آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

چوہدری پرویز الٰہی ق لیگ کے 10 رہنماؤں سمیت پاکستان تحریکِ انصاف میں شامل

پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما اور سابق وزیرِ اعلٰی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی سمیت 10 سابق اراکینِ صوبائی اسمبلی پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے ہیں۔ لاہور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے یہ اعلان بھی کیا کہ چوہدری پرویز الٰہی کو پی ٹی آئی کا مرکزی صدر بنانے کی سینیئر قیادت نے منظوری دے دی ہے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, آئین کے تحت انتخابات کی تاریخ نہیں دے سکتے ناہی مشاورت کر سکتے ہیں، الیکشن کمیشن کا صدر عارف علوی کو جواب

    الیکشن کمیشن کی جانب سے صدرعارف علوی کو جواب دیا گیا ہے کہ کمیشن اپنی آئینی ذمہ داریوں سے بخوبی واقف ہے۔

    الیکشن کمیشن کے سیکرٹری کی جانب سے لکھے جانے والے خط، جس کی کاپی بی بی سی کو موصول ہوئی ہے، میں لکھا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے صوبائی اسمبلیوں کے تحلیل ہونے کے بعد دونوں صوبوں کے گورنرز سے رابطہ کیا لیکن اب تک ان کی جانب سے الیکشن کی تاریخ نہیں دی گئی۔

    سیکرٹری الیکشن کمیشن نے لکھا کہ کمیشن نے لاہور ہائی کورٹ کی حکم کے تحت گورنر پنجاب سے رابطہ کیا جنھوں نے آگاہ کیا کہ وہ عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔

    سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ کمیشن نے لاہور ہائی کورٹ سے بھی رجوع کر رکھا ہے کہ آئین گورنر سے مشاورت کی اجازت نہیں دیتا۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ آئین کے تحت الیکشن کمیشن کے پاس اسمبلی تحلیل ہو جانے کی صورت میں انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار موجود نہیں ہے۔

    خط میں لکھا گیا ہے کہ کمیشن صدر پاکستان کے عہدے کا احترام کرتا ہے لیکن الیکشن کی تاریخ کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہونے کی وجہ سے الیکشن کے معاملے پر صدر پاکستان کے آفس سے مشاورت نہیں کر سکتا۔

  2. صدر عارف علوی سوموار کو الیکشن کی تاریخ دیں ورنہ استعفی دیں: شیخ رشید

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ صدر مملکت عارف علوی سوموار کو الیکشن کی تاریخ دے دیں گے۔

    لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں شیخ رشید نے کہا کہ سوموار کے دن عارف علوی کو چاہیے کہ وہ الیکشن کی تاریخ دے دیں باقی دیکھتے ہیں کہ سپریم کورٹ میں کیا ہوتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ عارف علوی الیکشن کی تاریخ دیں یا استعفی دے دیں۔

  3. بریکنگ, ’ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان امرا کو نہیں صرف ضرورت مندوں کو سبسڈی دے‘ آئی ایم ایف سربراہ

    آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا کا کہنا ہے کہ پاکستان ایسے اقدامات اٹھائے جو ملک چلانے کے لیے ناگزیر ہیں اور اسے ان سنگین حالات کا سامنا نہ کرنا پڑے جہاں اس کے قرضوں کی تنظیم نو کی ضرورت ہو۔

    انھوں نے میونخ میں سکیورٹی کانفرنس میں بین الاقوامی نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں اس بات پر زور دینا چاہتی ہوں کہ ہم پاکستان سے دو شعبوں میں اقدامات کرنے پر زور دے رہے ہیں، پہلا ٹیکس ریونیوز جمع کرنا یعنی وہ لوگ جو گورنمنٹ اور نجی شعبے میں اچھا کما رہے ہیں انھیں ملکی معیشت میں حصہ ڈالنے کی ضرورت ہے۔

    اور دوسرا صرف ان لوگوں کو سبسڈیز دی جائیں جنھیں واقعی اس کی ضرورت ہے۔ اور غیر ضروری سبسڈیز کو ختم کیا جائے تاکہ امرا کو سبسڈیز سے فائدہ نہیں ملنا چاہیے۔ اور اس بارے میں آئی ایم ایف کی پالیسی بہت واضح ہے کہ ہم پاکستان کے غریب عوام کا تحفظ چاہتے ہیں۔

