آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پیٹرول کی قیمت میں 22.2 روپے کا اضافہ، نئی قیمت 272 روپے فی لیٹر

وزارت خزانہ کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 22.2 روپے تک کا اضافہ کیا گیا ہے جس کا اطلاق 16 فروری سے ہوگا۔ پیٹرول کی نئی قیمت 272 روپے فی لیٹر ہے۔

لائیو کوریج

  1. شہباز گل کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے کیس کی سماعت جاری

    رہنما تحریک انصاف شہباز گل کے خلاف بغاوت پراکسانے کے کیس کی سماعت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز کورٹ اسلام آباد میں جاری ہے۔

    وقفے کے بعد سماعت میں پی ٹی آئی رہنما شہباز گل اور عماد یوسف عدالت میں پیش ہوئے۔ شہباز گل کی مقدمہ سے بریت کی درخواست پران کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ یہ درخواست آئین کے آرٹیکل 265 ڈی کے تحت دائر کی گئی ہے، ایف آئی آر میں دفعہ 124 اے لگائی گئی جس کے لئے وفاقی حکومت کی اجازت لازمی ہے۔

    شہباز گل کے وکیل نے کہا کہ ایف آئی آر 9 تاریخ کو درج ہوئی، 124 اے کی دفعہ لگانے کے لئے وفاقی حکومت کی اجازت 10 تاریخ کو ملی، ایف آئی آر پہلے درج کی گئی، 124 اے کی دفعہ لگانے کی اجازت بعد میں لی گئی، اگر 10 تاریخ کو اجازت ملی تو 9 تاریخ کو درج کی گئی ایف آئی آر غیر قانونی ہوگئی۔

    جج نے استفسار کیا کہ اس کے لیے اجازت نامہ جاری ہونا ضروری ہے یا تھانے کو موصول ہونا ضروری ہے، جس پر وکیل نے کہا کہ مقدمے میں جتنی ریکوری ہو رہی ہے وہ 9 تاریخ کی ہے، تمام عمل 9 تاریخ کو ہوچکا، حکومت سے اجازت 10 تاریخ کو ملی، یہ واحد کیس ہے جس میں شکایت کنندہ اپنی مرضی کی دفعات لکھ کر پولیس کو دیتا ہے۔

    دوران سماعت جج نے ریمارکس میں کہا کہ شکایت کنندہ مجسٹریٹ ہیں، ان کے پاس قانون کا علم تو ہے، شہباز گل کے وکیل نے کہا کہ وہ بے شک مجسٹریٹ ہیں لیکن شکایت کنندہ بھی ہیں، پولیس کو اپنا مائنڈ اپلائی کرنا چاہیے تھا، شہباز گل کے وکیل نے کہا کہ کورٹ میں پیش کی گئی یو ایس بی سربمہر نہیں تھی، معلوم نہیں کہ کورٹ میں پیش کی گئی یو ایس بی کا کیا سیریل نمبر ہے؟

    جج نے استفسار کیا کہ آپ کا یہ کہنا ہے ہم فرد جرم کے موقع پر شواہد کا جائزہ لیں؟ اگر ہم نے یہی کرنا ہے توگواہوں کے بیانات اورشہادتیں ریکارڈ کرنے کی ضرورت کیا ہے؟ یہ ابھی صرف میٹریل ہے جوعدالت کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔

  2. اداروں کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے الزام میں شہباز گل پر مقدمہ کی سماعت

    پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کے خلاف اداروں کو بغاوت پر اکسانے کے الزام میں مقدمہ کی سماعت میں دن ایک بجے تک وقفہ کر دیا گیا۔

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں ایڈیشنل سیشن جج طاہر عباس سپرا نے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے آغاز پر شہباز گل کے وکیل مرتضیٰ طوری عدالت میں پیش ہوئے اور استدعا کی کہ شہباز گل ایک بجے تک آئیں گے سماعت میں وقفہ کر دیا جائے۔

    دوسری جانب معاون وکیل عماد یوسف نے عدالت کو بتایا کہ عماد یوسف بھی ایک بجے تک آئیں گے۔

    عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ آج شہباز گل کی بریت کی درخواست پر بحث ہونی ہے۔ اگر فیصلہ شہباز گل کے حق میں ہوگیا تو وہ باہر ہوجائیں گے۔ عماد یوسف پر فرد جرم عائد ہو گی،ان کی بریت کی درخواست پہلے خارج ہوچکی ہے ۔

    سپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے دلائل میں شہباز گل کی بریت کی مخالفت کی اور کہا کہ میڈیا ایسا پلیٹ فارم ہے جو ہر کوئی دیکھتا ہے۔یہ کوئی ایسا کیس نہیں کہ ایک شخص نے دوسرے شخص کے کان میں بات کی اور اس نے اگے بڑھا دی۔

    سپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے دلائل میں مزید کہا کہ شریک ملزم عماد یوسف کی بریت کی درخواست مسترد ہو چکی ہے، مرکزی ملزم شہباز گل کی بریت کی درخواست کا مرحلہ گزر چکا ہے، اس مرحلہ پر شہباز گل کی درخواست قابل سماعت نہیں ۔

    ان کے مطابق استغاثہ کے پاس جرم ثابت کرنے کے لیے وافرمواد موجود ہے۔ شہباز گل نے کسی مرحلہ پر جرم سے انکار نہیں کیا اور کہا کہ حکومت کی بات نہ مانیں ۔ شہباز گل نے اپنی گفتگو میں سینیئر فوجی افسران کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔

    عدالت نے سماعت میں ایک بجے تک وقفہ کر دیا۔ وقفے کے بعد شہباز گل کے وکلا ان کی بریت کی درخواست پر دلائل دیں گے۔

  3. کیا الیکشن کمیشن خود سے انتخابات کی تاریخ دے سکتا ہے؟

    پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجیسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپرینسی یعنی پلڈیٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب سمجھتے ہیں کہ الیکشن کمیشن خود سے ایسا نہیں کر سکتا۔

  4. بریکنگ, الیکشن کمیشن پنجاب میں انتخابات کی تاریخ کا فوری طور پر اعلان کرے، لاہور ہائی کورٹ

    لاہور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہے کہ وہ فوری طور پر پنجاب میں انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے۔

    جسٹس جواد حسن نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آئین میں دی گئی مدت کے اندر الیکشن کا اعلان کرے۔

    لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب میں الیکشن کی تاریخ سے متعلق تحریک انصاف کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نوے روز میں الیکشن کرانے کا پابند ہے۔

    پاکستان کے آئین کے مطابق صوبائی اسمبلی اگر اپنی آئینی مدت مکمل ہونے سے پہلے تحلیل کر دی جائے تو 90 روز کے اندر وہاں نئے انتخابات ہونا لازم ہیں۔ یوں اپریل کے مہینے میں دونوں صوبوں میں انتخابات کروانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔

  5. سپیکر قومی اسمبلی کا مؤقف درست ثابت ہوا: قومی اسمبلی

    قومی اسمبلی کے سپیکر کے دفتر نے کہا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ کے بعد سپیکر قومی اسمبلی کا مؤقف درست ثابت ہوا ہے، اور تمام معاملات کو آئینی و قانونی لحاظ سے دیکھ کر فیصلہ کیا گیا۔

    سپیکر آفس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی نے استعفوں کے معاملے پر انتہائی تحمل کے ساتھ نہ صرف غور کیا بلکہ بارہا پی ٹی آئی ارکان کو طلب کیا گیا، بار بار طلبی کے باوجود پی ٹی آئی ارکان نہ آئے اور استعفے منظور کرنے کا مطالبہ کرتے رہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ جب سپیکر قومی اسمبلی نے استعفوں کی منظوری دے دی تو اس کے بعد اعتراض کر دیا جو غیر آئینی تھا۔

  6. لاہور ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی ارکانِ اسمبلی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا حکم معطل کر دیا

    لاہور ہائی کورٹ نے سپیکر قومی اسمبلی کے خلاف پی ٹی آئی ارکانِ اسمبلی کی درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی ہے تاہم درخواست گزاروں کو عبوری ریلیف دینے سے انکار کر دیا ہے۔

    درخواست گزاروں کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ان کے استعفے منظور کرتے وقت تصدیق کا قانونی تقاضہ پورا نہیں کیا گیا چنانچہ انھیں ڈی نوٹیفائی کرنے کا نوٹیفیکشن کالعدم قرار دیا جائے۔

