آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ڈالر کی قدر میں مسلسل دوسرے روز کمی، انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 270 کا ہو گیا

انٹربینک مارکیٹ میں مسلسل دوسرے روز ڈالر کی قدر میں کمی کا رجحان جاری ہے، جمعرات کو ٹریڈنگ کے آغاز پر ڈالر مزید تین روپے 33 پیسے سستا ہو کر 270 روپے کی سطح پر آگیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. دہشتگردوں کو پناہ دینے کے لیے آپ آگے بڑھ رہے ہیں مگر اپنوں سے ہاتھ ملانے کو تیار نہیں: شہباز شریف

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایک طرف دہشتگردوں کو یہاں بسانے کے لیے لایا گیا مگر دوسری طرف ملک کی تقدیر کے لیے ’آپ اپنوں سے ہاتھ ملانے کو تیار نہیں۔‘

    ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے مخاطب ہوتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہر قسم کے اختلافات چاہے سیاسی، مذہبی یا علاقائی، ان تمام کو ایک طرف کر کے ایک قوم کی طرح خود کو ڈھالنا ہوگا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’تمام آئینی ادارے جب تک قوم کو اکٹھا نہیں کریں گے تو بات نہیں بنے گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا ورنہ ہم یہ مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔ ’کل تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے اجتماع کو منگل کو اے پی سی میں مدعو کیا ہے۔ چاہے ان سے اختلاف ہے یا اتحاد ہے۔

    ’جنھوں نے پاکستان میں ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا تھا، ان کو تو سیٹل کرنے کے لیے آپ آگے بڑھ رہے ہیں اور ملک کی تقدیر کو بہتر کرنے کے لیے آپ اپنوں سے ہاتھ ملانے کو تیار نہیں۔ میں نے ایک پارٹی کے لیڈر کو بھی مدعو کیا ہے جو میرے ساتھ ہاتھ ملانا بھی پسند نہیں کرتے۔ مجھے امید ہے آگے سے نفی میں جواب نہیں آئے گا۔ قوم کے وسیع تر مقصد کے لیے ہم اکٹھے ہوں گے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’کوئی جگہ ان کے قبضے میں نہیں۔ مگر کون انھیں یہاں لایا اور وہ بھی برق رفتار میں۔ قوم اس کا جواب چاہتی ہے۔‘

    شہباز شریف نے کہا کہ صوبائی حکومت کے اعلان کے علاوہ وفاقی حکومت پشاور حملے میں ہلاک ہونے والے ہر فرد کے لیے 20 لاکھ اور زخمیوں کے لیے پانچ لاکھ مختص کرے گی۔

  2. آئی ایم ایف کی ناقابل تصور شرائط پوری کرنی ہیں: شہباز شریف

    ان کا کہنا ہے کہ:

    • وفاق کی ذمہ داری ہے کہ صوبوں کو ساتھ لے کر چلے
    • آئی ایم ایف کا وفد حکومت کو بہت مشکل وقت دے رہا ہے
    • آئی ایم ایف کے ساتھ جو شرائط پوری کرنی ہیں وہ ناقابل تصور ہیں
    • مگر وفاق آپ کے ساتھ ہے۔ آپ کی مشاورت سے صوبوں میں سی ٹی ڈی کو بہتر بنائیں گے۔ تربیت اور سامان کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔
    • 470 ارب کہاں گیا؟ اگر اس پیسے کا ایک چوتھائی حصہ بھی دہشتگردی کے خلاف خرچ ہوا ہوتا تو صوبے کے لوگ چین کی نیند سوتے۔
  3. بریکنگ, تمام سیاسی جماعتوں کو اختلافات چھوڑ کر، وفاق کے ساتھ مل کر دہشتگردی کا مقابلہ کرنا ہوگا: شہباز شریف

    وزیر اعظم شہباز شریف کا ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب:

    سکیورٹی لیپس کی تحقیقات ہوگی کہ کہاں کمزوری پائی گئی۔ مگر یہ کہنا کہ یہ ڈرون حملہ تھا، ایسے بے جا الزامات اور تنقید ایسے موقع پر نامناسب تھی۔

    پوری قوم یہ سوچ رہی ہے کہ آئندہ اس ناسور کے کیسے قابو کیا جائے گا، کیا اقدامات بروئے کار لائے جائیں گے تاکہ دہشتگردی کے ریلے کو ختم کیا جائے گا۔ یہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے کہ وفاق اور صوبوں مل کر، تمام جماعتیں اس کی اونر شپ لیں اور تمام سیاسی، علاقائی اور مذہبی اختلافات کو چھوڑ کر ہم اکٹھے ہوں اور اس کا مقابلہ کریں۔

    یہی وہ مرحلہ ہے جس میں قومیں بنتی اور ٹوٹتی ہیں۔ ہم مل کر اس پر قابو پائیں گے۔ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے گے جب تک اس کا خاتمہ نہیں ہوتا۔

