اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے
ممنوعہ فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف دائر پی ٹی آئی کی درخواست
مسترد کر دی ہے۔
اسلام آباد
ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس عامر فاروق، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل لارجر بینچ نے فیصلہ سنایا۔
مختصر
زبانی فیصلے میں عدالت نے اس درخواست کو مسترد کرنے کے احکامات جاری کیے۔
اس فیصلے کو اب سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جا سکتا ہے اور اگر سپریم کورٹ بھی
الیکشن کمیشن کے فیصلے کو برقرار رکھتی ہے تو اس صورت میں وفاقی حکومت تحریک انصاف
کے خلاف ایکشن کا آغاز کر سکتی ہے۔
یاد رہے کہ الیکشن
کمیشن نے پی ٹی آئی کی فنڈنگ کو ’ممنوعہ‘ قرار دیتے ہوئے تحریک انصاف کو شوکاز
نوٹس جاری کیا تھا جس کے خلاف تحریک انصاف نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
تحریک انصاف کے ایڈیشنل سیکریٹری جنرل عمر ایوب نے الیکشن کمیشن کے خلاف درخواست دائر کی جس میں ای سی پی کو فریق بنایا گیا تھا۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ ممنوعہ فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کا 2 اگست کو سنایا گیا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ الیکشن کمیشن کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کو مخالفانہ، غلط اور دائرہ اختیار سے باہر قرار دیا جائے۔
ساتھ ہی استدعا کی گئی تھی کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے کسی بھی کارروائی کو دائرہ اختیار سے باہر اور یہ قرار دیا جائے کہ مذکورہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کی بنیاد پر کوئی کارروائی نہیں کی جاسکتی۔
تحریک انصاف
کی درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے تھے کہ الیکشن کمیشن نے صرف آئینی
طور پر اپنا کام کرنا تھا جو فنڈز کی ضبطی تک محدود ہے۔
الیکشن کمیشن
کے مطابق اس کے پاس فیصلہ بدلنے کا اختیار نہیں مگر نئے حقائق سے ثابت ہو گیا کہ
فنڈز ممنوعہ نہیں تو فیصلہ تو بدلنا ہو گا۔
الیکشن کمیشن
کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی فنڈنگ سے متعلق نئے شواہد سے مطمئن کرے کہ وہ ممنوعہ
نہیں تو رقم ضبط نہیں ہو گی۔ پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی
کو فارن ایڈڈ جماعت اور عمران خان کے ڈکلیئریشن کو غلط قرار دیا تھا۔
سیاسی
جماعتوں کے اکاؤنٹس کا معاملہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ دیکھتا ہے، الیکشن کمیشن کی رپورٹ
میں پی ٹی آئی کو ٹارگٹ کیا گیا۔
اسلام آباد
ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا کہنا تھا الیکشن کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کوئی ڈکلیئریشن
تو دیا ہی نہیں، الیکشن کمیشن کے فیصلے کو کہیں آرڈر، کہیں رپورٹ تو کہیں محض رائے
کہا جا رہا ہے۔
انھوں نے کہا
کہ اُن کی نظر میں یہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ ہے۔ الیکشن کمیشن کے وکیل کا اصرار تھا
کہ یہ صرف رپورٹ نہیں فیصلہ ہے۔
خیال رہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے 2 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کے خلاف سنہ 2014 سے زیر التوا ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا گیا تھا کہ یہ ثابت ہوگیا کہ تحریک انصاف نے ممنوعہ ذرائع سے فنڈنگ حاصل کی۔
فیصلے میں بتایا گیا تھا کہ پی ٹی آئی کو امریکا، کینیڈا اور ووٹن کرکٹ سے ملنے والی فنڈنگ ممنوعہ قرار دی گئی ہے اور پی ٹی آئی نے دانستہ طور پر ووٹن کرکٹ لمیٹڈ سے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی۔
فیصلے میں کہا گیا تھا کہ تحریک انصاف نے عارف نقوی سمیت 34 غیر ملکیوں سے فنڈز لیے، ابراج گروپ، آئی پی آئی اور یو ایس آئی سے بھی فنڈنگ حاصل کی، یو ایس اے ایل ایل سی سے حاصل کردہ فنڈنگ بھی ممنوعہ ثابت ہوگئی۔
فیصلے میں بتایا گیا تھا کہ پی ٹی آئی کو امریکا، کینیڈا اور ووٹن کرکٹ سے ملنے والی فنڈنگ ممنوعہ قرار دی گئی ہے اور پی ٹی آئی نے دانستہ طور پر ووٹن کرکٹ لمیٹڈ سے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی۔
کمیشن کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ تحریک انصاف نے عارف نقوی سمیت 34 غیر ملکیوں سے فنڈز لیے، ابراج گروپ، آئی پی آئی اور یو ایس آئی سے بھی فنڈنگ حاصل کی، یو ایس اے ایل ایل سی سے حاصل کردہ فنڈنگ بھی ممنوعہ ثابت ہوگئی۔