    عدالت نے کہا ہے کہ جب تک اس معاملے کا فیصلہ نہیں ہو جاتا تب تک ان نشستوں پر ضمنی انتخابات نہ کروائے جائیں اور انھیں ڈی نوٹیفائی کرنے کا الیکشن کمیشن کا حکمنامہ بھی معطل کر دیا ہے، تاہم اُنھیں ایوان میں واپسی کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے 43 ارکانِ اسمبلی کے استعفے 22 جنوری کو منظور کیے تھے۔

  7. عمران خان کی عبوری ضمانت کا معاملہ: ’عمران خان 15 فروری کو آئیں یا نہ آئیں ہم ضمانت پر فیصلہ دے دیں گے‘، عدالت, شہزاد ملک، بی بی سی نامہ نگار

    الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف پی ٹی آئی کے احتجاج اور کارِ سرکار میں مداخلت کے مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی طبی بنیادوں پر دائر حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

    عدالت نے عمران خان کو 15 فروری کو طلب کر لیا ہے۔

    کیس کی سماعت انسداد دہشتگردی کی عدالت کے جج راجہ جواد عباس حسن نے کی۔ سماعت میں عمران خان کے وکیل بابر اعوان اور پراسیکیوٹر عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔

    بابر اعوان کی جانب سے عمران خان کی طبی بنیادوں پر حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ عمران خان زخمی ہیں جس کے باعث پیش نہیں ہو سکتے۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ عمران خان 15 فروری کو آئیں یا نہ آئیں ہم ضمانت پر فیصلہ دے دیں گے۔

    بابر اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 21 اکتوبر کو مقدمہ ہوا اور 24 کو عمران خان کی ضمانت ہوئی۔ اس پر پراسیکوٹر نے کہا ہے کہ عمران خان کے جتنے بھی میڈیکل سرٹیفکیٹ دیے گئے ہیں وہ شوکت خانم کے ہیں، شوکت خانم کا میڈیکل قانونی طور پر لیگل نہیں ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہاں قانون کا مزاق اڑایا جارہا ہے۔

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی زمان پارک سے ایک وڈیو جاری ہوئی جس میں پیدل چلتے نظر آئے۔ عدالت نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ عمران خان کی مستقل ضمانت پر دلائل دیں۔

    عدالت نے کیس کی سماعت 15 فروری تک ملتوی کر دی۔ عمران خان کے خلاف دہشتگردی کی دفعات کے تحت تھانہ سنگجانی میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

  8. نیب ترامیم کیس: سپریم کورٹ نے عمران خان اور پی ٹی آئی کے ’کنڈکٹ‘ پر سوالات اٹھا دیے

    سابق وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے نیب آرڈیننس میں ہونے والی ترامیم کے خلاف سپریم میں دائر درخواست کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں شامل جسٹس منصور علی شاہ نے عمران خان اور پی ٹی آئی کے کنڈکٹ پر اہم سوال اٹھاتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ عمران خان اور ان کی پارٹی نے پارلیمنٹ میں نیب ترمیمی بل پر ووٹنگ سے اجتناب کیا۔

    انھوں نے کہا کہ ’کیا ووٹنگ سے اجتناب کرنے والے کا عدالت میں حق دعوی بنتا ہے؟‘

    جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ پارلیمنٹ میں کرنے والا کام عدالتوں میں لانا پارلیمنٹ کو کمزور کرنا نہیں ہے؟

    اس موقع پر وفاقی حکومتکے وکیل مخدوم علی خان نے کہا عمران خان چاہتے تو نیب ترامیم کو اسمبلی میں شکست دے سکتے تھے۔سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا کوئی رکن اسمبلی پارلیمان کو خالی چھوڑ سکتا ہے؟انھوں نے کہا کہ رکن اسمبلی حلقے کی عوام کا نمائندہ اور ان کے اعتماد کا امین ہوتا ہے، کیا عوامی اعتماد کے امین کا پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کرنا درست ہے؟ اور کیا قانون سازی کے وقت بائیکاٹ کرنا پھر عدالت آجانا پارلیمانی جمہوریت کو کمزور کرنا نہیں؟

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیسے تعین ہوگا کہ نیب ترامیم عوامی مفاد اور اہمیت کا کیس ہے؟