    ماضی قریب کے برسوں میں ضرب عضب اور ردالفساد کے معرکوں کے نتیجے میں دہشتگردی کا خاتمہ ہوا تھا۔ ہمارے ناقدین بھی یقین کرتے ہیں کہ چاروں صوبوں میں پھیلی دہشتگردی کا خاتمہ کیا گیا۔ اس میں افواج پاکستان نے بے پناہ قربانیاں دیں۔

    مگر آج ہمیں تنقید برائے تنقید سے پرہیز کرنا ہوگا۔ اس کی ذمہ داری ہے اس کی بات کرنی ہوگی۔ یہ واقعہ اگر کسی سازش کا حصہ تھا تو ماضی کے واقعات کس کا حصہ تھے۔

    پچھلے چند واقعات چاہے وہ نوشہرہ، بنوں، پشاور یا صوبے کے دوسرے علاقوں میں ہوئے، یہ طنعے ملتے تھے کہ وفاق ہمارا ساتھ نہیں دے رہا اور وسائل کم ہیں۔

  4. سازش سے لائی گئی امپورٹڈ حکومت کو تسلیم نہیں کرتا: عمران خان

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ اتحادی جماعتوں کی موجودہ حکومت کو تسلیم نہیں کرتے جس نے دہشتگردی کو پھیلنے دیا۔

    ٹوئٹر پر پیغام میں ان کا کہنا ہے کہ ’میں اس امپورٹڈ حکومت کو تسلیم نہیں کرتا جو سازش اور ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے لائی گئی۔ شہباز شریف اتنے بے شرم کیسے ہوسکتے ہیں کہ ان کی حکومت نے 10 ماہ میں معیشت اور جمہوریت کو تباہ کر دیا۔‘

    ’ان کے دور میں بنیادی انسانی حقوق اور قانون کی بالادستی کی خلاف ورزی ہوئی اور دہشتگردی کو پھیلنے دیا گیا۔‘

  5. وزیر اعظم شہباز شریف آج ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کریں گے

    وزیراعظم شہباز شریف آج پشاور میں ایپیکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کریں گے۔

    وزیر اعظم آفس کے مطابق اجلاس میں ’30 جنوری کو پشاور پولیس لائن کی مسجد میں ہونے والے دہشت گردی کے ہولناک واقعے کے محرکات پر غور کیا جائے گا۔

    ’ایپیکس کمیٹی کے اجلاس میں دہشت گردی کے خاتمے، سی ٹی ڈی اور پولیس کی اپ گریڈیشن کے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال ہوگا۔ اجلاس میں وفاقی وزرا، چاروں صوبوں، گلگت بلتستان کے وزرا اعلیٰ، آزاد جموں کشمیر کے وزیراعظم، سکیورٹی فورسز، پولیس کے حکام اور اعلیٰ سرکاری افسران شرکت کریں گے۔‘

    ادھر سابق وزیر دفاع اور پی ٹی آئی رہنما پرویز خٹک نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے لیے باضابطہ دعوت نہیں ملی بلکہ مسلم لیگ ن کے رہنما ایاز صادق نے ’دوست کی حیثیت سے دعوت دی ہے۔‘

  6. ’موجودہ معاشی اور دہشت گردی کے چیلنجز سابقہ ​​حکومت کی ناقص پالیسیوں کا نتیجہ ہے‘

    وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ ملک کو درپیش معاشی بحران اور دہشت گردی کے چیلنجز سابقہ ​​حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث پیدا ہوئے۔

    سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق جمعرات کو سندھ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (ایس آئی ڈی سی ایل) کے دفتر میں گرین لائن بی آر ٹی ایس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ’گذشتہ نو سالوں کے دوران تحریک انصاف کے خیبر پختونخوا کے صوبائی حکومت کو انسداد دہشت گردی کے مقاصد کے لیے 470 ارب روپے فراہم کیے گئے تاہم پی ٹی آئی کی پختونخوا حکومت نے فنڈز کو اس مقصد کے لیے استعمال کرنے کے بجائے اپنے ایم این ایز اور ایم پی ایز میں تقسیم کیے۔‘

    انھوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں ’کے پی کے کا سی ٹی ڈی صوبے میں دہشت گردی کے انسداد کے لیے غیر موثر محکمہ رہا جبکہ شہباز شریف نے بطور وزیراعلیٰ پنجاب اپنے دور میں سی ٹی ڈی پنجاب کو سب سے موثر اور قابل ادارہ بنایا۔‘

    وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ ’پی ٹی آئی کی حکومت نے کے پی کے میں اپنے نو سالہ دور حکومت میں پشاور میں سیف سٹی پراجیکٹ شروع کرنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا جو ملک میں دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ شہر تھا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’موجودہ حکومت اپنی مدت کے مختصر عرصے میں ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے اور بحران کے دیرپا حل کے لیے اقدامات کرے گی۔‘

