آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ پر اعتماد نہیں ہے: حکومتی جماعتوں کا فیصلہ

وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں ہونے والے حکومتی اتحادی جماعتوں کے اجلاس کے اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ملک بھر میں ایک ہی دن انتخاب ہونے چاہئیں، یہ غیر جانبدارانہ، شفاف اور آزادانہ انتخابات کے انعقاد کا بنیادی دستوری تقاضا ہے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, الیکشن التوا کیس: فل کورٹ کی تشکیل کی درخواست مسترد، سماعت پیر تک ملتوی

    چیف جسٹس نے انتخابات کے التوا کے معاملے میں حکومت کی جانب سے فل کورٹ بنانے کی درخواست مسترد کر دی ہے اور اس معاملے کی سماعت بھی پیر کی صبح تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

    عدالت نے آئندہ سماعت پر سیکریٹری دفاع اور سیکریٹری خزانہ کو طلب کیا ہے۔

    دوران سماعت جسٹس منیب اختر نے کہا کہ فل کورٹ کی استدعا کرنا ہر فریق کا حق ہے لیکن حکومت یہ تاثر دے کہ من پسند بینچ بن رہے ہیں تو یہ کتنا سنگین الزام ہے۔

    چیف جسٹس نے اس دوران ریمارکس دیے کہ اسمبلی تحلیل ہو تو نوے دن میں انتخابات ہونا ہوتے ہیں، اگر نوے دن میں الیکشن نہیں ہو سکتے تو مزید کتنے دن درکار ہوں گے، ہمیں اس نقطے پر غور کرنا ہے۔

    چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ عوام جاننا چاہتے ہیں کہ الیکشن کب ہوں گے۔

  2. آپ جذباتی ہو سکتے ہیں تو ہم بھی ہو سکتے ہیں: عرفان قادر

    سماعت میں اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں اپنے دلائل جلدی ختم کردوں گا جبکہ الیکشن کمیشن کے وکیل عرفان قادر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا موقف پورا نہیں سنا گیا۔

    اس پر چیف جسٹس نے انھیں کہا کہ اٹارنی جنرل کو بات مکمل کرنےدیں۔

    عرفان قادر کا کہنا تھا کہ ’میں صرف تین منٹ بات کرتا ہوں۔ روز مجھے گھنٹوں بیٹھنا پڑتا ہے۔ آپ جذباتی ہو سکتے ہیں تو ہم بھی ہو سکتے ہیں۔‘

    چیف جسٹس نے انھیں کہا کہ آپ کو سنیں گے آپ نے تین منٹ کا کہا ہے۔ عرفان قادر نے کہا کہ ’تین منٹ نہیں بلکہ مختصرا بات مکمل کرنے کی کوشش کروں گا۔

  3. سپریم کورٹ متحد تھی، کچھ معاملات میں اب بھی ہے: چیف جسٹس

    سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت سے پہلے دن فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا کی تھی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ فل کورٹ والا معاملہ میرے ذہن میں تھا، آپ اس نکتے پر آپ دلائل ضرور دیں۔

    انھوں نے کہا کہ عدالت کو بینچ بناتے وقت بہت کچھ ذہن میں رکھنا ہوتا ہے۔ ’ایک بات یہ ذہن میں ہوتی ہے کہ معمول کے مقدمات متاثر نہ ہوں۔ موجودہ دور میں روز نمٹائے گیے مقدمات کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ بعض اوقات تمام ججز دستیاب نہیں ہوتے۔

    نو رکنی بینچ تشکیل دیتے وقت تمام ججز کے بارے میں سوچا۔ جسٹس اطہر من اللہ کو آئین سے ہم آہنگ پایا، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس منیب اختر آئین کے ماہر ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن بھی آئین کے ماہر ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’آپ پوچھ سکتے ہیں جسٹس مظاہر نقوی کیوں شامل کیے گئے۔ انھیں شامل کرنا خاموش پیغام دینا تھا۔‘

    چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ تمام ججوں کو سنی سنائی باتوں پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، سپریم کورٹ متحد تھی، کچھ معاملات میں اب بھی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ عدلیہ کس طرح متاثر ہو رہی ہے، کوئی نہیں دیکھتا، اہم عہدوں پر تعینات لوگ کس طرح عدلیہ کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ انھیں کہا جا رہا ہے کہ ایک اور جج کو سزا دوں، جا کر پہلے ان شواہد کا جائزہ لیں۔ آڈیو لیک کی بنیاد پر کیسے نشانہ بنایا جائے۔ قانون پر بات کریں تو میں بطور جج سنوں گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’میرے ججز کے بارے میں بات کریں گے تو میرا سامنا کرنا پڑے گا۔ میرا بھی دل ہے میرے بھی جذبات ہیں۔ جو کچھ کیا پوری ایمانداری سے اللہ کو حاضر ناظر جان کر کیا۔ جو کچھ آج تک کیا آئیں اور قانون کے مطابق کیا۔‘

    سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ ادھر ادھر کی باتوں سے میں جذباتی ہوگیا تھا۔

  4. آپ درجہ حرارت کم کرنے والی بات کر رہے تھے۔ ہم تو تنقید کا جواب بھی نہیں دے سکتے: چیف جسٹس

    سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے کہا کہ آج جسٹس مندوخیل کا نوٹ بھی پڑھا ہے، عدالت کا سرکیولر بھی پڑھا۔ دوسرا فیصلہ یکم مارچ کے فیصلے کے تناسب کا ہے۔ تیسرا نکتہ بھی یکم مارچ کے فیصلے کی بنیاد پر ہی ہے۔ موجودہ درخواست کی بنیاد یکم مارچ کا عدالتی حکم ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ نو رکنی بنچ کے دو اراکین نے بنچ سے رضاکارانہ بنچ سے علیحدگی اختیار کی تھی۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ سے کس نے کہا ہے کہ دو جج بنچ سے الگ ہوئے ہیں۔ عدالت کا 27 فروری کا حکم پڑھیں اس میں کہاں لکھا ہے یہ؟

    چیف جسٹس نے کہا کہ معاملہ چیف جسٹس کو بینچ کی ازِ سر نو تشکیل کے لیے بھیجا گیا تھا۔ میں چاہتا تو تمام جج بھی تبدیل کر سکتا تھا۔ اگر آپ وہی کرنا چاہتے ہیں جس سے مسئلہ بنا تو یہ ہماری پرائیوسی میں مداخلت ہوگی۔

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ آپ نے کہا کہ ججز نے سماعت سے معذرت نہیں کی تھی۔ اس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ انھوں نے اس حوالے سے کچھ نہیں کہا۔

    جسٹس بندیال کا کہنا تھا کہ سماعت روکنے والا حکم ہم جج آپس میں زیر بحث لائیں گے۔

    انھوں نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ درجہ حرارت کم کرنے والی بات کر رہے تھے۔ ہم تو تنقید کا جواب بھی نہیں دے سکتے۔ ججز کی اندرونی گفتگو عوام میں نہیں کرنی چاہیے۔ درجہ حرارت کم کرنے والی آپشن پر ہی رہیں، جلد ہی ان معاملات کو سلجھا دیں گے۔

  5. عدالت مشکلات پیدا کرنے نہیں بیٹھی، التوا کی ٹھوس وجہ بتائیں یا ڈائیلاگ شروع کریں: جسٹس بندیال

    الیکشن کے التوا کے معاملے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ صدرِ پاکستان نے پنجاب میں الیکشن کے لیے 90 دن کی مدت کے 15 دن بعد کی تاریخ دی۔ ان کے مطابق صدر کو الیکشن کمیشن نے حالات نہیں بتائے تھے اور اگر انھیں حالات سے آگاہ کیا جاتا تو شاید 30 اپریل تاریخ نہ آتی۔

    جسٹس بندیال کا کہنا تھا کہ عدالت کے سامنے مسئلہ آٹھ اکتوبر کی تاریخ کا ہے۔

    انھوں نے ریمارکس دیے کہ عدالت مشکلات پیدا کرنے نہیں بیٹھی، التوا کی ٹھوس وجہ بتائیں یا ڈائیلاگ شروع کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک فریق پارٹی چیئرمین کی ضمانت دے رہا ہے اور شاید حکومت کو بھی ماضی بھلانا پڑے گا۔