    یاد رہے کہ پاکستان اس وقت سنگین معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے اور اپنی معیشت کی بہتری کے لیے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے مدد مانگ رہا ہے۔

    آئی ایم ایف کی سربراہ کا کہنا تھا کہ میرا دل پاکستان کی عوام کے لیے دکھتا ہے، کیونکہ سیلاب نے وہاں بہت تباہی مچائی ہے اور ملک کی ایک تہائی آبادی اس سے متاثر ہوئی ہے۔

  4. تحریک انصاف اور اس کے کارکن ہر صورت عدلیہ کے تقدس کی حفاظت کریں گے:عمران خان

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ’حکومت اپنی آئین شکنی بچانے کے لئے عدلیہ پر حملہ آور ہے، تحریک انصاف اور اس کے کارکن ہر صورت عدلیہ کے تقدس کی حفاظت کریں گے۔‘

    عمران خان نے یہ بات زمان پارک لاہور میں پی ٹی آئی رہنما شہباز گل سے ملاقات کے دوران کہی۔

    عمران خان نے دعوی کیا کہ ’حکومت الیکشن نہ کروا کے آئین شکنی کی مرتکب ہو رہی ہے اور ہر پاکستانی جان چکا ہے یہ انتخابات سے کیوں بھاگ رہے ہیں۔‘

  5. پاکستانی پیٹرول کے مہنگا ہوتے ہی سمگل شدہ ایرانی تیل کی قیمت میں بھی اضافہ, علی رضا رند، صحافی

    پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ایران سے سمگل شدہ تیل کی قیمتوں میں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    16 فروری کو پاکستان کی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے قبل بلوچستان کے ضلع چاغی میں ایرانی ڈیزل فی لیٹر 188 روپے فروخت ہو رہا تھا لیکن ہفتے کے روز سرحدی گزرگاہ پر ڈیزل کی قیمت 210 روپے تھی جو ضلعی صدر مقام دالبندین پہنچ کر 220 روپے فی لیٹر ہو گئی۔

    دوسری جانب ایرانی پیٹرول کی قیمت بھی 150 روپے سے بڑھ کر 215 تک پہنچ چکی ہے۔

    چاغی کے صدرمقام دالبندین میں ایرانی تیل کی خرید و فروخت سے وابستہ محمود خان جو کہ تیل کمیٹی کے سرگرم رکن بھی ہیں نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستانی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ایرانی تیل کی مانگ بڑھ جاتی ہے کیونکہ سرحدی اضلاع سے بڑے بڑے ٹینکرز، ٹرک اور بسیں یہ تیل اندرون بلوچستان سمیت سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا تک لے کر جاتے ہیں اور وہاں یہ تیل پاکستانی تیل کی قیمت پر فروخت کیا جاتا ہے۔

    ان کے مطابق ایرانی سرحد سے متصل گزرگاہ راجے سے یومیہ تقریباً 15 لاکھ لیٹر ڈیزل آتا ہے جہاں سے روزانہ 250 ایسی گاڑیاں تیل لے جاتی ہیں جن کو ضلعی انتظامیہ اور فرنٹیئر کور نے ٹوکن نمبر جاری کیا ہے۔

  6. صدر کا الیکشن کی تاریخ کے اعلان سے کوئی سروکار نہیں: وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’عارف علوی صدر پاکستان بنیں، عمران خان کے ترجمان نہ بنیں۔صدر کا الیکشن کی تاریخ کے اعلان سے کوئی سروکار نہیں۔ انھیں اپنے منصب کی عزت کا پاس کرنا چاہئے۔‘

    جیو نیوز سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا’عمران خان کی ہرکارروائی اور ملک دشمن حرکت سے نمٹا ہے۔ ان کا مقصد ہے کہ ملک میں ہر وقت انارکی رہے اور افرا تفری رہے تاکہ ملک عدم استحکام کا شکار ہو۔‘

