پاکستان کی قومی اسمبلی نے بدھ کی شام عدالتی اصلاحات سے متعلقہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 منظور کر لیا ہے۔
یہ بل پانچ ترامیم کے ساتھ منظور کیا گیا جن میں سے تین بدھ کی صبح قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون کی جانب سے تجویز کی گئیں جبکہ دو ترامیم رکنِ قومی اسمبلی محسن داوڑ نے پیش کیں۔
سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر نامی اس بل کے مسودے کے مطابق اب از خود نوٹس اور بینچوں کی تشکیل کا فیصلہ ایک کمیٹی کرے گی جس میں چیف جسٹس اور دو سینیئر ترین جج شامل ہوں گے۔
یہی کمیٹی بنیادی انسانی حقوق کے معاملات کم از کم تین ججوں پر مشتمل بینچ کو بھجوائے گی۔
ازخود نوٹس کے تحت مقدمات میں سپریم کورٹ کے بینچ کے کسی بھی فیصلے پر اپیل کے حق کے بارے میں بل میں کہا گیا ہے کہ فیصلے کے 30 دن کے اندر سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کے پاس اپیل کی جا سکے گی جسے دو ہفتے کم وقت کے اندر سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا کہ ہنگامی سماعت یا عبوری ریلیف کے لیے دائر کی گئی درخواستیں بھی 14 دن کے اندر سماعت کے لیے مقرر کی جائیں گی۔
قائمہ کمیٹی کی تجویز کردہ ترمیم کے مطابق آئین کی تشریح سے متعلق معاملات کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ کا بینچ کم سے کم پانچ ججوں پر مشتمل ہو گا۔
محسن داوڑ کی جانب سے جو ترامیم تجویز کی گئیں ان کے مطابق از خود نوٹس کے حتمی فیصلے یا حکم نامے کے خلاف اپیل 30 روز کے اندر کی جا سکے گی اور 30 دن میں اپیل دائر کرنے کا حق ان متاثرین کو بھی ہو گا جن کے خلاف ماضی میں آئین کے آرٹیکل 184/3 کے تحت از خود نوٹس کے مقدمات میں فیصلہ آیا ہو۔
خیال رہے کہ ماضی میں مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف اور پاکستان تحریک انصاف کے سابق سینیئر رہنما جہانگیر ترین کو بھی از خود نوٹس کے مقدمات میں ہی تاحیات نااہلی کی سزائیں ہوئی تھیں۔
قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد یہ بل ایوانِ بالا یعنی سینیٹ کو منظوری کے لیے بھیجا جائے گا اور اس کے بعد اسے صدرِ پاکستان کو دستخط کے لیے بھیجا جائے گا اور ان کے دستخطوں کے بعد ہی یہ قانون کی شکل اختیار کرے گا۔
جیو نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں جب صدرِ پاکستان سے یہ سوال کیا گیا کہ وہ اس بل پر کیا تبصرہ کریں گے تو عارف علوی کا کہنا تھا کہ عدالتی اصلاحات کے بل کی منظوری کی ٹائمنگ بہتر ہو سکتی تھی۔
انھوں نے کہا کہ ’جب بھی زور زبردستی سے کوئی کام کیا جاتا ہے تو اس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ میں نے ابھی تک یہ بل نہیں دیکھا اور جب حتمی مسودہ سامنے آئے گا تو پھر دیکھوں گا کہ مجھے کیا کرنا ہے۔‘