    انھوں نے یہ بھی سوال کیا کہ کیا عوامی مفاد کا تعین عدالت میں بیٹھے تین ججز نے کرنا ہے؟

    سماعت میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہر لیڈر اپنے اقدامات کو درست کہنے کے لیے آئین کا سہارا لیتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پارلیمانی کارروائی کا بائیکاٹ دنیا بھر میں ہوتا ہے جبکہ برصغیر میں تو بائیکاٹ کی طویل تاریخ ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ شاید درخواست گزار عمران خان کو معلوم تھا کہ وہ پارلیمنٹ میں کامیاب نہیں ہو سکتے تو عدالت آگئے۔ بینچ میں موجود جسٹس اعجاز الاحسن نےریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے کنڈکٹ پر سوال تب اٹھتا اگر نیب ترامیم سے ان کو کوئی ذاتی فائدہ ہوتا، بظاہر درخواست گزار کا نیب ترامیم سے کوئی ذاتی مفاد منسلک نہیں لگتا ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نےریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر عدالت نیب قانون کالعدم قرار دے گی تو کل کوئی بھی سپریم کورٹ میں قانون سازی چیلنج کر دے گا؟

    عمران خان کی درخواست پر مزید سماعت 14 فروری تک ملتوی کر دی گئی۔

  9. بریکنگ, آئی ایم ایف مذاکرات کے تحت 170 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے پڑیں گے: اسحاق ڈار

    پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے وفد کے ساتھ ہر چیز کو باہمی طور پر طے کر لیا گیا ہے اور ان مذاکرات کے تحت 170 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے پڑیں گے۔

    آئی ایم ایف وفد کے پاکستان سے واپس جانے کے بعد اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ کل رات تک ہر چیز کو باہمی طور پر طے کر لیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پیکج میں 170 ارب کے ٹیکسز لگانا ہوں گے اس میں حتی الامکان کوشش ہےکہ کوئی ایسا ٹیکس نہ لگے جو عام آدمی پر بوجھ بنے، نئے ٹیکسز کے لیے منی بجٹ لانا ہو گا، اب اس حوالے سے آرڈیننس یا منی بل کے معاملات کو دیکھیں گے، یہ 170 ارب روپے اسی مالی سال میں پورے کرنا ہیں۔

    وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات لانی ہیں وہ کابینہ کے ذریعے طے ہوئی ہیں اس پر عمل کریں گے، اس میں ضروری کام آگے کا فلو روکنا ہے جب کہ گیس سیکٹر میں بھی گردشی قرضے کو مزید روکنا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان ٹارگٹڈ سبسڈیز کو کم کریں گے، گیس کے سرکلر ڈیٹ کو بھی صفر کرنا ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف سے پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کی کمٹمنٹ پوری ہو چکی ہے، پیٹرول پر 50 روپے کی حد پوری کر چکے ہیں اور ڈیزل پر 40 روپے کی کمٹمنٹ پوری کر چکے، اب اس پر بقیہ دس روپے 5،5 روپے کر کے پورا کریں گے، بے نظیر انکم سپورٹ میں طے کیا ہےکہ 360 ارب سے حکومت 400 ارب پر لے کر جائے گی۔

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اس بات پر اتفاق ہےکہ پیٹرول پر سیلز ٹیکس نہیں ہو گا، جہاں تک جی ایس ٹی کی بات ہے تو وہ 170 ارب کے ٹیکسز میں شامل ہیں۔

    آئی ایم ایف سے مذاکرات کے بعد ایم ای ایف پی کا ڈرافٹ آج صبح مل گیا ہے۔ اب پیر کو ورچوئل میٹنگ ہوگی جس میں چیزوں کو آگے لے کر چلیں گے۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ ہمارے آئی ایم ایف مشن کے ساتھ 10 روز تک مذاکرات جاری رہے جس کے دوران پاور سیکٹر، مالیاتی شعبے سمیت دیگر اہم شعبوں پر تبادلہ خیال اور بات چیت کی گئی۔

    وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اب چیزوں میں کوئی ابہام نہیں، ہم کوشش کریں گے کہ پاکستان تاریخ میں دوسری مرتبہ آئی ایم ایف کا پروگرام مکمل کرے۔

