وفاقی وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ کا کہنا ہے کہ حکومتی اتحاد اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کی وجہ سے برف پگھلی ہے تاہم جس پر دونوں کمیٹیوں کا اتفاق نہیں ہو سکا وہ الیکشن کی تاریخ تھی۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں اینکر حامد میر کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے اعظم نزیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ’پارلیمنٹ نے حکومت کو پابند کیا ہے کہ وہ چار ججز کا فیصلہ کو مانتی ہے اور بعد میں آنے والے تین رکنی بینچ کو نہیں مانتی۔‘
انھوں نے کہا ’ ہم نے یہ بھی بتایا کہ ہم نہیں چاہتے نگران حکومت کے دور میں کوئی بڑا معاشی دھماکا ہو۔ فائنل دن مذاکرات میں بات اس ٹائم لائن کے اردگرد چل رہی تھی کہ سمتبر کے آخر یا اکتوبر کے شروع میں انتخابات ہوں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ تاہم پی ٹی آئی کمیٹی کا کہنا تھا اسمبلیاں 14 مئی سے پہلے ختم کرنے کی یقین دہانی کروائیں ۔ لیڈر شپ کا حکم ہے کہ 14 مئی پر کھڑے رہیں۔‘
اعظم نزیر تارڑ کے مطابق ’مذاکرات اس نوٹ کے ساتھ ختم ہوئے تاکہ اگر آگے بات چیت ہو تو یہیں سے آغاز ہو سکے۔‘
وفاقی وزیر کا دعویٰ تھا کہ ’ انھوں نے لچک دکھائی تھی اور اسی وجہ سے باہر آ کے جب میڈیا سے بات کی تو زبان ترش نہیں تھی اور جذبات پر بھی قابو تھا اور محتاط گفتگو کی تھی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اپنا جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا چکی ہے اور کل صبح حکومتی کمیٹی کا جواب بھی عدالت میں جمع ہو جائے گا۔