    جسٹس بندیال نے کہا کہ اسمبلیوں کی مدت ویسے بھی اگست بھی مکمل ہو رہی ہے اور اگر حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات ہوں تو کچھ دن وقفہ کر لیں گے۔

    انھوں نے متنبہ کیا کہ اگر حکومت اور اپوزیشن اس معاملے پر مذاکرات نہیں کرتے تو پھر عدالت آئینی کردار ادا کرے گی۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ عدالتی فیصلہ دیکھ کر آپ کہیں گے کہ بااختیار فیصلہ ہے اور ہر فریق کے ہر نکتے کا فیصلے میں ذکر کیا جائے گا۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ 20 ارب کے اخراجات پر پہلے عدالت کو بتائیں۔ ہم نے اخراجات کم کرنے کی تجویز دی تھی۔ دوسرا مسئلہ سکیورٹی کا ہے، نصف پولنگ سٹیشنز خاصے حساس یا حساس ہیں۔صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ملک میں دہشتگردی ہے۔عدالت کو بتایا گیا کہ افواج سرحد پر مصروف ہیں۔

  6. ہم چاہتے ہیں ملک بھر میں معاملات افہام و تفہیم سے حل ہوں: اٹارنی جنرل

    سماعت کے دوران اٹارنی جنرل عثمان منصور نے روسٹرم پر آتے ہی عدالت سے درخواست کی کہ درجہ حرارت کم کیا جائے۔

    چیف جسٹس نے انھیں کہا کہ درجہ حرارت کم ہی ہے، آپ نے اسے کم کرنے کے لیے کیا کیا ہے؟

    اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ کچھ وقت مل جائے تو درجہ حرارت کم کرسکتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں ملک بھر میں معاملات افہام و تفہیم سے حل ہوں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے ہمیشہ آئین کو فوقیت دی ہے۔ ہم نے وہ دور بھی دیکھا جب ججوں کو دفاتر سے نکال گھروں میں قید کیا اور یہ معجزہ ہے کہ جج واپس آئے۔

  7. سیاسی معاملات کی وجہ سے اختلافات آئے اور ہم مل کر اس صورتحال سے نمٹیں گے: چیف جسٹس

    سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے الیکشن کے التوا کے معاملے کی سماعت شروع کر دی ہے۔ ابتدا میں چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے اس معاملے کی سماعت کی تھی لیکن جمعرات کو جسٹس امین الدین اور جمعے کو جسٹس جمال مندوخیل کے بینچ سے علیحدہ ہونے کے بعد اب یہ جسٹس عمر بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل ہے۔

    سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایک بات آپ کو بتا دیں ہمارے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔ کچھ اختلافات سامنے آئے ہیں مگر ہمارا ایک دوسرے سے قریبی تعلق ہے۔

    چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ کچھ سیاسی معاملات کی وجہ سے اختلافات آئے اور ہم مل کر اس صورتحال سے نمٹیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ وہ آج سے مشاورت کا عمل شروع کریں گے اور پیر تک حالات بہتر ہو جائیں گے۔ جسٹس بندیال کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس صورتحال میں پاکستان بار کونسل کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تھا اور سپریم کورٹ کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تھا۔ انھوں نے کہا کہ عدالت اور بار ایک دوسرے کے بغیر کچھ نہیں۔ سماعت جاری ہے۔

  8. صدر کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف کیوریٹیو ریویو پیٹیشن واپس لینے کی منظوری

    صدر پاکستان عارف علوی نے جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف کیوریٹیو ریویو پیٹیشن واپس لینے کی منظوری دے دی ہے۔

    صدر مملکت نے یہ منظوری آئین کے آرٹیکل 48 ایک کے تحت وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر دی۔

    شہباز شریف نے کل یہ درخواست واپس لینے کا اعلان کیا تھا۔

  9. ‏چیف جسٹس کا پنجاب اور خیبرپختونخوا انتخابات التوا کیس کی کارروائی آگے بڑھانے کا فیصلہ