  10. بریکنگ, پاکستان کو معاشی استحکام کے لیے سبسڈیز ختم کرنے اور ریونیو بڑھانے کے مستقل اقدامات کی ضرورت ہے: آئی ایم ایف

    پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان نویں جائزہ مذاکرات مکمل ہونے کے بعد آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ملکی و غیر ملکی ادائیگیوں میں عدم توازن ختم کرنے کے لیے سبسڈیز میں کمی لانے اور ریونیو بڑھانے کے لیے مستقل اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

    آئی ایم ایف کا وفد نیتھن پورٹر کی سربراہی میں 31 جنوری کو پاکستان آیا تھا جہاں انھوں نے تقریباً 10 روز تک پاکستانی حکام سے تفصیلی مذاکرات کیے۔

    اپنے دورے کے اختتام پر آئی ایم ایف کے وفد کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’ آئی ایم ایف کی ٹیم میکرو اکنامک استحکام کے تحفظ کے لیے درکار پالیسیوں پر عمل درآمد کے لیے وزیراعظم پاکستان کے عزم کا خیرمقدم کرتی ہے اور تعمیری مذاکرات پر حکام کا شکریہ ادا کرتی ہے۔‘

    اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ملکی اور بیرونی ادائیگیوں کے عدم توازن کو دور کرنے کے لیے پالیسی اقدامات پر خاطر خواہ پیش رفت ہوئی ہے۔ آئی ایم ایف کی اس بارے میں اہم ترجیحات میں ریونیو اکٹھا کرنے کے لیے مستقل اقدامات کے ساتھ ساتھ مالیاتی پوزیشن کو مضبوط بنانا اور سبسڈیز میں کمی لانا شامل ہے۔ جبکہ معاشرے کے کمزور طبقوں اور سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے سماجی تحفظ کو بڑھانا، زرمبادلہ کی کمی کو بتدریج ختم کرنے کے لیے زر مبادلہ کی شرح کو مارکیٹ میں طے کرنے کی اجازت دینا، اور گردشی قرضے کو مزید بڑھنے سے روک کر اور توانائی کے شعبے کی عملداری کو یقینی بنا کر توانائی کی فراہمی کو بڑھانا شامل ہے۔‘

    اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ان پالیسیوں کے بروقت اور حتمی نفاذ کے ساتھ ساتھ سرکاری شراکت داروں کی پُرعزم مالی معاونت پاکستان کے لیے میکرو اکنامک استحکام کو دوبارہ حاصل کرنے اور اپنی پائیدار ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے اہم ہے۔

    ان پالیسیوں کے نفاذ کی تفصیلات کو حتمی شکل دینے کے لیے آنے والے دنوں میں ورچوئل بات چیت جاری رہے گی۔‘

    یاد رہے کہ حکومت کی جانب سے متعدد بار یہ تاثر دیا جاتا رہا ہے کہ آئی ایم ایف کی ٹیم سے مذاکرات کامیاب ہونے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں تاہم آئی ایم ایف کی جانب سے جاری اعلامیے میں پاکستان کے ساتھ مذاکرات نتیجہ خیز ہونے یا پاکستان کو قرض کی جاری کی جانے والی قسط کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

  11. بریکنگ, سٹیٹ بینک کے پاس زرِ مبادلہ کے ذخائر تین ارب ڈالر سے بھی کم رہ گئے

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس زرِ مبادلہ کے ذخائر تین ارب ڈالر سے بھی کم رہ گئے ہیں۔

    ایک اعلامیے میں بینک نے بتایا ہے کہ رواں ہفتے 17 کروڑ ڈالر کی بیرونی قرض کی ادائیگی کے باعث زرِ مبادلہ کے ذخائر اب دو ارب 91 کروڑ 67 لاکھ ڈالر رہ گئے ہیں۔

    کمرشل بینکوں کے پاس پانچ ارب 62 کروڑ 29 لاکھ ڈالر ہیں۔

  12. سپریم کورٹ گورنرز پنجاب اور خیبر پختونخوا کو الیکشن کی تاریخ دینے کا حکم دے، اسلام آباد ہائی کورٹ بار کی درخواست

    اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے صوبہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کی تاریخ کے اعلان کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔

    بار کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ گورنر اور الیکشن کمیشن کو انتخابات کی تاریخ کے اعلان اور نوے دن کے اندر انتخابات کروانے کا حکم دے۔

    درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے صدر شعیب شاہین نے دائر کی ہے اور پنجاب اور خیبر پختونخوا کے گورنروں، الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے۔

    درخواست میں وفاق اور دونوں صوبائی چیف سیکریٹریز کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

  13. کسی کے پاس بھی الیکشن کمیشن کو تعاون فراہم نہ کرنا کا کوئی جواز نہیں، فواد چوہدری

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم عوام سے، الیکشن سے اور اب عدالت سے بھی بھاگ رہی ہے۔

    فواد چوہدری اور اسد عمر نے لاہور ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن وقت پر نہ ہوئے تو آئین کی خلاف وزری ہو گی۔ 90 دنوں میں الیکشن ہونا لازمی ہیں۔

    الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ نہ دے کرپہلی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

    فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پنجاب کے 12 کروڑ عوام کے حقوق سلب ہوئے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج میڈیا میں عجیب ہیڈ لائنز ہیں کہ فوج سکیورٹی نہیں دے گی۔ کسی کے پاس الیکشن کمیشن کو تعاون نہ دینے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ عدالت دوسری پارٹی کو جواب جمع کروانے کا پورا موقع دے رہی ہے۔ ان کے وکیل ایک کے بعد ایک آ کر جوتے اٹھا کر بھاگ جاتے ہیں۔

    انھوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ انھیں منشی کہنے پر اعتراض ہے اگر اسسٹنٹ کہہ دیں تو اعتراض تو نہیں ہو گا۔ انھوں نے پنجاب کی نگران حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج پنجابمیں وہ لوگ نگران کابینہ کا حصہ ہیں جنھیں ان کے گھر والے بھی دوسری بار سالن نہیں دیتے۔

    ہمیں آئین کی بحالی کے لیے تحریک چلانا پڑے گی۔

  14. بریکنگ, موجودہ پارلیمنٹ کو دانستہ طور نامکمل رکھا گیا ہے چیف جسٹس, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی

    نیب آرڈیننس میں ہونے والی ترامیم کے خلاف سابق وزیر اعظم عمران خان کی درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے پاکستان میں عام انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ ملک میں تمام مسائل کا حل عوام کے فیصلے سے ہی ممکن ہے۔

    انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے قیام کو آٹھ ماہ ہو چکے ہیں جبکہ الیکشن کمیشن نے سپیکر کی رولنگسے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران کہا تھا کہ نومبر 2022 میں عام انتخابات کرانے کے لیے تیار ہوں گے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا موجودہ پارلیمنٹ کو دانستہ طور پر نامکمل رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے موجودہ پارلیمنٹ سے ہونے والی قانون سازی بھی متنازع ہو رہی ہے۔

    اس درخواست کی سماعت میں وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے نیب ترامیم پر عمران خان کے حق دعویٰ نہ ہونے پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت آرٹیکل 184 کی شق تین پر محتاط رہے۔

    انھوں نے کہا کہ عدالت آرٹیکل 184 کی شق تین کے تحت کسی بھی درخواست پر قانون سازی کالعدم قرار دے گی تو معیار گر جائے گا، اور اس قانون کے تحت آرٹیکل 184 تھری کا اختیار عوامی معاملات میں ہوتا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ موجودہ کیس کے حقائق مختلف ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ نے نیب ترامیم چیلنج کی ہیں اور اس وقت ملک میں شدید سیاسی تناو اور بحران ہے۔

    بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف نے پہلے پارلیمنٹ چھوڑنے کی حکمت عملی اپنائی اور پی ٹی آئی نے پتہ نہیں چلا پھر سے کیوں پارلیمنٹ میں واپس آنے کا بھی فیصلہ کر لیا۔

    انھوں نے کہا کہ درخواست گزار عمران خان کوئی عام شہری نہیں ہیں اور عمران خان کے حکومت چھوڑنے کے بعد بھی بڑی تعداد میں عوام کی پشت پناہی حاصل رہی ہے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت بھی قانون سازی میں مداخلت نہیں کرنا چاہتی اور اس معاملے میں عدالت نے کوئی ازخود نوٹس نہیں لیا بلکہ نیب ترامیم کے خلاف درخواست آئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اب عمران خان اسمبلی میں نہیں ہیں اور نیب ترامیم جیسی قانون سازی متنازع ہو رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کیس میں عمران خان کا حق دعوی ہونے یا نا ہونے کا معاملہ نہیں بنتا۔