    وفاقی وزیر نے کہا کہ برآمدات پر مبنی معیشت بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے اور اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے نجی شعبے کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔

    احسن اقبال نے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت ملک میں انتشار پھیلانے کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہے،پارٹی نے ریاستی اداروں کے خلاف ایک بے مثال مہم چلائی ہے اور اداروں اور عوام میں اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کی ہیں۔

  7. بریکنگ, ’اہم قومی چیلنجز‘ پر وزیراعظم شہباز شریف نے کُل جماعتی کانفرنس بلا لی، عمران خان بھی مدعو

    وزیراعظم شہباز شریف نے اہم قومی چیلنجز پر تمام قومی سیاسی قائدین کو ایک میز پر بٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے وزیراعظم نے 7 فروری کو 'کل جماعتی کانفرنس' (اے پی سی) بلا لی ہے۔

    اے پی سی اسلام آباد میں ہوگی۔ تمام قومی سیاسی قائدین کو اے پی سی میں شرکت کی باضابطہ دعوت دے دی گئی۔ وزیراعظم نے پی ٹی آئی چئیرمن عمران خان کو بھی اے پی سی میں بلا لیا۔

    وفاقی وزیر سردار ایاز صادق کے سابق سپیکر قومی اسمبلی، پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر اور سابق وزیردفاع پرویز خٹک سے رابطے کیے ہیں۔

    ایاز صادق نے اسد قیصر اور پرویز خٹک کو وزیراعظم کی طرف سے عمران خان کو اے پی سی میں شرکت کی دعوت پہنچائی۔ وزیراعظم نے کل پشاور میں ہونے والی ایپیکس کمیٹی کے اجلاس میں پی ٹی آئی کے دو نمائندوں کو بھی شرکت کی دعوت دے دی۔ سردار ایاز صادق نے پی ٹی آئی رہنماؤں کو اپنی جماعت کے نامزد نمائندوں کے ناموں سے آگاہ کرنے کی درخواست کی۔

    گورنر ہاؤس میں ایپیکس کمیٹی کے اجلاس میں تمام سٹیک ہولڈرز، پولیس، رینجرز اور حساس اداروں کے اعلیٰ افسران شریک ہوں گے۔ اجلاس میں 30 جنوری کو پشاور پولیس لائنز کی مسجد میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعے پر غور ہوگا۔

    ایپیکس کمیٹی کے اجلاس میں دہشت گردی کے خاتمے، سی ٹی ڈی اور پولیس کی آپ گریڈیشن کے اقدامات پر غور کیا جائے گا۔

  8. اسلام آباد ہائی کورٹ: پی ٹی آئی کی درخواست قبل از وقت ہے، رپورٹ میں کوئی غلطیاں ہیں تو پی ٹی آئی ٹھیک کروائے, شہزاد ملک، بی بی سی

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کی طرف سے ممنوعہ فنڈنگ کے بارے میں سابق حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے دائر کی گئی درخواست کو مسترد کرنے کے بارے میں تفیصلی فیصلہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ درخواست قبل از وقت دائر کی گئی ہے کیونکہ الیکشن کمیشن نے فیکٹ فائنڈنگ کی رپورٹ کی روشنی میں پی ٹی آئی اور اس جماعت کے چیئرمین کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا ہے۔

    چھبیس صفحات پر مشتمل یہ فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج بابر ستار نے تحریر کیا ہے اور اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ فریق کا یہ حق ہے کہ اس کو تسلی سے سنا جائے اور اظہار وجوہ کے نوٹس کی سماعت کے دوران پی ٹی آئی کی یہ ذمہ داری ہے کہ اگر فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں جو غلطیاں رہ گئی ہے اس کو درست کروائے۔

    عدالت نے کہا ہے کہ اس کے علاوہ الیکشن کمیشن کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اظہار وجوہ کے نوٹس کے دوران متاثرہ فریق کو کھلے ذہن کے ساتھ سنے اور اس پر قانون اور آئین کے مطابق فیصلہ کرے۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اگر پی ٹی آئی شوکاز نوٹس پر کارروائی کے دوران متاثرہ فریق کے مؤقف سے الیکشن کمیشن مطمئن ہو جاتا ہے تو الیکشن کمیشن شوکاز نوٹس واپس لینے کا بھی مجاز ہے۔ اس فیصلے میں پی ٹی آئی کے اس مؤقف کو بھی مسترد کر دیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے فیکٹ فائنڈنگ کی معلومات وفاقی حکومت کے ساتھ کیوں شیئر کی ہیں۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کے ساتھ معلومات شیئر کرنے سے الیکشن کمیشن نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا اور الیکشن ایکٹ کا سیکشن 212 اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ اگر کسی سیاسی جماعت پر ممنوعہ فنڈنگ ثابت ہو جائے تو الیکشن کمیشن اس جماعت پر پابندی عائد کرنے کے لیے وفاق حکومت کو ریفرنس بھیج سکتا ہے۔