    انتخابات التوا کیس کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ نے نیا بینچ تشکیل دے دیا ہے۔

    رجسٹرار کی جانب نئی کاز لسٹ جاری کی گئی ہے جس کے مطابق اس تین رکنی بینچ کی سر براہی چیف جسٹس کریں گے جبکہ دیگر دو ارکان میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر شامل ہیں۔

    یہ بینچ دو بجے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں الیکشن کی التوا کے حوالے سے تحریکِ انصاف کی درخواست کی سماعت کرے گا۔

    اس سے قبل یہ تینوں جج اس چار رکنی بینچ کے رکن تھے جو جسٹس جمال مندوخیل کی جانب سے معذرت کے بعد آج صبح ٹوٹ گیا تھا۔

    بینچ دوسری بار ٹوٹنے کے بعد وزیر قانون اعظم نذیر تاررڑ نے کمرۂ عدالت میں اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، الیکشن کمیشن کے وکیل عرفان قادر، پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق نائیک، مسلم لیگ ن کے وکیل اکرم شیخ اور معاون خصوصی عطا تاررڑ سے مشاورت کی۔

  10. الیکشن التوا کیس کی سماعت دو بجے تک ملتوی

    پنجاب اور خیبرپختونخوا الیکشن میں التوا سے متعلق مقدمے کی سماعت کو دو بجے تک ملتوی کیا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ آج سماعت کے آغاز پر ہی جسٹس جمال مندوخیل کی جانب سے اختلافی نوٹ سامنے آیا تھا جس میں انھوں نے بینچ کا حصہ بننے سے معذرت کر لی تھی جس کے بعد بینچ دوبارہ ٹوٹ گیا تھا۔

  11. قاضی فائز عیسی کے فیصلے کو سرکلر سے ختم نہیں کیا جا سکتا، رانا ثنا اللہ

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ از خود نوٹس اختیار پر جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ کا فیصلہ رجسٹرار آفس کے سرکلر سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں بنچ نے سو موٹو کے متعلق فیصلہ دیا جو ایک معزز جج کا فیصلہ ہے۔

    ’میں نے آج تک یہ بات نہیں سنی کہ سپریم کورٹ کے بنچ کے فیصلے کو رجسٹرار کے سرکلر سے کالعدم کر دیا جائے۔ رجسٹرار کی سپریم کورٹ کے بنچ کے سامنے کوئی حیثیت نہیں ہے۔‘

    وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ’جب تک قاضی فائز عیسی کا فیصلہ چیلنج نہیں ہوتا، وہ سب پر لاگو ہو گا۔ اس طرح تو کوئی بھی سرکلر جاری کر سکتا ہے۔‘

  12. پارٹی بازی سپریم کورٹ کا کلچر نہیں ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پارٹی بازی سیاست دانوں میں تو ہوتی ہے لیکن ’یہ سپریم کورٹ کا کلچر نہیں ہے۔‘

    عدالتی بنچ ٹوٹ جانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ ’اس وقت اعتماد کا فقدان ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’بدقسمتی ہے کہ سیاست دانوں اور عوام کے پاس آخری راستہ اور اخری منزل سپریم کورٹ ہوتی ہے تاہم یہاں ایک ہیجانی کیفیت ہے۔‘

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ فل کورٹ بنا لیں، آج تین رہ گئے ہیں۔ اعتماد بحال کرنا ہے، اتحاد بحال کرنا ہے تو فل کورٹ ہونا چاہیے۔‘

  13. الیکشن التوا کیس: سپریم کورٹ کی تقسیم ختم ہونی چاہیے، عطا تارڑ

    ن لیگ رہنما اور معاون خصوصی عطا تارڑ نے الیکشن التوا کیس میں ایک بار پھر بنچ ٹوٹ جانے کے بعد کہا ہے کہ اس معاملے پر اب فل کورٹ بننا چاہیے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ تقسیم نہ ہو۔‘ عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ ’فل کورٹ میں مشاورت ہونی چاہیے تاکہ آئینی بحران کو ختم کیا جائے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’سپریم کورٹ کی تقسیم باہر سے نہیں، اندر سے ختم ہو گی اور مشاورت سے ختم ہو گی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ سرکلر آرڈر کے ذریعے سینیئر جج کے فیصلے کو کالعدم قرار دینا ایک غلط روایت ہے۔