    رانا ثنا اللہ کے مطابق ’پہلے بھی عمران خان نے صدر، سپیکر، ڈپٹی سپیکر اور گورنر سے آئین شکنی کرائی۔ سپریم کورٹ نے اس عمل کو آئین شکنی قرار دیا تھا۔ صدر کے آئینی منصب کو پارٹی ترجمان کے عہدہ میں بدلنا افسوسناک ہے۔

    انھوں نے عمران خان کی جیل بھرو تحریک کے حوالے سے حکمت علی سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں دعوی کیا کہ ’عمران خان کی اس جیل بھرو تحریک کا موثرعلاج بھی ہو گا اور دو ہفتے سے زیادہ یہ تحریک نہیں چلے گی۔

  7. عمران خان کی سہولت کاری پچھلی اسٹیبلشمنٹ کی باقیات کررہی ہے: مریم نواز

    مسلم لیگ ن کی سینئر نائب صدر مریم نواز نے جیو نیوز کے پروگرام جرگہ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ’نواز شریف کو آج بھی جھوٹے مقدمات کا سامنا ہے ۔ انھوں نے 200 سے زیادہ پیشیاں بھگتیں اورآج بھی وہ اپنی حکومت ہونے کے باوجود ملک واپس نہیں آ سکتے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ڈیل وہ کرتا ہے جس کے خلاف جھوٹے مقدمات کا سلسلسہ ختم نہیں ہوتا ؟ یا ڈیل وہ کرتا ہے جس کو بار بار عدالت آج بھی بلا رہی ہے مگر وہ پیش نہیں ہوتا۔ عمران خان سٹیبلشمنٹ کے کاندھوں پر چڑھ کے آئے۔ آج سٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہے تاہم عمران خان کی سہولت کاری پچھلی سٹیبلشمنٹ کی باقیات کر رہی ہے۔‘

    مریم نواز کے مطابق’یہی سٹیبلشمنٹ اگر نواز شریف کو ملی ہوتی اور یہ تعاون اگر انھیں اپنے تین ادوار میں ملا ہوتا تو آج آپ دیکھتے کہ پاکستان ترقی کے راستے پر ہوتا۔‘

    مریم نواز نے الزام عائد کیا کہ ’عمران خان سیاسی جلسے کے لیے ٹوٹی ٹانگ کے ساتھ پنڈی چلے جاتے ہیں لیکن عدالت میں پیش نہیں ہوتے۔‘

  8. آصف زرداری پر الزامات کے خلاف مقدمہ: شیخ رشید پر 2 مارچ کو فردِ جرم عائد کرنے کا فیصلہ

    سابق صدر آصف علی زرداری پرعمران خان کے قتل کی سازش کے الزامات سے متعلق مقدمہ میں عدالت نے 2 مارچ کو عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید پرفردِ جرم عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں جوڈیشل مجسٹریٹ عمرشبیر نے شیخ رشید کےخلاف مقدمے کی سماعت کی جس میں اسلام آباد پولیس کی جانب سے مقدمے کا چالان پیش کیا گیا۔

    دورانِ سماعت شیخ رشید نے عدالت سے استدعا کی کہ انھیں ایک کانفرنس میں شریک ہونا ہے عدالت 15 مارچ کی تاریخ دے ۔

    تاہم عدالت نے ان کی استدعا مسترد کی اور کہا کہ’ ہائی کورٹ کے احکامات ہیں، چالان آگیا ہے اس لیے لمبی تاریخ نہیں دے سکتے ۔شیخ رشید دومارچ کو عدالت کے سامنے پیشی یقینی بنائیں۔‘

    سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں شیخ رشید کہا کہ ’سپریم کورٹ سے 120 فیصد امید ہے کہ وہ بروقت انتخابات کروائے گی۔ ساتھ ہی یہ بھی امید ہے کہ عام انتخابات میں ایک کروڑ سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق بھی ملے گا۔‘

    واضح رہے کہ سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کے خلاف پی پی راولپنڈی کے ڈویژنل صدر راجہ عنایت الرحمان نے مقدمہ درج کروایا تھاہ شیخ رشید نے آصف زرداری پر عمران خان کو قتل کرنے کی سازش سے متعلق دیا تھا۔

