وفاقی وزیر اور چوہدری شجاعت کے صاحبزادے سالک حسین نے کہا ہے کہ ’یہ وفاقی حکومت کا آپریشن نہیں۔ بلکہ اینٹی کرپشن پنجاب کا آپریشن لگ رہا ہے۔‘
جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں بات کرتے ہوئے چوہدری سالک نے کہا ’ پرویز الہی کے گھر چھاپے کی وزیر اعظم نےکال کر کے اس کی مذمت کی ہےاور افسوس کااظہار کیا ہے۔ وزیر اعظم سے اس کی تحقیقات کا اعلان کرنے کی درخواست کروں گا۔
ان کے مطابق’ہرشخص کہہ رہا ہے کہ شاید ہم نے یہ آپریشن خود کروایا ہے۔ پرویز الہی یا کسی کے بھی خلاف ایسا کام ہو، میں نہیں کروا سکتا۔
مجھے سات ٹانکے لگے ان کو خراش بھی نہیں آئی اور مظلوم بھی وہ بن گئے ہیں۔‘
اسی معاملے پر وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پرویز الہی کے گھر پر ہونے والی کارروائی سے وفاقی حکومت کا تعلق نہیں۔
خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی سے ٹیلی فون پر رابطہ ہوا جس میں اسحاق ڈار نے کہا ’پرویز الہی کے گھر پر ہونے والی کارروائی سے وفاقی حکومت کا تعلق نہیں، واقعے کی وجوہات کا ابھی علم نہیں لیکن پاکستان تحریک انصاف کے جذبات سے اپنی قیادت کو آگاہ کروں گا۔‘
دوسری جانب نگران وزیراعلی پنجاب محسن نقوی نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ’کسی کو غیر قانونی کام کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
محسن نقوی نے کہا کہ ’میں مدینہ میں ہوں اور تمام تفصیلات حاصل کر رہا ہوں۔ یہ جان کر افسوس ہوا کہ ٹیم چوہدری پرویز الہی کو گرفتار کرنے گئی لیکن چوہدری شجاعت کے گھر پر دھاوا بول دیا جس میں چوہدری سالک حسین زخمی ہو گئے۔ قانون کو اپنا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔‘
خیال رہے کہ تحریک انصاف نے صدر پرویز الہی کے گھر میں پولیس آپریشن کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔
پولیس آپریشن کے خلاف پرویز الٰہی کے بیٹے راسخ الٰہی نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں پنجاب حکومت، اینٹی کرپشن اورآئی جی پنجاب کو فریق بنایا گیا ہے۔
دوسری جانب پنجاب پولیس نے پرویز الٰہی سمیت دیگر افراد کے خلاف دہشت گردی کی دفعات پر مقدمہ درج کر لیا ہے۔
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے پرویز الٰہی کے گھر پر چھاپے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان میں جنگل کا قانون ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ’اگر سابق وزیراعظم کو انصاف نہیں مل سکتا تو کسے ملے گا۔‘
عمران خان نے نے یکم مئی کو اسلام آباد، پشاور اور لاہور میں مزدودوں اور آئین کے لیے ریلی نکالنے کا اعلان بھی کیا ہے اور کہا ہے کہ لاہور کی ریلی کی قیادت وہ خود کریں گے۔
واضح رہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان انتخابات کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات کا تیسرا دور اب منگل کو ہو گا۔
اس حوالے سے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان واضح کر چکے ہیں کہ اگر حکومت اسمبلیاں توڑ دیتی ہے تو وہ ایک ساتھ انتخابات کے لیے تیار ہیں۔
عمران خان کے مطابق ’14مئی سے پہلے اسمبلی تحلیل کردی تو ہم پورے پاکستان میں الیکشن کے لیے تیار ہیں، بجٹ کے بعد اسمبلی تحلیل کرنے کی بات میں مجھے بدنیتی نظر آتی ہے۔‘