  9. شیخ رشید دو روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے: ’عمران خان نے آصف زرداری سے متعلق جو کہا اسے درست سمجھتا ہوں‘

    اسلام آباد کی مقامی عدالت نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

    سابق صدر آصف علی زرداری پر تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قتل کی سازش کرنے سے متعلق بیان پر شیخ رشید کے خلاف مقدمہ تھانہ آبپارہ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا اور اسی مقدمے میں انھیں بدھ کی شب اسلام آباد پولیس نے نے گرفتار کیا تھا۔

    جمعرات کی روز انھیں جوڈیشل مجسٹریٹ عمر شبیر کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں استغاثہ نہ ان کے آٹھ روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تاہم عدالت نے پولیس کو دو روزہ ریمانڈ دیتے ہوئے شیخ رشید کو دوبارہ سنیچر کے روز پیش کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

    اس کیس کی سماعت کے دوران شیخ رشید روسٹرم پر بھی آئے اور انھوں نے جج کے سامنے چند گزارشات رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں اس کیس میں پولیس کے سامنے پیش ہونے کا کہا گیا تھا جس کے جواب میں انھوں نے اپنے وکیل کو بھیجا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ انھیں گرفتار کرنے کا پلان بنایا جا چکا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ جب سے انھیں گرفتار کیا گیا ہے اس دوران ان سے کوئی ایک سوال تک نہیں پوچھا گیا۔ شیخ رشید نے عدالت کو بتایا کہ پولیس کی ان کے گھر چھاپے کی ویڈیو موجود ہے۔

    انھوں نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان نے آصف زرداری کے حوالے سے جو کچھ کہا وہ اُس کو درست سمجھتے ہیں۔

  10. ’اداروں سے کہتا ہوں کہ شریف، زرداری اور فضل الرحمان کا اتنا بوجھ نہ اٹھائیں کہ آپ کی کمر ہی ٹیڑھی ہوجائے: فواد چوہدری

    سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اپنی رہائی کے بعد پہلی بار اپنی پریس کانفرنس ہوئے کہا کہ اداروں سے صرف یہ کہتا ہوں کہ نواز شریف، آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان کا اتنا بوجھ نہ اٹھائیں کہ آپ کی کمر ہی ٹیڑھی ہوجائے۔

    حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیرخارجہ بلاول بھٹو امریکہ کے 17 دورے کر چکے ہیں جبکہ ایک بھی دورہ افغانستان کا نہیں کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ شہباز شریف نے بمشکل ہی کوئی افغانستان پر اجلاس کیا ہو۔

    ان کے مطابق کچھ کرنے کے بجائے اب سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا ہے جبکہ خیبرپختونخوا اور پنجاب میں ڈمی حکومتیں بنانی ہوئی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ گورنرغلام علی اس طرح پریس کانفرنس سے الیکشن میں تاخیر سے متعلق بات کر رہے تھے کہ جیسے صوبے میں گورنر راج لگ گیا ہو۔

    ان کے مطابق جو جج اور انتظامیہ 90 دن کے اندر الیکشن نہیں کروائیں گے وہ آئین شکنی کے مرتکب ہوں گے اور آرٹیکل 6 لگے گا۔

    فواد چوہدری نے کہا کہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ان حکمرانوں سے نہ ملک کنٹرول ہو رہا ہے اور نہ عمران خان کنٹرول ہو رہے ہیں۔

  11. شیخ رشید کے جسمانی ریمانڈ سے متعلق فیصلہ ایک گھنٹے بعد سنایا جائے گا: عدالت

    اسلام آباد کی مقامی عدالت نے سابق وفاقی وزیر شیخ رشید احمد کے جسمانی ریمانڈ سے متعلق پولیس کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا، جو ایک گھنٹے کے بعد سنایا جائے گا۔

    پولیس ملزم شیخ رشید کو کمرہ عدالت سے بخشی خانے لے گئی ہے۔

  12. شیخ رشید نے عمران خان کے بارے میں جج کو کیا بتایا؟, شہزاد ملک بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    جمعرات کو جب سابق وفاقی وزیر شیخ رشید احمد کو عدالت میں پیش کیا گیا تو وہ روسٹرم پر آگئے اور بولے: جج صاحب! عدالت میں بولنے کی اجازت مانگتا ہوں۔ میں بہت سمارٹ ہو، چھوٹی بات کروں گا۔