  15. بلوچستان کے 32 اضلاع میں دس ماہ بعد بالآحر بلدیاتی انتخابات کا اعلان

    بلوچستان کے 32 اضلاع میں دس ماہ کے طویل عرصے بعد بلدیاتی اداروں کے چیئرمین اور وائس چیئرمین کا انتخاب ہورہا ہے۔

    ان 32اضلاع میں گذشتہ سال مئی میں بلدیاتی انتخابات ہوئے تھے۔ تاحال الیکشن کمیشن کی جانب سے بلدیاتی اداروں کے سربراہوں کے انتخاب میں تاخیر کی وجہ نہیں بتائی گئی جس کے باعث تاحال یہ کام شروع نہیں کرسکے۔

    الیکشن کمشنر بلوچستان فیاض حسین مراد کے مطابق پہلے نومنتخب کونسلر حلف اٹھائیں گے جس کے بعد وہ بلدیاتی اداروں کے سربراہوں کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالیں گے۔

    ساحلی ضلع گوادر سمیت 32 اضلاع کے 6 میونسپل کارپوریشنوں،43 میونسپل کمیٹیوں اور 790 یونین کونسلوں کے چیئرمینوں اور وائس چیئرمینوں کا انتخاب کیا جائے گا۔

  16. عدالت کا حکم نامہ ملے گا تو فیصلہ کریں گے کہ کیا کرنا ہے: راجہ پرویز اشرف

    پاکستان تحریک انصاف کے قومی اسمبلی کے ارکان کے استعفے منظور کیے جانے سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ کے بارے میں سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ جب سامنے آئے گا تو ہم اسے پڑھنے اور ماہرین سے رائے لینے کے بعد فیصلہ کریں گے کہ کیا کرنا ہے۔

    یاد رہے کہ گذشتہ روز تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے دی جانے والی درخواست کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے ایم این ایز کے استعفے منظور کرنے کا حکم معطل کر دیا۔

    درخواست میں موف اختیار کیا گیا تھا کہ استعفے منظور کرنے سے قبل قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔

  17. آئی ایم ایف کے مذاکرات کا آخری دن: آئی ایم ایف پاکستان سے چاہتا کیا ہے؟, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان پالیسی سطح کے مذاکرات آج ختم ہو رہے ہیں اور ان کی کامیابی کی صورت میں دونوں اطراف سٹاف لیول معاہدے کی جانب بڑھ سکیں گے جس کے بعد پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کے قرضہ پروگرام کی بحالی ممکن ہو سکے گی۔ اور پاکستان کے لیے ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط جاری ہو پائے گی۔

    تاہم پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بدھ کے روز تک کچھ امور پر اتفاق رائے نہیں ہو پایا جس میں ایکسٹرنل فنانسگ اور بجلی کے شعبے میں خسارے کا کم کرنا ہے۔

    وزارت خزانہ کی جانب سے بدھ کو جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اصلاحات اور ان پر عمل درآمد کے لیے اقدامات پر اتفاق رائے ہے۔

    آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو ابھی تک میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسی نہیں دیا گیا تاہم ڈیل کے امکان کی وجہ سے ملکی مارکیٹس میں مثبت رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ جمعرات کو سٹاک مارکیٹ میں پانچ سو پوائنٹس سے زائد کا اضافہ دیکھا گیا جب کہ ڈالر کی قیمت میں تین روپے سے زائد کی کمی دیکھی گئی۔

    آئی ایم ایف پاکستان سے چاہتا کیا ہے؟

    آئی ایم ایف کی جانب سے اب تک جو مطالبات سامنے آئے ہیں ان کے مطابق سب سے بڑا مطالبہ ملک کا مالیاتی خسارہ کم کرنا ہے جس کے لیے آئی ایم ایف کی جانب سے مختلف مطالبات پیش کیے گئے جن میں اضافی ریونیو اکٹھا کرنے کے علاوہ مختلف شعبوں کو دی جانے والی سبسڈی کا خاتمہ بھی ہے۔

