آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

سنا ہے مذاکرات ہو رہے ہیں، ہم سپورٹ کے لیے موجود ہیں بصورتِ دیگر ہمارا فیصلہ موجود ہے: چیف جسٹس بندیال

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا ہے کہ ’ہمیں بتایا گیا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ ہمیں اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں۔ ہم ان کی سپورٹ کے لیے موجود ہیں اور دوسری صورت میں ہمارا فیصلہ موجود ہے۔‘

لائیو کوریج

  1. اپر کرم میں ہلاک سات افراد کی میتیں ورثا کے حوالے

    اپر کرم میں آج فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں میں سے سات افراد کی لاشیں ان کے ورثا کے حوالے کر دی گئی ہیں۔

    ڈی ایم ایس کرم ہسپتال ڈاکٹر قیصر نے بی بی سی کے بلال احمد سکو بتایا کہ’ سات افراد کی لاشیں ڈی ایچ کیو ہسپتال کو موصول ہوئی ہیں جنھیں پوسٹ مارٹم کے بعد ورثاء کے حوالے کردیا گیا ہے۔

    ڈاکٹر کے مطابق ’تمام افراد کی ہلاکت بلٹ انجری سے ہوئی ہے۔‘

  2. حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان صرف جس بات پر اتفاق نہیں ہوا وہ تاریخوں پر تھا: وفاقی وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ

    وفاقی وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ کا کہنا ہے کہ حکومتی اتحاد اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کی وجہ سے برف پگھلی ہے تاہم جس پر دونوں کمیٹیوں کا اتفاق نہیں ہو سکا وہ الیکشن کی تاریخ تھی۔

    جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں اینکر حامد میر کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے اعظم نزیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ’پارلیمنٹ نے حکومت کو پابند کیا ہے کہ وہ چار ججز کا فیصلہ کو مانتی ہے اور بعد میں آنے والے تین رکنی بینچ کو نہیں مانتی۔‘

    انھوں نے کہا ’ ہم نے یہ بھی بتایا کہ ہم نہیں چاہتے نگران حکومت کے دور میں کوئی بڑا معاشی دھماکا ہو۔ فائنل دن مذاکرات میں بات اس ٹائم لائن کے اردگرد چل رہی تھی کہ سمتبر کے آخر یا اکتوبر کے شروع میں انتخابات ہوں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ تاہم پی ٹی آئی کمیٹی کا کہنا تھا اسمبلیاں 14 مئی سے پہلے ختم کرنے کی یقین دہانی کروائیں ۔ لیڈر شپ کا حکم ہے کہ 14 مئی پر کھڑے رہیں۔‘

    اعظم نزیر تارڑ کے مطابق ’مذاکرات اس نوٹ کے ساتھ ختم ہوئے تاکہ اگر آگے بات چیت ہو تو یہیں سے آغاز ہو سکے۔‘

    وفاقی وزیر کا دعویٰ تھا کہ ’ انھوں نے لچک دکھائی تھی اور اسی وجہ سے باہر آ کے جب میڈیا سے بات کی تو زبان ترش نہیں تھی اور جذبات پر بھی قابو تھا اور محتاط گفتگو کی تھی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اپنا جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا چکی ہے اور کل صبح حکومتی کمیٹی کا جواب بھی عدالت میں جمع ہو جائے گا۔

  3. سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے پاکستان بار کونسل کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا

    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور سیکرٹری نے پاکستان بار کونسل کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا۔

    صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری اور سیکرٹری مقتدر اختر شبیر نے پاکستان بار کے شوکاز نوٹس کے خلاف درخواست دائر کر دی ہے جس میں پاکستان بار کا شوکاز نوٹس کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے۔

    درخواست کے مطابق ’ وفاقی وزیر قانون پاکستان بار کونسل کے ممبر ہیں، سپریم کورٹ بار پاکستان بار کونسل کا جھکاو حکومت کی جانب ہے۔ عابد زبیری اور دیگر کو شوکاز نوٹس سیاسی بنیادوں پر جاری کیا ہے۔‘

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان بار کا شوکاز نوٹس غیر قانونی، دائرہ اختیار سے تجاوز اور آرٹیکل 9 کے خلاف ہے،عدالت پاکستان بار کونسل کو سپریم کورٹ بار کے معاملات میں دخل اندازی سے بھی روکے۔‘

    سپریم کورٹ بار نے درخواست میں پاکستان بار کونسل اور ایگزیکٹو کمیٹی کو فریق بنایا ہے۔ سپریم کورٹ بار نے درخواست ایڈووکیٹ حامد خان کی وساطت سے دائر کی ہے۔

    دوسری جانب پاکستان بار کونسل نے صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری اور سیکرٹری کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر شوکاز نوٹس جاری کر کے کام سے روک دیا ہے اور سیکرٹری خزانہ حفظہ بخاری کو سیکرٹری سپریم کورٹ بار کا اضافی چارج تفویض کر دیا ہے۔

    واضح رہے پاکستان بار نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری اور سیکریٹری کو شوکاز نوٹس جاری کیا تھا۔

  4. اساتذہ کے قتل کے خلاف پارا چنار میں احتجاج، ملزمان کی گرفتاری تک تعلیمی سرگرمیاں معطل کرنے کا اعلان

    پارہ چنار میں اساتذہ کے قتل کے خلاف اساتذہ کی مختلف تنظیموں نے احتجاج شروع کردیا ہے۔

    احتجاج کے دوران اساتذہ نے پریس کلب کے سامنے ٹائروں کو آگ لگا کر روڈ بلاک کردی ہے۔

    اساتذہ نے واقعہ کی مکمل تحقیقات، واقعہ میں ملوث ملزمان کی گرفتاری تک احتجاج اور تمام تعلیمی سرگرمیاں بطور احتجاج معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    اساتذہ کے مطابق ’کرم ضلع میں اس وقت تک احتجاج جاری رہے گا جب تک اساتذہ کو مکمل تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا۔‘

    ضلع کرم پولیس کے مطابق ’اب سے تھوڑی دیر پہلے سکول میں قتل ہونے والے اساتذہ اور مزدوروں کی لاشیں حاصل کرلی گئی ہیں۔ ن لاشوں کوپوسٹ مارٹم کے لیے ڈسڑکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال پارہ چنار پہنچایا جارہا ہے۔‘

    دوسری جانب اساتذہ کے قتل کے واقعے پر مختلف سیاسی و سماجی شخصیات کی جانب سے مذمت کی جا رہی ہے۔

    صدر عارف علوی نے اپنی ٹویٹ میں اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے لکھا ہے ’علم دشمنوں کی جانب سے اساتذہ پر حملہ قابل مذمت ہے۔‘

    واضح رہے ضلع کرم میں آج فائرنگ کے دو واقعات میں آٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں جن میں ذیادہ تر اساتذہ ہیں۔

  5. پاکستان میں دن بھر کی سیاسی صورتحال پر بی بی سی اردو کی خصوصی لائیو کوریج میں خوش آمدید

    پاکستان میں دن بھر کی سیاسی صورتحال پر بی بی سی اردو کی خصوصی لائیو کوریج میں خوش آمدید۔

    اس سے پہلے کی خبروں کے لیے یہاں کلک کریں۔