن اور عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے درمیان ہوا تھا۔

  17. گردش ایام ہے یا کیا ہے؟ عاصمہ شیرازی کا کالم

  18. پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ اور سیاستدانوں کی لڑائی میں فوج ہی کیوں جیتتی رہی ہے؟

  19. ’شیریں مزاری نہیں ٹوٹیں گی، وہ بہت بہادر ہیں‘: عمران خان کی پی ٹی آئی رہنما کی دوبارہ گرفتاری کی مذمت

    پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ایک مرتبہ پھر رہنما پی ٹی آئی شیریں مزاری کی اڈیالہ جیل کے باہر سے گرفتاری کی مذمت کی ہے۔

    انھوں نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’یہ ریجیم نئی پستیوں کی جانب گامزن ہے۔ ان کی صحت خراب ہے اور انھیں عدالت کی جانب سے ضمانت ملنے کے باوجود دوبارہ گرفتار کر کے اس اذیت سے گزارنا دراصل ان کی ہمت توڑنے کی غرض سے ہے۔

    ’شیریں مزاری نہیں ٹوٹیں گی کیونکہ ان میں اب تک زندگی میں جتنے لوگوں سے میرا سامنا ہوا ان سے زیادہ بہادری ہے۔‘

  20. پاکستان میں مارشل لا جیسی صورتحال ہے، آرمی چیف ملک چلا رہا ہے: عمران خان

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت بہت کمزور ہوچکی ہے اور بظاہر یہ ایک مارشل لا جیسی صورتحال ہے۔

    ٹائمز ریڈیو کو دیے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت (ملک میں) جمہوریت رُک چکی ہے کیونکہ بنیادی طور پر بظاہر مارشل لا جیسا منظر ہے۔ میرا مطلب ہے کہ ملک کو آرمی چیف چلا رہا ہے۔‘

    ’تاہم ملک میں جمہوریت کا مستقبل روشن ہے کیونکہ جس پارٹی کا ملک میں 70 فیصد ووٹ بینک ہو، اسے ایسے اقدامات سے روکا نہیں جاسکتا۔‘

    القادر ٹرسٹ کیس پر تبصرہ کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’یہ ظاہر نہیں کیا گیا کہ ٹرسٹ سے مجھے کیسے فائدہ ہوا۔ ٹرسٹ ڈیڈ میں درج ہے کہ ٹرسٹی کوئی مالی فائدہ، جیسے تنخواہ، حاصل نہیں کرسکتا۔‘

    ’گرفتاری کی صورت میں پارٹی کو پُرامن رہنے کا پیغام دیا ہے‘

    عمران خان نے اپنے کارکنان کو پیغام دیا ہے کہ منگل کو اسلام آباد میں ان کی گرفتاری کی صورت میں جماعت پُرامن رہے اور پُرتشدد سرگرمیوں کا حصہ نہ بنے۔

    ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’جب بھی تشدد ہو تو حکومت کو کریک ڈاؤن کا بہانہ مل جاتا ہے۔ میری ہمیشہ سے کارکنان کو تجویز رہی ہے کہ ہمیں پُرتشدد سرگرمیوں کی ضرورت نہیں۔۔۔ بڑے ووٹ بینک والی پارٹیوں کو امن اور الیکشن درکار ہوتے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ تشدد کا راستہ وہ اختیار کرتے ہیں جو الیکشن سے خوفزدہ ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ حکومت کو کسی بھی مقدمے میں انھیں گرفتار کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ ’میں کل اسلام آباد متعدد مقدمات کے لیے پیش ہو رہا ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ میری گرفتاری کا بڑا امکان ہے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے ’پارٹی کو واضح پیغام دیا ہے کہ مجھے پُرتشدد مظاہرے نہیں چاہییں۔ میں نے انھیں محدود اظہار کی تجویز دی ہے کہ کیونکہ پی ٹی آئی سے وابستہ ہر شخص کو جیل میں ڈالا جا رہا ہے۔‘