    دوسری جانب جوڈیشل مجسٹریٹ نے تھانہ آبپارہ کے ایس ایچ او کے خلاف اندراج مقدمہ سے تعلق شیخ رشید کی درخواست واپس کردی اور کہا کہ ’یہ درخواست سیشن جج کی عدالت میں جمع کرائیں ،میرا اختیار نہیں۔‘

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ڈیڑھ سے دو سو پولیس ملازمین نے 2 فروری کو اسلام آباد میں رات ساڑھے بارہ بجے ان کے گھر غیر قانونی ریڈ کیا جس دوران پولیس نے پونے تین لاکھ کی ر قم، چھ گھڑیاں اور ملازمین کے فون بھی چھین لیے،ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔

  9. پرویز الٰہی کی آڈیو لیکس انتہائی سنگین ہیں،سپریم جوڈیشل کونسل نوٹس لے: نواز شریف کا مطالبہ

    مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف نے سابق وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویزالہی کی آڈیو لیکس کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل میں بھیجنے کا مطالبہ کر دیا۔

    سابق وزیراعظم نوازشریف نے لندن میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ چوہدری پرویز الہی کی جو آڈیو لیکس سامنےآئی ہیں وہ انتہائی سنگین ہیں،اعلی عدالت کے جج کے بارے میں اس سے زیادہ سنگین باتیں کیا ہو سکتی ہیں؟

    نواز شریف نے مزید کہا کہ ’پرویز الہی نےآڈیو لیکس میں مظاہرعلی نقوی کے بارے باتیں کی ہیں یہ ایک سنگین معاملہ ہے۔ جو آڈیو سامنے آئی ہے اس کا ہر سطح پر نوٹس لیا جانا چاہیے۔ یہ معاملہ بھی سپریم جوڈیشل کونسل کو نہیں بھیجنا تو پھر کیا کرنا ہے؟

    نواز شریف نے الزام لگایا کہ ’مظاہرعلی نقوی جیسے کرداروں کی وجہ سے پاکستان اس مقام پر پہنچا۔ گینگ آف فائیو نے میرے سر ملک کے ساتھ یہ سلوک کیا جس کی وجہ سے پاکستان کے حالات آج انتہائی مخدوش ہیں اور عام آدمی کا جینا مشکل ہو گیا ہے۔‘

    واضح رہے کہ گزشتہ روز چوہدری پرویز الٰہی کی صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری کے ساتھ گفتگو کی ایک آڈیو سامنے آئی تھی جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ مبینہ طور پر ایک جج سے مخاطب ہیں۔

  10. شہباز شریف کی جانب سے کے پی او حملے کی مذمت: ’پاکستان دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گا‘

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کے پی او حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گا۔‘

    ٹوئٹر پیغام میں انھوں نے کہا کہ ’کراچی میں پولیس پر دہشتگردی کے واقعے کی بھرپور مزمت کرتا ہوں اور اس حملے کو ناکام بنانے والے بہادر پولیس و قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں کو سلام پیش کرتا ہوں۔ دہشتگرد شاید بھول گئے ہیں کہ پاکستانی وہ قوم ہے جس نے اپنی ہمت و جواں مردی سے دھشتگردی کو شکستِ فاش دی تھی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’پاکستان نہ صرف دہشگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گا بلکہ دہشتگردوں کو ان کے کیفرِ کردار تک پہنچا کر دم لے گا۔

    ’گذشتہ دو دہائیوں میں اس قوم نے اپنے لہو سے دہشتگردی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، یہ عظیم قوم آزمائش کی اس گھڑی میں بھی اس ناسور کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔‘

  11. ’دہشتگردوں کو زندہ پکڑنا چاہتے تھے‘

    میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے گورنر سندھ کامران ٹیسوری کا کہنا تھا کہ ’اس بزدلانہ منصوبے کا بہادری سے مقابلہ کیا گیا۔ یہ آپریشن بہت پہلے ختم ہوسکتا تھا لیکن حکمت عملی یہ تھی کہ پی ایس ایل ہو رہا ہے اور اگر یہ دہشتگرد زندہ پکڑے جاتے تو ان کے سہولت کاروں کو بھی پکڑا جاسکتا تھا۔