    پاکستان کی جانب سے اضافی ریونیو بڑھانے کے لیے پٹرولیم مصنوعات پر لیوی بڑھا دی گئی ہے اور اس کے بعد پاور سیکٹر میں بجلی کے ٹیرف بڑھانے پر بھی رضامندی اختیار کی گئی ہے۔

    حکومت کی جانب سے گیس اور بجلی کے شعبے میں گردشی قرضے کو کم کرنے کے لیے سرکلر ڈیبٹ منیجمنٹ پلان بھی آئی ایم ایف کو دیا گیا ہے اور اسی طرح ایکسپورٹ سیکٹر کو بجلی کے شعبے میں دی جانے والی سبسسڈی کے خاتمے کی بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

    31 جنوری سے شروع ہونے والے مذاکرات میں پہلا دور ٹیکنیکل مذاکرات کا تھا اور بدھ کو پالیسی لیول مذاکرات کا آغاز ہوا جن کا آخری دن جمعرات ہے۔

  18. بریکنگ, آصف زرداری پر الزامات: شیخ رشید کی درخواست ضمانت مسترد

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے سابق صدر آصف زرداری پر عمران خان کے قتل کی سازش کے الزام سے متعلق کیس میں گرفتار سابق وزیر داخلہ اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی درخواست ضمانت مسترد کر دی ہے۔

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں ایڈیشنل سیشن جج طاہر عباس سپرا نے شیخ رشید کی درخواست ضمانت پر بعد از گرفتاری کے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

    شیخ رشید اس وقت مری پولیس کی تحویل میں ہیں اور ہولیس انھیں مقامی عدالت میں پیش کرے گی جہاں پر پولیس ان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرے گی۔

    اسلام آباد کی مقامی عدالت میں جمعرات کو مقدمے کی سماعت کے دوران ملزم کے وکیل سردار عبدالرازق نے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اپنایا تھا کہ ایف آئی آر کے مطابق شیخ رشید پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کے درمیان تصادم کروانا چاہتے ہیں، ان الزامات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی، ایف آئی آر سے قبل پولیس کی جانب سے نوٹس بھیجا گیا جس کا میڈیا کے ذریعے علم ہوا۔

    درخواست گزار نے کہا شیخ رشید نے جس سازش کا ذکر کیا ہے اس پر شیخ رشید سے تحقیقات کروائی جائے، جو دفعات ایف آئی آر میں لگائی گئی وہ دفعات وفاقی یا صوبائی حکومت لگا سکتی ہے، کوئی شہری درج نہیں کروا سکتا۔

    شیخ رشید کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل نے مذہبی گروپوں ،لسانی گروپوں یا کسی قومیت پر کوئی ایسا بیان نہیں دیا جس پر یہ دفعات لگ سکیں۔ شیخ رشید عمران خان سے ملاقات کر کے آئے اور انھوں نے عمران خان کے بیان کا ذکر کیا۔ عمران خان نے بیان دیا ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اور پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری کی جانب سے صرف ہتک عزت کا دعویٰ کیا گیا۔

    شیخ رشید کے وکیل سردار عبد الرازق نے عدالت سے درخواست ضمانت منظور کرنے کی استدعا کی تھی۔

  19. ڈالر کی قدر میں مسلسل دوسرے روز کمی، انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 270 پر آ گیا

    انٹربینک مارکیٹ میں مسلسل دوسرے روز ڈالر کی قدر میں کمی کا رجحان جاری ہے، جمعرات کو ٹریڈنگ کے آغاز پر ڈالر مزید تین روپے 33 پیسے سستا ہو کر 270 روپے کی سطح پر آگیا۔

    ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق انٹر بینک مارکیٹ میں روپے کی قدر میں تین روپے 33 پیسے کا اضافہ دیکھا گیا، جس کے بعد ڈالر 270 روپے کا ہو گیا ہے، جو گذشتہ روز 273 روپے 33 پیسے پر بند ہوا تھا۔

    گذشتہ چار روز کے دوران روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں چھ روپے 58 پیسے کی کمی آئی ہے۔

  20. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    پاکستان کی سیاسی صورتحال پر تازہ ترین خبروں سے متعلق بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے۔

    آٹھ فروری تک خبروں کو جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