  14. الیکشن التوا کیس: جسٹس جمال مندوخیل کی سماعت سے معزرت، سپریم کورٹ کا بنچ ایک بار پھر ٹوٹ گیا

    پنجاب اور خیبر پختونخوا کے صوبائی الیکشن میں التوا کے معاملے پر سماعت کرنے والا سپریم کورٹ کا بنچ جمعے کے دن ایک بار پھر اس وقت ٹوٹ گیا جب جسٹس جمال مندوخیل نے کیس کی مذید سماعت سے معزرت کر لی۔

    یاد رہے کہ گذشتہ روز جسٹس امین نے بھی خود کو کیس سے الگ کر لیا تھا جس کے بعد پانچ رکنی بنچ ٹوٹ گیا تھا۔

    تاہم چیف جسٹس سپریم کورٹ عمر عطا بندیال کی جانب سے مختصر فیصلہ کیا گیا تھا کہ جمعے کے دن چار رکنی بنچ کیس کی سماعت جاری رکھے گا۔

    جمعے کے دن سماعت کا آغاز ہوا تو جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے مختصر فیصلے پر ان سے مشاورت نہیں کی۔

    انھوں نے کہا کہ ’شاید میں اس بنچ میں مس فٹ ہوں اور میری رائے کی ضرورت نہیں ہے۔‘

  15. ازخود نوٹس اختیارات پر جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس امین کا فیصلہ قانونی طور پر لاگو نہیں ہو گا، سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسی کی جانب سے دیے جانے والے فیصلے پر سرکلر جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ دو رکنی بنچ کا فیصلہ قانونی طور پر لاگو نہیں ہو گا۔

    رجسٹرار سپریم کورٹ کے دفتر سے جاری ہونے والے سرکلر میں کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز اور جسٹس امین پر مشتمل دو رکنی بنچ کا فیصلہ صحافیوں سے متعلق از خود نوٹس کیس کے پانچ رکنی بنچ کے فیصلے کے منافی ہے۔

    سرکلر میں لکھا گیا ہے کہ پانچ رکنی سپریم کورٹ بنچ قرار دے چکا ہے کہ از خود نوٹس کا اختیار چیف جسٹس کے پاس ہے اور لارجر بنچ نے جو قانون وضع کیا، دو رکنی بنچ کا فیصلہ اس کے برعکس ہے۔

    سرکلر میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس از خود نوٹس اختیارات کا استعمال کسی جج یا پھر عدالتی بنچ کی تجویز پر آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت کرتے ہیں۔

    بدھ کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے اکثریتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کے قواعد و ضوابط میں ترمیم تک از خود نوٹس کا اختیار استعمال نہیں ہونا چاہیے اور جب تک بینچوں کی تشکیل سے متعلق چیف جسٹس کے اختیارات میں ترمیم نہیں ہوتی ایسے تمام مقدمات کو ملتوی کردیا جائے۔

    گذشتہ روز پنجاب اور خیبر پختونخوا کے صوبائی الیکشن میں التوا کے معاملے پر سماعت شروع ہوئی تو بنچ میں شامل جسٹس امین الدین کا کہنا تھا بدھ کو ایک ازخود نوٹس کے حوالے سے حکم نامہ جاری ہوا جس کا وہ خود حصہ تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس حکم نامے میں آئین کے آرٹیکل 184(3) کے مقدمات کی سماعت موخر کرنے کے لیے کہا گیا تھا لیکن یہ بینچ چونکہ معاملے کی سماعت جاری رکھنا چاہتا ہے اس لیے وہ خود کو بینچ سے الگ کر رہے ہیں۔

  16. سپریم کورٹ میں الیکشن التوا کا کیس: بینچ میں جسٹس امین الدین شامل نہیں ہوں گے

    سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری کردہ اپ ڈیٹ کے مطابق الیکشن التوا سے متعلق تحریک انصاف کی درخواست پر سماعت آج دن ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