    ’مگر ان کا مقابلہ کر کے انھیں ہلاک کیا گیا۔ یہ ہمارا جواب ہے، پشاور میں بھی ہماری فورسز نے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔‘

    انھوں نے الزام لگایا کہ اس حملے میں را ملوث ہوسکتا ہے۔ تاہم انھوں نے اس حوالے سے کوئی ثبوت فراہم نہ کیا۔

  12. ’کے پی او حملے سے کراچی میں پی ایس ایل میچز متاثر نہیں ہوں گے‘

    وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کے پی او حملے سے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے کراچی میں میچز متاثر نہیں ہوں گے۔

    انھوں نے آپریشن کے بعد کے پی او کی عمارت کا دورہ کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ پی ایس ایل کے لیے مکمل سکیورٹی دی گئی ہے۔۔۔ ان بزدلوں نے کوشش کی کہ کراچی پولس آفس پر حملہ کر کے پولیس کا مورال ڈاؤن کریں لیکن وہ ناکام رہے۔‘

    ’اگر ایسا ہوا تو دہشتگرد اپنے عزائم میں کامیاب ہوں گے۔ ہم پی ایس ایل کو پوری سکیورٹی دیں گے اور زیادہ الرٹ رہیں گے۔‘

  13. ’آپریشن کے بعد شاہراہ فیصل ٹریفک کے لیے کھول دی گئی‘

    سندھ حکومت کے ترجمان مرتضی وہاب کے مطابق کے پی او حملے کے خلاف آپریشن مکمل ہونے کے بعد شاہراہ فیصل ٹریفک کے لیے کھول دی گئی ہے۔

  14. آپریشن میں پولیس اور رینجرز کے اہلکاروں سمیت چار افراد ہلاک، 14 زخمی: وزیر اعلیٰ سندھ

    وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بتایا ہے کہ کراچی پولیس آفس حملے میں پولیس کے دو جوان، رینجرز کا ایک اہلکار اور ایک شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ جبکہ اس آپریشن میں تین دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

    انھوں نے ویڈیو بیان میں بتایا کہ ’کراچی پولیس آفس میں تین دہشتگردوں نے حملہ کیا۔ پولیس، رینجرز اور فوج کی مدد سے دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا اور عمارت کلیئر کروائی گئی۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’پولیس والوں نے بڑی بہادری دکھائی۔ ہمارے دو پولیس کے جوان، ایک رینجرز کا جوان اور ایک شہری، جو وہاں کام کرتا تھا، شہید ہوئے ہیں۔‘

    ’پولیس اور رینجرز کے 14 لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ ایک کی حالت تشویشناک ہے۔ پولیس، رینجرز اور قانون نافذ کرنے والوں کو مبارکباد دیتا ہوں جنھوں نے بڑا منصوبہ ناکام بنایا۔‘

  15. کراچی پولیس آفس میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن مکمل: ہمیں اب تک کیا معلوم ہے؟