    انھوں نے کہا کہ ’درخواست ایس ایچ او کو دینی چاہیے تھی۔ جب میں وزیر تھا تو ایس ایس پی کے ساتھ زاتی مسئلہ تھا۔ مجھے پولیس کے سامنے پیش ہونے کا کہا گیا، میں نے اپنے وکیل کو بھیجا۔‘ انھوں نے بتایا کہ ’پولیس مجھے گرفتار کرنا چاہتی تھی جس کے باعث مجھے بلایا گیا۔ مجھے عمران خان نے کہاکہ الیکشن مہم میں سامنے نکلوں۔ انتخابات سے قبل عمران خان کو ناہل یا جیل میں بھیجنے کا پلان کیا جارہے ہیں، میرا تجزیہ ہے۔‘

    شیخ رشید نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کو زہر بھی دیا جا سکتا ہے۔

    سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ ’میں نے ستر لاکھ انکم ٹیکس دیا ،کوئی اتنا نہیں دیتا، جب سے گرفتار کیا مجھ سے کچھ نہیں پوچھا گیا۔ میرے گھر پولیس کے آنے کی ویڈیو بھی موجود ہے۔ میرے موبائلز بھی لے لیے گئے، اداروں کے افسران میرے بھائی ہیں۔ میڈیا پر بیان دینا ایک طرح سے میری تنخواہ بھی ہے۔‘

    شیخ رشید نے کہا کہ ’میں نے چند عرصہ قبل ہی سوشل میڈیا شروع کیا۔ مجھ سے پوچھا جا رہا ہے کہ عمران خان نے تم سے کیا انفارمیشن شئیر کیں۔ انھوں نے جج سے کہا کہ ’میں گذشتہ رات ایک چادر تلے سویا ہوں۔‘ شیخ رشید نے کہا کہ دو سو سول سوٹ پر کمانڈوز نے میرے گھر پر دھاوا بولا اور وقت کی سنگینی دیکھیں جنھوں نے مجھے ہتھکڑی لگائی وہی مجھے سلوٹ کرتے تھے۔

    شیخ رشید کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کہا کہ ان کے پاس ثبوت ہیں کہ آصف زرداری انھیں مارنا چاہتا ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں نے کہا کہ عمران خان کے پاس آصف علی زرداری کے خلاف ثبوت ہیں اور عمران خان نے بار بار کہا کہ آصف علی زرداری مجھ پر حملہ کروانا چاہتے ہیں۔ ملزم شیخ رشید نے اپنا مکمل بیان قلمبند کراتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان نے جو کہا میں اس کو درست سمجھتا ہوں۔‘

  13. بریکنگ, ممنوعہ فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف تحریک انصاف کی درخواست مسترد, شہزاد ملک بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف دائر پی ٹی آئی کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس عامر فاروق، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل لارجر بینچ نے فیصلہ سنایا۔

    مختصر زبانی فیصلے میں عدالت نے اس درخواست کو مسترد کرنے کے احکامات جاری کیے۔

    اس فیصلے کو اب سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جا سکتا ہے اور اگر سپریم کورٹ بھی الیکشن کمیشن کے فیصلے کو برقرار رکھتی ہے تو اس صورت میں وفاقی حکومت تحریک انصاف کے خلاف ایکشن کا آغاز کر سکتی ہے۔

    یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کی فنڈنگ کو ’ممنوعہ‘ قرار دیتے ہوئے تحریک انصاف کو شوکاز نوٹس جاری کیا تھا جس کے خلاف تحریک انصاف نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

    تحریک انصاف کے ایڈیشنل سیکریٹری جنرل عمر ایوب نے الیکشن کمیشن کے خلاف درخواست دائر کی جس میں ای سی پی کو فریق بنایا گیا تھا۔

    درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ ممنوعہ فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کا 2 اگست کو سنایا گیا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔

    درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ الیکشن کمیشن کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کو مخالفانہ، غلط اور دائرہ اختیار سے باہر قرار دیا جائے۔

    ساتھ ہی استدعا کی گئی تھی کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے کسی بھی کارروائی کو دائرہ اختیار سے باہر اور یہ قرار دیا جائے کہ مذکورہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کی بنیاد پر کوئی کارروائی نہیں کی جاسکتی۔

    تحریک انصاف کی درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے تھے کہ الیکشن کمیشن نے صرف آئینی طور پر اپنا کام کرنا تھا جو فنڈز کی ضبطی تک محدود ہے۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق اس کے پاس فیصلہ بدلنے کا اختیار نہیں مگر نئے حقائق سے ثابت ہو گیا کہ فنڈز ممنوعہ نہیں تو فیصلہ تو بدلنا ہو گا۔

    الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی فنڈنگ سے متعلق نئے شواہد سے مطمئن کرے کہ وہ ممنوعہ نہیں تو رقم ضبط نہیں ہو گی۔ پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو فارن ایڈڈ جماعت اور عمران خان کے ڈکلیئریشن کو غلط قرار دیا تھا۔