    عدالت کے مختصر حکم کے مطابق بینچ میں جسٹس امین الدین شامل نہیں ہوں گے اور چیف جسٹس کی سربراہی میں چار رکنی لارجر بنچ سماعت کرے گا۔

    واضح رہے کہ گذشتہ روز (جمعرات) کو جسٹس امین الدین کی جانب سے اس کیس کی سماعت سے انکار کیا گیا تھا، جس کے بعد یہ بینچ تحلیل ہو گیا تھا۔

  17. جوڈیشل کمپلیکس میں ہنگامہ آرائی کا مقدمہ: 72 ملزمان کو شناخت پریڈ کے بعد رہا کرنے کی خبر میں کوئی صداقت نہیں: اسلام آباد پولیس

    پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی پیشی کے موقع پر جوڈیشل کمپلیکس میں توڑ پھوڑ اور ہنگامہ آرائی کے مقدمے کے حوالے سے اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ 72 ملزمان کو شناخت پریڈ کے بعد رہا کرنے کی خبر میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ جمعرات کے روز کسی ملزم کی شناخت پریڈ نہیں ہوئی۔ تمام ملزمان جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں جن کی شناخت پریڈ آج یعنی جمعے کو ہو گی۔

  18. بینچز کی تشکیل چیف جسٹس پاکستان کا انتظامی اختیار ہے: جسٹس شاہد کا اختلافی نوٹ

    سپریم کورٹ میں حافظ قرآن کو میڈیکل ڈگری میں 20 اضافی نمبر دینے سے متعلق از خود نوٹس کیس میں جسٹس شاہد وحید نے پانچ صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ جاری کر دیا۔

    نوٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس امین الدین کے فیصلے سے اتفاق نہیں کرتے اور از خود نوٹس میں وہ باتیں زیر بحث لائی گئیں جو کیس کا حصہ ہی نہیں تھیں۔

    جسٹس شاہد کا کہنا ہے کہ بینچز کی تشکیل چیف جسٹس پاکستان کا انتظامی اختیار ہے اور خصوصی بنچ بھی قانون کے مطابق تشکیل دیا گیا۔

    ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ ازخود نوٹس نمبر 4/ 2022 میں قرار دے چکی ہے کہ چیف جسٹس ہی بینچ بنانے کا اختیار رکھتے ہیں اور جج بینچ کی تشکیل پر اعتراض نہیں اٹھا سکتے اور اگر ججوں کو بینچ کی تشکیل پر اعتراض تھا تو وہ کیس سننے سے معذرت کر سکتے تھے۔

  19. عمران خان: ’فرق نہیں پڑتا کہ بینچ پانچ رکنی ہو یا فل، ہم صرف الیکشن چاہتے ہیں‘

    عمران خان نے کہا ہے کہ انھیں فرق نہیں پڑتا کہ سپریم کورٹ کا بینچ پانچ رکنی ہو یا فل بلکہ وہ صرف نوے روز میں الیکشن کا انعقاد چاہتے ہیں۔

    اپنی ٹویٹ میں انھوں نے مزید کہا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا اسلمبلیاں تحلیل کرنے سے پہلے انھوں نے آئینی ماہرین سے مشاورت کی تھی، جنھوں نے بتایا تھا کہ نوے روز میں الیکشن کا انعقاد لازمی ہے۔

  20. وزیراعظم نے جسٹس قاضی فائز کے خلاف کیوریٹیو ریویو ریفرنس واپس لینے کا حکم دے دیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے سپریم کورٹ کے سینیئر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹیو ریویو ریفرنس واپس لینے کا حکم دے دیا۔

    حکومت نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کی پیروی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ریفرنس کے نام پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کے اہلِ خانہ کو ہراساں اور بدنام کیا گیا اور یہ ریفرنس کوئی ریفرنس نہیں تھا، یہ ایک منصف مزاج جج کے خلاف منتقم مزاج عمران نیازی کی انتقامی کارروائی تھی۔

    انھوں نے کہا کہ ’یہ عدلیہ کی آزادی پر شب خون اور اسے تقسیم کرنے کی مذموم سازش تھی، مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعتوں نے اپوزیشن دور میں بھی اس کی مذمت کی تھی۔‘