    • سندھ حکومت کے ترجمان و مشیر قانون سندھ مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ شاہراہ فیصل پر واقعہ کراچی پولیس آفس (کے پی او) کی عمارت میں دہشتگردوں کے خلاف لگ بھگ تین گھنٹوں تک جاری آپریشن مکمل ہوچکا ہے۔
    • مرتضی وہاب کے مطابق آپریشن میں تین دہشتگرد ہلاک ہوئے ہیں۔ جبکہ سینٹرل پولیس آفس سندھ کا کہنا ہے کہ آپریشن میں ’پولیس کا ایک ہیڈ کانسٹیبل سمیت دو سویلین شہید ہوئے جبکہ ایک رینجرز اہلکار کے زخمی ہونے کے علاوہ مجموعی طور پر 15 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔‘
    • تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے کراچی پولیس آفس پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
    • دوسری طرف سندھ پولیس نے مزید بتایا ہے کہ ’پولیس کمانڈوز نے مقابلے کے دوران کے پی او میں داخل ہونے والے تین دہشتگردوں کو ہلاک کیا۔ ایک دہشتگرد پولیس کی فائرنگ کے دوران جیکٹ پھٹنے سے جبکہ دو پولیس کی فائرنگ کے تبادلے میں‘ ہلاک ہوئے۔
    • سندھ پولیس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’یہ میجر آپریشن ڈی آئی جیز آر آر ایف، ساؤتھ، ایسٹ اور دیگر افسران و جوانوں نے بہادری کیساتھ پایا تکمیل تک پہنچایا۔ رینجرز اور آرمی کے جوانوں نے پولیس کے شانہ بشانہ آپریشن میں حصہ لیا جبکہ وقوعہ کی اطلاع ملتے ہی چیف منسٹر سندھ آئی جی آفس پہنچ گئے اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر سے پورے آپریشن کی نگرانی کی۔‘
    • وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے مطابق ’ہماری پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوانوں اور افسران نے آج زبردست بہادری دکھائی۔‘
    • ادھر وفاقی وزیرِ داخلہ خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ اس وقت صرف مذمت کافی نہیں ہے۔ ’پشاور حملے کے دو، تین ہفتوں میں واقعہ تشویشناک ہے۔‘
  16. بریکنگ, کراچی پولیس آفس میں حملہ آوروں کے خلاف آپریشن مکمل ہو گیا ہے: مرتضیٰ وہاب

    سندھ حکومت کے ترجمان و مشیر قانون سندھ مرتضیٰ وہاب نے تصدیق کی ہے کہ کراچی پولیس آفس کو کلیئر کروا لیا گیا ہے۔

    انھوں نے جیو نیوز کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اب تک ہم اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں تین دہشتگرد ہلاک ہوئے ہیں، دہشتگردوں کی کل تعداد کے بارے میں تحقیقات کے بعد ہی بتایا جائے گا۔

  17. صرف مذمت کافی نہیں، پشاور حملے کے دو، تین ہفتوں میں واقعہ ہونا تشویش ناک ہے: خواجہ آصف

    وفاقی وزیرِ داخلہ خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ اس وقت صرف مذمت کافی نہیں ہے پشاور حملے کے دو، تین ہفتوں میں واقعہ ہونا تشویش ناک ہے۔

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ہمیں اس حوالے سے منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پولیس کے دفاتر گنجان آباد علاقوں میں ہوتے ہیں اس لیے وہ ’سافٹ ٹارگٹ‘ ہوتے ہیں۔

  18. شارع فیصل کا ایک حصہ ٹریفک کے لیے بند کیا گیا ہے: مرتضیٰ وہاب

  19. بریکنگ, کراچی پولیس آفس حملہ: ایک پولیس اہلکار سمیت دو افراد ہلاک، کم سے کم چار زخمی

    کراچی پولیس آفس پر حملے کے نتیجے میں اب تک کم سے کم ایک پولیس اہلکار سمیت دو افراد ہلاک جبکہ کم سے کم چھ زخمی ہوئے ہیں۔

    پیپلز پارٹی کے رہنما مرتضیٰ وہاب کی جانب سے ایک ٹویٹ میں بتایا گیا ہے کہ اب تک تین رینجرز، دو پولیس اہلکار اور ایک سویلین زخمی ہوئے ہیں۔

  20. بریکنگ, کراچی پولیس آفس کی پانچ میں سے تین منزلیں کلیئر کروا لی گئیں، دو دہشتگرد ہلاک ہوئے ہیں: مراد علی شاہ

    وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ اب تک کی اطلاع کے مطابق کراچی پولیس آفس پر سات بج کر 10 منٹ پر دہشتگردوں نے حملہ کیا تھا اور اس وقت عمارت کی پانچ میں سے تین منزلوں کو کلیئر کروا لیا گیا ہے۔

    مراد علی شاہ نے نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اب تک دو دہشتگرد ہلاک کیے جا چکے ہیں جبکہ مزید حملہ آوروں کی موجودگی کی اطلاع ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ہسپتال میں پانچ زخمیوں کو لایا گیا ہے اور اس وقت ترجیح ہے کہ صورتحال کو کنٹرول کیا جائے۔

    انھوں نے کہا کہ میں خود سینٹرل پولیس آفس میں بیٹھ کر صورتحال کو مانیٹر کر رہا ہوں۔