    سیاسی جماعتوں کے اکاؤنٹس کا معاملہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ دیکھتا ہے، الیکشن کمیشن کی رپورٹ میں پی ٹی آئی کو ٹارگٹ کیا گیا۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا کہنا تھا الیکشن کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کوئی ڈکلیئریشن تو دیا ہی نہیں، الیکشن کمیشن کے فیصلے کو کہیں آرڈر، کہیں رپورٹ تو کہیں محض رائے کہا جا رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اُن کی نظر میں یہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ ہے۔ الیکشن کمیشن کے وکیل کا اصرار تھا کہ یہ صرف رپورٹ نہیں فیصلہ ہے۔

    خیال رہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے 2 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کے خلاف سنہ 2014 سے زیر التوا ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا گیا تھا کہ یہ ثابت ہوگیا کہ تحریک انصاف نے ممنوعہ ذرائع سے فنڈنگ حاصل کی۔

    فیصلے میں بتایا گیا تھا کہ پی ٹی آئی کو امریکا، کینیڈا اور ووٹن کرکٹ سے ملنے والی فنڈنگ ممنوعہ قرار دی گئی ہے اور پی ٹی آئی نے دانستہ طور پر ووٹن کرکٹ لمیٹڈ سے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی۔

    فیصلے میں کہا گیا تھا کہ تحریک انصاف نے عارف نقوی سمیت 34 غیر ملکیوں سے فنڈز لیے، ابراج گروپ، آئی پی آئی اور یو ایس آئی سے بھی فنڈنگ حاصل کی، یو ایس اے ایل ایل سی سے حاصل کردہ فنڈنگ بھی ممنوعہ ثابت ہوگئی۔

    فیصلے میں بتایا گیا تھا کہ پی ٹی آئی کو امریکا، کینیڈا اور ووٹن کرکٹ سے ملنے والی فنڈنگ ممنوعہ قرار دی گئی ہے اور پی ٹی آئی نے دانستہ طور پر ووٹن کرکٹ لمیٹڈ سے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی۔

    کمیشن کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ تحریک انصاف نے عارف نقوی سمیت 34 غیر ملکیوں سے فنڈز لیے، ابراج گروپ، آئی پی آئی اور یو ایس آئی سے بھی فنڈنگ حاصل کی، یو ایس اے ایل ایل سی سے حاصل کردہ فنڈنگ بھی ممنوعہ ثابت ہوگئی۔

  14. پشاور حملہ: خودکش بمبار پولیس کی وردی میں آیا، اس کی چیکنگ نہیں کی گئی تھی، آئی جی کے پی

    آئی جی خیبر پختونخوا معظم جاہ انصاری نے کہا ہے کہ پشاور کے پولیس لائن حملے میں ملوث خود کش بمبار نے پولیس کا یونیفارم پہن رکھا تھا جس کی وجہ سے داخلے راستے پر اس کی تلاشی نہیں لی گئی تھی۔

    جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں انھوں نے بتایا کہ ’میں اور میرے افسران تکلیف میں ہیں اور ہمیں مرحم درکار ہے۔ تین دن میں صرف تین گھنٹے سویا ہوں گا۔ سازشی تھیوریوں سے میرے لوگوں کو سڑکوں پر لانا میں برداشت نہیں کروں گا۔‘

    انھوں نے ان دعوؤں کو مسترد کیا کہ پولیس لائن مسجد پر ڈرون حملہ یا آئی ای ڈی دھماکہ ہوا۔ وہ کہتے ہیں کہ آئی ای ڈی دھماکے کی صورت میں زمین میں گڑھا بنتا ہے۔ ’یہ خودکش دھماکہ تھا۔ وہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ سامنے کی دیوار بند ہے اور صرف ایک دروازے سے لوگوں کا آنا جانا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ دھماکے میں 10 سے 12 کلو گرام دھماکہ خیز مواد ٹی این ٹی استعمال ہوا۔ ’ٹی این ٹی دھماکے کے بعد شاک ویووز کے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا، اس لیے سب سے پہلے دیواریں گِریں۔ ستون نہیں تھے اس لیے چھت نیچے آئی۔ نمازی اس چھت کے نیچے آگئے۔۔۔ جائے وقوعہ سے بال بیئرنگز ملے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ امدادی کارروائیوں میں اس لیے وقت لگا کیونکہ ملبے تلے لوگ پھنسے ہوئے تھے۔ آئی جی کے پی کا کہنا تھا کہ ’ایک سی سی ٹی وی فوٹیج میں خیبر روڈ سے پولیس لائن کی طرف آتے ہوئے خودکش (حملہ آور) کو دیکھا گیا۔ اسے کیمرے میں دیکھ کر کراس میچ کر لیا گیا ہے۔ یہ وہی چہرہ ہے جس کا سر ہمیں مسجد کے اندر ملا ہے۔

    ’وہ پولیس کے یونیفارم میں ہے۔ اس نے پولیس والوں کی جیکٹ پہنی ہوئی ہے۔ سر پر ہیلمٹ اور منھ پر ماسک ہے۔ وہ موٹر سائیکل پر آتا ہے۔ موٹر سائیکل ہمارے پاس آگئی ہے۔ انجن اور چیسی نمبر ٹریس کر لیا گیا ہے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’اگلے مرحلے میں اس کی شناخت کی جائے گی اور نیٹ ورک اور سہولت کاروں تک پہنچا جائے گا۔‘

    معظم جاہ انصاری نے کہا کہ حملہ آور کو پولیس کی وردی میں دیکھ کر اس کی تلاشی نہیں لی گئی۔ ’سکیورٹی لیپس ہوا ہے۔ میرے سپاہیوں جو (چیک پوائنٹ پر) کھڑے تھے انھوں نے اپنی وردی دیکھ کر، اپنا بھائی سمجھ کر چیک نہیں کیا۔‘

    دریں اثنا وہ کہتے ہیں کہ تحقیقات کے بعد لوگوں کو بتایا جایا گا کہ کون سا گروہ اس میں ملوث تھا، تمام نیٹ ورک کو منظر عام پر لائیں گے۔ ’ہزاروں فون کالز کی جیو فینسنگ کے لیے وقت درکار ہے، سیف سٹی پشاور میں نہیں اس لیے بجی ویڈیوز دیکھی جائیں گی۔‘

  15. بغاوت کے مقدمہ میں سپیشل پراسیکیوٹر کی تعیناتی کے خلاف شہباز گل کی درخواست پر فیصلہ محفوظ, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے بغاوت کے مقدمہ میں سپیشل پراسیکیوٹر کی تعیناتی کے خلاف شہباز گل کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

    شہباز گل کیس میں تعینات سپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی کی تعیناتی کے خلاف درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے مقدمے کی سماعت کی۔

    سپیشل پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی کی جانب سے راجہ علیم عباسی ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔

    سماعت کے دوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ اکثر کیسز میں سپیشل پراسیکیوٹر تعینات کیے جاتے ہیں۔

    جس کے جواب میں شہباز گل کے وکیل نے کہا کہ ایسا صرف غیر معمولی حالات میں ہوتا ہے اور اس کیس میں ایسی صورتحال نہیں ہے۔

    اس پررضوان عباسی کے وکیل نے دلائل دیے کہ رضوان عباسی پرائیویٹ نہیں بلکہ پبلک پراسیکیوٹر ہے، ان کی بطور سپیشل پبلک پراسیکیوٹر تعیناتی رولز آف بزنس کے تحت ہوئی۔

    درخواست گزار کے پاس اختیار ہے کہ کسی کو بھی وکیل کر لیں، مگر ان کے پاس پراسیکیوٹر کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

    یاد رہے کہ شہباز گل نے راجہ رضوان عباسی کی بطور سپیشل پراسیکیوٹر تعیناتی کو چیلنج کر رکھا ہے۔

    سماعت کے دوران عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آپ ایڈیشنل اور اسسٹنٹ پراسیکیوٹرز تعینات کیوں نہیں کرتے؟ انھوں نے ریمارکس دیے کہ ’کہہ کہہ کر تھک گئے کہ ایڈیشنل اور اسسٹنٹ پراسیکیوٹرز کی تعیناتی کریں۔‘

    ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت سے کہا کہ اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر کی تعیناتی کوئی غیر قانونی نہیں۔ جس پر شہباز گل کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پبلک پراسیکیوٹر کی تعیناتی پر حکومت پر قدغن کوئی نہیں، مگر فرق ہے، پبلک پراسیکیوٹر کی تعیناتی میں کچھ قدغن بھی موجود ہے۔ اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر کی تعیناتی سے متعلق کوئی قانون موجود نہیں ہے۔

    چیفس جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا اٹارنی جنرل کی تعیناتی ہو گئی ہے؟ جس پر شہباز گل کے وکیل نے جواب دیا کہ اٹارنی جنرل کی تعیناتی ہو رہی ہے۔

    عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

  16. بریکنگ, ممنوعہ فنڈنگ کیس: الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست پر فیصلہ آج سنایا جائے گا, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی

    پی ٹی آئی کے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست پر فیصلہ آج سنایا جائے گا۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پی ٹی آئی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

    اپنے فیصلے میں الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کی فنڈنگ کو ممنوعہ قرار دیتے ہوئے پی ٹی آئی کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا تھا۔

    اس فیصلے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے آبزرو کیا تھا کہ الیکشن کمیشن نے صرفآئینی طور پر اپنا کام کرنا تھا جو فنڈز کی ضبطی تک محدود ہے۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق اس کے پاس فیصلہ بدلنے کا اختیار نہیں مگر نئے حقائق سے ثابت ہو گیا کہ فنڈز ممنوعہ نہیں تو فیصلہ تو بدلنا ہوگا۔

    الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی فنڈنگ سے متعلق نئے شواہد سے مطمئن کرے کہ وہ ممنوعہ نہیں تو رقم ضبط نہیں ہو گی

    پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو فارن ایڈڈ جماعت اور عمران خان کے ڈکلیئریشن کو غلط قرار دیا۔

    سیاسی جماعتوں کے اکاؤنٹس کا معاملہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ دیکھتا ہے،الیکشن کمیشن کی رپورٹ میں پی ٹی آئی کو ٹارگٹ کیا گیا۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا کہنا تھا الیکشن کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کوئی ڈکلیئریشن تو دیا ہی نہیں،الیکشن کمیشن کے فیصلے کو کہیں آرڈر،کہیں رپورٹ تو کہیں محض رائے کہا جا رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ میری نظر میں یہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ ہے۔ الیکشن کمیشن کے وکیل کا اصرار تھا کہ یہ صرف رپورٹ نہیں فیصلہ ہے، الیکشن کمیشن فیصلہ دیے بغیر شوکاز نوٹس جاری نہیں کر سکتا تھا۔

  17. عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد آصف زرداری کے خلاف الزامات عائد کرنے کے مقدمے میں گرفتار

    پنجاب پولیس نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کو سابق صدر آصف زرداری کے خلاف الزامات عائد کرنے کے مقدمے میں گرفتار کر لیا ہے۔

    پنجاب پولیس نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ کو گرفتار کرکے اسلام آباد پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہےتاہم انھیں کہاں سے گرفتار کیا گیا ہے اس بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔

    اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ گذشتہ رات گرفتار ہونے والے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کو آج جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کی غرض سے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

    شیخ رشید کی گرفتاری کے بعد اُن کے وکیل نے اسلام آباد پولیس کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    گرفتاری کے بعد نجی ٹی سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید احمد نے دعویٰ کیا کہ ’100-200 لوگ سیڑھیاں لگا کر دروازے توڑ کر اندر داخل ہوئے ہیں اور بدتمیزی کی ہے، تمام ملازمین کو مارا ہے اور مجھے زبردستی گاڑی میں ڈال کر لے آئے ہیں۔‘

    سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں ان کا کہنا تھا کہ آج ہی میاں طاہر نے میری ضمانت لی۔ شیخ رشید نے الزام لگایا کہ ’یہ سب کچھ مسلم لیگ ن اور رانا ثنا اللہ کے کہنے پر ہو رہا ہے۔‘

    پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے شیخ رشید کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ ہماری تاریخ میں کبھی بھی الیکشن کمیشن کی طرف سے اتنی متعصب، انتقام لینے والی نگران حکومت نہیں آئی۔

    خیال رہے کہ رواں ہفتے کے اوائل میں پیپلز پارٹی کے ایک مقامی رہنما راجا عنایت نے ان کے خلاف سابق صدر آصف علی زرداری پر عمران خان کے قتل کی سازش کا الزام لگانے پر شکایت درج کرائی تھی۔

    شکایت گزار کی مدعیت میں تھانہ آب پارہ پولیس نے آصف زرداری پر عمران خان کو قتل کرنے کی سازش سے متعلق بیان پر مقدمہ درج کیا تھا۔

    مذکورہ ایف آئی آر میں مدعی نے مؤقف اختیار کیا کہ شیخ رشید نے نجی ٹی وی چینل بول نیوز پر ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’آصف زرداری نے کچھ دہشت گردوں کی خدمات حاصل کی ہیں جو عمران خان کو مروانا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں الزام علیہ کے پاس تمام معلومات موجود ہیں جو کہ وہ بتانے کو تیار ہیں۔‘

    ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ شیخ رشید نے یہ بیان ایک سازش کے تحت دیا وہ سابق صدر کو بدنام کرنا اور ان کے اور ان کے خاندان کے لیے مستقل خطرہ پیدا کرنا چاہتے تھے۔

    درخواست گزار نے ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا کہ شیخ رشید اس من گھڑت اور بے بنیاد سازش کا ذکر کر کے دو گروہوں پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی میں تصادم کرانا چاہتے ہیں تا کہ ملک کا امن خراب ہو۔

    اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ شیخ رشید کو آبپارہ پولیس نے گرفتار کر کے تھانہ منتقل کیا۔

  18. پر بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    پاکستان کی سیاسی صورتحال پر بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    پاکستان کے سیاسی منظرنامے سے متعلق تازہ ترین خبروں کے حوالے سے بی بی سی اردو کا خصوصی لائیو پیج جاری ہے۔